حدیث نمبر: 2342
«إنما أنا بشر وإنكم تختصمون إلي فلعل بعضكم أن يكون ألحن بحجته من بعض فأقضي له على نحو ما أسمع فمن قضيت له بحق مسلم فإنما هي قطعة من النار فليأخذها أو ليتركها»
ترجمہ

(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میں تو بس ایک انسان ہوں، اور تم اپنے مقدمات لے کر میرے پاس آتے ہو۔ ہو سکتا ہے کہ تم میں سے کوئی شخص دوسرے کی نسبت اپنی دلیل پیش کرنے میں زیادہ چرب زبان (اور ہوشیار) ہو، اور میں اس کی بات سن کر اس کے حق میں فیصلہ کر دوں۔ پس جس شخص کے لیے میں نے کسی (دوسرے) مسلمان کے حق کا فیصلہ کر دیا (جبکہ حقیقت میں وہ اس کا حق نہ ہو) تو درحقیقت وہ جہنم کی آگ کا ایک ٹکڑا ہے، اب وہ چاہے تو اسے لے لے اور چاہے تو چھوڑ دے۔“

حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2342
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [مالك حم ق ٤] عن أم سلمة. الإرواء ٢٦٣٥، الصحيحة ١١٦٢، مختصر مسلم ١٠٥١.