کتب حدیثصحیح الجامع الصغیرابوابباب: حرف الف سے شروع ہونے والی احادیث
«أتموا الركوع والسجود فوالذي نفسي بيده إني لأراكم من وراء ظهري إذا ركعتم وإذا سجدتم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”رکوع اور سجدہ پوری طرح (خشوع و خضوع کے ساتھ) ادا کیا کرو، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! جب تم رکوع اور سجدہ کرتے ہو تو میں تمہیں اپنی پیٹھ کے پیچھے سے بھی دیکھتا ہوں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 121
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم, ق, ن] عن أنس. صفة الصلاة ١١١ومعناه في الترغيب ١/٢١١.
«أتموا الصف المقدم ثم الذي يليه فما كان من نقص فليكن من الصف المؤخر»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”پہلے اگلی صف کو پورا کرو، پھر اس کے بعد والی صف کو، پس اگر کوئی کمی رہے تو وہ سب سے پچھلی صف میں ہونی چاہیے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 122
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم, د, ن, حب, ابن خزيمة, الضياء] عن أنس. المشكاة ١٠٩٤, صحيح الترغيب٦٧٥, رياض الصالحين ١١٠٠.
«أتموا الصفوف فإني أراكم خلف ظهري»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”صفوں کو پورا کیا کرو، کیونکہ بلاشبہ میں تمہیں اپنی پیٹھ کے پیچھے سے بھی دیکھتا ہوں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 123
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م] عن أنس. صحيح الترغيب ٤٩٨ وزاد البخاري.
«أتموا الوضوء ويل للأعقاب من النار»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”وضو کو کامل طریقے سے کیا کرو، اور (خشک رہ جانے والی) ایڑیوں کے لیے آگ کا عذاب (یعنی ہلاکت) ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 124
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [هـ] عن خالد بن الوليد ويزيد بن أبي سفيان وشرحبيل بن حسنة وعمرو ابن العاص. الصحيحة ٨٧٢.
«أتي الله عز وجل بعبد من عباده آتاه الله مالا فقال له: ماذا عملت في الدنيا؟ فقال: ما عملت من شيء يا رب إلا أنك آتيتني مالا فكنت أبايع الناس وكان من خلقي أن أيسر على الموسر وأنظر المعسر. قال الله تعالى: أنا أحق بذلك منك تجاوزوا عن عبدي»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اللہ عزوجل کے سامنے اس کے بندوں میں سے ایک ایسے بندے کو لایا جائے گا جسے اللہ نے مال عطا کیا تھا۔ اللہ اس سے پوچھے گا: تو نے دنیا میں کیا عمل کیا؟ وہ عرض کرے گا: اے میرے رب! میں نے کوئی (خاص) عمل نہیں کیا سوائے اس کے کہ تو نے مجھے مال عطا فرمایا تھا، پس میں لوگوں کے ساتھ لین دین کرتا تھا اور میری یہ عادت تھی کہ میں مالداروں کے ساتھ آسانی کرتا تھا اور تنگ دستوں کو مہلت دیتا تھا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: میں تجھ سے زیادہ اس بات کا حق دار ہوں، (فرشتو!) میرے بندے سے درگزر کرو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 125
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ك] عن حذيفة وعقبة بن عامر وأبي مسعود الأنصاري. أحاديث البيوع.
«إتيان النساء في أدبارهن حرام»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”عورتوں کے پاس ان کی پچھلی شرمگاہوں (یعنی دبر) سے آنا حرام ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 126
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ن] عن خزيمة بن ثابت. الصحيحة ٨٧٣.
"أتيت بالبراق وهو دابة أبيض طويل فوق الحمار ودون البغل يضع حافره عند منتهى طرفه فركبته حتى أتيت بيت المقدس فربطته بالحلقة التي تربط بها الأنبياء, ثم دخلت المسجد فصليت فيه ركعتين, ثم خرجت فجاءني جبريل بإناء من خمر وإناء من لبن فاخترت اللبن فقال جبريل: اخترت الفطرة, ثم عرج بنا إلى السماء فاستفتح جبريل فقيل: من أنت؟ قال: جبريل قيل: ومن معك؟ قال: محمد قيل: وقد بعث إليه؟ قال: قد بعث إليه ففتح لنا فإذا أنا بآدم فرحب بي ودعا لي بخير; ثم عرج بنا إلى السماء الثانية فاستفتح جبريل فقيل: من أنت؟ قال: جبريل قيل: ومن معك؟ قال: محمد قيل: وقد بعث إليه؟ قال: قد بعث إليه ففتح لنا فإذا أنا بابني الخالة: عيسى بن مريم ويحيى بن زكريا فرحبا بي ودعوا لي بخير, ثم عرج بنا إلى السماء الثالثة فاستفتح جبريل فقيل: من أنت؟ قال: جبريل قيل: ومن معك؟ قال: محمد قيل: وقد بعث إليه؟ قال: قد بعث إليه ففتح لنا فإذا أنا بيوسف وإذا هو قد أعطي شطر الحسن فرحب بي ودعا لي بخير, ثم عرج بنا إلى السماء الرابعة فاستفتح جبريل فقيل: من هذا؟ قال: جبريل قيل: ومن معك؟ قال: محمد قيل: وقد بعث إليه؟ قال: قد بعث إليه ففتح لنا فإذا أنا بإدريس فرحب بي ودعا لي بخير قال الله تعالى: {وَرَفَعْنَاهُ مَكَاناً عَلِيّاً} ,
ثم عرج بنا إلى السماء الخامسة فاستفتح جبريل فقيل: من هذا؟ قال: جبريل قيل: ومن معك؟ قال: محمد قيل: وقد بعث إليه؟ قال: قد بعث إليه ففتح لنا فإذا أنا بهارون فرحب بي ودعا لي بخير; ثم عرج بنا إلى السماء السادسة فاستفتح جبريل فقيل: من هذا؟ قال: جبريل قيل: ومن معك؟ قال: محمد قيل: وقد بعث إليه؟ قال: قد بعث إليه ففتح لنا فإذا أنا بموسى فرحب بي ودعا لي بخير, ثم عرج بنا إلى السماء السابعة فاستفتح جبريل فقيل: من هذا؟ قال: جبريل قيل: ومن معك؟ قال: محمد قيل: وقد بعث إليه؟ قال: قد بعث إليه ففتح لنا فإذا أنا بإبراهيم مسندا ظهره إلى البيت المعمور وإذا هو يدخله كل يوم سبعون ألف ملك لا يعودون إليه, ثم ذهب بي إلى سدرة المنتهى وإذا ورقها كآذان الفيلة وإذا ثمرها كالقلال فلما غشيها من أمر الله ما غشي تغيرت فما أحد من خلق الله يستطيع أن ينعتها من حسنها, فأوحى الله إلي ما أوحى ففرض علي خمسين صلاة في كل يوم وليلة;
فنزلت إلى موسى فقال: ما فرض ربك على أمتك قلت: خمسين صلاة قال: ارجع إلى ربك فسله التخفيف فإن أمتك لا تطيق ذلك فإني قد بلوت بني إسرائيل وخبرتهم فرجعت إلى ربي فقلت: يا رب خفف عن أمتي فحط عني خمسا;
فرجعت إلى موسى فقلت: حط عني خمسا قال: إن أمتك لا يطيقون ذلك فارجع إلى ربك فسله التخفيف,
فلم أزل أرجع بين ربي وبين موسى حتى قال: يا محمد إنهن خمس
صلوات كل يوم وليلة لكل صلاة عشر فذلك خمسون صلاة ومن هم بحسنة فلم يعلمها كتبت له حسنة فإن عملها كتبت له عشرا, ومن هم بسيئة فلم يعملها لم تكتب شيئا فإن عملها كتبت سيئة واحدة; فنزلت حتى انتهيت إلى موسى فأخبرته فقال: ارجع إلى ربك فسله التخفيف فقلت: قد رجعت إلى ربي حتى استحييت منه"
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میرے پاس براق لایا گیا، اور وہ ایک سفید رنگ کا لمبا جانور تھا جو گدھے سے بڑا اور خچر سے چھوٹا تھا، وہ اپنا کھر وہاں رکھتا تھا جہاں تک اس کی نگاہ کی حد ہوتی تھی۔ پس میں اس پر سوار ہوا یہاں تک کہ بیت المقدس پہنچ گیا، وہاں میں نے اسے اس حلقے کے ساتھ باندھ دیا جس کے ساتھ انبیاء (اپنی سواریاں) باندھتے تھے۔ پھر میں مسجد میں داخل ہوا اور اس میں دو رکعت نماز پڑھی، پھر جب میں باہر نکلا تو جبریل میرے پاس ایک برتن شراب کا اور ایک برتن دودھ کا لے کر آئے، میں نے دودھ کو منتخب کیا تو جبریل نے کہا: آپ نے فطرت کو چنا ہے۔ پھر ہمیں آسمان کی طرف لے جایا گیا، جبریل نے دروازہ کھلوایا تو پوچھا گیا: تم کون ہو؟ انہوں نے کہا: میں جبریل ہوں۔ پوچھا گیا: تمہارے ساتھ کون ہے؟ انہوں نے کہا: محمد (ﷺ) ہیں۔ پوچھا گیا: کیا انہیں بلایا گیا ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، انہیں بلایا گیا ہے۔ پس ہمارے لیے دروازہ کھول دیا گیا، تو اچانک میری ملاقات آدم (علیہ السلام) سے ہوئی، انہوں نے مجھے خوش آمدید کہا اور میرے لیے بھلائی کی دعا کی۔ پھر ہمیں دوسرے آسمان کی طرف لے جایا گیا، جبریل نے دروازہ کھلوایا تو پوچھا گیا: تم کون ہو؟ انہوں نے کہا: میں جبریل ہوں۔ پوچھا گیا: تمہارے ساتھ کون ہے؟ انہوں نے کہا: محمد (ﷺ) ہیں۔ پوچھا گیا: کیا انہیں بلایا گیا ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، انہیں بلایا گیا ہے۔ پس ہمارے لیے دروازہ کھولا گیا تو اچانک میری ملاقات دو خالہ زاد بھائیوں عیسیٰ بن مریم اور یحییٰ بن زکریا (علیہما السلام) سے ہوئی، ان دونوں نے مجھے خوش آمدید کہا اور میرے لیے بھلائی کی دعا کی۔ پھر ہمیں تیسرے آسمان کی طرف لے جایا گیا، جبریل نے دروازہ کھلوایا تو پوچھا گیا: تم کون ہو؟ انہوں نے کہا: میں جبریل ہوں۔ پوچھا گیا: تمہارے ساتھ کون ہے؟ انہوں نے کہا: محمد (ﷺ) ہیں۔ پوچھا گیا: کیا انہیں بلایا گیا ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، انہیں بلایا گیا ہے۔ پس ہمارے لیے دروازہ کھولا گیا تو اچانک میری ملاقات یوسف (علیہ السلام) سے ہوئی، اور انہیں (دنیا کا) آدھا حسن عطا کیا گیا تھا، انہوں نے مجھے خوش آمدید کہا اور میرے لیے بھلائی کی دعا کی۔ پھر ہمیں چوتھے آسمان کی طرف لے جایا گیا، جبریل نے دروازہ کھلوایا تو پوچھا گیا: یہ کون ہے؟ انہوں نے کہا: میں جبریل ہوں۔ پوچھا گیا: تمہارے ساتھ کون ہے؟ انہوں نے کہا: محمد (ﷺ) ہیں۔ پوچھا گیا: کیا انہیں بلایا گیا ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، انہیں بلایا گیا ہے۔ پس ہمارے لیے دروازہ کھولا گیا تو اچانک میری ملاقات ادریس (علیہ السلام) سے ہوئی، انہوں نے مجھے خوش آمدید کہا اور میرے لیے بھلائی کی دعا کی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ﴿وَرَفَعْنَاهُ مَكَانًا عَلِيًّا﴾ ”اور ہم نے انہیں بلند مقام پر اٹھا لیا۔“ [سورة مريم: 57] پھر ہمیں پانچویں آسمان کی طرف لے جایا گیا، جبریل نے دروازہ کھلوایا تو پوچھا گیا: یہ کون ہے؟ انہوں نے کہا: جبریل۔ پوچھا گیا: تمہارے ساتھ کون ہے؟ انہوں نے کہا: محمد (ﷺ) ہیں۔ پوچھا گیا: کیا انہیں بلایا گیا ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، انہیں بلایا گیا ہے۔ پس ہمارے لیے دروازہ کھولا گیا تو اچانک میری ملاقات ہارون (علیہ السلام) سے ہوئی، انہوں نے مجھے خوش آمدید کہا اور میرے لیے بھلائی کی دعا کی۔ پھر ہمیں چھٹے آسمان کی طرف لے جایا گیا، جبریل نے دروازہ کھلوایا تو پوچھا گیا: یہ کون ہے؟ انہوں نے کہا: جبریل۔ پوچھا گیا: تمہارے ساتھ کون ہے؟ انہوں نے کہا: محمد (ﷺ) ہیں۔ پوچھا گیا: کیا انہیں بلایا گیا ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، انہیں بلایا گیا ہے۔ پس ہمارے لیے دروازہ کھولا گیا تو میری ملاقات موسیٰ (علیہ السلام) سے ہوئی، انہوں نے مجھے خوش آمدید کہا اور میرے لیے بھلائی کی دعا کی۔ پھر ہمیں ساتویں آسمان کی طرف لے جایا گیا، جبریل نے دروازہ کھلوایا تو پوچھا گیا: یہ کون ہے؟ انہوں نے کہا: جبریل۔ پوچھا گیا: تمہارے ساتھ کون ہے؟ انہوں نے کہا: محمد (ﷺ) ہیں۔ پوچھا گیا: کیا انہیں بلایا گیا ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، انہیں بلایا گیا ہے۔ پس ہمارے لیے دروازہ کھولا گیا تو میری ملاقات ابراہیم (علیہ السلام) سے ہوئی، وہ بیت المعمور کے ساتھ اپنی پیٹھ لگائے بیٹھے تھے، اور اس میں ہر روز ستر ہزار فرشتے داخل ہوتے ہیں جو پھر دوبارہ اس کی طرف لوٹ کر نہیں آتے۔ پھر مجھے سدرۃ المنتہیٰ کی طرف لے جایا گیا، تو اس کے پتے ہاتھیوں کے کانوں کی طرح تھے اور اس کے پھل بڑے مٹکوں کے برابر تھے، پس جب اس پر اللہ کے حکم سے جو چھانا تھا وہ چھا گیا تو اس کی حالت بدل گئی، پس اللہ کی مخلوق میں سے کوئی بھی اس کے حسن کو بیان کرنے کی طاقت نہیں رکھتا۔ پھر اللہ نے میری طرف جو وحی کرنی تھی وہ وحی کی اور مجھ پر دن رات میں پچاس نمازیں فرض کیں۔ پھر میں موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف اترا تو انہوں نے پوچھا: آپ کے رب نے آپ کی امت پر کیا فرض کیا ہے؟ میں نے کہا: پچاس نمازیں۔ انہوں نے کہا: اپنے رب کی طرف واپس جائیے اور اس سے تخفیف کا سوال کیجیے، کیونکہ آپ کی امت اس کی طاقت نہیں رکھتی، میں نے بنی اسرائیل کو آزمایا ہوا ہے اور ان کا تجربہ کیا ہوا ہے۔ چنانچہ میں اپنے رب کی طرف واپس گیا اور عرض کیا: اے میرے رب! میری امت پر تخفیف فرما دے، تو اس نے مجھ سے پانچ نمازیں کم کر دیں۔ پھر میں موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس واپس آیا اور کہا: مجھ سے پانچ نمازیں کم کر دی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا: آپ کی امت ان کی بھی طاقت نہیں رکھتی، پس اپنے رب کے پاس واپس جائیے اور اس سے تخفیف کا سوال کیجیے۔ پس میں مسلسل اپنے رب اور موسیٰ (علیہ السلام) کے درمیان چکر لگاتا رہا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے محمد! یہ دن اور رات میں پانچ نمازیں ہیں، ہر نماز کا ثواب دس کے برابر ہے، تو یہ پچاس نمازیں ہو گئیں۔ اور جو کوئی نیکی کا ارادہ کرے لیکن اسے کر نہ سکے تو اس کے لیے ایک نیکی لکھ دی جاتی ہے، اور اگر وہ اسے کر لے تو اس کے لیے دس نیکیاں لکھ دی جاتی ہیں، اور جو کوئی برائی کا ارادہ کرے اور اسے نہ کرے تو کچھ نہیں لکھا جاتا، اور اگر وہ اسے کر لے تو ایک برائی لکھ دی جاتی ہے۔ پھر میں نیچے اترا یہاں تک کہ موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس پہنچا اور انہیں خبر دی، تو انہوں نے کہا: اپنے رب کے پاس پھر جائیے اور اس سے تخفیف کا سوال کیجیے، تو میں نے کہا: میں اپنے رب کی طرف اتنی بار جا چکا ہوں کہ اب مجھے اس سے شرم آتی ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 127
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم, م] عن أنس. الصحيحة ٨٧٣.
«أتيت بالبراق وهو دابة أبيض طويل يضع حافره عند منتهى طرفه فلم نزايل ظهره أنا وجبريل حتى أتيت بيت المقدس, ففتحت لي أبواب السماء ورأيت الجنة والنار»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میرے پاس براق لایا گیا، اور وہ ایک سفید رنگ کا لمبا جانور تھا جو اپنا کھر وہاں رکھتا تھا جہاں تک اس کی نگاہ کی حد ہوتی تھی، پس میں اور جبریل اس کی پیٹھ سے اس وقت تک جدا نہیں ہوئے یہاں تک کہ میں بیت المقدس پہنچ گیا، پھر میرے لیے آسمان کے دروازے کھولے گئے اور میں نے جنت اور جہنم کو دیکھا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 128
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [حم, ع, حب, ك, الضياء] عن حذيفة. الصحيحة ٨٧٤.
«أتيت ليلة أسري بي على قوم تقرض شفاههم بمقاريض من نار كلما قرضت وفت, فقلت: يا جبريل من هؤلاء؟ قال: خطباء أمتك الذين يقولون ما لا يفعلون ويقرءون كتاب الله ولا يعملون بت»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”معراج کی رات میرا گزر ایک ایسی قوم پر ہوا جن کے ہونٹ آگ کی قینچیوں سے کاٹے جا رہے تھے، جب بھی وہ کاٹے جاتے وہ دوبارہ ویسے ہی ہو جاتے۔ میں نے پوچھا: اے جبریل! یہ کون لوگ ہیں؟ انہوں نے کہا: یہ آپ کی امت کے وہ خطیب (مقرر) ہیں جو وہ کہتے تھے جو خود نہیں کرتے تھے، اور اللہ کی کتاب پڑھتے تھے لیکن اس پر عمل نہیں کرتے تھے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 129
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [هب] عن أنس. الاقتضاء ١١١.
«أتيت ليلة أسري بي فانطلق بي إلى زمزم فشرح عن صدري ثم غسل بماء زمزم ثم أنزل»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”معراج کی رات میرے پاس (فرشتے) آئے اور مجھے آبِ زمزم کے پاس لے گئے، پھر میرا سینہ چاک کیا گیا، پھر اسے آبِ زمزم سے دھویا گیا اور پھر اسے اپنی جگہ رکھ کر بند کر دیا گیا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 130
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م] عن أنس.
«اثبت أحد! فإنما عليك نبي وصديق وشهيدان»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اے احد! ٹھہر جا (یعنی پرسکون رہ)، کیونکہ اس وقت تجھ پر ایک نبی، ایک صدیق اور دو شہید موجود ہیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 131
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [خ, م, ت] عن أنس [ت] عن عثمان١ [حم, ع٢, حب] عن سهل ابن سعد.
«اثبت حراء! فإنما عليك نبي أو صديق أو شهيد»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اے حرا! پرسکون رہ، کیونکہ تجھ پر ایک نبی، یا ایک صدیق، یا ایک شہید موجود ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 132
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم, د, ت, هـ] عن سعيد بن زيد [حم] عن أنس وعن بريدة [طب] عن ابن عباس. الصحيحة ٨٥٧.
«أثقل الصلاة على المنافقين صلاة العشاء وصلاة الفجر ولو يعلمون ما فيهما لأتوهما ولو حبوا, ولقد هممت أن آمر بالصلاة فتقام ثم آمر رجلا فيصلي بالناس ثم أنطلق معي برجال معهم حزم من حطب إلى قوم لا يشهدون الصلاة فأحرق عليهم بيوتهم بالنار»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”منافقوں پر عشاء اور فجر کی نماز سب سے زیادہ بھاری ہے، اور اگر انہیں معلوم ہو جائے کہ ان دونوں (نمازوں) میں کتنا ثواب ہے تو وہ ان کے لیے ضرور آئیں، خواہ انہیں گھٹنوں کے بل گھسٹ کر ہی کیوں نہ آنا پڑے۔ اور بلاشبہ میں نے ارادہ کیا کہ میں نماز قائم کرنے کا حکم دوں، پھر کسی شخص کو حکم دوں کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائے، پھر میں اپنے ہمراہ کچھ لوگوں کو لوں جن کے پاس لکڑیوں کے گٹھے ہوں اور ان لوگوں کی طرف جاؤں جو نماز میں حاضر نہیں ہوتے اور ان کے گھروں کو آگ لگا کر جلا دوں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 133
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم, ق, د, هـ] عن أبي هريرة. إرواء الغليل ٤٨٦.
«أثقل شيء في الميزان الخلق الحسن»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”(قیامت کے دن) میزان (ترازو) میں سب سے بھاری چیز حسنِ اخلاق ہوگا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 134
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حب] عن أبي الدرداء. الصحيحة ٨٧٦.
«أثقل شيء في ميزان المؤمن خلق حسن إن الله يبغض الفاحش المتفحش البذي»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”مومن کے ترازو میں سب سے بھاری چیز اچھے اخلاق ہوں گے، بے شک اللہ تعالیٰ بے حیا، بدکلام اور فحش گوئی کرنے والے کو سخت ناپسند فرماتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 135
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [هق] عن أبي الدرداء. الصحيحة ٨٧٦: خد, ت, حب.
«اثنان لا تجاوز صلاتهما رءوسهما: عبد آبق من مواليه حتى يرجع وامرأة عصت زوجها حتى ترجع»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”دو شخص ایسے ہیں جن کی نماز ان کے سروں سے اوپر نہیں جاتی (یعنی قبول نہیں ہوتی): ایک وہ غلام جو اپنے مالکوں سے بھاگ گیا ہو جب تک کہ وہ واپس نہ آ جائے، اور دوسری وہ عورت جس نے اپنے شوہر کی نافرمانی کی ہو یہاں تک کہ وہ (اپنی اس حرکت سے) باز آ جائے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 136
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ك] عن ابن عمر. الروض ٤٨٠, الصحيحة ٢٨٨.
«اثنان يعجلهما الله في الدنيا: البغي وعقوق الوالدين»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”دو گناہ ایسے ہیں جن کی سزا اللہ تعالیٰ دنیا میں ہی جلد دے دیتا ہے: ایک ظلم و زیادتی اور دوسرا والدین کی نافرمانی۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 137
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [تخ, طب] عن أبي بكرة. الصحيحة ١١٢٠.
«اثنتان في الناس هما بهم كفر: الطعن في الأنساب والنياحة على الميت»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”لوگوں میں دو خصلتیں ایسی ہیں جو ان میں کفر کے مترادف ہیں: کسی کے نسب میں طعنہ زنی کرنا اور میت پر نوحہ (بین) کرنا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 138
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم, م] عن أبي هريرة. شرح الطحاوية ٣٧٧ مختصر مسلم٥٥.
«اثنتان يكرههما ابن آدم: يكره الموت والموت خير له من الفتنة, ويكره قلة المال وقلة المال أقل للحساب»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”دو چیزیں ایسی ہیں جنہیں ابن آدم ناپسند کرتا ہے: ایک وہ موت کو ناپسند کرتا ہے حالانکہ موت اس کے لیے فتنے سے بہتر ہے، اور دوسرا وہ مال کی کمی کو ناپسند کرتا ہے حالانکہ مال کی کمی حساب کو آسان کر دیتی ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 139
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ص, حم] عن محمود بن لبيد. الصحيحة ٨١٣.
«اثنتان تدخلان الجنة: من حفظ ما بين لحييه ورجليه دخل الجنة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”دو چیزیں جنت میں داخل کرتی ہیں: جس نے اپنے دو جبڑوں کے درمیانی حصے (یعنی زبان) اور اپنی دو ٹانگوں کے درمیانی حصے (یعنی شرمگاہ) کی حفاظت کی، وہ جنت میں داخل ہو گیا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 140
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ ... ] الخرائطي في مكارم الأخلاق" عن عائشة. الصحيحة ...
"اجتمع إحدى عشرة امرأة في الجاهلية فتعاقدن أن يتصادقن بينهن ولا يكتمن من أخبار أزواجهن شيئا. فقالت الأولى: زوجي لحم جمل غث على رأس جبل, وعر لا سهل فيرتقى ولا سمين فينتقل. قالت الثانية: زوجي لا أبث خبره إني أخاف أن لا أذره إن أذكره أذكر عجره وبجره. قالت الثالثة: زوجي العشنق إن أنطق أطلق وإن أسكت أعلق. قالت الرابعة: زوجي إن أكل لف وإن شرب اشتف وإن اضطجع التف ولا يولج الكف ليعلم البث.
قالت الخامسة: زوجي عياياء, طباقاء, كل داء له داء, شجك أو فلك, أو جمع كلا لك.
وقالت السادسة: زوجي كليل تهامة لا حر ولا قر, ولا مخافة ولا سآمة.
وقالت السابعة: زوجي إن دخل فهد وإن خرج أسد ولا يسأل عما عهد.
وقالت الثامنة: زوجي المس مس أرنب والريح ريح زرنب, وأنا أغلبه والناس يغلب.
قالت التاسعة: زوجي رفيع العماد طويل النجاد عظيم الرماد قريب البيت من الناد.
قالت العاشرة: زوجي مالك وما مالك؟ مالك خير من ذلك, له إبل قليلات المسارح كثيرات المبارك, إذا سمعن صوت المزاهر أيقن أنهن هوالك.
قالت الحادية عشرة: زوجي أبو زرع وما أبو زرع؟ أناس من حلي أذني وملأ من شحم عضدي وبجحني فبجحت إلي نفسي, وجدني في أهل غنيمة بشق, فجعلني في أهل صهيل وأطيط ودائس ومنق فعنده أقول فلا أقبح وأرقد فأتصبح, وأشرب فأتقمح أم أبي زرع وما أم أبي زرع؟ عكومها رداح وبيتها فساح, ابن أبي زرع وما ابن أبي زرع؟ مضجعه كمسل شطبة وتشبعه ذراع الجفرة, بنت أبي زرع وما بنت أبي زرع؟ طوع أبيها وطوع أمها وملء كسائها وعطف ردائها وزين أهلها وغيظ جارتها, جارية أبي زرع وما جارية أبي زرع؟ لا تبث حديثنا تبثيثا ولا تنقث ميرتنا تنقيثا ولا تملأ بيتنا تعثيثا, خرج أبو زرع والأوطاب تمخض فمر بامرأة معها ابنان لها كالفهدين يلعبان من تحت خصرها برمانتين, فطلقني ونكحها, فنكحت بعده
رجلا سريا ركب شريا وأخذ خطيا وأراح علي نعما سريا وأعطاني من كل رائحة زوجا فقال: كلي أم زرع وميري أهلك فلو جمعت كل شيء أعطانيه ما ملأ أصغر إناء من آنية أبي زرع, فقال النبي صلى الله عليه وسلم: [يا عائشة! كنت لك كأبي زرع لأم زرع إلا أن أبا زرع طلق وأنا لا أطلق] .
(طب) عن عائشة ورواه [خ الترمذي في الشمائل] موقوفا إلا قوله: [كنت لك كأبي زرع] فرفعاه قالوا: وهو يؤيد رفع الحديث كله
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جاہلیت کے دور میں گیارہ عورتیں اکٹھی ہوئیں اور انہوں نے آپس میں یہ عہد و پیمان کیا کہ وہ سچ بولیں گی اور اپنے شوہروں کے حالات میں سے کوئی بات نہیں چھپائیں گی۔ پہلی نے کہا: میرا شوہر پہاڑ کی چوٹی پر رکھے ہوئے دبلے اونٹ کے گوشت کی طرح ہے، نہ تو راستہ ہموار ہے کہ وہاں چڑھا جائے، اور نہ ہی گوشت موٹا تازہ ہے کہ اسے (آسانی سے) لایا جا سکے۔ دوسری نے کہا: میں اپنے شوہر کا حال بیان نہیں کر سکتی کیونکہ مجھے ڈر ہے کہ اگر میں نے اس کا ذکر کیا تو اس کے کھلے اور چھپے تمام عیب بیان کر دوں گی۔ تیسری نے کہا: میرا شوہر بہت لمبے قد والا ہے، اگر میں بولتی ہوں تو طلاق دے دے گا اور اگر خاموش رہتی ہوں تو لٹکا کر رکھے گا۔ چوتھی نے کہا: میرا شوہر جب کھاتا ہے تو سب سمیٹ لیتا ہے، جب پیتا ہے تو برتن خالی کر دیتا ہے، اور جب سوتا ہے تو اکیلا کپڑا لپیٹ کر سو جاتا ہے اور اپنا ہاتھ اندر نہیں ڈالتا تاکہ میری تکلیف کو جان سکے۔ پانچویں نے کہا: میرا شوہر بے وقوف اور کم عقل ہے، دنیا کی ہر بیماری اس میں موجود ہے، وہ تیرا سر پھوڑ دے گا، یا تیری ہڈی توڑ دے گا، یا دونوں کام کر گزرے گا۔ چھٹی نے کہا: میرا شوہر تہامہ کی رات کی طرح ہے، جس میں نہ حد سے زیادہ گرمی ہے اور نہ سردی، اس سے نہ کوئی ڈر ہے اور نہ ہی اکتاہٹ۔ ساتویں نے کہا: میرا شوہر جب گھر میں آتا ہے تو چیتے کی طرح ہوتا ہے، اور جب باہر جاتا ہے تو شیر کی طرح ہوتا ہے، اور جو کچھ وہ گھر میں چھوڑ کر جاتا ہے اس کے بارے میں پوچھتا تک نہیں۔ آٹھویں نے کہا: میرے شوہر کا چھونا خرگوش کی طرح نرم ہے اور اس کی خوشبو زرنب (ایک خوشبودار بوٹی) جیسی ہے، میں اس پر غالب رہتی ہوں اور وہ لوگوں پر غالب ہے۔ نویں نے کہا: میرا شوہر اونچے ستونوں والا، لمبی تلوار والا (بہادر)، بہت زیادہ راکھ والا (سخی) ہے، اور اس کا گھر مجلس کی جگہ کے بالکل قریب ہے۔ دسویں نے کہا: میرے شوہر کا نام مالک ہے، اور مالک کیا ہے؟ مالک اس سے کہیں بڑھ کر ہے جو میں بیان کروں، اس کے پاس چرنے والے اونٹ کم ہیں اور بٹھانے والے زیادہ ہیں، جب وہ اونٹ باجوں کی آواز سنتے ہیں تو انہیں یقین ہو جاتا ہے کہ اب ان کی ہلاکت (یعنی مہمانوں کے لیے ذبح ہونے) کا وقت آ گیا ہے۔ گیارہویں نے کہا: میرے شوہر کا نام ابو زرع ہے، اور ابو زرع کیا ہے؟ اس نے میرے کانوں کو زیورات سے لاد دیا، میرے بازوؤں کو چربی سے بھر دیا (یعنی کھلا پلا کر موٹا کر دیا)، اس نے مجھے اتنی خوشی دی کہ میں خود بھی اپنے آپ پر فخر کرنے لگی، اس نے مجھے ایک گھاٹی میں رہنے والے چند بکریوں کے مالکان میں پایا تھا، پھر وہ مجھے ایسے لوگوں میں لے آیا جن کے پاس گھوڑوں کی ہنہناہٹ، اونٹوں کی بلبلاہٹ، کھیتی باڑی اور صاف ستھرا اناج تھا، میں اس کے پاس جو بات کہتی تو مجھے برا نہیں کہا جاتا تھا، میں سوتی تو صبح دیر تک سوتی رہتی، اور میں پیتی تو خوب سیراب ہو کر پیتی۔ ابو زرع کی ماں (میری ساس)، اس کا کیا حال؟ اس کے بڑے بڑے برتن بھرے ہوئے اور اس کا گھر بہت وسیع تھا۔ ابو زرع کا بیٹا، اس کا کیا حال؟ اس کے سونے کی جگہ ننگی تلوار کی میان کی طرح پتلی تھی اور اسے بکری کے چار ماہ کے بچے کا دست سیر کر دیتا تھا۔ ابو زرع کی بیٹی، اس کی کیا بات؟ وہ اپنے باپ کی فرماں بردار اور اپنی ماں کی تابعدار تھی، وہ اپنے کپڑوں کو بھرنے والی اور اپنی سوکن کے لیے غیظ و غضب کا باعث تھی۔ ابو زرع کی لونڈی، اس کا کیا حال؟ وہ ہماری باتوں کو لوگوں میں نہیں پھیلاتی تھی، ہمارا راشن ضائع نہیں کرتی تھی اور ہمارے گھر کو کوڑا کرکٹ سے نہیں بھرتی تھی۔ ایک دن ابو زرع باہر نکلا، جبکہ دودھ بلویا جا رہا تھا، تو اس کا گزر ایک ایسی عورت پر ہوا جس کے دو بچے چیتے کے بچوں کی طرح اس کی کمر کے نیچے دو اناروں سے کھیل رہے تھے، تو اس نے مجھے طلاق دے دی اور اس عورت سے نکاح کر لیا۔ اس کے بعد میں نے ایک انتہائی شریف اور بہادر آدمی سے نکاح کر لیا جو تیز رفتار گھوڑے پر سوار ہوتا تھا اور اس کے ہاتھ میں نیزہ ہوتا تھا، وہ میرے پاس شام کے وقت بہت سے عمدہ جانور لاتا اور مجھے ہر قسم کے جانوروں میں سے ایک جوڑا دیتا، اور کہتا: اے ام زرع! خود بھی کھاؤ اور اپنے گھر والوں کو بھی کھلاؤ۔ پس اگر میں ان تمام چیزوں کو اکٹھا کر لوں جو اس نے مجھے دی تھیں، تو وہ ابو زرع کے برتنوں میں سے سب سے چھوٹے برتن کو بھی نہیں بھر سکتیں۔ (یہ سن کر) نبی کریم ﷺ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: اے عائشہ! میں تمہارے لیے ایسا ہی ہوں جیسا ام زرع کے لیے ابو زرع تھا، مگر فرق یہ ہے کہ ابو زرع نے طلاق دے دی تھی اور میں طلاق نہیں دوں گا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 141
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [طب] عن عائشة, ورواه [خ, ت] في الشمائل موقوفا إلا قوله: [كنت لك كأبي زرع] فرفعاه١, قالوا: وهو يؤيد رفع الحديث كله. البخاري في: [النكاح] , ومسلم في [الفضائل] .
«اجتمعوا على طعامكم واذكروا اسم الله يبارك لكم فيه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اپنے کھانے پر اکٹھے بیٹھا کرو اور اللہ کا نام لیا کرو، تمہارے لیے اس میں برکت ڈال دی جائے گی۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 142
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [حم, د, هـ, حب, ك] عن وحشي بن حرب. الكلم الطيب ١٨٥ الصحيحة ٨٩٥.
«اجتنب الغضب»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”غصے سے بچو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 143
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ابن أبي الدنيا في ذم الغضب ابن عساكر] عن رجل من الصحابة.
«اجتنبوا السبع الموبقات: الشرك بالله والسحر وقتل النفس التي حرم الله إلا بالحق وأكل الربا وأكل مال اليتيم والتولي يوم الزحف وقذف المحصنات المؤمنات الغافلات»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”سات ہلاک کر دینے والے گناہوں سے بچو: اللہ کے ساتھ شرک کرنا، جادو کرنا، کسی ایسی جان کو قتل کرنا جسے اللہ نے حرام قرار دیا ہو مگر حق کے ساتھ، سود کھانا، یتیم کا مال کھانا، میدانِ جنگ سے پیٹھ پھیر کر بھاگنا، اور پاک دامن، بے خبر مومن عورتوں پر تہمت لگانا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 144
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ق د ن] عن أبي هريرة. إرواء الغليل ١٢٠٢ و٢٣٦٥.
«اجتنبوا الكبائر السبع: الشرك بالله وقتل النفس والفرار من الزحف وأكل مال اليتيم وأكل الربا وقذف المحصنة والتعرب بعد الهجرة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”سات کبیرہ گناہوں سے بچو: اللہ کے ساتھ شرک کرنا، ناحق قتل کرنا، میدانِ جنگ سے بھاگنا، یتیم کا مال کھانا، سود کھانا، پاک دامن عورت پر تہمت لگانا، اور ہجرت کے بعد دوبارہ دیہاتی بن جانا (یعنی دین اور جماعت سے کٹ کر جہالت کی طرف لوٹ جانا)۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 145
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [طب] عن سهل بن أبي حثمة. مجمع الزوائد ١/١٠٣.
«اجتنبوا الكبائر وسددوا وأبشروا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”کبیرہ گناہوں سے بچو، درست راستے پر رہو (میانہ روی اختیار کرو) اور خوشخبری قبول کرو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 146
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [ابن جرير] عن قتادة مرسلا. الصحيحة ٨٨٥: حم عن جابر.
«اجتنبوا كل مسكر»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”ہر نشہ آور چیز سے بچو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 147
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [طب] عن عبد الله بن مغفل. الأحاديث الصحيحة ٨٨٦: حم عن علي, البزار عن ابن عباس.
«اجتنبوا ما أسكر»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو چیز نشہ آور ہو اس سے بچو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 148
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [الحلواني] عن علي. الصحيحة ٨٨٦: د, عن ابن عمرو.
«اجتنبوا هذه القاذورات التي نهى الله تعالى عنها فمن ألم بشيء منها فليستتر بستر الله وليتب إلى الله, فإنه من يبد لنا صفحته نقم عليه كتاب الله»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”ان گندگیوں (فحش کاموں اور گناہوں) سے بچو جن سے اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا ہے، پس جو کوئی ان میں سے کسی چیز میں مبتلا ہو جائے تو اسے چاہیے کہ وہ اسے اللہ کے پردے کے ساتھ چھپائے رکھے اور اللہ کے حضور توبہ کرے، کیونکہ جو شخص ہمارے سامنے اپنے گناہ کو ظاہر کر دے گا تو ہم اس پر اللہ کی کتاب کے مطابق سزا نافذ کریں گے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 149
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ك هق] عن ابن عمر. الصحيحة ٦٦٣.
«اجعل بين أذانك وإقامتك نفسا حتى يقضي المتوضئ حاجته في مهل ويفرغ الآكل من طعامه في مهل»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اپنی اذان اور اقامت کے درمیان کچھ وقفہ رکھا کرو، تاکہ وضو کرنے والا اطمینان سے اپنی حاجت پوری کر لے اور کھانا کھانے والا سکون سے اپنے کھانے سے فارغ ہو جائے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 150
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [عم] عن أبي [أبو الشيخ في الأذان] عن سلمان وعن أبي هريرة. الأحاديث الصحيحة ٨٨٧.
«اجعلوا آخر صلاتكم بالليل وترا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اپنی رات کی آخری نماز وتر کو بناؤ۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 151
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ق د] عن ابن عمر. صحيح أبي داود ١٢٩٢, الإرواء ٤٢٢: حم, ابن نصر: أبو عوانة, هق.
«اجعلوا بينكم وبين الحرام سترا من الحلال من فعل ذلك استبرأ لعرضه ودينه, ومن أرتع فيه كان كالمرتع إلى جنب الحمى يوشك أن يقع فيه, وإن لكل ملك حمى وإن حمى الله في الأرض محارمه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اپنے اور حرام کے درمیان حلال کی ایک آڑ بنا لو، جس نے ایسا کیا اس نے اپنی عزت اور اپنے دین کو محفوظ کر لیا، اور جو اس (مشتبہ چیزوں) میں پڑ گیا تو اس کی مثال اس چرواہے کی سی ہے جو ممنوعہ چراگاہ کے اردگرد اپنے جانور چراتا ہے، قریب ہے کہ وہ اس میں جا پڑیں۔ اور بے شک ہر بادشاہ کی ایک ممنوعہ چراگاہ ہوتی ہے، اور بلاشبہ زمین میں اللہ کی ممنوعہ چراگاہ اس کی حرام کردہ چیزیں ہیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 152
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حب طب] عن النعمان بن بشير. الصحيحة ٨٩٦.
«اجعلوا بينكم وبين النار حجابا ولو بشق تمرة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اپنے اور جہنم کی آگ کے درمیان آڑ بناؤ، خواہ کھجور کا ایک ٹکڑا (صدقہ کر کے) ہی کیوں نہ ہو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 153
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [طب] عن فضالة بن عبيد. الصحيحة ٨٩٧.
«اجعلوا من صلاتكم في بيوتكم ولا تتخذوها قبورا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اپنی کچھ نمازیں (سنتیں اور نوافل) اپنے گھروں میں پڑھا کرو اور انہیں قبرستان نہ بناؤ۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 154
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق د] عن ابن عمر [ع الروياني الضياء] عن زيد بن خالد [محمد بن نصر في الصلاة] عن عائشة. صحيح السنن ٩٥٨, رياض الصالحين ١١٣٦.
«اجلس فقد آذيت وأنيت» - قاله للذي تخطى يوم الجمعة -
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بیٹھ جاؤ، تم نے لوگوں کو تکلیف دی اور تم دیر سے آئے۔“ (یہ آپ ﷺ نے اس شخص سے فرمایا جو جمعہ کے دن لوگوں کی گردنیں پھلانگ کر آ رہا تھا)۔
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 155
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم د ن حب ك هق] عن عبد الله بن بسر [هـ] عن جابر. صحيح السنن ١٠٢٧.
«اجلس يا أبا تراب!» - قاله لعلي -
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اے ابو تراب! بیٹھ جائیے۔“ (یہ آپ ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا)۔
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 156
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [خ] عن سهل بن سعد.
«أجملوا في طلب الدنيا فإن كلا ميسر لما كتب له منها»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”دنیا طلب کرنے میں میانہ روی اختیار کرو، کیونکہ ہر شخص کے لیے وہی کچھ آسان کر دیا گیا ہے جو اس کے مقدر میں لکھ دیا گیا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 157
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [هـ ك طب هق] عن أبي حميد الساعدي. الصحيحة ٨٩٨.
«أجيبوا الداعي ولا تردوا الهدية ولا تضربوا المسلمين»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”دعوت دینے والے کی دعوت قبول کرو، ہدیہ (تحفہ) واپس نہ کرو اور مسلمانوں کو مت مارو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 158
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم خد طب هب] عن ابن مسعود. الإرواء ١٦١٦.
«أجيبوا هذه الدعوة إذا دعيتم لها»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تمہیں اس دعوت (ولیمہ وغیرہ) کے لیے بلایا جائے تو اسے قبول کیا کرو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 159
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ق] عن ابن عمر. الإرواء ١٩٤٨.
«أحب الأديان إلى الله تعالى الحنيفية السمحة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے پسندیدہ دین دینِ حنیف (یکسوئی والا دین) ہے جس میں نرمی اور آسانی ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 160
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [حم خد طب] عن ابن عباس. الصحيحة ٨٨١.