حدیث نمبر: 125
«أتي الله عز وجل بعبد من عباده آتاه الله مالا فقال له: ماذا عملت في الدنيا؟ فقال: ما عملت من شيء يا رب إلا أنك آتيتني مالا فكنت أبايع الناس وكان من خلقي أن أيسر على الموسر وأنظر المعسر. قال الله تعالى: أنا أحق بذلك منك تجاوزوا عن عبدي»
ترجمہ

(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اللہ عزوجل کے سامنے اس کے بندوں میں سے ایک ایسے بندے کو لایا جائے گا جسے اللہ نے مال عطا کیا تھا۔ اللہ اس سے پوچھے گا: تو نے دنیا میں کیا عمل کیا؟ وہ عرض کرے گا: اے میرے رب! میں نے کوئی (خاص) عمل نہیں کیا سوائے اس کے کہ تو نے مجھے مال عطا فرمایا تھا، پس میں لوگوں کے ساتھ لین دین کرتا تھا اور میری یہ عادت تھی کہ میں مالداروں کے ساتھ آسانی کرتا تھا اور تنگ دستوں کو مہلت دیتا تھا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: میں تجھ سے زیادہ اس بات کا حق دار ہوں، (فرشتو!) میرے بندے سے درگزر کرو۔“

حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 125
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ك] عن حذيفة وعقبة بن عامر وأبي مسعود الأنصاري. أحاديث البيوع.