حدیث نمبر: 127
"أتيت بالبراق وهو دابة أبيض طويل فوق الحمار ودون البغل يضع حافره عند منتهى طرفه فركبته حتى أتيت بيت المقدس فربطته بالحلقة التي تربط بها الأنبياء, ثم دخلت المسجد فصليت فيه ركعتين, ثم خرجت فجاءني جبريل بإناء من خمر وإناء من لبن فاخترت اللبن فقال جبريل: اخترت الفطرة, ثم عرج بنا إلى السماء فاستفتح جبريل فقيل: من أنت؟ قال: جبريل قيل: ومن معك؟ قال: محمد قيل: وقد بعث إليه؟ قال: قد بعث إليه ففتح لنا فإذا أنا بآدم فرحب بي ودعا لي بخير; ثم عرج بنا إلى السماء الثانية فاستفتح جبريل فقيل: من أنت؟ قال: جبريل قيل: ومن معك؟ قال: محمد قيل: وقد بعث إليه؟ قال: قد بعث إليه ففتح لنا فإذا أنا بابني الخالة: عيسى بن مريم ويحيى بن زكريا فرحبا بي ودعوا لي بخير, ثم عرج بنا إلى السماء الثالثة فاستفتح جبريل فقيل: من أنت؟ قال: جبريل قيل: ومن معك؟ قال: محمد قيل: وقد بعث إليه؟ قال: قد بعث إليه ففتح لنا فإذا أنا بيوسف وإذا هو قد أعطي شطر الحسن فرحب بي ودعا لي بخير, ثم عرج بنا إلى السماء الرابعة فاستفتح جبريل فقيل: من هذا؟ قال: جبريل قيل: ومن معك؟ قال: محمد قيل: وقد بعث إليه؟ قال: قد بعث إليه ففتح لنا فإذا أنا بإدريس فرحب بي ودعا لي بخير قال الله تعالى: {وَرَفَعْنَاهُ مَكَاناً عَلِيّاً} ,
ثم عرج بنا إلى السماء الخامسة فاستفتح جبريل فقيل: من هذا؟ قال: جبريل قيل: ومن معك؟ قال: محمد قيل: وقد بعث إليه؟ قال: قد بعث إليه ففتح لنا فإذا أنا بهارون فرحب بي ودعا لي بخير; ثم عرج بنا إلى السماء السادسة فاستفتح جبريل فقيل: من هذا؟ قال: جبريل قيل: ومن معك؟ قال: محمد قيل: وقد بعث إليه؟ قال: قد بعث إليه ففتح لنا فإذا أنا بموسى فرحب بي ودعا لي بخير, ثم عرج بنا إلى السماء السابعة فاستفتح جبريل فقيل: من هذا؟ قال: جبريل قيل: ومن معك؟ قال: محمد قيل: وقد بعث إليه؟ قال: قد بعث إليه ففتح لنا فإذا أنا بإبراهيم مسندا ظهره إلى البيت المعمور وإذا هو يدخله كل يوم سبعون ألف ملك لا يعودون إليه, ثم ذهب بي إلى سدرة المنتهى وإذا ورقها كآذان الفيلة وإذا ثمرها كالقلال فلما غشيها من أمر الله ما غشي تغيرت فما أحد من خلق الله يستطيع أن ينعتها من حسنها, فأوحى الله إلي ما أوحى ففرض علي خمسين صلاة في كل يوم وليلة;
فنزلت إلى موسى فقال: ما فرض ربك على أمتك قلت: خمسين صلاة قال: ارجع إلى ربك فسله التخفيف فإن أمتك لا تطيق ذلك فإني قد بلوت بني إسرائيل وخبرتهم فرجعت إلى ربي فقلت: يا رب خفف عن أمتي فحط عني خمسا;
فرجعت إلى موسى فقلت: حط عني خمسا قال: إن أمتك لا يطيقون ذلك فارجع إلى ربك فسله التخفيف,
فلم أزل أرجع بين ربي وبين موسى حتى قال: يا محمد إنهن خمس
صلوات كل يوم وليلة لكل صلاة عشر فذلك خمسون صلاة ومن هم بحسنة فلم يعلمها كتبت له حسنة فإن عملها كتبت له عشرا, ومن هم بسيئة فلم يعملها لم تكتب شيئا فإن عملها كتبت سيئة واحدة; فنزلت حتى انتهيت إلى موسى فأخبرته فقال: ارجع إلى ربك فسله التخفيف فقلت: قد رجعت إلى ربي حتى استحييت منه"
ترجمہ

(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میرے پاس براق لایا گیا، اور وہ ایک سفید رنگ کا لمبا جانور تھا جو گدھے سے بڑا اور خچر سے چھوٹا تھا، وہ اپنا کھر وہاں رکھتا تھا جہاں تک اس کی نگاہ کی حد ہوتی تھی۔ پس میں اس پر سوار ہوا یہاں تک کہ بیت المقدس پہنچ گیا، وہاں میں نے اسے اس حلقے کے ساتھ باندھ دیا جس کے ساتھ انبیاء (اپنی سواریاں) باندھتے تھے۔ پھر میں مسجد میں داخل ہوا اور اس میں دو رکعت نماز پڑھی، پھر جب میں باہر نکلا تو جبریل میرے پاس ایک برتن شراب کا اور ایک برتن دودھ کا لے کر آئے، میں نے دودھ کو منتخب کیا تو جبریل نے کہا: آپ نے فطرت کو چنا ہے۔ پھر ہمیں آسمان کی طرف لے جایا گیا، جبریل نے دروازہ کھلوایا تو پوچھا گیا: تم کون ہو؟ انہوں نے کہا: میں جبریل ہوں۔ پوچھا گیا: تمہارے ساتھ کون ہے؟ انہوں نے کہا: محمد (ﷺ) ہیں۔ پوچھا گیا: کیا انہیں بلایا گیا ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، انہیں بلایا گیا ہے۔ پس ہمارے لیے دروازہ کھول دیا گیا، تو اچانک میری ملاقات آدم (علیہ السلام) سے ہوئی، انہوں نے مجھے خوش آمدید کہا اور میرے لیے بھلائی کی دعا کی۔ پھر ہمیں دوسرے آسمان کی طرف لے جایا گیا، جبریل نے دروازہ کھلوایا تو پوچھا گیا: تم کون ہو؟ انہوں نے کہا: میں جبریل ہوں۔ پوچھا گیا: تمہارے ساتھ کون ہے؟ انہوں نے کہا: محمد (ﷺ) ہیں۔ پوچھا گیا: کیا انہیں بلایا گیا ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، انہیں بلایا گیا ہے۔ پس ہمارے لیے دروازہ کھولا گیا تو اچانک میری ملاقات دو خالہ زاد بھائیوں عیسیٰ بن مریم اور یحییٰ بن زکریا (علیہما السلام) سے ہوئی، ان دونوں نے مجھے خوش آمدید کہا اور میرے لیے بھلائی کی دعا کی۔ پھر ہمیں تیسرے آسمان کی طرف لے جایا گیا، جبریل نے دروازہ کھلوایا تو پوچھا گیا: تم کون ہو؟ انہوں نے کہا: میں جبریل ہوں۔ پوچھا گیا: تمہارے ساتھ کون ہے؟ انہوں نے کہا: محمد (ﷺ) ہیں۔ پوچھا گیا: کیا انہیں بلایا گیا ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، انہیں بلایا گیا ہے۔ پس ہمارے لیے دروازہ کھولا گیا تو اچانک میری ملاقات یوسف (علیہ السلام) سے ہوئی، اور انہیں (دنیا کا) آدھا حسن عطا کیا گیا تھا، انہوں نے مجھے خوش آمدید کہا اور میرے لیے بھلائی کی دعا کی۔ پھر ہمیں چوتھے آسمان کی طرف لے جایا گیا، جبریل نے دروازہ کھلوایا تو پوچھا گیا: یہ کون ہے؟ انہوں نے کہا: میں جبریل ہوں۔ پوچھا گیا: تمہارے ساتھ کون ہے؟ انہوں نے کہا: محمد (ﷺ) ہیں۔ پوچھا گیا: کیا انہیں بلایا گیا ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، انہیں بلایا گیا ہے۔ پس ہمارے لیے دروازہ کھولا گیا تو اچانک میری ملاقات ادریس (علیہ السلام) سے ہوئی، انہوں نے مجھے خوش آمدید کہا اور میرے لیے بھلائی کی دعا کی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ﴿وَرَفَعْنَاهُ مَكَانًا عَلِيًّا﴾ ”اور ہم نے انہیں بلند مقام پر اٹھا لیا۔“ [سورة مريم: 57] پھر ہمیں پانچویں آسمان کی طرف لے جایا گیا، جبریل نے دروازہ کھلوایا تو پوچھا گیا: یہ کون ہے؟ انہوں نے کہا: جبریل۔ پوچھا گیا: تمہارے ساتھ کون ہے؟ انہوں نے کہا: محمد (ﷺ) ہیں۔ پوچھا گیا: کیا انہیں بلایا گیا ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، انہیں بلایا گیا ہے۔ پس ہمارے لیے دروازہ کھولا گیا تو اچانک میری ملاقات ہارون (علیہ السلام) سے ہوئی، انہوں نے مجھے خوش آمدید کہا اور میرے لیے بھلائی کی دعا کی۔ پھر ہمیں چھٹے آسمان کی طرف لے جایا گیا، جبریل نے دروازہ کھلوایا تو پوچھا گیا: یہ کون ہے؟ انہوں نے کہا: جبریل۔ پوچھا گیا: تمہارے ساتھ کون ہے؟ انہوں نے کہا: محمد (ﷺ) ہیں۔ پوچھا گیا: کیا انہیں بلایا گیا ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، انہیں بلایا گیا ہے۔ پس ہمارے لیے دروازہ کھولا گیا تو میری ملاقات موسیٰ (علیہ السلام) سے ہوئی، انہوں نے مجھے خوش آمدید کہا اور میرے لیے بھلائی کی دعا کی۔ پھر ہمیں ساتویں آسمان کی طرف لے جایا گیا، جبریل نے دروازہ کھلوایا تو پوچھا گیا: یہ کون ہے؟ انہوں نے کہا: جبریل۔ پوچھا گیا: تمہارے ساتھ کون ہے؟ انہوں نے کہا: محمد (ﷺ) ہیں۔ پوچھا گیا: کیا انہیں بلایا گیا ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، انہیں بلایا گیا ہے۔ پس ہمارے لیے دروازہ کھولا گیا تو میری ملاقات ابراہیم (علیہ السلام) سے ہوئی، وہ بیت المعمور کے ساتھ اپنی پیٹھ لگائے بیٹھے تھے، اور اس میں ہر روز ستر ہزار فرشتے داخل ہوتے ہیں جو پھر دوبارہ اس کی طرف لوٹ کر نہیں آتے۔ پھر مجھے سدرۃ المنتہیٰ کی طرف لے جایا گیا، تو اس کے پتے ہاتھیوں کے کانوں کی طرح تھے اور اس کے پھل بڑے مٹکوں کے برابر تھے، پس جب اس پر اللہ کے حکم سے جو چھانا تھا وہ چھا گیا تو اس کی حالت بدل گئی، پس اللہ کی مخلوق میں سے کوئی بھی اس کے حسن کو بیان کرنے کی طاقت نہیں رکھتا۔ پھر اللہ نے میری طرف جو وحی کرنی تھی وہ وحی کی اور مجھ پر دن رات میں پچاس نمازیں فرض کیں۔ پھر میں موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف اترا تو انہوں نے پوچھا: آپ کے رب نے آپ کی امت پر کیا فرض کیا ہے؟ میں نے کہا: پچاس نمازیں۔ انہوں نے کہا: اپنے رب کی طرف واپس جائیے اور اس سے تخفیف کا سوال کیجیے، کیونکہ آپ کی امت اس کی طاقت نہیں رکھتی، میں نے بنی اسرائیل کو آزمایا ہوا ہے اور ان کا تجربہ کیا ہوا ہے۔ چنانچہ میں اپنے رب کی طرف واپس گیا اور عرض کیا: اے میرے رب! میری امت پر تخفیف فرما دے، تو اس نے مجھ سے پانچ نمازیں کم کر دیں۔ پھر میں موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس واپس آیا اور کہا: مجھ سے پانچ نمازیں کم کر دی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا: آپ کی امت ان کی بھی طاقت نہیں رکھتی، پس اپنے رب کے پاس واپس جائیے اور اس سے تخفیف کا سوال کیجیے۔ پس میں مسلسل اپنے رب اور موسیٰ (علیہ السلام) کے درمیان چکر لگاتا رہا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے محمد! یہ دن اور رات میں پانچ نمازیں ہیں، ہر نماز کا ثواب دس کے برابر ہے، تو یہ پچاس نمازیں ہو گئیں۔ اور جو کوئی نیکی کا ارادہ کرے لیکن اسے کر نہ سکے تو اس کے لیے ایک نیکی لکھ دی جاتی ہے، اور اگر وہ اسے کر لے تو اس کے لیے دس نیکیاں لکھ دی جاتی ہیں، اور جو کوئی برائی کا ارادہ کرے اور اسے نہ کرے تو کچھ نہیں لکھا جاتا، اور اگر وہ اسے کر لے تو ایک برائی لکھ دی جاتی ہے۔ پھر میں نیچے اترا یہاں تک کہ موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس پہنچا اور انہیں خبر دی، تو انہوں نے کہا: اپنے رب کے پاس پھر جائیے اور اس سے تخفیف کا سوال کیجیے، تو میں نے کہا: میں اپنے رب کی طرف اتنی بار جا چکا ہوں کہ اب مجھے اس سے شرم آتی ہے۔“

حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 127
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم, م] عن أنس. الصحيحة ٨٧٣.