صحیح الجامع الصغیر
حرف الألف— حرف الف
الأحاديث المبدوءة بحرف الألف باب: حرف الف سے شروع ہونے والی احادیث
"اجتمع إحدى عشرة امرأة في الجاهلية فتعاقدن أن يتصادقن بينهن ولا يكتمن من أخبار أزواجهن شيئا. فقالت الأولى: زوجي لحم جمل غث على رأس جبل, وعر لا سهل فيرتقى ولا سمين فينتقل. قالت الثانية: زوجي لا أبث خبره إني أخاف أن لا أذره إن أذكره أذكر عجره وبجره. قالت الثالثة: زوجي العشنق إن أنطق أطلق وإن أسكت أعلق. قالت الرابعة: زوجي إن أكل لف وإن شرب اشتف وإن اضطجع التف ولا يولج الكف ليعلم البث.
قالت الخامسة: زوجي عياياء, طباقاء, كل داء له داء, شجك أو فلك, أو جمع كلا لك.
وقالت السادسة: زوجي كليل تهامة لا حر ولا قر, ولا مخافة ولا سآمة.
وقالت السابعة: زوجي إن دخل فهد وإن خرج أسد ولا يسأل عما عهد.
وقالت الثامنة: زوجي المس مس أرنب والريح ريح زرنب, وأنا أغلبه والناس يغلب.
قالت التاسعة: زوجي رفيع العماد طويل النجاد عظيم الرماد قريب البيت من الناد.
قالت العاشرة: زوجي مالك وما مالك؟ مالك خير من ذلك, له إبل قليلات المسارح كثيرات المبارك, إذا سمعن صوت المزاهر أيقن أنهن هوالك.
قالت الحادية عشرة: زوجي أبو زرع وما أبو زرع؟ أناس من حلي أذني وملأ من شحم عضدي وبجحني فبجحت إلي نفسي, وجدني في أهل غنيمة بشق, فجعلني في أهل صهيل وأطيط ودائس ومنق فعنده أقول فلا أقبح وأرقد فأتصبح, وأشرب فأتقمح أم أبي زرع وما أم أبي زرع؟ عكومها رداح وبيتها فساح, ابن أبي زرع وما ابن أبي زرع؟ مضجعه كمسل شطبة وتشبعه ذراع الجفرة, بنت أبي زرع وما بنت أبي زرع؟ طوع أبيها وطوع أمها وملء كسائها وعطف ردائها وزين أهلها وغيظ جارتها, جارية أبي زرع وما جارية أبي زرع؟ لا تبث حديثنا تبثيثا ولا تنقث ميرتنا تنقيثا ولا تملأ بيتنا تعثيثا, خرج أبو زرع والأوطاب تمخض فمر بامرأة معها ابنان لها كالفهدين يلعبان من تحت خصرها برمانتين, فطلقني ونكحها, فنكحت بعده
رجلا سريا ركب شريا وأخذ خطيا وأراح علي نعما سريا وأعطاني من كل رائحة زوجا فقال: كلي أم زرع وميري أهلك فلو جمعت كل شيء أعطانيه ما ملأ أصغر إناء من آنية أبي زرع, فقال النبي صلى الله عليه وسلم: [يا عائشة! كنت لك كأبي زرع لأم زرع إلا أن أبا زرع طلق وأنا لا أطلق] .
(طب) عن عائشة ورواه [خ الترمذي في الشمائل] موقوفا إلا قوله: [كنت لك كأبي زرع] فرفعاه قالوا: وهو يؤيد رفع الحديث كله(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جاہلیت کے دور میں گیارہ عورتیں اکٹھی ہوئیں اور انہوں نے آپس میں یہ عہد و پیمان کیا کہ وہ سچ بولیں گی اور اپنے شوہروں کے حالات میں سے کوئی بات نہیں چھپائیں گی۔ پہلی نے کہا: میرا شوہر پہاڑ کی چوٹی پر رکھے ہوئے دبلے اونٹ کے گوشت کی طرح ہے، نہ تو راستہ ہموار ہے کہ وہاں چڑھا جائے، اور نہ ہی گوشت موٹا تازہ ہے کہ اسے (آسانی سے) لایا جا سکے۔ دوسری نے کہا: میں اپنے شوہر کا حال بیان نہیں کر سکتی کیونکہ مجھے ڈر ہے کہ اگر میں نے اس کا ذکر کیا تو اس کے کھلے اور چھپے تمام عیب بیان کر دوں گی۔ تیسری نے کہا: میرا شوہر بہت لمبے قد والا ہے، اگر میں بولتی ہوں تو طلاق دے دے گا اور اگر خاموش رہتی ہوں تو لٹکا کر رکھے گا۔ چوتھی نے کہا: میرا شوہر جب کھاتا ہے تو سب سمیٹ لیتا ہے، جب پیتا ہے تو برتن خالی کر دیتا ہے، اور جب سوتا ہے تو اکیلا کپڑا لپیٹ کر سو جاتا ہے اور اپنا ہاتھ اندر نہیں ڈالتا تاکہ میری تکلیف کو جان سکے۔ پانچویں نے کہا: میرا شوہر بے وقوف اور کم عقل ہے، دنیا کی ہر بیماری اس میں موجود ہے، وہ تیرا سر پھوڑ دے گا، یا تیری ہڈی توڑ دے گا، یا دونوں کام کر گزرے گا۔ چھٹی نے کہا: میرا شوہر تہامہ کی رات کی طرح ہے، جس میں نہ حد سے زیادہ گرمی ہے اور نہ سردی، اس سے نہ کوئی ڈر ہے اور نہ ہی اکتاہٹ۔ ساتویں نے کہا: میرا شوہر جب گھر میں آتا ہے تو چیتے کی طرح ہوتا ہے، اور جب باہر جاتا ہے تو شیر کی طرح ہوتا ہے، اور جو کچھ وہ گھر میں چھوڑ کر جاتا ہے اس کے بارے میں پوچھتا تک نہیں۔ آٹھویں نے کہا: میرے شوہر کا چھونا خرگوش کی طرح نرم ہے اور اس کی خوشبو زرنب (ایک خوشبودار بوٹی) جیسی ہے، میں اس پر غالب رہتی ہوں اور وہ لوگوں پر غالب ہے۔ نویں نے کہا: میرا شوہر اونچے ستونوں والا، لمبی تلوار والا (بہادر)، بہت زیادہ راکھ والا (سخی) ہے، اور اس کا گھر مجلس کی جگہ کے بالکل قریب ہے۔ دسویں نے کہا: میرے شوہر کا نام مالک ہے، اور مالک کیا ہے؟ مالک اس سے کہیں بڑھ کر ہے جو میں بیان کروں، اس کے پاس چرنے والے اونٹ کم ہیں اور بٹھانے والے زیادہ ہیں، جب وہ اونٹ باجوں کی آواز سنتے ہیں تو انہیں یقین ہو جاتا ہے کہ اب ان کی ہلاکت (یعنی مہمانوں کے لیے ذبح ہونے) کا وقت آ گیا ہے۔ گیارہویں نے کہا: میرے شوہر کا نام ابو زرع ہے، اور ابو زرع کیا ہے؟ اس نے میرے کانوں کو زیورات سے لاد دیا، میرے بازوؤں کو چربی سے بھر دیا (یعنی کھلا پلا کر موٹا کر دیا)، اس نے مجھے اتنی خوشی دی کہ میں خود بھی اپنے آپ پر فخر کرنے لگی، اس نے مجھے ایک گھاٹی میں رہنے والے چند بکریوں کے مالکان میں پایا تھا، پھر وہ مجھے ایسے لوگوں میں لے آیا جن کے پاس گھوڑوں کی ہنہناہٹ، اونٹوں کی بلبلاہٹ، کھیتی باڑی اور صاف ستھرا اناج تھا، میں اس کے پاس جو بات کہتی تو مجھے برا نہیں کہا جاتا تھا، میں سوتی تو صبح دیر تک سوتی رہتی، اور میں پیتی تو خوب سیراب ہو کر پیتی۔ ابو زرع کی ماں (میری ساس)، اس کا کیا حال؟ اس کے بڑے بڑے برتن بھرے ہوئے اور اس کا گھر بہت وسیع تھا۔ ابو زرع کا بیٹا، اس کا کیا حال؟ اس کے سونے کی جگہ ننگی تلوار کی میان کی طرح پتلی تھی اور اسے بکری کے چار ماہ کے بچے کا دست سیر کر دیتا تھا۔ ابو زرع کی بیٹی، اس کی کیا بات؟ وہ اپنے باپ کی فرماں بردار اور اپنی ماں کی تابعدار تھی، وہ اپنے کپڑوں کو بھرنے والی اور اپنی سوکن کے لیے غیظ و غضب کا باعث تھی۔ ابو زرع کی لونڈی، اس کا کیا حال؟ وہ ہماری باتوں کو لوگوں میں نہیں پھیلاتی تھی، ہمارا راشن ضائع نہیں کرتی تھی اور ہمارے گھر کو کوڑا کرکٹ سے نہیں بھرتی تھی۔ ایک دن ابو زرع باہر نکلا، جبکہ دودھ بلویا جا رہا تھا، تو اس کا گزر ایک ایسی عورت پر ہوا جس کے دو بچے چیتے کے بچوں کی طرح اس کی کمر کے نیچے دو اناروں سے کھیل رہے تھے، تو اس نے مجھے طلاق دے دی اور اس عورت سے نکاح کر لیا۔ اس کے بعد میں نے ایک انتہائی شریف اور بہادر آدمی سے نکاح کر لیا جو تیز رفتار گھوڑے پر سوار ہوتا تھا اور اس کے ہاتھ میں نیزہ ہوتا تھا، وہ میرے پاس شام کے وقت بہت سے عمدہ جانور لاتا اور مجھے ہر قسم کے جانوروں میں سے ایک جوڑا دیتا، اور کہتا: اے ام زرع! خود بھی کھاؤ اور اپنے گھر والوں کو بھی کھلاؤ۔ پس اگر میں ان تمام چیزوں کو اکٹھا کر لوں جو اس نے مجھے دی تھیں، تو وہ ابو زرع کے برتنوں میں سے سب سے چھوٹے برتن کو بھی نہیں بھر سکتیں۔ (یہ سن کر) نبی کریم ﷺ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: اے عائشہ! میں تمہارے لیے ایسا ہی ہوں جیسا ام زرع کے لیے ابو زرع تھا، مگر فرق یہ ہے کہ ابو زرع نے طلاق دے دی تھی اور میں طلاق نہیں دوں گا۔“