کتب حدیثالمعجم الكبير للطبرانيابوابباب: ابوادریس خولانی عائذ اللہ بن عبداللہ کی سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا أَبُو خَلِيفَةَ الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، وَمُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ التَّمَّارِ الْبَصْرِيُّ قَالَا: ثنا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَهْرَامَ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَائِذُ اللهِ، قَالَ: قُلْتُ لِمُعَاذٍ: إِنِّي لَأُحِبُّكَ، وَأُحِبُّ حَدِيثَكَ، قَالَ: أَبْشِرْ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ الَّذِينَ يَتَحَابُّونَ مِنْ جَلَالِ اللهِ فِي ظِلِّ عَرْشِ اللهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَا ظِلَّ إِلَّا ظِلُّهُ»
ترجمہ
…شہر بن حوشب کے واسطے سے، وہ کہتے ہیں: مجھ سے عائذ اللہ نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں: میں نے معاذ رضی اللہ عنہ سے کہا: میں آپ سے محبت کرتا ہوں، اور آپ کی حدیث سے بھی محبت کرتا ہوں، انہوں نے کہا: خوش ہو جاؤ، میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”بیشک وہ لوگ جو اللہ کی جلالت کی خاطر ایک دوسرے سے محبت رکھتے ہیں، وہ قیامت کے دن اللہ کے عرش کے سائے میں ہوں گے، جس دن اس کے سائے کے سوا کوئی سایہ نہ ہوگا۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الميم / حدیث: 17280
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 20، صفحہ 78، حدیث 144
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ الْخَيَّاطُ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْمُتَحَابُّونَ فِي اللهِ فِي ظِلُّهِ يَوْمَ لَا ظِلَّ إِلَّا ظِلُّهُ»
ترجمہ
…حماد بن خالد خیاط کے واسطے سے، وہ معاویہ بن صالح سے، وہ ربیعہ بن یزید سے، وہ ابوادریس خولانی سے، وہ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کی خاطر ایک دوسرے سے محبت رکھنے والے، اس کے سائے میں ہوں گے، جس دن اس کے سائے کے سوا کوئی سایہ نہ ہوگا۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الميم / حدیث: 17281
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 20، صفحہ 78، حدیث 145
حَدَّثَنَا خَيْرُ بْنُ عَرَفَةَ الْمِصْرِيُّ، ثنا عُرْوَةُ بْنُ مَرْوَانَ الْعِرْقِيُّ، ثنا شُعَيْبُ بْنُ زُرَيْقٍ، عَنْ عَطَاءٍ الْخُرَاسَانِيِّ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «الْمُتَحَابُّونَ بِجَلَالِ اللهِ فِي ظِلِّ الْعَرْشِ يَوْمَ لَا ظِلَّ إِلَّا ظِلُّهُ»
ترجمہ
…عروہ بن مروان عِرقی کے واسطے سے، وہ شعیب بن زریق سے، وہ عطاء خراسانی سے، وہ ابوادریس خولانی سے، وہ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، وہ بیان کرتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”اللہ کی جلالت کی خاطر ایک دوسرے سے محبت رکھنے والے، عرش کے سائے میں ہوں گے، جس دن اس کے سائے کے سوا کوئی سایہ نہ ہوگا۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الميم / حدیث: 17282
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 20، صفحہ 79، حدیث 146
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُصَفَّى، ثنا بَقِيَّةُ، ثنا عُتْبَةُ بْنُ أَبِي حَكِيمٍ، حَدَّثَنِي عَطَاءٌ الْخُرَاسَانِيُّ، حَدَّثَنِي أَبُو إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيُّ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ الْمُتَحَابِّينَ فِي اللهِ فِي ظِلِّ الْعَرْشِ»
ترجمہ
…بقیہ کے واسطے سے، وہ عتبہ بن ابی حکیم سے، وہ عطاء خراسانی سے، وہ ابوادریس خولانی سے، وہ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، وہ بیان کرتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”بیشک اللہ کی خاطر ایک دوسرے سے محبت رکھنے والے، عرش کے سائے میں ہوں گے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الميم / حدیث: 17283
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 20، صفحہ 79، حدیث 147
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمُعَلَّى الدِّمَشْقِيُّ، ثنا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ثنا صَدَقَةُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، عَنْ عَطَاءٍ الْخُرَاسَانِيِّ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «الْمُتَحَابُّونَ مِنْ جَلَالِ اللهِ فِي ظِلِّ اللهِ يَوْمَ لَا ظِلَّ إِلَّا ظِلُّهُ»
ترجمہ
…عبدالرحمٰن بن یزید بن جابر کے واسطے سے، وہ عطاء خراسانی سے، وہ ابوادریس خولانی سے، وہ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، وہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”اللہ کی جلالت کی خاطر ایک دوسرے سے محبت رکھنے والے، اللہ کے سائے میں ہوں گے، جس دن اس کے سائے کے سوا کوئی سایہ نہ ہوگا۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الميم / حدیث: 17284
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 20، صفحہ 79، حدیث 148
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثنا الْهَيْثَمُ بْنُ خَارِجَةَ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، قَالَ: سَمِعْتُ عَائِذَ اللهِ أَبَا إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيَّ، يَقُولُ: قُلْتُ لِمُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ: إِنِّي لَأُحِبُّكَ فِي اللهِ، فَأَخَذَ بِحِقْوَيَّ، واجْتَذَبَنِي إِلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: وَاللهِ إِنَّكَ تُحِبُّنِي؟ قُلْتُ: وَاللهِ إِنِّي لَأُحِبُّكَ فِي اللهِ، قَالَ: أَبْشِرْ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «الْمُتَحَابُّونَ فِي ظِلِّ عَرْشِهِ يَوْمَ لَا ظِلَّ إِلَّا ظِلُّهُ»
ترجمہ
…تو انہوں نے میری کمر پکڑی، اور مجھے اپنی طرف کھینچا، پھر کہا: اللہ کی قسم! کیا تم مجھ سے محبت کرتے ہو؟ میں نے کہا: اللہ کی قسم! میں آپ سے اللہ کی خاطر محبت کرتا ہوں، انہوں نے کہا: خوش ہو جاؤ، میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”اس کے عرش کے سائے میں ایک دوسرے سے محبت رکھنے والے ہوں گے، جس دن اس کے سائے کے سوا کوئی سایہ نہ ہوگا۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الميم / حدیث: 17285
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 20، صفحہ 79، حدیث 149
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي حَازِمِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ، أَنَّهُ قَالَ: دَخَلْتُ مَسْجِدَ دِمَشْقَ، فَإِذَا أَنَا بِفَتًى بَرَّاقِ الثَّنَايَا، طَوِيلِ الصَّمْتِ، وَإِذَا النَّاسُ مَعَهُ إِذَا اخْتَلَفُوا فِي شَيْءٍ أَسْنَدُوهُ إِلَيْهِ، وَصَدَرُوا مِنْ رَأْيِهِ، فَسَأَلْتُ عَنْهُ فَقِيلَ: مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ، فَلَمَّا كَانَ الْغَدُ هَجَّرْتُ، فَوَجَدْتُهُ قَدْ سَبَقَنِي بِالتَّهْجِيرِ، وَوَجَدْتُهُ يُصَلِّي، فَانْتَظَرْتُهُ حَتَّى قَضَى صَلَاتَهُ، ثُمَّ جِئْتُهُ مِنْ قِبَلِ وَجْهِهِ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ، وَقُلْتُ: وَاللهِ إِنِّي لَأُحِبُّكَ لِلَّهِ، فَقَالَ: آللَّهِ؟ فَقُلْتُ: آللَّهِ، قَالَ: آللَّهِ؟ فَقُلْتُ: آللَّهِ، فَقَالَ: آللَّهِ؟ فَقُلْتُ: آللَّهِ، قَالَ: فَأَخَذَ بِحُبْوَةِ رِدَائِي فَجَذَبَنِي إِلَيْهِ، وَقَالَ: أَبْشِرْ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " قَالَ اللهُ: وَجَبَتْ مَحَبَّتِي لِلْمُتَحَابِّينَ فِيَّ، وَالْمُتَجَالِسِينَ فِيَّ، وَالْمُتَبَاذِلِينَ فِيَّ، وَالْمُتَزَاوِرِينَ فِيَّ "
ترجمہ
…وہ بیان کرتے ہیں: میں دمشق کی مسجد میں داخل ہوا، تو دیکھا کہ ایک روشن دانتوں والا، لمبی خاموشی رکھنے والا نوجوان ہے، اور لوگ اس کے ساتھ ہیں، جب کسی بات میں اختلاف کرتے تو اسی کی طرف رجوع کرتے، اور اسی کی رائے پر عمل کرتے، میں نے اس کے بارے میں پوچھا تو بتایا گیا: یہ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ ہیں، پھر جب اگلا دن ہوا تو میں جلدی مسجد گیا تو دیکھا کہ وہ مجھ سے پہلے جا چکے ہیں اور نماز پڑھ رہے ہیں، تو میں نے ان کے نماز مکمل کرنے تک انتظار کیا، پھر ان کے سامنے سے آ کر انہیں سلام کیا اور کہا: اللہ کی قسم! میں اللہ کے لیے آپ سے محبت رکھتا ہوں، انہوں نے کہا: کیا اللہ کی قسم (کھا کر کہتے ہو)؟ میں نے کہا: اللہ کی قسم، انہوں نے (پھر) کہا: کیا اللہ کی قسم؟ میں نے کہا: اللہ کی قسم، انہوں نے (پھر) کہا: کیا اللہ کی قسم؟ میں نے کہا: اللہ کی قسم، راوی کہتے ہیں: تو انہوں نے میری چادر کی گرہ پکڑی اور مجھے اپنی طرف کھینچا اور کہا: خوش ہو جاؤ، میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ”میری محبت ان لوگوں کے لیے واجب ہو گئی جو میری خاطر ایک دوسرے سے محبت رکھتے ہیں، اور میری خاطر ایک ساتھ بیٹھتے ہیں، اور میری خاطر ایک دوسرے کو دیتے ہیں، اور میری خاطر ایک دوسرے سے ملاقات کرتے ہیں۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الميم / حدیث: 17286
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 20، صفحہ 80، حدیث 150
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْعَلَاءِ بْنِ زِبْرِيقٍ الْحِمْصِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَيَّاشٍ، ثنا أَبِي، عَنْ ضَمْضَمِ بْنِ زُرْعَةَ، عَنْ شُرَيْحِ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ عَائِذِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: سَمِعْتُ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ الَّذِينَ يَتَحَابُّونَ فِي اللهِ فِي ظِلِّ عَرْشِ اللهِ يَوْمَ لَا ظِلَّ إِلَّا ظِلُّهُ»
ترجمہ
…اپنے والد کے واسطے سے، وہ ضمضم بن زرعہ سے، وہ شریح بن عبید سے، وہ عائذ اللہ بن عبداللہ سے، وہ بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے سنا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”بیشک وہ لوگ جو اللہ کی خاطر ایک دوسرے سے محبت رکھتے ہیں، وہ اللہ کے عرش کے سائے میں ہوں گے، جس دن اس کے سائے کے سوا کوئی سایہ نہ ہوگا۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الميم / حدیث: 17287
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 20، صفحہ 80، حدیث 151
حَدَّثَنَا إِدْرِيسُ بْنُ عَبْدِ الْكَرِيمِ الْحَدَّادُ الْمَقْدِسِيُّ، ثنا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا أَبُو مَعْشَرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ، قَالَ: دَخَلْتُ مَسْجِدَ حِمْصٍ فَإِذَا رِجَالٌ يَتَحَدَّثُونَ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَحَادِيثَ، فِيهِمْ شَابٌّ أَدْعَجُ، بَرَّاقُ الثَّنَايَا، إِذَا تَكَلَّمَ أَنْصَتَ الْقَوْمُ لَكَلَامِهِ كُلُّهُمْ، وَإِذَا اشْتَجَرُوا فِي شَيْءٍ رَضُوا فِيهِ قَوْلَهُ، فَإِذَا هُوَ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ، فَجَلَسْنَا إِلَيْهِ فَقُلْتُ: إِنِّي لَأُحِبُّكُ، فَأَخَذَ بِحُبْوَتِي فَجَذَبَنِي إِلَيْهِ، حَتَّى مَسَّتْ رُكْبَتِي رُكْبَتَهُ، ثُمَّ قَالَ: أَلَا أُبَشِّرُكَ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْثُرُهُ عَنِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ: «وَجَبَتْ مَحَبَّتِي لِلَّذِينَ يَتَحَابُّونَ وَيَتَجَالَسُونَ، وَيَتَزَاوَرُونَ، وَيَتَبَاذَلُونَ فِيَّ»
ترجمہ
…تو انہوں نے میری گرہ پکڑی اور مجھے اپنی طرف کھینچا، یہاں تک کہ میرا گھٹنا ان کے گھٹنے سے مل گیا، پھر کہا: کیا میں تمہیں رسول اللہ ﷺ کی طرف سے خوشخبری نہ سناؤں، جسے وہ اللہ عزوجل سے نقل کرتے ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”میری محبت ان لوگوں کے لیے واجب ہو گئی جو میری خاطر ایک دوسرے سے محبت رکھتے ہیں، ایک ساتھ بیٹھتے ہیں، ایک دوسرے سے ملاقات کرتے ہیں، اور ایک دوسرے کو دیتے ہیں۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الميم / حدیث: 17288
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 20، صفحہ 81، حدیث 152
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا أَبُو مَعْشَرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْثُرُ عَنِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ: «وَجَبَتْ مَحَبَّتِي لِلَّذِينَ يَتَحَابُّونَ وَيَتَجَالَسُونَ، وَيَتَبَاذَلُونَ فِيَّ»
ترجمہ
…حسین بن محمد کے واسطے سے، وہ ابومعشر سے، وہ محمد بن قیس سے، وہ ابوادریس خولانی سے، وہ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے، وہ رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہیں، وہ اسے اللہ عزوجل سے نقل کرتے ہیں کہ اللہ نے فرمایا: ”میری محبت ان لوگوں کے لیے واجب ہو گئی جو میری خاطر ایک دوسرے سے محبت رکھتے ہیں، ایک ساتھ بیٹھتے ہیں، اور ایک دوسرے کو دیتے ہیں۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الميم / حدیث: 17289
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 20، صفحہ 81، حدیث 153
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ بْنِ الصَّبَّاحِ الرَّقِّيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ الرَّقِّيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمِنِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «الْمُتَحَابُّونَ فِي اللهِ فِي ظِلِّ عَرْشِ اللهِ يَوْمَ لَا ظِلَّ إِلَّا ظِلُّهُ، يَفْزَعُ النَّاسُ وَلَا يَفْزَعُونَ، وَيَخَافُ النَّاسُ وَلَا يَخَافُونَ» قَالَ: فَقُمْتُ مِنْ عِنْدِهِ فَأَتَيْتُ عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ، فَقَالَ عُبَادَةُ: وَخَيْرٌ مِنهَا، سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «حَقَّتْ مَحَبَّتِي لِلْمُتَحَابِّينَ فِيَّ، وَحَقَّتْ مَحَبَّتِي للمُتَجَالِسِينَ فِيَّ، وَحَقَّتْ مَحَبَّتِي لِلْمُتَزَاوِرِينَ فِيَّ»
ترجمہ
…عبداللہ بن عبدالرحمٰن بن ابی حسین کے واسطے سے، وہ شہر بن حوشب سے، وہ ابوادریس خولانی سے، وہ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، وہ بیان کرتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”اللہ کی خاطر ایک دوسرے سے محبت رکھنے والے، اللہ کے عرش کے سائے میں ہوں گے، جس دن اس کے سائے کے سوا کوئی سایہ نہ ہوگا، لوگ گھبرائیں گے مگر وہ نہیں گھبرائیں گے، اور لوگ خوفزدہ ہوں گے مگر وہ خوفزدہ نہیں ہوں گے۔“ راوی کہتے ہیں: تو میں ان کے پاس سے اٹھا اور سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، تو عبادہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اور اس سے بہتر (بات یہ ہے کہ) میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”میری محبت میری خاطر ایک دوسرے سے محبت رکھنے والوں کے لیے ثابت ہو گئی، اور میری محبت میری خاطر ایک ساتھ بیٹھنے والوں کے لیے ثابت ہو گئی، اور میری محبت میری خاطر ایک دوسرے سے ملاقات کرنے والوں کے لیے ثابت ہو گئی۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الميم / حدیث: 17290
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 20، صفحہ 81، حدیث 154
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي زُرْعَةَ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الدِّمَشْقِيَّانِ قَالَا: ثنا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ثنا عَمْرُو بْنُ وَاقِدٍ، عَنْ يُونُسَ بْنِ مَيْسَرَةَ بْنِ حَلْبَسٍ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «نَضَّرَ اللهُ عَبْدًا سَمِعَ كَلَامِي ثُمَّ لَمْ يَزِدْ فِيهِ، فَرُبَّ حَامِلِ فِقْهٍ إِلَى أَوْعَى مِنْهُ»
" ثَلَاثٌ لَا يُغَلُّ عَلَيْهِنَّ قَلْبُ مُؤْمِنٍ: إِخْلَاصُ الْعَمَلِ لِلَّهِ، وَالْمُنَاصَحَةُ لِأُولِي الْأَمْرِ، وَالِاعْتِصَامُ بِجَمَاعَةِ الْمُسْلِمِينَ، فَإِنَّ دَعْوَتَهُمْ تُحِيطُ مَنْ وَرَاءَهُمْ "
ترجمہ
…عمرو بن واقد کے واسطے سے، وہ یونس بن میسرہ بن حلبس سے، وہ ابوادریس خولانی سے، وہ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ اس بندے کو تروتازہ رکھے جس نے میری بات سنی، پھر اس میں کچھ اضافہ نہ کیا، کیونکہ کتنے ہی سمجھ رکھنے والے کسی ایسے کو پہنچاتے ہیں جو اس سے زیادہ سمجھ رکھنے والا ہو۔“
”تین چیزیں ایسی ہیں جن پر مومن کا دل کبھی کینہ نہیں رکھتا: اللہ کے لیے عمل میں خلوص، حکمرانوں کے لیے خیرخواہی، اور مسلمانوں کی جماعت سے وابستگی، کیونکہ ان کی دعا ان کے پیچھے (رہ جانے والوں) کو گھیرے ہوئے ہے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الميم / حدیث: 17291
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 20، صفحہ 82، حدیث 155
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عِيسَى بْنِ الْمُنْذِرِ الْحِمْصِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُبَارَكِ الصُّورِيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ وَاقِدٍ، عَنْ يُونُسَ بْنِ مَيْسَرَةَ بْنِ حَلْبَسٍ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، أَنَّ رَجُلًا قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، عَلِّمْنِي عَمَلًا إِذَا مَا عَمِلْتُهُ دَخَلْتُ الْجَنَّةَ؟ قَالَ: «لَا تُشْرِكْ بِاللهِ شَيْئًا وَإِنْ حُرِّقْتَ، وَأَطِعْ وَالِدَيْكَ وَإِنْ أَخْرَجَاكَ مِنْ مَالِكَ، وَلَا تَشْرَبِ الْخَمْرَ، فَإِنَّهَا مِفْتَاحُ كُلِّ شَرٍّ، لَا تَتْرُكَنَّ الصَّلَاةَ مُتَعَمِّدًا، فَإِنَّهُ مَنْ تَرَكَ الصَّلَاةَ مُتَعَمِّدًا بَرِئَتْ مِنْهُ ذِمَّةُ اللهِ، لَا تُنَازِعِ الْأَمْرَ أَهْلَهُ وَإِنْ رَأَيْتَ أَنَّ لَكَ، أَنْفِقْ عَلَى أَهْلِكَ مِنْ طَوْلِكَ، وَلَا تَرْفَعِ الْعَصَا عَنْهُمْ، أَخِفْهُمْ فِي اللهِ، لَا تَغْلُلْ، لَا تَفِرَّ مِنَ الزَّحْفِ»
ترجمہ
…یونس بن میسرہ بن حلبس کے واسطے سے، وہ ابوادریس خولانی سے، وہ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے ایسا عمل سکھائیں کہ جب میں اسے کروں تو جنت میں داخل ہو جاؤں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہراؤ، خواہ تمہیں جلا دیا جائے، اپنے والدین کی اطاعت کرو، خواہ وہ تمہیں تمہارے مال سے نکال دیں، شراب مت پیو، کیونکہ وہ ہر برائی کی کنجی ہے، جان بوجھ کر نماز مت چھوڑو، کیونکہ جو جان بوجھ کر نماز چھوڑ دے اس سے اللہ کی ذمہ داری بری ہو جاتی ہے، جو اقتدار کے اہل ہوں ان سے اقتدار پر جھگڑا مت کرو، خواہ تم دیکھو کہ یہ تمہارا حق ہے، اپنی وسعت کے مطابق اپنے گھر والوں پر خرچ کرو، اور ان سے لاٹھی (تادیب) مت اٹھاؤ، انہیں اللہ کی خاطر ڈراؤ (نافرمانی سے)، خیانت مت کرو، جنگ کے میدان سے مت بھاگو۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الميم / حدیث: 17292
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 20، صفحہ 82، حدیث 156
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمُعَلَّى الدِّمَشْقِيُّ، ثنا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ح وَحَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عِيسَى بْنِ الْمُنْذِرِ الْحِمْصِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُبَارَكِ الصُّورِيُّ قَالَا: ثنا عَمْرُو بْنُ وَاقِدٍ، عَنْ يُونُسَ بَنِ مَيْسَرَةَ بْنِ حَلْبَسٍ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَوَّلُ مَا نَهَانِي عَنْهُ رَبِّي - بَعْدَ عُبَادَةِ الْأَوْثَانِ - عَنْ شُرْبِ الْخَمْرِ، وَعَنْ مُلَاحَاةِ الرِّجَالِ»
ترجمہ
…محمد بن مبارک صوری کے واسطے سے، دونوں کہتے ہیں: ہمیں عمرو بن واقد نے بیان کیا، وہ یونس بن میسرہ بن حلبس سے، وہ ابوادریس سے، وہ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے، وہ نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”سب سے پہلی چیز جس سے میرے رب نے مجھے منع کیا - بتوں کی پوجا کے بعد - شراب پینے اور لوگوں سے جھگڑنے سے تھی۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الميم / حدیث: 17293
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 20، صفحہ 83، حدیث 157
حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَةَ عَبْدُ الرَّحْمِنِ بْنُ عَمْرٍو الدِّمَشْقِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُبَارَكِ الصُّورِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمُعَلَّى الدِّمَشْقِيُّ، ثنا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ قَالَا: ثنا عَمْرُو بْنُ وَاقِدٍ، عَنْ يُونُسَ بْنِ مَيْسَرَةَ بْنِ حَلْبَسٍ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " يُؤْتَى يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِالْمَمْسُوحِ عَقْلًا وَبَالْهَالِكِ فِي الْفَتْرَةِ، وَبَالْهَالِكِ صَغِيرًا، فَيَقُولُ الْمَمْسُوحُ عَقْلًا: يَا رَبِّ، لَوْ آتَيْتَنِي عَقْلًا مَا كَانَ مَنْ آتَيْتَهُ عَقْلًا بِأَسْعَدَ بِعَقْلِهِ مِنِّي، وَيَقُولُ الْهَالِكُ صَغِيرًا: يَا رَبِّ لَوْ آتَيْتَنِي عَمْرًا مَا كَانَ مَنْ آتَيْتَهُ عُمْرًا بِأَسْعَدَ مِنْ عُمْرِهِ مِنِّي، وَيَقُولُ الْهَالِكُ فِي الْفَتْرَةِ: يَا رَبِّ لَوْ جَاءَنِي مِنْكَ رَسُولٌ مَا كَانَ بَشَرٌ أَتَاهُ مِنْكَ عَهْدٌ بِأَسْعَدَ بِعَهْدِكَ مِنِّي، فَيَقُولُ الرَّبُّ تَعَالَى: فَإِنِّي آمُرُكُمْ بِأَمْرٍ أَفَتُطِيعُونِي؟ فَيَقُولُونَ: نَعَمْ وَعِزَّتِكَ يَا رَبُّ، فَيَقُولُ: اذْهَبُوا فَادْخُلُوا جَهَنَّمَ - وَلَوْ دَخَلُوهَا لَمَا تَضُرُّهُمْ شَيْئًا - فَيَخْرُجُ عَلَيْهِمْ فَرَائِضُ مِنَ النَّارِ يَظُنُّونَ أَنَّهَا قَدْ أَهْلَكَتْ مَا خَلَقَ اللهُ مِنْ شَيْءٍ، ثُمَّ يَأْمُرُهُمُ الثَّانِيَةَ فَيَرْجِعُونَ كَذَلِكَ، فَيَقُولُ الرَّبُّ عَزَّ وَجَلَّ: خَلَقْتُكُمْ بِعِلْمِي، وَإِلَى عِلْمِي تَصِيرُونَ، فَتَأْخُذُهُمُ النَّارُ "
ترجمہ
…وہ محمد بن مبارک صوری کے واسطے سے، ح اور احمد بن معلی دمشقی کے واسطے سے، وہ ہشام بن عمار سے، دونوں کہتے ہیں: ہمیں عمرو بن واقد نے بیان کیا، وہ یونس بن میسرہ بن حلبس سے، وہ ابوادریس سے، وہ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے، وہ نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”قیامت کے دن عقل سے محروم شخص، اور دورِ فترت میں مرنے والے، اور بچپن میں مرنے والے کو لایا جائے گا، تو عقل سے محروم شخص کہے گا: اے میرے رب! اگر تو مجھے عقل دیتا تو جسے تو نے عقل دی وہ اپنی عقل کی وجہ سے مجھ سے زیادہ خوش نصیب نہ ہوتا، اور بچپن میں مرنے والا کہے گا: اے میرے رب! اگر تو مجھے عمر دیتا تو جسے تو نے عمر دی وہ اپنی عمر کی وجہ سے مجھ سے زیادہ خوش نصیب نہ ہوتا، اور دورِ فترت میں مرنے والا کہے گا: اے میرے رب! اگر میرے پاس تیری طرف سے کوئی رسول آتا تو جس شخص کے پاس تیری طرف سے کوئی عہد آیا وہ تیرے عہد کی وجہ سے مجھ سے زیادہ خوش نصیب نہ ہوتا، تو رب تعالیٰ فرمائے گا: میں تمہیں ایک بات کا حکم دیتا ہوں، کیا تم میری اطاعت کرو گے؟ تو وہ کہیں گے: ہاں، تیری عزت کی قسم، اے رب! تو وہ فرمائے گا: جاؤ اور جہنم میں داخل ہو جاؤ - حالانکہ اگر وہ اس میں داخل ہو جائیں تو انہیں کوئی نقصان نہ پہنچے - تو اس (آگ) سے ان پر فرمان جاری ہوں گے، وہ سمجھیں گے کہ اس نے ہر اس چیز کو ہلاک کر دیا جو اللہ نے پیدا کی، پھر انہیں دوبارہ حکم دیا جائے گا تو وہ اسی طرح لوٹ آئیں گے، تو رب عزوجل فرمائے گا: میں نے تمہیں اپنے علم سے پیدا کیا، اور تم میرے علم ہی کی طرف لوٹو گے، تو (پھر بھی نہ ماننے والوں کو) آگ اپنی لپیٹ میں لے لے گی۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الميم / حدیث: 17294
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 20، صفحہ 83، حدیث 158
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ دُحَيْمٍ الدِّمَشْقِيُّ، ثنا أَبِي، ح وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ، قَالَا: ثنا سُوَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا زَيْدُ بْنُ وَاقِدٍ، عَنْ بُسْرِ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَلَا أُخْبِرُكُمْ، عَنْ مُلُوكِ أَهْلِ الْجَنَّةِ؟» قَالُوا: بَلَى، قَالَ: «كُلُّ ضَعِيفٍ مُسْتَضْعِفٍ ذِي طِمْرَيْنِ لَا يُؤْبَهُ لَهُ، لَوْ أَقْسَمَ عَلَى اللهِ لَأَبَرَّهُ»
ترجمہ
…دونوں کہتے ہیں: ہمیں سوید بن عبدالعزیز نے بیان کیا، وہ زید بن واقد سے، وہ بسر بن عبیداللہ سے، وہ ابوادریس خولانی سے، وہ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں اہل جنت کے بادشاہوں کے بارے میں نہ بتاؤں؟“ صحابہ نے عرض کیا: کیوں نہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہر وہ کمزور، دبایا ہوا، پرانے دو کپڑوں والا، جس کی کوئی پروا نہیں کرتا، اگر وہ اللہ پر قسم کھا لے تو اللہ اسے پورا کر دے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الميم / حدیث: 17295
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 20، صفحہ 84، حدیث 159
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عِيسَى بْنِ الْمُنْذِرِ الْحِمْصِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُبَارَكِ الصُّورِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمُعَلَّى الدِّمَشْقِيُّ، ثنا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ قَالَا: ثنا عَمْرُو بْنُ وَاقِدٍ، عَنْ يُونُسَ بْنِ مَيْسَرَةَ بْنِ حَلْبَسٍ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، قَالَ: ذَكَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا الْفِتَنَ فَعَظَّمَهَا وَشَدَّدَهَا، فَقَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ: يَا رَسُولَ اللهِ، فَمَا الْمَخْرَجُ مِنهَا؟ فَقَالَ: " كِتَابُ اللهِ، فِيهِ حَدِيثُ مَا قَبْلَكُمْ، وَنَبَأُ مَا بَعْدَكُمْ، وَفَصْلُ مَا بَيْنَكُمْ، مَنْ تَرَكَهُ مِنْ جَبَّارٍ قَصَمَهُ اللهُ، وَمَنْ تَتَبَّعَ الْهُدَى فِي غَيْرِهِ أَضَلَّهُ اللهُ، هُوَ حَبْلُ اللهِ الْمَتِينُ، وَالذَّكْرُ الْحَكِيمُ، وَالصِّرَاطُ الْمُسْتَقِيمُ، هُوَ الَّذِي لَمَّا سَمِعَتْهُ الْجِنُّ قَالَتْ: {إِنَّا سَمِعْنَا قُرْآنًا عَجَبًا} [الجن: ١] هُوَ الَّذِي لَا تَخْتَلِفُ بِهِ الْأَلْسُنُ، وَلَا تُخْلِقُهُ كَثْرَةُ الرَّدِّ "
ترجمہ
…موسیٰ بن عیسیٰ بن منذر حمصی کے واسطے سے، وہ محمد بن مبارک صوری سے، ح اور احمد بن معلی دمشقی کے واسطے سے، وہ ہشام بن عمار سے، دونوں کہتے ہیں: ہمیں عمرو بن واقد نے بیان کیا، وہ یونس بن میسرہ بن حلبس سے، وہ ابوادریس خولانی سے، وہ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، وہ بیان کرتے ہیں: ایک دن رسول اللہ ﷺ نے فتنوں کا ذکر کیا اور انہیں بہت بڑا اور سخت بیان کیا، تو سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ان سے نکلنے کا راستہ کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کی کتاب، اس میں تم سے پہلے کی خبریں ہیں، اور تمہارے بعد کی خبریں ہیں، اور تمہارے درمیان فیصلہ ہے، جو کوئی جابر اسے چھوڑ دے، اللہ اسے توڑ دیتا ہے، اور جو کوئی اس کے سوا کہیں اور ہدایت تلاش کرے، اللہ اسے گمراہ کر دیتا ہے، وہ اللہ کی مضبوط رسی ہے، وہ حکمت والا ذکر ہے، وہ سیدھا راستہ ہے، وہ وہی ہے کہ جب جنوں نے اسے سنا تو کہا: ﴿ہم نے ایک عجیب قرآن سنا ہے﴾ [الجن: 1]، وہ ایسا ہے کہ اس کے بارے میں زبانیں مختلف نہیں ہوتیں، اور باربار دہرانا اسے پرانا نہیں کرتا۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الميم / حدیث: 17296
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 20، صفحہ 84، حدیث 160
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عِيسَى بْنِ الْمُنْذِرِ الْحِمْصِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُبَارَكِ الصُّورِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمُعَلَّى الدِّمَشْقِيُّ، ثنا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، قَالَا: ثنا عَمْرُو بْنُ وَاقِدٍ، عَنْ يُونُسَ بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اللهُمَّ مَنْ آمَنَ بِي، وَصَدَّقَنِي وَشَهِدَ أَنَّ مَا جِئْتُ بِهِ هُوَ الْحَقُّ فَأَقِلَّ مَالَهُ، وَوَلَدَهُ وَعَجِّلْ قَبْضَهُ إِلَيْكَ، وَمَنْ لَمْ يُؤْمِنْ بِي، وَيُصَدِّقْنِي وَيَعْلَمْ أَنَّ مَا جِئْتُ بِهِ هُوَ الْحَقُّ مِنْ عِنْدِكَ فَأَكْثِرْ مَالَهُ وَوَلَدَهُ، وَأَطِلْ عُمُرَهُ»
ترجمہ
…ہشام بن عمار کے واسطے سے، دونوں کہتے ہیں: ہمیں عمرو بن واقد نے بیان کیا، وہ یونس بن میسرہ سے، وہ ابوادریس سے، وہ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے (دعا) فرمائی: ”اے اللہ! جو مجھ پر ایمان لائے، اور میری تصدیق کرے، اور گواہی دے کہ جو کچھ میں لے کر آیا ہوں وہ حق ہے، تو اس کا مال اور اولاد کم کر دے، اور اس کی روح جلد اپنی طرف قبض کر لے، اور جو مجھ پر ایمان نہ لائے، اور میری تصدیق نہ کرے، اور نہ جانے کہ جو کچھ میں لے کر آیا ہوں وہ تیری طرف سے حق ہے، تو اس کا مال اور اولاد زیادہ کر دے، اور اس کی عمر لمبی کر دے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الميم / حدیث: 17297
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 20، صفحہ 85، حدیث 161
وَحَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عِيسَى بْنِ الْمُنْذِرِ الْحِمْصِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُبَارَكِ الصُّورِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمُعَلَّى الدِّمَشْقِيُّ، ثنا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ قَالَا: ثنا عَمْرُو بْنُ وَاقِدٍ، عَنْ يُونُسَ بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ أَطْعَمَ مُؤْمِنًا حَتَّى يُشْبِعَهُ مِنْ سَغَبٍ أَدْخَلَهُ اللهُ بَابًا مِنْ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ، لَا يُدْخِلُهُ إِلَّا مَنْ كَانَ مِثْلَهُ»
ترجمہ
…ہشام بن عمار کے واسطے سے، دونوں کہتے ہیں: ہمیں عمرو بن واقد نے بیان کیا، وہ یونس بن میسرہ سے، وہ ابوادریس سے، وہ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے، وہ نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو کسی مومن کو کھانا کھلائے یہاں تک کہ وہ اسے بھوک سے سیر کر دے، اللہ اسے جنت کے دروازوں میں سے ایک دروازے سے داخل کرے گا، جس سے اس کے سوا کوئی داخل نہیں ہوتا۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الميم / حدیث: 17298
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 20، صفحہ 85، حدیث 162
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمُعَلَّى الدِّمَشْقِيُّ، ثنا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ثنا عَمْرُو بْنُ وَاقِدٍ، عَنْ يُونُسَ بْنِ مَيْسَرَةَ بْنِ حَلْبَسٍ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَلَا إِنَّ الْجَنَّةَ لَا تَحِلُّ لِعَاصٍ، وَمَنْ لَقِيَ اللهَ نَاكِثًا لِبَيْعَتِهِ لَقِيَهُ وَهُوَ أَجْذَمُ، وَمَنْ خَرَجَ مِنَ الْجَمَاعَةِ قِيدَ شِبْرٍ مُتَعَمِّدًا فَقَدْ خَلَعَ رِبْقَةَ الْإِسْلَامِ مِنْ عُنُقِهِ، وَمَنْ مَاتَ لَيْسَ لِإِمَامِ جَمَاعَةٍ عَلَيْهِ طَاعَةٌ، مَاتَ مِيتَةً جَاهِلِيَّةً»
ترجمہ
…احمد بن معلی دمشقی کے واسطے سے، وہ ہشام بن عمار سے، وہ عمرو بن واقد سے، وہ یونس بن میسرہ بن حلبس سے، وہ ابوادریس سے، وہ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”سن لو! جنت کسی نافرمان کے لیے حلال نہیں، اور جو اپنی بیعت توڑ کر اللہ سے ملے وہ اس سے کٹے ہوئے (ہاتھ کے) ساتھ ملے گا، اور جو جان بوجھ کر ایک بالشت بھر بھی جماعت سے نکلے، اس نے اسلام کا پھندا اپنی گردن سے اتار دیا، اور جو اس حال میں مرے کہ جماعت کے امام کی اطاعت اس پر نہ ہو، وہ جاہلیت کی موت مرا۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الميم / حدیث: 17299
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 20، صفحہ 86، حدیث 163
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمُعَلَّى الدِّمَشْقِيُّ، ثنا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ثنا عَمْرُو بْنُ وَاقِدٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ مَيْسَرَةَ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لِوَاءُ الْغَادِرِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عِنْدَ اسْتِهِ»
ترجمہ
…احمد بن معلی دمشقی کے واسطے سے، وہ ہشام بن عمار سے، وہ عمرو بن واقد سے، وہ یونس بن میسرہ سے، وہ ابوادریس خولانی سے، وہ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”دغاباز کا جھنڈا قیامت کے دن اس کے سرین (چوتڑ) کے پاس ہوگا۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الميم / حدیث: 17300
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 20، صفحہ 86، حدیث 164
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عِيسَى بْنِ الْمُنْذِرِ الْحِمْصِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُبَارَكِ الصُّورِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمُعَلَّى الدِّمَشْقِيُّ، ثنا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، قَالَا: ثنا عَمْرُو بْنُ وَاقِدٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ مَيْسَرَةَ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أُرِيتُ أَنِّي وُضِعْتُ فِي كِفَّةٍ، وَأُمَّتِي فِي كِفَّةٍ، فَعَدَلْتُها، ثُمَّ وُضِعَ أَبُو بَكْرٍ فِي كِفَّةٍ وَأُمَّتِي فِي كِفَّةٍ فَعَدَلَهَا، وَوُضِعَ عُمَرُ فِي كِفَّةٍ وَأُمَّتِي فِي كِفَّةٍ، فَعَدَلَهَا، وَوُضِعَ عُثْمَانُ فِي كِفَّةٍ فَعَدَلَهَا، ثُمَّ رُفِعَ الْمِيزَانُ»
ترجمہ
…ہشام بن عمار کے واسطے سے، دونوں کہتے ہیں: ہمیں عمرو بن واقد نے بیان کیا، وہ یونس بن میسرہ سے، وہ ابوادریس سے، وہ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے دکھایا گیا کہ مجھے ایک پلڑے میں رکھا گیا اور میری امت کو دوسرے پلڑے میں، تو میں نے اسے برابر کر دیا (بھاری پڑا)، پھر ابوبکر کو ایک پلڑے میں اور میری امت کو دوسرے پلڑے میں رکھا گیا تو انہوں نے اسے برابر کر دیا، اور عمر کو ایک پلڑے میں رکھا گیا اور میری امت کو دوسرے پلڑے میں تو انہوں نے اسے برابر کر دیا، اور عثمان کو ایک پلڑے میں رکھا گیا تو انہوں نے اسے برابر کر دیا، پھر میزان اٹھا لی گئی۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الميم / حدیث: 17301
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 20، صفحہ 86، حدیث 165
حَدَّثَنَا أَبُو خَلِيفَةَ الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَهْرَامَ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، حَدَّثَنِي عَائِذُ اللهِ بْنُ عَبْدِ اللهِ، أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ قَدِمَ عَلَيْهِمُ الْيَمَنَ، فَلَقِيَتْهُ امْرَأَةٌ مِنْ خَوْلَانَ مَعَهَا بَنُونَ لَهَا اثْنَا عَشَرَ، وَتَرَكَتْ أَبَاهُمْ فِي بَيْتِهِمْ، أَصْغَرُهُمُ الَّذِي قَدِ اجْتَمَعَتْ لِحْيَتُهُ، فَقَامَتْ فَسَلَّمَتْ عَلَى مُعَاذٍ - وَرَجُلَانِ مِنْ بَنِيهَا مُمْسِكَانِ بِضَبْعِهَا - فَقَالَتْ: مَنْ أَرْسَلَكَ أَيُّهَا الرَّجُلُ؟ قَالَ لَهَا مُعَاذٌ: «أَرْسَلَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» ، قَالَتِ الْمَرْأَةُ: أَرْسَلَكَ رَسُولُ اللهِ، وَأَنْتَ رَسُولُ رَسُولِ اللهِ؟ أَفَلَا تُحَدِّثُنِي يَا رَسُولَ رَسُولِ اللهِ مَا حَقُّ الرَّجُلِ عَلَى زَوْجَتِهِ؟ فَقَالَ مُعَاذٌ: «تَتَّقِي اللهَ مَا اسْتَطَاعَتْ، وَتُسْمَعُ وَتُطِيعُ» ، فَقَالَتْ: أَقْسَمْتُ عَلَيْكَ لَتُحَدِّثَنِّي مَا حَقُّ الرَّجُلِ عَلَى زَوْجَتِهِ، فَقَالَ لَهَا مُعَاذٌ: «أَوَمَا رَضِيتِ بِأَنْ تَسْمَعِي وَتُطِيعِي، وَتَتَّقِي اللهَ؟» قَالَتْ: بَلَى، وَلَكِنِّي تَرَكْتُ أَبَا هَؤُلَاءِ شَيْخًا كَبِيرًا فِي الْبَيْتِ، فَقَالَ مُعَاذٌ: «وَالَّذِي نَفْسُ مُعَاذٍ بِيَدِهِ لَوْ أَنَّكِ تَرْجِعِينَ إِذَا رَجَعْتِ إِلَيْهِ فَتَجِدِينَ الْجُذَامَ قَدْ خَرَقَ لَحْمَهُ وَخَرَقَ مِنخِرَيْهِ فَوَجَدْتِ مِنخِرَيْهِ يَسِيلَانِ قَيْحًا وَدَمًا، ثُمَّ أَلْقَيْتِهِمَا بِفِيكِ لِكَيْمَا تَبْلُغِي حَقَّهُ مَا بَلَغَتِ ذَلِكَ أَبَدًا»
ترجمہ
…سب سے چھوٹا وہ جس کی داڑھی بھر آئی تھی، (پھر) وہ (عورت) کھڑی ہوئی اور معاذ رضی اللہ عنہ کو سلام کیا - جبکہ اس کے دو بیٹے اس کے بازو تھامے ہوئے تھے - اس نے کہا: اے آدمی! تجھے کس نے بھیجا؟ معاذ رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا: ”مجھے رسول اللہ ﷺ نے بھیجا ہے“، عورت نے کہا: تجھے رسول اللہ ﷺ نے بھیجا، اور تو رسول اللہ ﷺ کا فرستادہ ہے؟ تو کیا تو مجھے نہیں بتائے گا، اے رسولِ رسول اللہ! کہ شوہر کا بیوی پر کیا حق ہے؟ تو معاذ رضی اللہ عنہ نے کہا: ”وہ اپنی طاقت بھر اللہ سے ڈرے، اور سنے اور اطاعت کرے“، اس نے کہا: میں تجھے قسم دیتی ہوں کہ تو مجھے ضرور بتائے کہ شوہر کا بیوی پر کیا حق ہے، تو معاذ رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا: ”کیا تجھے یہ راضی نہیں کہ تو سنے، اطاعت کرے، اور اللہ سے ڈرے؟“ اس نے کہا: کیوں نہیں، لیکن میں نے ان (بچوں) کے باپ کو گھر میں ایک بوڑھے بزرگ کے طور پر چھوڑا ہے، تو معاذ رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں معاذ کی جان ہے! اگر تو (اس حالت میں) اس کے پاس لوٹے کہ جذام نے اس کا گوشت چیر دیا ہو، اور اس کے نتھنوں کو چیر ڈالا ہو، تو تُو اس کے دونوں نتھنوں کو پیپ اور خون بہتے پائے، پھر تُو انہیں اپنے منہ میں ڈال لے تاکہ تو اس کا حق ادا کر سکے، تب بھی تُو کبھی اس کا حق ادا نہیں کر سکتی۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الميم / حدیث: 17302
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 20، صفحہ 87، حدیث 166