❮
❯
حدیث نمبر: 17288
حَدَّثَنَا إِدْرِيسُ بْنُ عَبْدِ الْكَرِيمِ الْحَدَّادُ الْمَقْدِسِيُّ، ثنا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا أَبُو مَعْشَرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ، قَالَ: دَخَلْتُ مَسْجِدَ حِمْصٍ فَإِذَا رِجَالٌ يَتَحَدَّثُونَ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَحَادِيثَ، فِيهِمْ شَابٌّ أَدْعَجُ، بَرَّاقُ الثَّنَايَا، إِذَا تَكَلَّمَ أَنْصَتَ الْقَوْمُ لَكَلَامِهِ كُلُّهُمْ، وَإِذَا اشْتَجَرُوا فِي شَيْءٍ رَضُوا فِيهِ قَوْلَهُ، فَإِذَا هُوَ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ، فَجَلَسْنَا إِلَيْهِ فَقُلْتُ: إِنِّي لَأُحِبُّكُ، فَأَخَذَ بِحُبْوَتِي فَجَذَبَنِي إِلَيْهِ، حَتَّى مَسَّتْ رُكْبَتِي رُكْبَتَهُ، ثُمَّ قَالَ: أَلَا أُبَشِّرُكَ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْثُرُهُ عَنِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ: «وَجَبَتْ مَحَبَّتِي لِلَّذِينَ يَتَحَابُّونَ وَيَتَجَالَسُونَ، وَيَتَزَاوَرُونَ، وَيَتَبَاذَلُونَ فِيَّ»
ترجمہ

ابو ادریس خولانی رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں مسجدِ حمص میں داخل ہوا تو دیکھا کہ کچھ لوگ رسول اللہ ﷺ کی احادیث بیان کر رہے ہیں، ان میں ایک بڑی سیاہ آنکھوں والا، روشن دانتوں والا نوجوان بھی تھا، جب وہ بات کرتا تو سب لوگ خاموشی سے اس کی بات سنتے، اور جب کسی بات میں اختلاف کرتے تو اس کی رائے پر راضی ہو جاتے، تو وہ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نکلے، ہم ان کے پاس بیٹھ گئے تو میں نے کہا: میں آپ سے محبت کرتا ہوں، تو انہوں نے میری گرہ پکڑی اور مجھے اپنی طرف کھینچا، یہاں تک کہ میرا گھٹنا ان کے گھٹنے سے مل گیا، پھر کہا: کیا میں تمہیں رسول اللہ ﷺ کی طرف سے خوشخبری نہ سناؤں، جسے وہ اللہ عزوجل سے نقل کرتے ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”میری محبت ان لوگوں کے لیے واجب ہو گئی جو میری خاطر ایک دوسرے سے محبت رکھتے ہیں، ایک ساتھ بیٹھتے ہیں، ایک دوسرے سے ملاقات کرتے ہیں، اور ایک دوسرے کو دیتے ہیں۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الميم / حدیث: 17288
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 20، صفحہ 81، حدیث 152