المعجم الكبير للطبراني
باب الميم— حرف میم سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
أبو إدريس الخولاني عائذ الله بن عبد الله، عن معاذ بن جبل باب: ابوادریس خولانی عائذ اللہ بن عبداللہ کی سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي حَازِمِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ، أَنَّهُ قَالَ: دَخَلْتُ مَسْجِدَ دِمَشْقَ، فَإِذَا أَنَا بِفَتًى بَرَّاقِ الثَّنَايَا، طَوِيلِ الصَّمْتِ، وَإِذَا النَّاسُ مَعَهُ إِذَا اخْتَلَفُوا فِي شَيْءٍ أَسْنَدُوهُ إِلَيْهِ، وَصَدَرُوا مِنْ رَأْيِهِ، فَسَأَلْتُ عَنْهُ فَقِيلَ: مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ، فَلَمَّا كَانَ الْغَدُ هَجَّرْتُ، فَوَجَدْتُهُ قَدْ سَبَقَنِي بِالتَّهْجِيرِ، وَوَجَدْتُهُ يُصَلِّي، فَانْتَظَرْتُهُ حَتَّى قَضَى صَلَاتَهُ، ثُمَّ جِئْتُهُ مِنْ قِبَلِ وَجْهِهِ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ، وَقُلْتُ: وَاللهِ إِنِّي لَأُحِبُّكَ لِلَّهِ، فَقَالَ: آللَّهِ؟ فَقُلْتُ: آللَّهِ، قَالَ: آللَّهِ؟ فَقُلْتُ: آللَّهِ، فَقَالَ: آللَّهِ؟ فَقُلْتُ: آللَّهِ، قَالَ: فَأَخَذَ بِحُبْوَةِ رِدَائِي فَجَذَبَنِي إِلَيْهِ، وَقَالَ: أَبْشِرْ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " قَالَ اللهُ: وَجَبَتْ مَحَبَّتِي لِلْمُتَحَابِّينَ فِيَّ، وَالْمُتَجَالِسِينَ فِيَّ، وَالْمُتَبَاذِلِينَ فِيَّ، وَالْمُتَزَاوِرِينَ فِيَّ "…وہ بیان کرتے ہیں: میں دمشق کی مسجد میں داخل ہوا، تو دیکھا کہ ایک روشن دانتوں والا، لمبی خاموشی رکھنے والا نوجوان ہے، اور لوگ اس کے ساتھ ہیں، جب کسی بات میں اختلاف کرتے تو اسی کی طرف رجوع کرتے، اور اسی کی رائے پر عمل کرتے، میں نے اس کے بارے میں پوچھا تو بتایا گیا: یہ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ ہیں، پھر جب اگلا دن ہوا تو میں جلدی مسجد گیا تو دیکھا کہ وہ مجھ سے پہلے جا چکے ہیں اور نماز پڑھ رہے ہیں، تو میں نے ان کے نماز مکمل کرنے تک انتظار کیا، پھر ان کے سامنے سے آ کر انہیں سلام کیا اور کہا: اللہ کی قسم! میں اللہ کے لیے آپ سے محبت رکھتا ہوں، انہوں نے کہا: کیا اللہ کی قسم (کھا کر کہتے ہو)؟ میں نے کہا: اللہ کی قسم، انہوں نے (پھر) کہا: کیا اللہ کی قسم؟ میں نے کہا: اللہ کی قسم، انہوں نے (پھر) کہا: کیا اللہ کی قسم؟ میں نے کہا: اللہ کی قسم، راوی کہتے ہیں: تو انہوں نے میری چادر کی گرہ پکڑی اور مجھے اپنی طرف کھینچا اور کہا: خوش ہو جاؤ، میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ”میری محبت ان لوگوں کے لیے واجب ہو گئی جو میری خاطر ایک دوسرے سے محبت رکھتے ہیں، اور میری خاطر ایک ساتھ بیٹھتے ہیں، اور میری خاطر ایک دوسرے کو دیتے ہیں، اور میری خاطر ایک دوسرے سے ملاقات کرتے ہیں۔“