حدیث نمبر: 17279
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ الدِّمْيَاطِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ رَجُلٍ حَدَّثَهُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «طُوبَى لِمَنْ أَكْثَرَ فِي الْجِهَادِ فِي سَبِيلِ اللهِ مِنْ ذِكْرِ اللهِ، فَإِنَّ لَهُ بِكُلِّ كَلِمَةٍ سَبْعِينَ أَلْفَ حَسَنَةٍ، كُلُّ حَسَنَةٍ مِنْهَا عَشَرَةُ أَضْعَافٍ، مَعَ الَّذِي لَهُ عِنْدَ اللهِ مَنَ الْمَزِيدِ» قِيلَ: يَا رَسُولَ اللهِ أَفَرَأَيْتَ النَّفَقَةَ؟ فَقَالَ: «النَّفَقَةُ عَلَى قَدْرِ ذَلِكَ» قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ: فَقُلْتُ لِمُعَاذٍ: إِنَّمَا النَّفَقَةُ سَبْعُمِائَةِ ضِعْفٍ، فَقَالَ مُعَاذٌ: «قَلَّ فَهْمُكَ، إِنَّمَا ذَلِكَ إِذَا أَنْفَقُوهَا وَهُمْ مُقِيمُونَ فِي أَهْلِيهِمْ غَيْرَ غَزَاةٍ، فَإِذَا غَزُوا وَأَنْفَقُوا خَبَّأَ اللهُ لَهُمْ مَنْ خِزَانَةِ رَحْمَتِهِ مَا يَنْقَطِعُ عَنْهُ عَلِمُ الْعِبَادِ وَصِفَتُهُمْ، فَأُولَئِكِ حِزْبُ اللهِ، وَحِزْبُ اللهِ هُمُ الْغَالِبُونَ»
ترجمہ

…وہ ایک آدمی سے روایت کرتے ہیں جس نے انہیں بتایا، وہ عبدالرحمٰن بن غنم سے، وہ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”خوشخبری ہے اس کے لیے جو اللہ کے راستے میں جہاد کے دوران اللہ کے ذکر کو زیادہ کرے، اس کے لیے ہر کلمے کے بدلے ستر ہزار نیکیاں ہیں، ہر نیکی دس گنا ہے، اس کے علاوہ جو اسے اللہ کے ہاں مزید ملے گا“، پوچھا گیا: یا رسول اللہ! خرچ کرنے کا کیا حکم ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”خرچ کرنا بھی اسی کے مطابق ہے۔“ عبدالرحمٰن کہتے ہیں: میں نے معاذ رضی اللہ عنہ سے کہا: خرچ کرنا تو صرف سات سو گنا ہے، تو معاذ رضی اللہ عنہ نے کہا: ”تیری سمجھ کم ہے، یہ تو تب ہے جب وہ اسے (عام حالت میں) خرچ کریں جبکہ وہ اپنے گھر والوں کے پاس مقیم ہوں، جہاد نہ کر رہے ہوں، لیکن جب وہ جہاد کریں اور خرچ کریں تو اللہ ان کے لیے اپنی رحمت کے خزانے سے اتنا چھپا رکھتا ہے کہ بندوں کا علم اور بیان اس تک نہیں پہنچ پاتا، پس یہی لوگ اللہ کی جماعت ہیں، اور اللہ کی جماعت ہی غالب آنے والی ہے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الميم / حدیث: 17279
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 20، صفحہ 77، حدیث 143