حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، حَدَّثَنِيَ الْقَاسِمُ بْنُ مُخَيْمِرَةَ، عَنْ أَبِي عَمَّارٍ، قَالَ: سَأَلْنَا قَيْسَ بْنَ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ عَنْ زَكَاةِ الْفِطْرِ، فَقَالَ: أَمَرَنَا بِهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ أَنْ تَنْزِلَ الزَّكَاةُ ثُمَّ لَمْ يَأْمُرْنَا وَلَمْ يَنْهَنَا فَنَحْنُ نَفْعَلُهُ
ترجمہ
ابوعمار بیان کرتے ہیں: ہم نے سیدنا قیس بن سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ سے صدقہ فطر کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ نے ہمیں اس کا حکم زکوٰۃ نازل ہونے سے پہلے دیا تھا، پھر اس کے بعد نہ ہمیں اس کا حکم دیا اور نہ اس سے منع فرمایا، سو ہم اسے ادا کرتے رہے۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، ثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُخَيْمِرَةَ، عَنْ أَبِي عَمَّارٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: أَمَرَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِصَوْمِ عَاشُورَاءَ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ شَهْرُ رَمَضَانَ، فَلَمَّا نَزَلَ شَهْرُ رَمَضَانَ لَمْ يَأْمُرْنَا وَلَمْ يَنْهَنَا وَنَحْنُ نَفْعَلُهُ، وَأَمَرَنَا بِزَكَاةِ الْفِطْرِ فَلَمَّا نَزَلَتِ الزَّكَاةُ لَمْ يَأْمُرْنَا وَلَمْ يَنْهَنَا وَنَحْنُ نَفْعَلُهُ
ترجمہ
سیدنا قیس بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے ہمیں عاشورہ کا روزہ رکھنے کا حکم دیا تھا، یہ رمضان نازل ہونے سے پہلے کی بات ہے، پھر جب رمضان نازل ہوا تو نہ ہمیں اس کا حکم دیا اور نہ اس سے منع فرمایا، اور ہم اسے پھر بھی رکھتے رہے۔ اور ہمیں صدقہ فطر کا حکم دیا تھا، پھر جب زکوٰۃ نازل ہوئی تو نہ ہمیں اس کا حکم دیا اور نہ اس سے منع فرمایا، اور ہم اسے پھر بھی ادا کرتے رہے۔
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثَنَا مُسَدَّدٌ، ثَنَا حُصَيْنُ بْنُ نَمِرٍ، ثَنَا ابْنُ أَبِي لَيْلَى، عَنِ الْحَكَمِ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُخَيْمِرَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِيلَ، عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ، قَالَ: أُمِرْنَا بِصَوْمِ عَاشُورَاءَ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ رَمَضَانُ فَلَمَّا نَزَلَ رَمَضَانُ لَمْ نُؤْمَرْ بِهِ، وَلَمْ نُنْهَ عَنْهُ وَكُنَّا نَصُومُهُ، وَأُمِرْنَا بِنِصْفِ صَاعٍ كُلُّ إِنْسَانٍ حُرٍّ وَعَبْدٍ صَغِيرٍ وَكَبِيرٍ، أَو ذَكَرٍ أَو أُنْثَى، فَلَمَّا نَزَلَتِ الزَّكَاةُ لَمْ نُؤْمَرْ بِهِ وَلَمْ نُنْهَ عَنْهُ، وَكُنَّا نُخْرِجُهُ
ترجمہ
سیدنا قیس بن سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہمیں عاشورہ کا روزہ رکھنے کا حکم دیا گیا تھا، یہ رمضان نازل ہونے سے پہلے کی بات ہے، پھر جب رمضان نازل ہوا تو نہ ہمیں اس کا حکم دیا گیا اور نہ اس سے منع کیا گیا، اور ہم اسے رکھتے رہے۔ اور ہمیں فی کس آدھا صاع دینے کا حکم دیا گیا تھا، خواہ آزاد ہو یا غلام، چھوٹا ہو یا بڑا، مرد ہو یا عورت، پھر جب زکوٰۃ نازل ہوئی تو نہ ہمیں اس کا حکم دیا گیا اور نہ اس سے منع کیا گیا، اور ہم اسے نکالتے رہے۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثَنَا وَكِيعٌ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَسْعَدَ بْنِ زُرَارَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ شُرَحْبِيلَ، عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: أَتَانَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَضَعْنَا لَهُ مَاءً ثُمَّ اغْتَسَلَ، ثُمَّ أَتَيْنَاهُ بِمِلْحَفَةٍ وَرْسِيَّةٍ فَالْتَحَفَ بِهَا، فَكَأَنِّي انْظُرُ إِلَى أَثَرِ الوَرْسِ عَلَى عُكَنِهِ
ترجمہ
سیدنا قیس بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے، ہم نے آپ کے لیے پانی رکھا تو آپ نے غسل کیا، پھر ہم آپ کے پاس ایک ورس (زرد خوشبودار پودے) سے رنگی ہوئی چادر لائے تو آپ نے اسے اوڑھ لیا۔ گویا میں اب بھی ورس کا نشان آپ کی کمر کی سلوٹوں پر دیکھ رہا ہوں۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ السَّقَطِيُّ، ثَنَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَا: ثَنَا عَلِيُّ بْنُ هَاشِمِ بْنِ الْبَرِيرِ، ثَنَا ابْنُ أَبِي لَيْلَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَسْعَدَ بْنِ زُرَارَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِيلَ، عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: أَتَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَارَ سَعْدٍ، فَقَامَ عَلَى بَابِهَا فَسَلَّمَ وَرَدَّ عَلَيْهِ سَعْدٌ وَخَافَتَ، ثُمَّ سَلَّمَ وَرَدَّ عَلَيْهِ سَعْدٌ وَخَافَتَ، ثُمَّ سَلَّمَ وَرَدَّ عَلَيْهِ سَعْدٌ وَخَافَتَ، فَانْصَرَفَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَاجِعًا فَتَبِعَهُ سَعْدٌ يَسْعَى فِي أَثَرِهِ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ بَأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي، وَاللهِ مَا مَنَعَنِي أَنْ أَرُدَّ عَلَيْكَ السَّلَامَ إِلَّا لِتُكْثِرَ لَنَا مِنْ سَلَامِكَ، فَدَخَلَ وَوَضَعَ مَاءً يَتَبَرَّدُ فَاغْتَسَلَ، فَأُتِيَ بِمِلْحَفَةٍ قَدْ صُبِغَتْ بِالْوَرْسِ فَلَبِسَهَا فَلَقَد رَأَيْتُ رَدْعَ الْوَرْسِ عَلَى عُكَنِهِ، ثُمَّ جَاءَ فَجَلَسَ فَقَالَ: " اللهُمَّ صَلِّ عَلَى الْأَنْصَارِ وَعَلَى ذُرِّيَّةِ الْأَنْصَارِ وَعَلَى ذُرِّيَّةِ ذُرِّيَّةِ الْأَنْصَارِ، فَلَمَّا أَرَادَ أَنْ يَنْصَرِفَ أُتِيَ بِحِمَارٍ فَجَعَلَ عَلَيْهِ قَطِيفَةً مَا هِيَ بِخَزٍّ وَلَا مَرْعَزِيٌّ وَأَرْسَلَ مَعَهُ ابْنَهُ يَرُدُّهُ الْحِمَارَ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «احْمِلْهُ بَيْنَ يَدَيَّ» فَقَالَ سَعْدٌ: يَا رَسُولَ اللهِ أَحْمِلُهُ بَيْنَ يَدَيْكَ؟ قَالَ: «نَعَمْ، هُوَ أَحَقُّ بِصَدْرِ حِمَارِهِ» قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، الْحِمَارُ لَكَ، قَالَ: «احْمِلْهُ خَلْفِي»
ترجمہ
جب آپ ﷺ روانہ ہونے لگے تو ایک گدھا لایا گیا جس پر ایک چادر ڈالی گئی تھی جو نہ ریشمی تھی اور نہ اونی، اور سعد رضی اللہ عنہ نے اپنے بیٹے کو اس کے ساتھ بھیجا تاکہ وہ گدھا واپس لے آئے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اسے میرے آگے سوار کرو۔“ سعد رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں اسے آپ کے آگے سوار کروں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں، وہ اپنے گدھے کے اگلے حصے کا زیادہ حق دار ہے۔“ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! گدھا تو آپ کا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”پھر اسے میرے پیچھے سوار کرو۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثَنَا القَعْنَبِيُّ، ثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ ضُمَيْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ بْنِ دَيْلَمٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «صَاحِبُ الدَّابَّةِ أَحَقُّ بِصَدْرِهَا»
ترجمہ
سیدنا قیس بن سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”سواری کا مالک اس کے اگلے حصے کا زیادہ حق دار ہے۔“
حَدَّثَنَا حبوش بْنُ رِزْقِ اللهِ الْمِصْرِيُّ، ثَنَا عَمْرُو بْنُ الرَّبِيعِ بْنِ طَارِقٍ، أَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ مُلَيْلٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ، أَنَّ حَبِيبَ بْنَ مَسْلَمَةَ، أَتَى قَيْسَ بْنَ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ وَهُوَ عَلَى فَرَسٍ لَهُ فَتَأَخَّرَ حَبِيبٌ لَهُ عَنِ السَّرْجِ فَقَالَ لَهُ: ارْكَبْ فَأَبَى قَيْسٌ، وَقَالَ قَيْسٌ: أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " صَاحِبُ الدَّابَّةِ أَوْلَى بِصَدْرِهَا، فَقَالَ حَبِيبٌ: أَنِّي لَسْتُ أَجْهَلُ مَا قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَكِنِّي أَخَافُ عَلَيْكَ
ترجمہ
حبیب بن مسلمہ سیدنا قیس بن سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے جبکہ وہ اپنے گھوڑے پر سوار تھے، تو حبیب زین سے پیچھے ہو کر ان سے کہنے لگے: سوار ہو جائیے۔ قیس رضی اللہ عنہ نے انکار کیا اور فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا ہے: ”سواری کا مالک اس کے اگلے حصے کا زیادہ حق دار ہے۔“ حبیب نے کہا: میں رسول اللہ ﷺ کے فرمان سے ناواقف نہیں ہوں، البتہ مجھے آپ کی جان کی فکر ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ زِيَادٍ سَبَلَانُ، ثَنَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ، ثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ الْمُعْتَمِرِ، عَنْ مَيْمُونَ بْنِ أَبِي شَبِيبٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: دَفَعَنِي أَبِي إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْدُمُهُ، فَأَتَى عَلَيَّ وَقَدْ صَلَّيْتُ رَكْعَتَيْنِ - أَو قَالَ الرَّكْعَتَيْنِ - وَأَنَا مُضْطَجِعٌ فَرَكَضَ بِرِجْلِهِ فَقَالَ: «أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى بَابٍ مِنْ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ؟» قُلْتُ: بَلَى يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ: «لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إلَا بِاللهِ»
ترجمہ
سیدنا قیس بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میرے والد نے مجھے نبی کریم ﷺ کی خدمت کے لیے دیا، آپ میرے پاس تشریف لائے جبکہ میں دو رکعتیں پڑھ کر لیٹا ہوا تھا، تو آپ ﷺ نے اپنے پاؤں سے مجھے ہلایا اور فرمایا: ”کیا میں تمہیں جنت کے دروازوں میں سے ایک دروازہ نہ بتاؤں؟“ میں نے عرض کیا: کیوں نہیں، یا رسول اللہ۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”لا حول ولا قوۃ الا باللہ۔“
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثَنَا يحيى بن معين، ثنا وهب بن جرير بن حازم ثنا أَبِي قَالَ: سَمِعْتُ مَنْصُورَ بْنَ زَاذَانَ، يُحَدِّثُ عَنْ مَيْمُونَ بْنِ أَبِي شَبِيبٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ، قَالَ: كَانَ أَبِي دَفَعَنِي إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْدُمُهُ، فَأَتَى عَلَيَّ وَقَدْ صَلَّيْتُ رَكْعَتَيْنِ، فَضَرَبَنِي بِرِجْلِهِ وَقَالَ: «أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى بَابٍ مِنْ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ؟» قُلْتُ: بَلَى يَا رَسُولَ الله قَالَ: «لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ أَلَا بِاللهِ»
ترجمہ
سیدنا قیس بن سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میرے والد نے مجھے نبی کریم ﷺ کی خدمت کے لیے دیا تھا، آپ میرے پاس تشریف لائے جبکہ میں دو رکعتیں پڑھ چکا تھا، تو آپ ﷺ نے اپنے پاؤں سے مجھے چھوا اور فرمایا: ”کیا میں تمہیں جنت کے دروازوں میں سے ایک دروازہ نہ بتاؤں؟“ میں نے عرض کیا: کیوں نہیں، یا رسول اللہ۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”لا حول ولا قوۃ الا باللہ۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ الْوَاسِطِيُّ، ثَنَا إِسْحَاقُ الْأَزْرَقُ، عَنْ شَرِيكٍ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: أَتَيْتُ الْحِيرَةَ فَرَأَيْتُهُمْ يَسْجُدُونَ لِمَرْزُبَانَ لَهُمْ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ أَنْتَ أَحَقُّ أَنْ نَسْجُدَ لَهُ، فَقَالَ: «لَا تَفْعَلُوا، وَلَوْ أَمَرْتُ بِذَلِكَ لَأَمَرْتُ النِّسَاءَ أَنْ يَسْجُدْنَ لِأَزْوَاجِهِنَّ، لِمَا جَعَلَ اللهُ عَلَيْهِنَّ مِنْ حَقِّهِمْ»
ترجمہ
سیدنا قیس بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں حیرہ گیا تو دیکھا کہ وہ لوگ اپنے مرزبان (حاکم) کو سجدہ کر رہے ہیں، تو میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ اس بات کے زیادہ حق دار ہیں کہ ہم آپ کو سجدہ کریں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ایسا نہ کرو، اگر میں کسی کو ایسا کرنے کا حکم دیتا تو عورتوں کو حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہروں کو سجدہ کریں، کیونکہ اللہ نے ان پر جو ان کے شوہروں کے حقوق مقرر کیے ہیں (وہ بہت زیادہ ہیں)۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ رَاهَوَيْهِ، ثنا أَبِي، ثَنَا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنْقَزِيُّ، ثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ عَامِرِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: مَا كَانَ شَيْءٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا وَقَدْ رَأَيْتُهُ، أَلَا إِنَّهُ كَانَ يُقَلَّسُ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْعِيدِ. وَالتَّقْلِيسُ اللَّعِبُ
ترجمہ
سیدنا قیس بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں کوئی چیز ایسی نہ تھی جو میں نے نہ دیکھی ہو۔ سن لو، عید کے دن رسول اللہ ﷺ کے سامنے ’تقلیس‘ کیا جاتا تھا۔
تقلیس سے مراد کھیل تماشا (خوشی کا اظہار) ہے۔
تقلیس سے مراد کھیل تماشا (خوشی کا اظہار) ہے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ، ثَنَا عَمْرُو بْنُ الرَّبِيعِ بْنِ طَارِقٍ، ثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ زَحْرٍ، عَنْ بَكْرِ بْنِ سَوَادَةَ، عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ رَبِّي حَرَّمَ عَلَيَّ الْخَمْرَ، وَالْكُوبَةَ، وَالقِيَانَ» ثُمَّ قَالَ: «إِيَّاكُمْ وَالْغُبَيْرَاءَ فَإِنَّهَا خَمْرٌ»
ترجمہ
سیدنا قیس بن سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میرے رب نے مجھ پر شراب، کوبہ (ڈھول/جوئے کا آلہ) اور گانے والی لونڈیوں کو حرام کیا ہے۔“ پھر فرمایا: ”غبیراء (ایک نشہ آور مشروب) سے بچو، کیونکہ وہ شراب ہے۔“
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِيُّ، ثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، حَدَّثَنِي ابْنُ هُبَيْرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ شَيْخًا، مِنَ حِمْيَرَ يَقُولُ: خَطَبَنَا قَيْسُ بْنُ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ الْأَنْصَارِيُّ فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «كُلُّ مُسْكِرٍ خَمْرٌ، وَكُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ»
ترجمہ
حمیر کے ایک بزرگ بیان کرتے ہیں: سیدنا قیس بن سعد بن عبادہ انصاری رضی اللہ عنہ نے ہمیں خطبہ دیا اور فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”ہر نشہ آور چیز شراب ہے، اور ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ زُهَيْرٍ التُّسْتَرِيُّ، ثَنَا طَاهِرُ بْنُ خَالِدِ بْنِ نِزَارٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ أَرْبَى الرِّبَا أَنْ يَسْتَطِيلَ الرَّجُلُ فِي شَتَمِ أَخِيهِ، وَإِنَّ أَكْبَرَ الْكَبَائِرِ أَنْ يَشْتِمَ الرَّجُلُ وَالِدَيْهِ، قَالُوا: وَكَيْفَ يَشْتِمُهُمَا يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: يَشْتِمُ الرَّجُلَ، فَيَشْتِمُهُمَا "
ترجمہ
سیدنا قیس بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”سب سے بڑھا ہوا سود یہ ہے کہ آدمی اپنے مسلمان بھائی کو گالی دینے میں حد سے بڑھ جائے، اور سب سے بڑا کبیرہ گناہ یہ ہے کہ آدمی اپنے والدین کو گالی دے۔“ صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! وہ اپنے والدین کو کیسے گالی دیتا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ کسی دوسرے شخص کو گالی دیتا ہے تو وہ جواب میں اس کے والدین کو گالی دیتا ہے۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو الْخَلَّالُ الْمَكِّيُّ، ثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدٍ، ثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَو كَانَ الْإِيمَانُ مُعَلَّقًا بِالثُّرَيَّا لَنَالَهُ رِجَالٌ مِنْ فَارِسٍ»
ترجمہ
سیدنا قیس بن سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اگر ایمان ثریا (ستاروں کے جھرمٹ) سے لٹکا ہوا ہوتا تو فارس کے کچھ لوگ اسے بھی پا لیتے۔“
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ، رِوَايَةً مِثْلَهُ
ترجمہ
سیدنا قیس بن سعد رضی اللہ عنہ سے بھی اسی جیسی حدیث مروی ہے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمُعَلَّى الدِّمَشْقِيُّ، ثَنَا صَفْوَانُ بْنُ صَالِحٍ، ثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ أَبِي كَثِيرٍ، يَقُولُ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَسْعَدَ بْنِ زُرَارَةَ، عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ، قَالَ: زَارَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَنْزِلِنَا فَقَالَ: «السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ» قَالَ: فَرَدَّ سَعْدٌ رَدًّا خَفِيًّا ثُمَّ قَالَ: «السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ» فَرَدَّ سَعْدٌ رَدًّا خَفِيًّا ثُمَّ قَالَ: «السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ» فَرَدَّ سَعْدٌ رَدًّا خَفِيًّا، فَرَجَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاتَّبَعَهُ سَعْدٌ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ أَنِّي كُنْتُ أسْمَعُ تَسْلِيمَكَ فَأَرُدُّ عَلَيْكَ رَدًّا خَفِيًّا لِتُكْثِرَ عَلَيْنَا مِنَ السَّلَامِ، فَانْصَرَفَ ضَيْفُهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَمَرَ لَهُ سَعْدٌ بِغُسْلِ الْمَوْضِعِ فَغَسَلَ وَاغْتَسَلَ ثُمَّ نَاوَلَهُ أَو نَاوَلَتْهُ الْمَرْأَةُ مِلْحَفَةٌ مَصْبُوغَةٌ بِوَرْسٍ وَزَعْفَرَانَ فَاشْتَمَلَ بِهَا وَرَفَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَيْهِ وَهُوَ يَقُولُ: «اللهُمَّ اجْعَلْ صَلَوَاتِكَ وَرَحْمَتَكَ عَلَى آل سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ» قَالَ: ثُمَّ أَصَابَ مِنَ الطَّعَامِ فَلَمَّا أَرَادَ الِانْصِرَافَ قَرَّبَ إِلَيْهِ سَعْدٌ حِمَارًا، فَوَطَأَ عَلَيْهِ بِقَطِيفَةٍ فَرَكِبَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ سَعْدٌ: يَا قَيْسُ اصْحَبْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا قَيْسُ ارْكَبْ» فَأَبَيْتُ ثُمَّ قَالَ: «إِمَّا أَنْ تَرْكَبَ وَإِمَّا أَنْ تَنْصَرِفَ» قَالَ: فَانْصَرَفْتُ
ترجمہ
سیدنا قیس بن سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: رسول اللہ ﷺ ہمارے گھر تشریف لائے اور فرمایا: ”السلام علیکم ورحمۃ اللہ۔“ راوی کہتے ہیں: سعد رضی اللہ عنہ نے دھیمی آواز میں جواب دیا۔ آپ ﷺ نے پھر فرمایا: ”السلام علیکم ورحمۃ اللہ۔“ سعد رضی اللہ عنہ نے پھر دھیمی آواز میں جواب دیا۔ آپ ﷺ نے تیسری بار فرمایا: ”السلام علیکم ورحمۃ اللہ۔“ سعد رضی اللہ عنہ نے پھر دھیمی آواز میں جواب دیا، تو رسول اللہ ﷺ واپس مڑنے لگے، سعد رضی اللہ عنہ نے ان کے پیچھے جا کر عرض کیا: یا رسول اللہ! میں آپ کا سلام سن رہا تھا اور جان بوجھ کر دھیمی آواز میں جواب دے رہا تھا تاکہ آپ ہمیں زیادہ سلام کریں۔ چنانچہ رسول اللہ ﷺ اپنے مہمان کی حیثیت سے لوٹے، اور سعد رضی اللہ عنہ نے جگہ دھونے کا حکم دیا، تو اسے دھویا گیا اور آپ نے غسل کیا، پھر انہوں نے - یا ان کی بیوی نے - آپ کو ورس اور زعفران سے رنگی ہوئی ایک چادر دی، تو آپ نے اسے اوڑھ لیا، اور رسول اللہ ﷺ نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھا کر فرمایا: ”اے اللہ! اپنی رحمتیں اور برکتیں سعد بن عبادہ کے گھرانے پر نازل فرما۔“ راوی کہتے ہیں: پھر آپ نے کھانا تناول فرمایا۔ جب آپ روانہ ہونے لگے تو سعد رضی اللہ عنہ نے ایک گدھا آپ کے قریب کیا اور اس پر ایک چادر بچھائی، تو رسول اللہ ﷺ اس پر سوار ہوئے۔ سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: اے قیس! رسول اللہ ﷺ کے ساتھ جاؤ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”قیس! سوار ہو جاؤ۔“ میں نے انکار کیا۔ آپ ﷺ نے پھر فرمایا: ”یا تو سوار ہو جاؤ یا واپس چلے جاؤ۔“ راوی کہتے ہیں: چنانچہ میں واپس چلا گیا۔