المعجم الكبير للطبراني
باب القاف— حرف قاف سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
ما أسند قيس بن سعد باب: سیدنا قیس بن سعد رضی اللہ عنہ کی مرویات
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ السَّقَطِيُّ، ثَنَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَا: ثَنَا عَلِيُّ بْنُ هَاشِمِ بْنِ الْبَرِيرِ، ثَنَا ابْنُ أَبِي لَيْلَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَسْعَدَ بْنِ زُرَارَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِيلَ، عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: أَتَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَارَ سَعْدٍ، فَقَامَ عَلَى بَابِهَا فَسَلَّمَ وَرَدَّ عَلَيْهِ سَعْدٌ وَخَافَتَ، ثُمَّ سَلَّمَ وَرَدَّ عَلَيْهِ سَعْدٌ وَخَافَتَ، ثُمَّ سَلَّمَ وَرَدَّ عَلَيْهِ سَعْدٌ وَخَافَتَ، فَانْصَرَفَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَاجِعًا فَتَبِعَهُ سَعْدٌ يَسْعَى فِي أَثَرِهِ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ بَأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي، وَاللهِ مَا مَنَعَنِي أَنْ أَرُدَّ عَلَيْكَ السَّلَامَ إِلَّا لِتُكْثِرَ لَنَا مِنْ سَلَامِكَ، فَدَخَلَ وَوَضَعَ مَاءً يَتَبَرَّدُ فَاغْتَسَلَ، فَأُتِيَ بِمِلْحَفَةٍ قَدْ صُبِغَتْ بِالْوَرْسِ فَلَبِسَهَا فَلَقَد رَأَيْتُ رَدْعَ الْوَرْسِ عَلَى عُكَنِهِ، ثُمَّ جَاءَ فَجَلَسَ فَقَالَ: " اللهُمَّ صَلِّ عَلَى الْأَنْصَارِ وَعَلَى ذُرِّيَّةِ الْأَنْصَارِ وَعَلَى ذُرِّيَّةِ ذُرِّيَّةِ الْأَنْصَارِ، فَلَمَّا أَرَادَ أَنْ يَنْصَرِفَ أُتِيَ بِحِمَارٍ فَجَعَلَ عَلَيْهِ قَطِيفَةً مَا هِيَ بِخَزٍّ وَلَا مَرْعَزِيٌّ وَأَرْسَلَ مَعَهُ ابْنَهُ يَرُدُّهُ الْحِمَارَ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «احْمِلْهُ بَيْنَ يَدَيَّ» فَقَالَ سَعْدٌ: يَا رَسُولَ اللهِ أَحْمِلُهُ بَيْنَ يَدَيْكَ؟ قَالَ: «نَعَمْ، هُوَ أَحَقُّ بِصَدْرِ حِمَارِهِ» قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، الْحِمَارُ لَكَ، قَالَ: «احْمِلْهُ خَلْفِي»سیدنا قیس بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: رسول اللہ ﷺ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کے گھر تشریف لائے اور دروازے پر کھڑے ہو کر سلام کیا، سعد رضی اللہ عنہ نے دھیمی آواز میں جواب دیا۔ آپ ﷺ نے پھر سلام کیا، سعد رضی اللہ عنہ نے پھر دھیمی آواز میں جواب دیا۔ آپ ﷺ نے پھر سلام کیا، سعد رضی اللہ عنہ نے پھر دھیمی آواز میں جواب دیا، تو رسول اللہ ﷺ واپس لوٹ گئے۔ سعد رضی اللہ عنہ دوڑتے ہوئے آپ کے پیچھے گئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میرے ماں باپ آپ پر قربان، اللہ کی قسم! مجھے آپ کے سلام کا (بلند آواز سے) جواب دینے سے صرف اس بات نے روکا کہ آپ ہم پر زیادہ سلام کریں۔ پھر آپ ﷺ اندر تشریف لائے، ٹھنڈک حاصل کرنے کے لیے پانی رکھا گیا تو آپ نے غسل کیا، پھر ورس سے رنگی ہوئی ایک چادر لائی گئی جو آپ نے پہن لی، میں نے ورس کا نشان آپ کے پیٹ کی سلوٹوں پر دیکھا۔ پھر آپ آ کر بیٹھ گئے اور فرمایا: ”اے اللہ! انصار پر، انصار کی اولاد پر اور انصار کی اولاد کی اولاد پر رحمت نازل فرما۔“ پھر جب آپ ﷺ روانہ ہونے لگے تو ایک گدھا لایا گیا جس پر ایک چادر ڈالی گئی تھی جو نہ ریشمی تھی اور نہ اونی، اور سعد رضی اللہ عنہ نے اپنے بیٹے کو اس کے ساتھ بھیجا تاکہ وہ گدھا واپس لے آئے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اسے میرے آگے سوار کرو۔“ سعد رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں اسے آپ کے آگے سوار کروں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں، وہ اپنے گدھے کے اگلے حصے کا زیادہ حق دار ہے۔“ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! گدھا تو آپ کا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”پھر اسے میرے پیچھے سوار کرو۔“