کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: سیدنا قیس بن ابی غرزہ غفاری رضی اللہ عنہ، انہیں جہنی اور بجلی بھی کہا جاتا ہے
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ، قَالَ: أَتَانَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى السُّوقِ فَقَالَ: «يَا مَعْشَرَ التُّجَّارِ إِنَّ هَذِهِ السُّوقُ يُخَالِفُهَا حَلِفٌ فَشُوبُوهَا بِالصَّدَقَةِ»
ترجمہ
سیدنا قیس بن ابی غرزہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم ﷺ بازار میں ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا: ”اے تاجرو! اس بازار میں جھوٹی قسمیں شامل ہو جاتی ہیں، سو اسے صدقے کے ساتھ ملا لیا کرو۔“
حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى السَّاجِيُّ، ثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ، ثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنِ الْمُغِيرَةِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ، قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى السُّوقِ فَقَالَ: «يَا مَعْشَرَ التُّجَّارِ إِنَّ هَذِهِ السُّوقُ يَحْضُرُهَا اللَّغْوُ وَالْحَلِفُ فَشُوبُوهُ بِالصَّدَقَةِ»
ترجمہ
سیدنا قیس بن ابی غرزہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: رسول اللہ ﷺ بازار میں ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا: ”اے تاجرو! اس بازار میں لغو باتیں اور قسمیں شامل ہو جاتی ہیں، سو اسے صدقے کے ساتھ ملا لیا کرو۔“
حَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الكَشِّيُّ، ثَنَا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، أَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سُلَيْمَانَ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، قَالَ: سَمِعْتُ قَيْسَ بْنَ أَبِي غَرَزَةَ، قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالسُّوقِ وَنَحْنُ نُدْعَى السَّمَاسِرَةَ، فَسَمَّانَا بِاسْمٍ أَحْسَنَ مِمَّا سَمَّيْنَا أَنْفُسَنَا فَقَالَ: «يَا مَعْشَرَ التُّجَّارِ إِنَّهُ يُخَالِطُ بَيْعَكُمْ هَذَا الْحَلِفُ وَاللَّغْوُ فَشُوبُوهُ بِالصَّدَقَةِ»
ترجمہ
سیدنا قیس بن ابی غرزہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: رسول اللہ ﷺ بازار میں ہمارے پاس تشریف لائے، جبکہ ہمیں ’سماسرہ‘ (دلال) کہا جاتا تھا، تو آپ ﷺ نے ہمیں اس نام سے بہتر نام دیا جو ہم نے خود اپنا رکھا تھا، اور فرمایا: ”اے تاجرو! تمہاری اس خرید و فروخت میں قسمیں اور لغو باتیں شامل ہو جاتی ہیں، سو اسے صدقے کے ساتھ ملا لیا کرو۔“
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ الصَّبَّاحِ الرَّقِّيُّ، ثَنَا أَبُو حُذَيْفَةَ، ثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ، قَالَ: جَاءَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالسُّوقِ وَنَحْنُ نَبِيعُ الرَّقِيقَ بِالْمَدِينَةِ، وَنَحْنُ نُسَمِّي أَنْفُسَنَا بِالسَّمَاسِرَةِ، فَسَمَّانَا بِأَحْسَنَ مِمَّا سَمَّيْنَا بِهِ أَنْفُسَنَا فَقَالَ: «يَا مَعْشَرَ التُّجَّارِ إِنَّ هَذَا الْبَيْعَ يَحْضُرُهُ الْبَيْعُ وَالْأَيْمَانُ فَشُوبُوهُ بِالصَّدَقَةِ»
ترجمہ
سیدنا قیس بن ابی غرزہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: رسول اللہ ﷺ بازار میں ہمارے پاس تشریف لائے جبکہ ہم مدینہ میں غلام بیچ رہے تھے، اور ہم اپنے آپ کو ’سماسرہ‘ کہتے تھے، تو آپ ﷺ نے ہمیں اس نام سے بہتر نام دیا جو ہم نے خود اپنا رکھا تھا، اور فرمایا: ”اے تاجرو! اس خرید و فروخت میں سودے بازی اور قسمیں شامل ہو جاتی ہیں، سو اسے صدقے کے ساتھ ملا لیا کرو۔“
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثَنَا جَرِيرُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ
ترجمہ
سیدنا قیس بن ابی غرزہ رضی اللہ عنہ سے بھی اسی طرح کی حدیث مروی ہے۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثَنَا وَكِيعٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، قَالَ: عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ، قَالَ: كُنَّا نَبْتَاعُ بِالْمَدِينَةِ وَكُنَّا نُسَمِّي أَنْفُسَنَا السَّمَاسِرَةَ، فَأَتَانَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَمَّانَا بِاسْمٍ أَحْسَنَ مِمَّا سَمَّيْنَا بِهِ أَنْفُسَنَا فَقَالَ: «يَا مَعْشَرَ التُّجَّارِ إِنَّ هَذَا الْبَيْعَ يَحْضُرُهُ اللَّغْوُ وَالْحَلِفُ فَشُوبُوهُ بِشَيْءٍ مِنَ الصَّدَقَةِ»
ترجمہ
سیدنا قیس بن ابی غرزہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم مدینہ میں خرید و فروخت کرتے تھے اور اپنے آپ کو ’سماسرہ‘ کہتے تھے، تو رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے اور ہمیں اس نام سے بہتر نام دیا جو ہم نے خود اپنا رکھا تھا، اور فرمایا: ”اے تاجرو! اس خرید و فروخت میں لغو باتیں اور قسمیں شامل ہو جاتی ہیں، سو اسے کچھ صدقے کے ساتھ ملا لیا کرو۔“
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثَنَا عَمْرُو بْنُ حَكَّامٍ، ثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، قَالَ: سَمِعْتُ قَيْسَ بْنَ أَبِي غَرَزَةَ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدُوسِ بْنِ كَامِلٍ، ثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، ثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ، يُحَدِّثُ عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ، قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ نَبِيعُ فِي السُّوقِ، وَنَحْنُ نُسَمِّي أَنْفُسَنَا السَّمَاسِرَةَ فَقَالَ: «يَا مَعْشَرَ التُّجَّارِ إِنَّ سُوقَكُمْ هَذَا يُخَالِطُهَا اللَّغْوُ فَشُوبُوهَا بِالصَّدَقَةِ أَو بِشَيْءٍ مِنَ الصَّدَقَةِ» . وَاللَّفْظُ لِحَدِيثِ عَلِيِّ بْنِ الْجَعْدِ
ترجمہ
سیدنا قیس بن ابی غرزہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے جبکہ ہم بازار میں خرید و فروخت کر رہے تھے اور اپنے آپ کو ’سماسرہ‘ کہتے تھے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے تاجرو! تمہارے اس بازار میں لغو باتیں شامل ہو جاتی ہیں، سو اسے صدقے کے ساتھ، یا کچھ صدقے کے ساتھ ملا لیا کرو۔“
یہ الفاظ علی بن جعد کی روایت کے ہیں۔
یہ الفاظ علی بن جعد کی روایت کے ہیں۔
حَدَّثَنَا يُوسُفُ الْقَاضِي، ثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ غِيَاثٍ، ثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنِ الْحَجَّاجِ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ، «أَنَّهُمْ كَانُوا يُسَمَّوْنَ السَّمَاسِرَةَ»
ترجمہ
سیدنا قیس بن ابی غزرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ (اور ان کے ساتھی تاجر) دلال کہلاتے تھے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، ثَنَا فِرْدَوْسُ بْنُ الْأَشْعَرِيِّ، ثَنَا مَسْعُودُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ، قَالَ: خَرَجَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ نُسَمَّى السَّمَاسِرَةَ، فَقَالَ: ": يَا مَعْشَرَ التُّجَّارِ إِنَّ هَذَا الْبَيْعَ يَحْضُرُهُ اللَّغْوُ وَالْحَلِفُ فَشُوبُوهُ بِصَدَقَةٍ "
ترجمہ
سیدنا قیس بن ابی غزرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے، اس وقت ہم دلال کہلاتے تھے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے تاجروں کی جماعت! اس خرید و فروخت میں لغو باتیں اور قسمیں شامل ہو جاتی ہیں، لہٰذا اسے صدقہ کے ساتھ ملا لیا کرو۔“
حَدَّثَنَا الْمِقْدَامُ بْنُ دَاوُدَ، ثَنَا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ح وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثَنَا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ح وَحَدَّثَنَا يُوسُفُ، ثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ غِيَاثٍ، قَالُوا: ثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَاصِمِ ابْنِ بَهْدَلَةَ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى عَلَى التُّجَّارِ وَهُمُ يُسَمَّوْنَ بِاسْمٍ غَيَّرَهُ قَالَ: «يَا مَعْشَرَ التُّجَّارِ إِنَّكُمْ يَحْضُرُ بَيْعَكُمْ بِلَغْوٍ وَأَيْمَانٍ فَشُوبُوهَا بِشَيْءٍ مِنَ الصَّدَقَةِ» . وَاللَّفْظُ لِحَدِيثِ حَجَّاجٍ
ترجمہ
سیدنا قیس بن ابی غزرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ تاجروں کے پاس سے گزرے، وہ اس وقت ایک ایسے نام سے پکارے جاتے تھے جسے آپ ﷺ نے بدل دیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے تاجروں کی جماعت! تمہاری خرید و فروخت میں لغو باتیں اور قسمیں شامل ہو جاتی ہیں، لہٰذا اسے کچھ صدقہ کے ساتھ ملا لیا کرو۔“
امام طبرانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ الفاظ حجاج کی روایت کے ہیں۔
امام طبرانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ الفاظ حجاج کی روایت کے ہیں۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثَنَا عَارِمُ أَبُو النُّعْمَانِ، ح وَحَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَيُوسُفُ الْقَاضِي، قَالَا: ثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَا: ثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَاصِمِ ابْنِ بَهْدَلَةَ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ، قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ نَتَبَايَعُ فِي السُّوقِ فَقَالَ: «يَا مَعْشَرَ التُّجَّارِ» فَفَرِحَ الْقَوْمُ وَاشْرَأَبُّوا إِلَيْهِ، وَكُنَّا نُدْعَى السَّمَاسِرَةَ فَكَانَ أَوَّلَ مَنْ سَمَّانَا بِالتُّجَّارِ، وَقَالَ: «إِنَّ الشَّيْطَانَ وَالإِثْمَ يَحْضُرَانِ الْبَيْعَ، فَشُوبُوا بَيْعَكُمْ بِصَدَقَةٍ»
ترجمہ
سیدنا قیس بن ابی غزرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے، ہم بازار میں خرید و فروخت کر رہے تھے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے تاجروں کی جماعت!“ لوگ خوش ہو گئے اور آپ ﷺ کی طرف متوجہ ہو گئے۔ اس سے پہلے ہم دلال کہلاتے تھے، تو آپ ﷺ پہلے شخص تھے جنہوں نے ہمیں تاجر کا نام دیا، اور فرمایا: ”بےشک شیطان اور گناہ خرید و فروخت میں شامل ہو جاتے ہیں، لہٰذا اپنی خرید و فروخت کو صدقہ کے ساتھ ملا لیا کرو۔“
حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنْبَاعِ رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ ثَنَا حَامِدُ بْنُ يَحْيَى الْبَلْخِيُّ، ثَنَا سُفْيَانُ، ثَنَا جَامِعُ بْنُ أَبِي رَاشِدٍ، وَعَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَعْيَنَ، وَعَاصِمُ ابْنُ بَهْدَلَةَ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو خَلِيفَةَ الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، ثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ الرَّمَادِيُّ، ثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ، وَجَامَعِ بْنِ أَبِي رَاشِدٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ، قَالَ: أَتَانَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ نَتَبَايَعُ بِالْعَقِيقِ، وَكُنَّا نُسَمَّى السَّمَاسِرَةَ، فَسَمَّانَا بِاسْمٍ هُوَ أَحْسَنُ مِمَّا سَمَّيْنَا بِهِ أَنْفُسَنَا فَقَالَ: «يَا مَعْشَرَ التُّجَّارِ إِنَّ هَذَا الْبَيْعَ يَحْضُرُهُ الْحَلِفُ وَالْكَذِبُ فَشُوبُوهُ بِشَيْءٍ مِنَ الصَّدَقَةِ»
ترجمہ
سیدنا قیس بن ابی غزرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے، ہم عقیق میں خرید و فروخت کر رہے تھے اور دلال کہلاتے تھے، تو آپ ﷺ نے ہمیں اس سے بہتر نام دیا جو ہم نے خود اپنے لیے رکھا تھا، اور فرمایا: ”اے تاجروں کی جماعت! اس خرید و فروخت میں قسم اور جھوٹ شامل ہو جاتا ہے، لہٰذا اسے کچھ صدقہ کے ساتھ ملا لیا کرو۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، ثَنَا عُبَادَةُ بْنُ زِيَادٍ الْأَسَدِيُّ، ثَنَا أَبُو مَرْيَمَ بْنُ عَبْدِ الْغَفَّارِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ، قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكُنَّا نُسَمَّى السَّمَاسِرَةَ فَقَالَ لَنَا: «يَا مَعْشَرَ التُّجَّارِ إِنَّ بَيْعَكُمْ هَذَا يَحْضُرُهُ الْحَلِفُ وَالشَّيْطَانُ فَشُوبُوهُ بِصَدَقَةٍ»
ترجمہ
سیدنا قیس بن ابی غزرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے، ہم دلال کہلاتے تھے، تو آپ ﷺ نے ہم سے فرمایا: ”اے تاجروں کی جماعت! تمہاری اس خرید و فروخت میں قسم اور شیطان شامل ہو جاتے ہیں، لہٰذا اسے صدقہ کے ساتھ ملا لیا کرو۔“
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَائِلَةَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، ثَنَا النُّعْمَانُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ حَسَّانٍ، ثَنَا شَقِيقُ بْنُ سَلَمَةَ، حَدَّثَنِي قَيْسُ بْنُ أَبِي غَرَزَةَ، قَالَ: كُنَّا نَتَبَايَعُ فِي السُّوقِ بِالْمَدِينَةِ وَنُسَمِّي أَنْفُسَنَا السَّمَاسِرَةَ فَجَاءَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَمَّانَا بِأَحْسَنَ اسْمٍ مِمَّا كُنَّا نُسَمِّي بِهِ أَنْفُسَنَا فَقَالَ: «يَا مَعْشَرَ التُّجَّارِ إِنَّ هَذَا الْبَيْعَ يَحْضُرُهُ اللَّغْوُ وَالْحَلِفُ فَشُوبُوهُ بِشَيْءٍ مِنَ الصَّدَقَةِ» . يَعْنِي فَشُوبُوهُ اخْلِطُوهُ،
ترجمہ
سیدنا قیس بن ابی غزرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم مدینہ کے بازار میں خرید و فروخت کرتے اور اپنے آپ کو دلال کہتے تھے، تو رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے اور ہمیں اس سے بہتر نام دیا جو ہم خود اپنے لیے رکھتے تھے، اور فرمایا: ”اے تاجروں کی جماعت! اس خرید و فروخت میں لغو باتیں اور قسم شامل ہو جاتی ہیں، لہٰذا اسے کچھ صدقہ کے ساتھ ملا لیا کرو۔“
راوی کی وضاحت: اس لفظ کا مطلب ہے اسے ملانا، خلط کرنا۔
راوی کی وضاحت: اس لفظ کا مطلب ہے اسے ملانا، خلط کرنا۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو الْبَزَّارُ، ثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يُوسُفَ الصَّيْرَفِيُّ، ثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، عَنْ عُبَيْدَةَ بْنِ مُعَتِّبٍٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ
ترجمہ
سیدنا قیس بن ابی غزرہ رضی اللہ عنہ سے بھی اسی طرح کی حدیث مروی ہے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَارُودِيُّ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ رَاشِدٍ الآدَمِيُّ، ثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْكَلْبِيُّ، ثَنَا عُبَيْدَةُ بْنُ مُعَتِّبٍ، وَيَزِيدُ الفَخْمُ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «يَا مَعْشَرَ التُّجَّارِ» فَذَكَرَ نَحْوَهُ
ترجمہ
سیدنا قیس بن ابی غزرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اے تاجروں کی جماعت!“ پھر (راوی نے) اسی طرح کی حدیث بیان کی۔
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَسْفَاطِيُّ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ، ثَنَا أَبِي، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ، قَالَ: كُنَّا نُسَمَّى بِالْمَدِينَةِ السَّمَاسِرَةَ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا مَعْشَرَ التُّجَّارِ الْبَيْعُ يَحْضُرُهُ الْحَلِفُ وَالْكَذِبُ فَشُوبُوهُ بِالصَّدَقَةِ»
ترجمہ
سیدنا قیس بن ابی غزرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم مدینہ میں دلال کہلاتے تھے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے تاجروں کی جماعت! خرید و فروخت میں قسم اور جھوٹ شامل ہو جاتا ہے، لہٰذا اسے صدقہ کے ساتھ ملا لیا کرو۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَارُودِيُّ، ثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ رَاشِدٍ الآدَمِيُّ، ثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، ثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ زَيْدٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ
ترجمہ
سیدنا قیس بن ابی غزرہ رضی اللہ عنہ سے بھی اسی طرح کی حدیث مروی ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، وَثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، قَالَا: ثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ مَيْسَرَةَ بْنِ شُرَيْحٍ، ثَنَا الْحَكَمُ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ، قَالَ: مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَجُلٍ يَبِيعُ طَعَامًا فَقَالَ: «يَا صَاحِبَ هَذَا الطَّعَام أَسْفَلُ هَذَا مِثْلُ أَعْلَاهُ؟» فَقَالَ: نَعَمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ غَشَّ الْمُسْلِمِينَ فَلَيْسَ مِنْهُمْ»
ترجمہ
سیدنا قیس بن ابی غزرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ ایک شخص کے پاس سے گزرے جو غلہ بیچ رہا تھا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے غلے والے! کیا اس کا نیچے کا حصہ بھی اوپر کے حصے جیسا ہے؟“ اس نے کہا: جی ہاں۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو مسلمانوں کو دھوکہ دے وہ ہم میں سے نہیں۔“