المعجم الكبير للطبراني
باب القاف— حرف قاف سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
ما أسند قيس بن سعد باب: سیدنا قیس بن سعد رضی اللہ عنہ کی مرویات
حدیث نمبر: 15984
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ زِيَادٍ سَبَلَانُ، ثَنَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ، ثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ الْمُعْتَمِرِ، عَنْ مَيْمُونَ بْنِ أَبِي شَبِيبٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: دَفَعَنِي أَبِي إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْدُمُهُ، فَأَتَى عَلَيَّ وَقَدْ صَلَّيْتُ رَكْعَتَيْنِ - أَو قَالَ الرَّكْعَتَيْنِ - وَأَنَا مُضْطَجِعٌ فَرَكَضَ بِرِجْلِهِ فَقَالَ: «أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى بَابٍ مِنْ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ؟» قُلْتُ: بَلَى يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ: «لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إلَا بِاللهِ»ترجمہ
سیدنا قیس بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میرے والد نے مجھے نبی کریم ﷺ کی خدمت کے لیے دیا، آپ میرے پاس تشریف لائے جبکہ میں دو رکعتیں پڑھ کر لیٹا ہوا تھا، تو آپ ﷺ نے اپنے پاؤں سے مجھے ہلایا اور فرمایا: ”کیا میں تمہیں جنت کے دروازوں میں سے ایک دروازہ نہ بتاؤں؟“ میں نے عرض کیا: کیوں نہیں، یا رسول اللہ۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”لا حول ولا قوۃ الا باللہ۔“