المعجم الكبير للطبراني
باب القاف— حرف قاف سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
ما أسند قيس بن سعد باب: سیدنا قیس بن سعد رضی اللہ عنہ کی مرویات
حدیث نمبر: 15985
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثَنَا يحيى بن معين، ثنا وهب بن جرير بن حازم ثنا أَبِي قَالَ: سَمِعْتُ مَنْصُورَ بْنَ زَاذَانَ، يُحَدِّثُ عَنْ مَيْمُونَ بْنِ أَبِي شَبِيبٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ، قَالَ: كَانَ أَبِي دَفَعَنِي إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْدُمُهُ، فَأَتَى عَلَيَّ وَقَدْ صَلَّيْتُ رَكْعَتَيْنِ، فَضَرَبَنِي بِرِجْلِهِ وَقَالَ: «أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى بَابٍ مِنْ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ؟» قُلْتُ: بَلَى يَا رَسُولَ الله قَالَ: «لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ أَلَا بِاللهِ»ترجمہ
سیدنا قیس بن سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میرے والد نے مجھے نبی کریم ﷺ کی خدمت کے لیے دیا تھا، آپ میرے پاس تشریف لائے جبکہ میں دو رکعتیں پڑھ چکا تھا، تو آپ ﷺ نے اپنے پاؤں سے مجھے چھوا اور فرمایا: ”کیا میں تمہیں جنت کے دروازوں میں سے ایک دروازہ نہ بتاؤں؟“ میں نے عرض کیا: کیوں نہیں، یا رسول اللہ۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”لا حول ولا قوۃ الا باللہ۔“