حدیث نمبر: 15993
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمُعَلَّى الدِّمَشْقِيُّ، ثَنَا صَفْوَانُ بْنُ صَالِحٍ، ثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ أَبِي كَثِيرٍ، يَقُولُ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَسْعَدَ بْنِ زُرَارَةَ، عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ، قَالَ: زَارَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَنْزِلِنَا فَقَالَ: «السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ» قَالَ: فَرَدَّ سَعْدٌ رَدًّا خَفِيًّا ثُمَّ قَالَ: «السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ» فَرَدَّ سَعْدٌ رَدًّا خَفِيًّا ثُمَّ قَالَ: «السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ» فَرَدَّ سَعْدٌ رَدًّا خَفِيًّا، فَرَجَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاتَّبَعَهُ سَعْدٌ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ أَنِّي كُنْتُ أسْمَعُ تَسْلِيمَكَ فَأَرُدُّ عَلَيْكَ رَدًّا خَفِيًّا لِتُكْثِرَ عَلَيْنَا مِنَ السَّلَامِ، فَانْصَرَفَ ضَيْفُهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَمَرَ لَهُ سَعْدٌ بِغُسْلِ الْمَوْضِعِ فَغَسَلَ وَاغْتَسَلَ ثُمَّ نَاوَلَهُ أَو نَاوَلَتْهُ الْمَرْأَةُ مِلْحَفَةٌ مَصْبُوغَةٌ بِوَرْسٍ وَزَعْفَرَانَ فَاشْتَمَلَ بِهَا وَرَفَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَيْهِ وَهُوَ يَقُولُ: «اللهُمَّ اجْعَلْ صَلَوَاتِكَ وَرَحْمَتَكَ عَلَى آل سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ» قَالَ: ثُمَّ أَصَابَ مِنَ الطَّعَامِ فَلَمَّا أَرَادَ الِانْصِرَافَ قَرَّبَ إِلَيْهِ سَعْدٌ حِمَارًا، فَوَطَأَ عَلَيْهِ بِقَطِيفَةٍ فَرَكِبَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ سَعْدٌ: يَا قَيْسُ اصْحَبْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا قَيْسُ ارْكَبْ» فَأَبَيْتُ ثُمَّ قَالَ: «إِمَّا أَنْ تَرْكَبَ وَإِمَّا أَنْ تَنْصَرِفَ» قَالَ: فَانْصَرَفْتُ
ترجمہ

سیدنا قیس بن سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: رسول اللہ ﷺ ہمارے گھر تشریف لائے اور فرمایا: ”السلام علیکم ورحمۃ اللہ۔“ راوی کہتے ہیں: سعد رضی اللہ عنہ نے دھیمی آواز میں جواب دیا۔ آپ ﷺ نے پھر فرمایا: ”السلام علیکم ورحمۃ اللہ۔“ سعد رضی اللہ عنہ نے پھر دھیمی آواز میں جواب دیا۔ آپ ﷺ نے تیسری بار فرمایا: ”السلام علیکم ورحمۃ اللہ۔“ سعد رضی اللہ عنہ نے پھر دھیمی آواز میں جواب دیا، تو رسول اللہ ﷺ واپس مڑنے لگے، سعد رضی اللہ عنہ نے ان کے پیچھے جا کر عرض کیا: یا رسول اللہ! میں آپ کا سلام سن رہا تھا اور جان بوجھ کر دھیمی آواز میں جواب دے رہا تھا تاکہ آپ ہمیں زیادہ سلام کریں۔ چنانچہ رسول اللہ ﷺ اپنے مہمان کی حیثیت سے لوٹے، اور سعد رضی اللہ عنہ نے جگہ دھونے کا حکم دیا، تو اسے دھویا گیا اور آپ نے غسل کیا، پھر انہوں نے - یا ان کی بیوی نے - آپ کو ورس اور زعفران سے رنگی ہوئی ایک چادر دی، تو آپ نے اسے اوڑھ لیا، اور رسول اللہ ﷺ نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھا کر فرمایا: ”اے اللہ! اپنی رحمتیں اور برکتیں سعد بن عبادہ کے گھرانے پر نازل فرما۔“ راوی کہتے ہیں: پھر آپ نے کھانا تناول فرمایا۔ جب آپ روانہ ہونے لگے تو سعد رضی اللہ عنہ نے ایک گدھا آپ کے قریب کیا اور اس پر ایک چادر بچھائی، تو رسول اللہ ﷺ اس پر سوار ہوئے۔ سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: اے قیس! رسول اللہ ﷺ کے ساتھ جاؤ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”قیس! سوار ہو جاؤ۔“ میں نے انکار کیا۔ آپ ﷺ نے پھر فرمایا: ”یا تو سوار ہو جاؤ یا واپس چلے جاؤ۔“ راوی کہتے ہیں: چنانچہ میں واپس چلا گیا۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب القاف / حدیث: 15993
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 18، صفحہ 353، حدیث 902