المعجم الكبير للطبراني
باب القاف— حرف قاف سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
ما أسند قيس بن سعد باب: سیدنا قیس بن سعد رضی اللہ عنہ کی مرویات
حدیث نمبر: 15990
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ زُهَيْرٍ التُّسْتَرِيُّ، ثَنَا طَاهِرُ بْنُ خَالِدِ بْنِ نِزَارٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ أَرْبَى الرِّبَا أَنْ يَسْتَطِيلَ الرَّجُلُ فِي شَتَمِ أَخِيهِ، وَإِنَّ أَكْبَرَ الْكَبَائِرِ أَنْ يَشْتِمَ الرَّجُلُ وَالِدَيْهِ، قَالُوا: وَكَيْفَ يَشْتِمُهُمَا يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: يَشْتِمُ الرَّجُلَ، فَيَشْتِمُهُمَا "ترجمہ
سیدنا قیس بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”سب سے بڑھا ہوا سود یہ ہے کہ آدمی اپنے مسلمان بھائی کو گالی دینے میں حد سے بڑھ جائے، اور سب سے بڑا کبیرہ گناہ یہ ہے کہ آدمی اپنے والدین کو گالی دے۔“ صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! وہ اپنے والدین کو کیسے گالی دیتا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ کسی دوسرے شخص کو گالی دیتا ہے تو وہ جواب میں اس کے والدین کو گالی دیتا ہے۔“