وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: «لَا تَمُوتَنَّ وَعَلَيْكَ دَيْنٌ فَإِنَّمَا هِيَ الْحَسَنَاتُ، وَالسَّيِّئَاتُ لَيْسَ ثَمَّ دِينَارٌ وَلَا دِرْهَمٌ جَزَاءٌ، وَقَضَاءٌ وَلَيْسَ يَظْلِمُ أَحَدًا»
ترجمہ
اور میں نے انہیں یہ فرماتے سنا: ”قرض چڑھائے ہوئے مت مرو، کیونکہ وہاں تو صرف نیکیاں اور برائیاں ہوں گی، وہاں نہ کوئی دینار ہوگا نہ درہم، وہاں بدلہ اور فیصلہ ہوگا، اور وہ کسی پر ظلم نہیں کرے گا۔“
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ الصَّنْعَانِيُّ، ثنا رَبَاحُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ حَبِيبٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا يَمْنَعَنَّ أَحَدٌ أَهْلَهُ أَنْ يَأْتُوا الْمَسْجِدَ»
ترجمہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”کوئی بھی اپنے گھر والوں کو مسجد آنے سے نہ روکے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا مِنْجَابُ بْنُ الْحَارِثِ، ثنا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: «نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْفَتْحِ عَنْ لُحُومِ الْإِبِلِ الْجَلَّالَةِ وَأَلْبَانِهَا»
ترجمہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فتح مکہ کے دن نجاست خور اونٹوں کے گوشت اور دودھ سے منع فرمایا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي خَيْثَمَةَ، ثنا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى الْمَدَائِنِيُّ، ثنا شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ، ثنا وَرْقَاءُ بْنُ عُمَرَ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَنْبَغِي لِمُؤْمِنٍ أَنْ يَذِلَّ نَفْسَهُ» ، قِيلَ: يَا رَسُولَ اللهِ، وَكَيْفَ يَذِلُّ نَفْسَهُ؟ قَالَ: «أَنْ يَتَعَرَّضَ مِنَ الْبَلَاءِ لِمَا لَا يُطِيقُ»
ترجمہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کسی مومن کے لیے مناسب نہیں کہ وہ اپنے آپ کو ذلیل کرے۔“ عرض کیا گیا: یا رسول اللہ! وہ اپنے آپ کو کیسے ذلیل کرتا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اپنے آپ کو ایسی آزمائش میں ڈال دے جس کی وہ طاقت نہ رکھتا ہو۔“
حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ الرَّمَادِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَا: ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: صَحِبْتُ ابْنَ عُمَرَ مِنْ مَكَّةَ إِلَى الْمَدِينَةِ فَلَمْ أَسْمَعْهُ يُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِلَّا حَدِيثًا وَاحِدًا قَالَ: كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «إِنَّ مِنَ الشَّجَرَةِ شَجَرَةً، مَثَلُهَا مَثَلُ الرَّجُلِ الْمُسْلِمِ» ، فَأَرَدْتُ أَنْ أَقُولَ هِيَ النَّخْلَةُ، فَنَظَرْتُ فَإِذَا أَنَا أَصْغَرُ الْقَوْمِ فَسَكَتُّ
ترجمہ
راوی بیان کرتے ہیں: میں نے مکہ سے مدینہ تک ابن عمر رضی اللہ عنہما کی رفاقت کی، اور میں نے انہیں رسول اللہ ﷺ سے صرف ایک ہی حدیث بیان کرتے سنا۔ انہوں نے فرمایا: ہم نبی کریم ﷺ کے پاس تھے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”درختوں میں ایک درخت ایسا ہے جس کی مثال مسلمان آدمی جیسی ہے۔“ میں نے کہنا چاہا کہ وہ کھجور کا درخت ہے، پھر میں نے دیکھا تو میں سب سے چھوٹا تھا، اس لیے خاموش رہا۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عِقَالٍ الْحَرَّانِيُّ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ النُّفَيْلِيُّ، ثنا خَطَّابُ بْنُ الْقَاسِمِ، عَنْ خُصَيْفٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: «أَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِسَاءَهُ فَيَتَمَتَّعْنَ، وَأَمَرَ لَهُنَّ بِالنَّفْرِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”رسول اللہ ﷺ نے اپنی ازواج کو حکم دیا کہ وہ تمتع کریں، اور انہیں روانہ ہونے کا بھی حکم دیا۔“
حَدَّثَنَا مَحْمُودِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْوَاسِطِيُّ، ثنا تَمِيمُ بْنُ الْمُنْتَصِرِ، ثنا إِسْحَاقُ الْأَزْرَقُ، عَنْ شَرِيكٍ، عَنْ خُصَيْفٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «دَخَلَ الْبَيْتَ وَمَعَهُ الْفَضْلُ، وَقَامَ بِلَالٌ عَلَى الْبَابِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ خانہ کعبہ میں داخل ہوئے اور فضل آپ ﷺ کے ساتھ تھے، اور بلال دروازے پر کھڑے رہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، ثنا عِمْرَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا بَنِي عَبْدِ مَنَافٍ لَا أَعْرِفَنَّكُمْ مَا مَنَعْتُمْ أَحَدًا يَطُوفُ بهَذَا الْبَيْتِ سَاعَةً مِنْ لَيْلٍ أَوْ نَهَارٍ»
ترجمہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے بنی عبد مناف! میں تمہیں ایسا نہ پاؤں کہ تم نے کسی کو رات یا دن کی کسی گھڑی اس گھر کا طواف کرنے سے روکا ہو۔“
حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ خَلَفٍ الدُّورِيُّ، ثنا مُؤَمَّلُ بْنُ هِشَامٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ عَبَّادٍ، عَنِ السَّرِيِّ بْنِ يَحْيَى، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ هُوَ ابْنُ رُشَيْدٍ، لَمْ يُسْنِدْ إِلَّا هَذَا الْحَدِيثَ، وَحَدَّثَنَا آخَرُ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: قَالَ ابْنُ عُمَرَ: «لَقَدْ أُعْطِيتُ مِنْهُ شَيْئًا مَا أَعْلَمُ أَحَدًا أُعْطِيَهُ إِلَّا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَعْنِي الْجِمَاعَ -»
ترجمہ
ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”مجھے اس میں سے (یعنی جماع کی قوت میں سے) اتنا عطا کیا گیا ہے کہ میں کسی کو نہیں جانتا جسے یہ عطا کیا گیا ہو سوائے رسول اللہ ﷺ کے۔“
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ الضَّبِّيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ الْجُمَحِيُّ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مِنَ الشَّجَرِ لَشَجَرَةٌ كَالرَّجُلِ الْمُؤْمِنِ» ، فَأَرَدْتُ أَنْ أَقُولَ: هِيَ النَّخْلَةُ، فَنَظَرْتُ فِي وُجُوهِ الْقَوْمِ فَإِذَا أَنَا أَحْدَثُهُمْ سِنًّا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هِيَ النَّخْلَةُ»
ترجمہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”درختوں میں ایک درخت مومن آدمی جیسا ہے۔“ میں نے کہنا چاہا کہ وہ کھجور کا درخت ہے، پھر میں نے لوگوں کے چہروں کی طرف دیکھا تو میں ان میں سب سے کم عمر تھا، تو رسول اللہ ﷺ نے خود فرمایا: ”وہ کھجور کا درخت ہے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ السَّقَطِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ الْعَوَّامِّ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ حُسَيْنٍ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَثَلُ الْمُؤْمِنِ مَثَلُ النَّخْلَةِ، مَا أَخَذْتَ مِنْهَا مِنْ شَيْءٍ نَفَعَكَ»
ترجمہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”مومن کی مثال کھجور کے درخت جیسی ہے، تم اس سے جو کچھ بھی لو تمہیں فائدہ دیتا ہے۔“
حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: «كُنْتُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَأْكُلُ جُمَّارَ نَخْلٍ»
ترجمہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں نبی کریم ﷺ کے پاس تھا جبکہ آپ ﷺ کھجور کا گودا (جمار) تناول فرما رہے تھے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ خَيْثَمَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْمُخَرِّمِيُّ، ثنا الْأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ، ثنا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَسْبَاطِ بْنِ عَزْرَةَ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي وَحْشِيَّةَ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَعَطَسَ فَحَمِدَ اللهَ، فَقَالُوا: يَرْحَمُكَ اللهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَهْدِيكُمُ اللهُ، وَيُصْلِحُ بَالَكُمْ»
ترجمہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ہم نبی کریم ﷺ کے پاس بیٹھے تھے کہ آپ ﷺ کو چھینک آئی تو آپ ﷺ نے الحمدللہ کہا، لوگوں نے کہا: یرحمک اللہ، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تمہیں ہدایت دے اور تمہارا حال درست فرمائے۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا عَارِمٌ أَبُو النُّعْمَانِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ صَالِحٍ أَبِي الْخَلِيلِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَصْحَابِهِ: «أَخْبِرُونِي عَنْ شَجَرَةٍ مَثَلُهَا مَثَلُ الْمُؤْمِنِ» ، فَجَعَلَ النَّاسُ يَذْكُرُونَ شَجَرًا مِنْ شَجَرِ الْوَادِي، فَأُلْقِيَ فِي نَفْسِي أَنَّهَا النَّخْلَةُ فَجَعَلْتُ أُرِيدُ أَنْ أَقُولَ، فَأَرَى أَسْنَانًا مِنَ الْقَوْمِ فَجَعَلْتُ أَهَابُ ذَاكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هِيَ النَّخْلَةُ»
ترجمہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے اپنے صحابہ سے فرمایا: ”مجھے ایک ایسے درخت کے بارے میں بتاؤ جس کی مثال مومن جیسی ہو۔“ تو لوگ وادی کے مختلف درختوں کا ذکر کرنے لگے، میرے دل میں ڈالا گیا کہ وہ کھجور کا درخت ہے، میں نے کہنا چاہا مگر لوگوں میں بڑی عمر والوں کو دیکھ کر جھجک محسوس کی، تو رسول اللہ ﷺ نے خود فرمایا: ”وہ کھجور کا درخت ہے۔“
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَسْفَاطِيُّ، ثنا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ الْحَوْضِيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ، عَنْ يَزِيدَ الْأَعْرَجِ الشَّنِّيِّ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " بُنِيَ الْإِسْلَامُ عَلَى خَمْسٍ: شَهَادَةِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَإِقَامِ الصَّلَاةِ، وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ، وَصَوْمِ رَمَضَانَ، وَحَجِّ الْبَيْتِ، وَحَجِّ هَذَا الْبَيْتِ، مَرَّتَيْنِ "
ترجمہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر رکھی گئی ہے: اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں، نماز قائم کرنا، زکاۃ ادا کرنا، رمضان کے روزے رکھنا، اور بیت اللہ کا حج کرنا۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا شَرِيكٌ، قَالَ: سَمِعْتُ سَلَمَةَ بْنَ كُهَيْلٍ يُحَدِّثُ: عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالشَّمْسُ عَلَى قُعَيْقِعَانَ بَعْدَ الْعَصْرِ فَقَالَ: «مَا أَعْمَارُكُمْ فِي أَعْمَارِ مَنْ مَضَى إِلَّا كَمَا بَقِيَ مِنْ هَذَا النَّهَارِ فِيمَا مَضَى مِنْهُ»
ترجمہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ہم نبی کریم ﷺ کے پاس بیٹھے تھے اور سورج عصر کے بعد قعیقعان پر تھا کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تمہاری عمریں پہلے لوگوں کی عمروں کے مقابلے میں بس اتنی ہیں جتنا اس دن کا وہ حصہ جو گزرے ہوئے حصے کے مقابلے میں باقی رہ گیا ہو۔“
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ بْنِ الصَّبَّاحِ الرَّقِّيُّ، ثنا ابْنُ الْأَصْبَهَانِيِّ، ثنا شَرِيكٌ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَثَلُ الْمُؤْمِنِ مَثَلُ النَّخْلَةِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”مومن کی مثال کھجور کے درخت جیسی ہے۔“
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ هَاشِمٍ الْبَغَوِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَاهِبِ الْحَارِثِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَأْكُلُ جُمَّارًا وَالْقَوْمُ , فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ مِنَ الشَّجَرِ لَشَجَرَةٌ مِثْلَ الرَّجُلِ الْمُسْلِمِ» ، قَالَ: فَسَكَتَ الْقَوْمُ حَتَّى كِدْتُ أَسْأَلُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَصْغَرُ الْقَوْمِ، فَقَالَ: «هِيَ النَّخْلَةُ»
ترجمہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس تھے، آپ ﷺ جمار (کھجور کا گودا) تناول فرما رہے تھے اور لوگ بھی موجود تھے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”درختوں میں ایک درخت مسلمان آدمی جیسا ہے۔“ لوگ خاموش رہے یہاں تک کہ میں سب سے کم عمر ہونے کے باوجود رسول اللہ ﷺ سے پوچھنے ہی لگا تھا کہ آپ ﷺ نے خود فرمایا: ”وہ کھجور کا درخت ہے۔“
حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بْنِ يَحْيَى بْنِ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أُعْطِيتُ خَمْسًا لَمْ يُعْطَهَا نَبِيٌّ قَبْلِي: بُعِثْتُ إِلَى النَّاسِ كَافَّةً الْأَحْمَرِ وَالْأَسْوَدِ، وَإِنَّمَا كَانَ يُبْعَثُ كُلُّ نَبِيٍّ إِلَى قَرْيَتِهِ، وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ يُرْعَبُ مِنِّي عَدُوِّي عَلَى مَسِيرَةِ شَهْرٍ، وَأُعْطِيتُ الْمَغْنَمَ، وَجُعِلَتْ لِيَ الْأَرْضُ مَسْجِدًا وَطَهُورًا، وَأُعْطِيتُ الشَّفَاعَةَ فَأَخَّرْتُهَا لِأُمَّتِي "
ترجمہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے پانچ چیزیں عطا کی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دی گئیں: مجھے تمام لوگوں کی طرف، سرخ و سیاہ سب کی طرف، مبعوث کیا گیا، جبکہ ہر نبی صرف اپنی قوم کی طرف مبعوث ہوتا تھا۔ اور رعب کے ذریعے میری مدد کی گئی، میرا دشمن ایک ماہ کی مسافت پر مجھ سے خوفزدہ ہو جاتا ہے۔ اور مجھے مالِ غنیمت حلال کیا گیا۔ اور میرے لیے زمین کو سجدہ گاہ اور پاکیزگی کا ذریعہ بنایا گیا۔ اور مجھے شفاعت عطا کی گئی ہے، جسے میں نے اپنی امت کے لیے مؤخر رکھا ہے۔“
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَحْمَدَ الْوَكِيعِيُّ، ثنا أَبِي، ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ شُعَيْبٍ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ النَّسَائِيُّ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ النَّيْسَابُورِيُّ، قَالَا: ثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، عَنْ مُفَضَّلِ بْنِ مُهَلْهَلٍ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: «اعْتَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعَ عُمَرٍ إِحْدَاهُنَّ فِي رَجَبٍ»
ترجمہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے چار عمرے کیے، ان میں سے ایک رجب میں تھا۔
حَدَّثَنَا أَبُو مُلَيْلٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ رَبِيعَةَ الْكِلَابِيُّ الْكُوفِيُّ، ثنا أَبِي، ثنا إِبْرَاهِيمُ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: «صَلَاةُ الضُّحَى بِدْعَةٌ»
ترجمہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”چاشت کی نماز بدعت ہے۔“
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا عِيسَى بْنُ شَاذَانَ، ثنا أَبُو هَمَّامٍ الدَّلَّالُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فِي مَسْجِدِ الْخَيْفِ قَبْرُ سَبْعِينَ نَبِيًّا»
ترجمہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مسجد خیف میں ستر انبیاء کی قبریں ہیں۔“
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَلْمٍ الرَّازِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ هَاشِمِ بْنِ مَرْزُوقٍ، ثنا أَبِي، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ الرَّازِيُّ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا مَعَ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ أَنَا وَعُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ فَسَأَلَهُ عُرْوَةُ فِي أَيِّ شَهْرٍ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْتَمِرُ؟ قَالَ: «كَانَ يَعْتَمِرُ فِي رَجَبٍ»
ترجمہ
مجاہد بیان کرتے ہیں: میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس عروہ بن زبیر کے ساتھ بیٹھا تھا، عروہ نے ان سے پوچھا: رسول اللہ ﷺ کس مہینے میں عمرہ کیا کرتے تھے؟ انہوں نے فرمایا: ”وہ رجب میں عمرہ کرتے تھے۔“
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، أنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنا الثَّوْرِيُّ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: " رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكْثَرَ مِنْ خَمْسٍ وَعِشْرِينَ مَرَّةً أَوْ قَالَ: أَكْثَرَ مِنْ عِشْرِينَ مَرَّةً يَقْرَأُ فِي رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ، وَقُلْ هُوَ اللهُ أَحَدٌ "
ترجمہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو پچیس سے زیادہ بار - یا فرمایا: بیس سے زیادہ بار - فجر کی دو رکعتوں میں ”قل یا ایھا الکافرون“ اور ”قل ھو اللہ احد“ پڑھتے دیکھا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ، ثنا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: «رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقْرَأُ فِي رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ وَقُلْ هُوَ اللهُ أَحَدٌ»
ترجمہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں نے نبی کریم ﷺ کو فجر کی دو رکعتوں میں ”قل یا ایھا الکافرون“ اور ”قل ھو اللہ احد“ پڑھتے دیکھا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ شَرِيكٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: «اعْتَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّتَيْنِ قَبْلَ أَنْ يَحُجَّ» فَبَلَغَ ذَلِكَ عَائِشَةَ فَقَالَتِ: «اعْتَمَرَ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعَ عُمَرٍ قَدْ عَلِمَ بِذَلِكَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ مِنْهُنَّ عُمْرَةٌ مَعَ حَجَّتِهِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ”رسول اللہ ﷺ نے حج کرنے سے پہلے دو عمرے کیے۔“ یہ بات عائشہ رضی اللہ عنہا تک پہنچی تو انہوں نے فرمایا: ”اللہ کے نبی ﷺ نے چار عمرے کیے، عبداللہ بن عمر کو اس کا علم ہے، ان میں سے ایک عمرہ ان کے حج کے ساتھ تھا۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا أَبِي، عَنِ الْعَوَّامِّ بْنِ حَوْشَبٍ عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ سَأَلَكُمْ بِاللهِ فَأَعْطُوهُ، وَمَنِ اسْتَعَاذَ بِاللهِ فَأَعِيذُوهُ، وَمَنْ أَهْدَى إِلَيْكُمْ كُرَاعًا فَاقْبَلُوهُ»
ترجمہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو تم سے اللہ کے واسطے سوال کرے اسے دو، اور جو اللہ کی پناہ مانگے اسے پناہ دو، اور جو تمہیں پائے کا تحفہ دے اسے قبول کرو۔“
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا زَيْدُ بْنُ الْحَرِيشِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ خِرَاشٍ، عَنِ الْعَوَّامِّ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: «أَوْصَانَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْجَارِ حَتَّى رَأَيْنَا أَنَّهُ سَيُوَرِّثُهُ»
ترجمہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ”رسول اللہ ﷺ نے ہمیں پڑوسی کے بارے میں اتنی تاکید کی کہ ہم سمجھنے لگے کہ آپ ﷺ اسے وارث ہی بنا دیں گے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْوَادِعِيُّ أَبُو حُصَيْنٍ الْقَاضِي، ثنا جَنْدَلُ بْنُ وَالِقٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَعْلَى، عَنْ يُونُسَ بْنِ خَبَّابٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَجْلِسٍ يَسْتَغْفِرُ اللهَ مِائَةَ مَرَّةٍ يَقُولُ: «رَبِّ اغْفِرْ لِي، وَارْحَمْنِي وَتُبْ عَلَيَّ؛ إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ»
ترجمہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو ایک مجلس میں سو بار استغفار کرتے سنا، آپ ﷺ فرما رہے تھے: ”اے میرے رب! مجھے بخش دے، مجھ پر رحم فرما، اور میری توبہ قبول فرما، بے شک تو ہی بہت توبہ قبول کرنے والا، رحم کرنے والا ہے۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْقَاسِمِ بْنِ مُسَاوِرٍ الْجَوْهَرِيُّ، وَبِشْرُ بْنُ مُوسَى، قَالَا: ثنا يَزِيدُ بْنُ مِهْرَانَ أَبُو خَالِدٍ الْخَبَّازُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ مُجَالِدٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى ابْنِ عُمَرَ، فَقَالَ: مَا تَقُولُ فِي عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ؟ فَقَالَ: «هُوَ ذَاكَ بَيْتُهُ» ، فَقَالَ: مَا تَقُولُ فِي عُثْمَانَ؟ قَالَ: «مَا أَقُولُ فِي رَجُلٍ أَذْنَبَ ذَنْبًا فِيمَا بَيْنَهُ، وَبَيْنَ رَبِّهِ فَعَفَى عَنْهُ، وَأَذْنَبَ ذَنْبًا فِيمَا بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُ فَقَتَلْتُمُوهُ؟»
ترجمہ
ایک آدمی ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور کہا: آپ علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟ انہوں نے فرمایا: ”وہ تو وہی ہیں، ان کا گھر (مقام) یہی ہے۔“ اس نے کہا: آپ عثمان کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟ انہوں نے فرمایا: ”میں اس شخص کے بارے میں کیا کہوں جس نے اپنے اور اپنے رب کے درمیان ایک گناہ کیا تو اللہ نے اسے معاف کر دیا، اور تمہارے اور اس کے درمیان ایک گناہ کیا تو تم نے اسے قتل کر دیا؟“
حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّا، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَيَّارٍ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا عَبْدَانُ بْنُ عُثْمَانَ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ، عَنْ أَشْرَسَ بْنِ حَسَّانَ الْأَسَدِيِّ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ: «لَا تَرْجِعُوا بَعْدِي كُفَّارًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ»
ترجمہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حجۃ الوداع میں فرمایا: ”میرے بعد کافروں کی طرح نہ لوٹ جانا کہ تم ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو۔“
حَدَّثَنَا الْحَضْرَمِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَبَانَ، ثنا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ حَسَّانَ هُوَ أَخُو أَشْرَسَ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ: كَانَ مُسْتَنِدًا إِلَى حُجْرَةِ عَائِشَةَ فَسُئِلَ فِي أَيِّ شَهْرٍ اعْتَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ: «فِي رَجَبٍ»
ترجمہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرے کے ساتھ ٹیک لگائے بیٹھے تھے، ان سے پوچھا گیا: رسول اللہ ﷺ نے کس مہینے میں عمرہ کیا؟ انہوں نے فرمایا: ”رجب میں۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى بْنِ شَيْبَةَ الْمِصْرِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ، ثنا أَبِي، ثنا مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ، عَنْ مُعَلًّى هُوَ الْكِنْدِيُّ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَاشِرَ عَشَرَةٍ , فَجَاءَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللهِ مَنْ أَكْيَسُ النَّاسِ؟ وَأَحْزَمُ النَّاسِ؟ قَالَ: «أَكْثَرُهُمْ ذِكْرًا لِلْمَوْتِ، وَأَشَدُّهُمُ اسْتِعْدَادًا لِلْمَوْتِ قَبْلَ نُزُولِ الْمَوْتِ أُولَئِكَ هُمُ الْأَكْيَاسُ ذَهَبُوا بِشَرَفِ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں دس آدمیوں کے ساتھ دسویں کی حیثیت سے نبی کریم ﷺ کے پاس آیا، تو انصار میں سے ایک آدمی آیا اور عرض کیا: اے اللہ کے نبی! سب سے زیادہ عقل مند اور سب سے زیادہ محتاط شخص کون ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ جو موت کو سب سے زیادہ یاد رکھے اور موت آنے سے پہلے اس کے لیے سب سے زیادہ تیاری کرے، یہی لوگ عقل مند ہیں، یہ دنیا و آخرت دونوں کی عزت لے گئے۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ لِي: «أَحِبَّ فِي اللهِ وَأَبْغِضْ فِي اللهِ وَوَالِ فِي اللهِ , وَعَادِ فِي اللهِ، فَإِنَّهُ لَا تُنَالُ وِلَايَةُ اللهِ إِلَّا بِذَلِكَ، وَلَا يَجِدُ رَجُلٌ طَعْمَ الْإِيمَانِ - وَإِنْ كَثُرَتْ صَلَاتُهُ وَصِيَامُهُ - حَتَّى يَكُونَ كَذَلِكَ، وَصَارَتْ مُؤَاخَاةُ النَّاسِ فِي أَمْرِ الدُّنْيَا، وَإِنَّ ذَلِكَ لَا يَجْزِي عَنْ أَهْلِهِ شَيْئًا»
قَالَ: وَقَالَ لِي ابْنُ عُمَرَ: «إِذَا أَصْبَحْتَ فَلَا تُحَدِّثْ نَفْسَكَ بِالْمَسَاءِ، وَإِذَا أَمْسَيْتَ فَلَا تُحَدِّثْ نَفْسَكَ بِالصَّبَاحِ، وَخُذْ مِنْ صِحَّتِكَ لَسَقَمِكَ، وَمَنْ حَيَاتِكَ لِمَوْتِكَ، فَإِنَّكَ يَا عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ لَا تَدْرِي مَا اسْمُكَ غَدًا»
قَالَ: وَأَخَذَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِبَعْضِ جَسَدِي، فَقَالَ: «كُنْ فِي الدُّنْيَا غَرِيبًا أَوْ عَابِرَ سَبِيلٍ , وَعُدَّ نَفْسَكَ فِي أَهْلِ الْقُبُورِ»
قَالَ: وَقَالَ لِي ابْنُ عُمَرَ: «إِذَا أَصْبَحْتَ فَلَا تُحَدِّثْ نَفْسَكَ بِالْمَسَاءِ، وَإِذَا أَمْسَيْتَ فَلَا تُحَدِّثْ نَفْسَكَ بِالصَّبَاحِ، وَخُذْ مِنْ صِحَّتِكَ لَسَقَمِكَ، وَمَنْ حَيَاتِكَ لِمَوْتِكَ، فَإِنَّكَ يَا عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ لَا تَدْرِي مَا اسْمُكَ غَدًا»
قَالَ: وَأَخَذَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِبَعْضِ جَسَدِي، فَقَالَ: «كُنْ فِي الدُّنْيَا غَرِيبًا أَوْ عَابِرَ سَبِيلٍ , وَعُدَّ نَفْسَكَ فِي أَهْلِ الْقُبُورِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے مجھ سے فرمایا: ”اللہ کے لیے محبت رکھو، اللہ کے لیے بغض رکھو، اللہ کے لیے دوستی رکھو، اور اللہ کے لیے دشمنی رکھو، کیونکہ اللہ کی ولایت اسی کے ذریعے حاصل ہوتی ہے۔ اور کوئی آدمی ایمان کا مزہ نہیں چکھتا - چاہے اس کی نماز اور روزہ کتنے ہی زیادہ ہوں - جب تک وہ ایسا نہ ہو جائے، جبکہ لوگوں کی بھائی چارگی دنیا کے معاملات پر ہو چکی ہے، اور یہ چیز اس کے اہل کو کچھ فائدہ نہیں دیتی۔“
اور ابن عمر رضی اللہ عنہما نے مجھ سے فرمایا: ”جب تم صبح کرو تو اپنے آپ سے شام کی بات نہ کرو، اور جب تم شام کرو تو اپنے آپ سے صبح کی بات نہ کرو، اور اپنی صحت میں سے اپنی بیماری کے لیے کچھ لے لو، اور اپنی زندگی میں سے اپنی موت کے لیے کچھ لے لو، کیونکہ اے عبداللہ بن عمر! تمہیں نہیں معلوم کہ کل تمہارا نام کیا ہوگا۔“
اور رسول اللہ ﷺ نے میرے جسم کا کچھ حصہ پکڑا اور فرمایا: ”دنیا میں ایسے رہو جیسے ایک اجنبی یا مسافر، اور اپنے آپ کو قبر والوں میں شمار کرو۔“
اور ابن عمر رضی اللہ عنہما نے مجھ سے فرمایا: ”جب تم صبح کرو تو اپنے آپ سے شام کی بات نہ کرو، اور جب تم شام کرو تو اپنے آپ سے صبح کی بات نہ کرو، اور اپنی صحت میں سے اپنی بیماری کے لیے کچھ لے لو، اور اپنی زندگی میں سے اپنی موت کے لیے کچھ لے لو، کیونکہ اے عبداللہ بن عمر! تمہیں نہیں معلوم کہ کل تمہارا نام کیا ہوگا۔“
اور رسول اللہ ﷺ نے میرے جسم کا کچھ حصہ پکڑا اور فرمایا: ”دنیا میں ایسے رہو جیسے ایک اجنبی یا مسافر، اور اپنے آپ کو قبر والوں میں شمار کرو۔“
حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى السَّاجِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ زُنْبُورٍ، ثنا فُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: أَخَذَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِبَعْضِ جَسَدِي فَقَالَ: «يَا ابْنَ عُمَرَ كُنْ كَالْغَرِيبِ فِي الدُّنْيَا , أَوْ عَابِرِ سَبِيلٍ , وَعُدَّ نَفْسَكَ فِي أَهْلِ الْقُبُورِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے میرے جسم کا کچھ حصہ پکڑا اور فرمایا: ”اے ابن عمر! دنیا میں ایک اجنبی کی طرح رہو، یا مسافر کی طرح، اور اپنے آپ کو قبر والوں میں شمار کرو۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا عَارِمٌ أَبُو النُّعْمَانِ، ثنا سَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ سَأَلَ بِاللهِ فَأَعْطُوهُ، وَمَنِ اسْتَعَاذَ بِاللهِ فَأَعِيذُوهُ، وَمَنْ أَهْدَى إِلَيْكُمْ فَاقْبَلُوهُ»
ترجمہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو اللہ کے واسطے سوال کرے اسے دو، اور جو اللہ کی پناہ مانگے اسے پناہ دو، اور جو تمہیں تحفہ دے اسے قبول کرو۔“
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ سَأَلَ بِاللهِ فَأَعْطُوهُ، وَمَنِ اسْتَعَاذَ بِاللهِ فَأَعِيذُوهُ، وَمَنْ أَهْدَى إِلَيْكُمْ ذِرَاعًا أَوْ كُرَاعًا فَاقْبَلُوهُ»
ترجمہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو اللہ کے واسطے سوال کرے اسے دو، اور جو اللہ کی پناہ مانگے اسے پناہ دو، اور جو تمہیں بازو یا پائے کا تحفہ دے اسے قبول کرو۔“
حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفِرْيَابِيُّ، ثنا هُرَيْمُ بْنُ مِسْعَرٍ التِّرْمِذِيُّ، ثنا فُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَثَلُ الْمُؤْمِنِ كَمَثَلِ الْعَطَّارِ إِنْ جَالَسْتَهُ نَفَعَكَ، وَإِنْ مَاشَيْتَهُ نَفَعَكَ، وَإِنْ شَارَكْتَهُ نَفَعَكَ»
ترجمہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مومن کی مثال عطر فروش جیسی ہے، اگر تم اس کے ساتھ بیٹھو تو وہ تمہیں فائدہ دیتا ہے، اگر اس کے ساتھ چلو تو وہ تمہیں فائدہ دیتا ہے، اور اگر اس کے ساتھ شراکت کرو تو وہ تمہیں فائدہ دیتا ہے۔“
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثنا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ لَيْثِ بْنِ أَبِي سُلَيْمٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الذُّبَابُ كُلُّهُ فِي النَّارِ إِلَّا النَّحْلَةَ»
ترجمہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”مکھی کی تمام اقسام آگ میں ہیں سوائے شہد کی مکھی کے۔“
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَرَ، أَوْ عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كُلُّ الذُّبَابِ فِي النَّارِ إِلَّا النَّحْلَ كَانَ يَنْهَى عَنْ قَتْلِهِنَّ وَإِحْرَاقِ الطَّعَامِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما (یا عبید بن عمر) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ہر مکھی آگ میں ہے سوائے شہد کی مکھی کے“، اور آپ ﷺ انہیں مارنے سے اور کھانا جلانے سے منع فرماتے تھے۔
…