حدیث نمبر: 13479
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى بْنِ شَيْبَةَ الْمِصْرِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ، ثنا أَبِي، ثنا مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ، عَنْ مُعَلًّى هُوَ الْكِنْدِيُّ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَاشِرَ عَشَرَةٍ , فَجَاءَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللهِ مَنْ أَكْيَسُ النَّاسِ؟ وَأَحْزَمُ النَّاسِ؟ قَالَ: «أَكْثَرُهُمْ ذِكْرًا لِلْمَوْتِ، وَأَشَدُّهُمُ اسْتِعْدَادًا لِلْمَوْتِ قَبْلَ نُزُولِ الْمَوْتِ أُولَئِكَ هُمُ الْأَكْيَاسُ ذَهَبُوا بِشَرَفِ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ»
ترجمہ

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں دس آدمیوں کے ساتھ دسویں کی حیثیت سے نبی کریم ﷺ کے پاس آیا، تو انصار میں سے ایک آدمی آیا اور عرض کیا: اے اللہ کے نبی! سب سے زیادہ عقل مند اور سب سے زیادہ محتاط شخص کون ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ جو موت کو سب سے زیادہ یاد رکھے اور موت آنے سے پہلے اس کے لیے سب سے زیادہ تیاری کرے، یہی لوگ عقل مند ہیں، یہ دنیا و آخرت دونوں کی عزت لے گئے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 13479
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 12، صفحہ 417، حدیث 13536