المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
مجاهد، عن ابن عمر باب: مجاہد کی سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایات
حدیث نمبر: 13476
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْقَاسِمِ بْنِ مُسَاوِرٍ الْجَوْهَرِيُّ، وَبِشْرُ بْنُ مُوسَى، قَالَا: ثنا يَزِيدُ بْنُ مِهْرَانَ أَبُو خَالِدٍ الْخَبَّازُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ مُجَالِدٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى ابْنِ عُمَرَ، فَقَالَ: مَا تَقُولُ فِي عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ؟ فَقَالَ: «هُوَ ذَاكَ بَيْتُهُ» ، فَقَالَ: مَا تَقُولُ فِي عُثْمَانَ؟ قَالَ: «مَا أَقُولُ فِي رَجُلٍ أَذْنَبَ ذَنْبًا فِيمَا بَيْنَهُ، وَبَيْنَ رَبِّهِ فَعَفَى عَنْهُ، وَأَذْنَبَ ذَنْبًا فِيمَا بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُ فَقَتَلْتُمُوهُ؟»ترجمہ
ایک آدمی ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور کہا: آپ علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟ انہوں نے فرمایا: ”وہ تو وہی ہیں، ان کا گھر (مقام) یہی ہے۔“ اس نے کہا: آپ عثمان کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟ انہوں نے فرمایا: ”میں اس شخص کے بارے میں کیا کہوں جس نے اپنے اور اپنے رب کے درمیان ایک گناہ کیا تو اللہ نے اسے معاف کر دیا، اور تمہارے اور اس کے درمیان ایک گناہ کیا تو تم نے اسے قتل کر دیا؟“