المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
باب (أحاديث 12470–12502) باب: (احادیث 12470 تا 12502)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا أَبُو الدَّرْدَاءِ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُنِيبِ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ارْتَقَى عَلَى الْمِنْبَرِ فَأَمَّنَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ قَالَ: «تَدْرُونَ لِمَ أَمَّنْتُ؟» قَالُوا: اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. قَالَ: " جَاءَنِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ، فَأَخْبَرَنِي: أَنَّهُ مَنْ ذُكِرْتَ عِنْدَهُ فَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْكَ دَخَلَ النَّارَ، فَأَبْعَدَهُ اللهُ وَأَسْحَقَهُ، فَقُلْتُ: آمِينَ، وَمَنْ أَدْرَكَ وَالِدَيْهِ أَوْ أَحَدَهُمَا، فَلَمْ يَبَرَّهُمَا دَخَلَ النَّارَ فَأَبْعَدَهُ اللهُ وَأَسْحَقَهُ، فَقُلْتُ: آمِينَ، وَمَنْ أَدْرَكَ رَمَضَانَ فَلَمْ يُغْفَرْ لَهُ دَخَلَ النَّارَ، فَأَبْعَدَهُ اللهُ وَأَسْحَقَهُ، فَقُلْتُ: آمِينَ "سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ منبر پر چڑھے تو تین بار ”آمین“ کہا، پھر فرمایا: ”تمہیں معلوم ہے میں نے آمین کیوں کہی؟“ صحابہ نے عرض کیا: اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میرے پاس جبریل علیہ السلام آئے اور مجھے بتایا کہ جس شخص کے سامنے میرا ذکر کیا جائے اور وہ مجھ پر درود نہ بھیجے تو وہ جہنم میں داخل ہو، اللہ اسے دور کرے اور اسے ذلیل کرے۔ تو میں نے کہا: آمین۔ اور جس نے اپنے والدین کو، یا ان میں سے کسی ایک کو پایا اور ان کے ساتھ نیکی نہ کی تو وہ جہنم میں داخل ہو، اللہ اسے دور کرے اور اسے ذلیل کرے۔ تو میں نے کہا: آمین۔ اور جس نے رمضان پایا اور اس کی بخشش نہ ہوئی تو وہ جہنم میں داخل ہو، اللہ اسے دور کرے اور اسے ذلیل کرے۔ تو میں نے کہا: آمین۔“