حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنُ صَالِحٍ، وَمُطَّلِبُ بْنُ شُعَيْبٍ الْأَزْدِيُّ، وَأَبُو الْجَارُودِ مَسْعُودُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرَّمْلِيُّ، قَالُوا: ثنا عِمْرَانُ بْنُ هَارُونَ الرَّمْلِيُّ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ حَيَّانَ أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، حَدَّثَنِي دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ لَيُعَمِّرُ بِالْقَوْمِ الدِّيَارَ، وَيُثْمِرُ لهم الْأَمْوَالَ، وَمَا نَظَرَ إِلَيْهِمْ مُنْذُ خَلَقَهُمْ بُغْضًا لَهُمْ» قِيلَ: وَكَيْفَ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: «بِصِلَتِهِمْ أَرْحَامَهُمْ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ عزوجل کسی قوم کے گھروں کو آباد رکھتا ہے اور ان کے مالوں میں برکت دیتا ہے، حالانکہ جب سے انہیں پیدا کیا ہے اس نے انہیں بغض کی نظر سے نہیں دیکھا۔“ پوچھا گیا: یہ کیسے، یا رسول اللہ؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ان کے صلہ رحمی کرنے کی وجہ سے۔“
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَلْمٍ الرَّازِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ هَاشِمِ بْنِ مَرْزُوقٍ، ثنا أَبِي، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي قَيْسٍ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: طَافَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَجَعَ فَأَتَى السِّقَايَةَ، فَقَالَ: «اسْقُونِي مِمَّا يَشْرَبُ مِنْهُ النَّاسُ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے طواف کیا، پھر واپس آ کر سقایہ (پانی پلانے کی جگہ) پر تشریف لائے اور فرمایا: ”مجھے وہی پانی پلاؤ جو لوگ پیتے ہیں۔“
حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّا، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةٍ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «جَمَعَ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ بِالْمَدِينَةِ فِي غَيْرِ خَوْفٍ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مدینہ میں بغیر کسی خوف کے ظہر اور عصر کی نمازیں اکٹھی پڑھیں۔
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَسْفَاطِيُّ، ثنا ثَابِتُ بْنُ عَبَّاسٍ أَبُو بَكْرٍ الْأَحْدَبُ، ثنا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ , إِنِّي لَأُحِبُّكَ حَتَّى إِنِّي لَأَذْكُرُكَ، فَلَوْلَا أَنِّي أَجِيءُ فَأَنْظُرُ إِلَيْكَ ظَنَنْتُ أَنَّ نَفْسِي تَخْرُجُ، فَأَذْكُرُ أَنِّي إِنْ دَخَلْتُ الْجَنَّةَ صِرْتُ دُونَكَ فِي الْمَنْزِلَةِ فَشَقَّ ذَلِكَ عَلَيَّ، وَأُحِبُّ أَنْ أَكُونَ مَعَكَ فِي الدَّرَجَةِ، " فَلَمْ يَرُدَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا، فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {وَمَنْ يُطِعِ اللهَ وَالرَّسُولَ فَأُولَئِكَ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللهُ عَلَيْهِمْ} [النساء: ٦٩] الْآيَةَ، فَدَعَاهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَتَلَاهَا عَلَيْهِ "
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ایک آدمی نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور کہا: یا رسول اللہ! میں آپ سے اتنی محبت کرتا ہوں کہ آپ کو یاد کرتا رہتا ہوں، اگر میں آ کر آپ کو دیکھ نہ لوں تو مجھے لگتا ہے میری جان نکل جائے گی۔ اور مجھے یہ خیال آتا ہے کہ اگر میں جنت میں گیا تو درجے میں آپ سے نیچے رہوں گا، یہ بات مجھ پر گراں گزرتی ہے، اور میں چاہتا ہوں کہ درجے میں آپ کے ساتھ ہی رہوں۔ رسول اللہ ﷺ نے اسے کوئی جواب نہ دیا، تو اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی: ”اور جو کوئی اللہ اور رسول کی اطاعت کرے تو وہ ان لوگوں کے ساتھ ہو گا جن پر اللہ نے انعام فرمایا“ [النساء: 69] آخر آیت تک۔ تو رسول اللہ ﷺ نے اسے بلایا اور یہ آیت پڑھ کر سنائی۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدٍ الرَّاسِبِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، ثنا خَلَفُ بْنُ خَلِيفَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: أَصْبَحَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا، فَقَالَ: «مَا مِنْ مَاءٍ، مَا مِنْ مَاءٍ؟» قَالُوا: لَا. قَالَ: «هَلْ مِنْ شَنٍّ؟» فَجَاءُوا بِالشَّنِّ، فَوُضِعَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَوَضَعَ يَدَهُ عَلَيْهِ، ثُمَّ فَرَّقَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ فَنَبَعَ الْمَاءُ مِثْلَ عَصَا مُوسَى مِنْ أَصَابِعِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «يَا بِلَالُ اهْتِفِ بِالنَّاسِ الْوُضُوءَ» فَأَقْبَلُوا يَتَوَضَّئُونَ مِنْ بَيْنَ أَصَابِعِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَتْ هِمَّةُ ابْنِ مَسْعُودٍ الشُّرْبَ، فَلَمَّا تَوَضَّئُوا صَلَّى بِهِمُ الصُّبْحَ
ثُمَّ قَعَدَ لِلنَّاسِ، فَقَالَ: «يَا أَيُّهَا النَّاسُ مَنْ أَعْجَبُ الْخَلْقِ إِيمَانًا؟» قَالُوا: الْمَلَائِكَةُ. قَالَ: «وََكَيْفَ لَا يُؤْمِنُ الْمَلَائِكَةُ وَهُمْ يُعَايِنُونَ الْأَمْرَ؟» قَالُوا: فَالنَّبِيُّونَ يَا رَسُولَ اللهِ , قَالَ: «وكَيْفَ لَا يُؤْمِنُ النَّبِيُّونَ، وَالْوَحْيُ يَنْزِلُ عَلَيْهِمْ مِنَ السَّمَاءِ» ، قَالُوا: فَأَصْحَابُكَ يَا رَسُولَ اللهِ , قَالَ: «وَكَيْفَ لَا يُؤْمِنُ أَصْحَابِي وَهُمْ يَرَوْنَ مَا يَرَوْنَ؟ وَلَكِنَّ أَعْجَبَ النَّاسِ إِيمَانًا، قَوْمٌ يَجِيئُونَ مِنْ بَعْدِي، يُؤْمِنُونَ بِي وَلَمْ يَرَوْنِي، وَيُصَدِّقُونِي وَلَمْ يَرَوْنِي، أُولَئِكَ إِخْوَانِي»
ثُمَّ قَعَدَ لِلنَّاسِ، فَقَالَ: «يَا أَيُّهَا النَّاسُ مَنْ أَعْجَبُ الْخَلْقِ إِيمَانًا؟» قَالُوا: الْمَلَائِكَةُ. قَالَ: «وََكَيْفَ لَا يُؤْمِنُ الْمَلَائِكَةُ وَهُمْ يُعَايِنُونَ الْأَمْرَ؟» قَالُوا: فَالنَّبِيُّونَ يَا رَسُولَ اللهِ , قَالَ: «وكَيْفَ لَا يُؤْمِنُ النَّبِيُّونَ، وَالْوَحْيُ يَنْزِلُ عَلَيْهِمْ مِنَ السَّمَاءِ» ، قَالُوا: فَأَصْحَابُكَ يَا رَسُولَ اللهِ , قَالَ: «وَكَيْفَ لَا يُؤْمِنُ أَصْحَابِي وَهُمْ يَرَوْنَ مَا يَرَوْنَ؟ وَلَكِنَّ أَعْجَبَ النَّاسِ إِيمَانًا، قَوْمٌ يَجِيئُونَ مِنْ بَعْدِي، يُؤْمِنُونَ بِي وَلَمْ يَرَوْنِي، وَيُصَدِّقُونِي وَلَمْ يَرَوْنِي، أُولَئِكَ إِخْوَانِي»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ایک دن رسول اللہ ﷺ نے صبح فرمایا: ”پانی نہیں ہے؟ پانی نہیں ہے؟“ صحابہ نے عرض کیا: نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا کوئی چمڑے کا برتن (مشکیزہ) ہے؟“ چنانچہ وہ مشکیزہ لے آئے، اسے رسول اللہ ﷺ کے سامنے رکھا گیا، آپ ﷺ نے اپنا ہاتھ اس پر رکھا، پھر اپنی انگلیاں پھیلائیں تو رسول اللہ ﷺ کی انگلیوں سے موسیٰ علیہ السلام کے عصا کی طرح پانی ابل پڑا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے بلال! لوگوں کو وضو کے لیے پکارو۔“ چنانچہ لوگ رسول اللہ ﷺ کی انگلیوں کے درمیان سے وضو کرنے لگے، اور ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی خواہش پینے کی تھی۔ جب لوگ وضو کر چکے تو آپ ﷺ نے انہیں فجر کی نماز پڑھائی۔
پھر آپ ﷺ لوگوں کے لیے بیٹھ گئے اور فرمایا: ”اے لوگو! مخلوق میں سب سے زیادہ عجیب ایمان کس کا ہے؟“ صحابہ نے عرض کیا: فرشتوں کا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”فرشتے کیوں ایمان نہ لائیں جبکہ وہ (حقیقت) کو آنکھوں سے دیکھتے ہیں؟“ صحابہ نے عرض کیا: پھر انبیاء کا، یا رسول اللہ! آپ ﷺ نے فرمایا: ”انبیاء کیوں ایمان نہ لائیں جبکہ ان پر آسمان سے وحی نازل ہوتی ہے؟“ صحابہ نے عرض کیا: پھر آپ کے صحابہ کا، یا رسول اللہ! آپ ﷺ نے فرمایا: ”میرے صحابہ کیوں ایمان نہ لائیں جبکہ وہ وہی دیکھتے ہیں جو دیکھتے ہیں؟ لیکن سب سے زیادہ عجیب ایمان والے وہ لوگ ہیں جو میرے بعد آئیں گے، وہ مجھ پر ایمان لائیں گے حالانکہ انہوں نے مجھے نہیں دیکھا، اور وہ میری تصدیق کریں گے حالانکہ انہوں نے مجھے نہیں دیکھا، وہی میرے بھائی ہیں۔“
پھر آپ ﷺ لوگوں کے لیے بیٹھ گئے اور فرمایا: ”اے لوگو! مخلوق میں سب سے زیادہ عجیب ایمان کس کا ہے؟“ صحابہ نے عرض کیا: فرشتوں کا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”فرشتے کیوں ایمان نہ لائیں جبکہ وہ (حقیقت) کو آنکھوں سے دیکھتے ہیں؟“ صحابہ نے عرض کیا: پھر انبیاء کا، یا رسول اللہ! آپ ﷺ نے فرمایا: ”انبیاء کیوں ایمان نہ لائیں جبکہ ان پر آسمان سے وحی نازل ہوتی ہے؟“ صحابہ نے عرض کیا: پھر آپ کے صحابہ کا، یا رسول اللہ! آپ ﷺ نے فرمایا: ”میرے صحابہ کیوں ایمان نہ لائیں جبکہ وہ وہی دیکھتے ہیں جو دیکھتے ہیں؟ لیکن سب سے زیادہ عجیب ایمان والے وہ لوگ ہیں جو میرے بعد آئیں گے، وہ مجھ پر ایمان لائیں گے حالانکہ انہوں نے مجھے نہیں دیکھا، اور وہ میری تصدیق کریں گے حالانکہ انہوں نے مجھے نہیں دیکھا، وہی میرے بھائی ہیں۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ السَّرِيِّ بْنُ مِهْرَانَ النَّاقِدُ الْبَغْدَادِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ حَسَّانَ السَّمْتِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَجَّاجِ اللَّخْمِيُّ، عَنْ مُجَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَدِمَ وَفْدُ عَبْدِ الْقَيْسِ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ: «أَيُّكُمْ يَعْرِفُ الْقُسَّ بْنَ سَاعِدَةَ الْإِيَادِيَّ؟» قَالُوا: كُلُّنَا يَا رَسُولَ اللهِ يَعْرِفُهُ. قَالَ: «فَمَا فَعَلَ؟» قَالُوا: هَلَكَ قَالَ: " مَا أَنْسَاهُ بِعُكَاظٍ فِي الشَّهْرِ الْحَرَامِ وَهُوَ عَلَى جَمَلٍ أَحْمَرَ، وَهُوَ يَخْطُبُ النَّاسَ، وَهُوَ يَقُولُ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ اجْتَمِعُوا، وَاسْتَمَعُوا وَعُوا، مَنْ عَاشَ مَاتَ، وَمَنْ مَاتَ فَاتَ، وَكُلُّ مَا هُوَ آتٍ آتٍ، إِنَّ فِي السَّمَاءِ لَخَبَرًا , وَإِنَّ فِي الْأَرْضِ لَعِبَرًا , مِهَادٌ مَوْضُوعٌ، وَسَقْفٌ مَرْفُوعٌ , وَنُجُومٌ تَمُورُ , وَبِحَارٌ لَا تَغُورُ، أَقْسَمَ قُسٌّ قَسَمًا حَقًّا لَئِنْ كَانَ فِي الْأَرْضِ رِضًا لَيَكُونَنَّ بَعْدَهُ سَخَطٌ، إِنَّ لِلَّهِ لَدِينًا هُوَ أَحَبُّ إِلَيْهِ مِنْ دِينِكُمُ الَّذِي أَنْتُمْ عَلَيْهِ، مَالِي أَرَى النَّاسَ يَذْهَبُونَ وَلَا يَرْجِعُونَ؟ أَرَضُوا فَأَقَامُوا، أَمْ تُرِكُوا فَنَامُوا؟ ثُمَّ، قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَفِيكُمْ مَنْ يَرْوِي شِعْرَهُ؟» فَأَنْشَدَهُ: بَعْضُهُمْ:
[البحر الكامل]
فِي الذَّاهِبِينَ الْأَوَّلِيـ ... ـنَ مِنَ الْقُرُونِ لَنَا بَصَائِرْ
لَمَّا رَأَيْتُ مَوَارِدًا ... لِلْمَوْتِ لَيْسَ لَهَا مَصَادِرْ
وَرَأَيْتُ قَوْمِي نَحْوَهَا ... يَسْعَى الْأَصَاغِرُ، وَالْأَكَابِرْ
لَا يَرْجِعُ الْمَاضِي إِلَيَّ ... وَلَا مِنَ الْبَاقِينَ غَابِرْ
أَيْقَنْتُ أَنِّي لَا مَحَالَةَ ... حَيْثُ صَارَ الْقَوْمُ صَائِرْ
[البحر الكامل]
فِي الذَّاهِبِينَ الْأَوَّلِيـ ... ـنَ مِنَ الْقُرُونِ لَنَا بَصَائِرْ
لَمَّا رَأَيْتُ مَوَارِدًا ... لِلْمَوْتِ لَيْسَ لَهَا مَصَادِرْ
وَرَأَيْتُ قَوْمِي نَحْوَهَا ... يَسْعَى الْأَصَاغِرُ، وَالْأَكَابِرْ
لَا يَرْجِعُ الْمَاضِي إِلَيَّ ... وَلَا مِنَ الْبَاقِينَ غَابِرْ
أَيْقَنْتُ أَنِّي لَا مَحَالَةَ ... حَيْثُ صَارَ الْقَوْمُ صَائِرْ
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: قبیلہ عبدالقیس کا وفد رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ ﷺ نے پوچھا: ”تم میں سے قس بن ساعدہ ایادی کو کون جانتا ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم سب اسے جانتے ہیں۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”پھر اس کا کیا بنا؟“ انہوں نے عرض کیا: وہ وفات پا چکا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں اسے عکاظ کے میلے میں حرمت والے مہینے میں کبھی نہیں بھولتا، وہ سرخ اونٹ پر سوار تھا اور لوگوں کو خطاب کر رہا تھا، اور کہہ رہا تھا: اے لوگو! جمع ہو جاؤ، سنو اور یاد رکھو، جو جیا وہ مر گیا، اور جو مر گیا وہ جاتا رہا، اور جو کچھ آنے والا ہے وہ ضرور آئے گا۔ بےشک آسمان میں خبر ہے، اور زمین میں عبرتیں ہیں، ایک بچھا ہوا فرش ہے اور ایک اونچی چھت ہے، ستارے چلتے پھرتے ہیں، اور سمندر خشک نہیں ہوتے۔ قس نے سچی قسم کھائی کہ اگر زمین میں کوئی خوشی ہے تو اس کے بعد ناراضی ضرور آئے گی۔ بےشک اللہ کا ایک ایسا دین ہے جو اسے تمہارے اس دین سے زیادہ محبوب ہے جس پر تم ہو۔ مجھے کیا ہو گیا ہے کہ میں لوگوں کو جاتے دیکھتا ہوں مگر وہ لوٹتے نہیں؟ کیا وہ (اپنی جگہ پر) راضی ہو کر ٹھہر گئے، یا (وہیں) چھوڑ کر سلا دیے گئے؟“ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم میں سے کوئی اس کے اشعار روایت کرتا ہے؟“ تو ان میں سے کسی نے یہ اشعار پڑھے:
گزرے ہوئے پہلے زمانوں کے لوگوں میں ہمارے لیے عبرتیں ہیں
جب میں نے موت کے وہ گھاٹ دیکھے جن سے کوئی واپسی نہیں
اور میں نے اپنی قوم کو دیکھا کہ چھوٹے بڑے سب اسی طرف دوڑ رہے ہیں
نہ گزرا ہوا میری طرف لوٹتا ہے، اور نہ باقی رہنے والوں میں سے کوئی غائب رہنے والا ہے
مجھے یقین ہو گیا کہ میں بھی ضرور وہیں جاؤں گا جہاں یہ قوم جا چکی ہے۔
گزرے ہوئے پہلے زمانوں کے لوگوں میں ہمارے لیے عبرتیں ہیں
جب میں نے موت کے وہ گھاٹ دیکھے جن سے کوئی واپسی نہیں
اور میں نے اپنی قوم کو دیکھا کہ چھوٹے بڑے سب اسی طرف دوڑ رہے ہیں
نہ گزرا ہوا میری طرف لوٹتا ہے، اور نہ باقی رہنے والوں میں سے کوئی غائب رہنے والا ہے
مجھے یقین ہو گیا کہ میں بھی ضرور وہیں جاؤں گا جہاں یہ قوم جا چکی ہے۔
حَدَّثَنَا مُسَبِّحُ بْنُ حَاتِمٍ الْعُكْلِيُّ، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، ثنا الْهَيْثَمُ بْنُ عَدِيٍّ، عَنْ مُجَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ مَنْ أَوَّلُ مَنْ أَسْلَمَ؟ قَالَ: أَبُو بَكْرٍ أَمَا سَمِعْتَ قَوْلَ حَسَّانَ بْنِ ثَابِتٍ: «
[البحر البسيط]
إِذَا تَذَكَّرْتَ شَجْوًا مِنْ أَخِي ثِقَةٍ ... فَاذْكُرْ أَخَاكَ أَبَا بَكْرٍ بِمَا فَعَلَا
خَيْرُ الْبَرِيَّةِ أَتْقَاهَا وَأَعْدَلُهَا ... إِلَّا النَّبِيُّ وَافَاهَا لِمَا حَمَلَا
وَالثَّانِي التَّالِي الْمَحْمُودُ مَشْهَدُهُ ... وَأَوَّلُ النَّاسِ مِنْهُمْ صَدَّقَ الرُّسُلَا»
[البحر البسيط]
إِذَا تَذَكَّرْتَ شَجْوًا مِنْ أَخِي ثِقَةٍ ... فَاذْكُرْ أَخَاكَ أَبَا بَكْرٍ بِمَا فَعَلَا
خَيْرُ الْبَرِيَّةِ أَتْقَاهَا وَأَعْدَلُهَا ... إِلَّا النَّبِيُّ وَافَاهَا لِمَا حَمَلَا
وَالثَّانِي التَّالِي الْمَحْمُودُ مَشْهَدُهُ ... وَأَوَّلُ النَّاسِ مِنْهُمْ صَدَّقَ الرُّسُلَا»
ترجمہ
عامر شعبی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا: سب سے پہلے کون شخص مسلمان ہوا؟ انہوں نے فرمایا: ابوبکر۔ کیا تم نے حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کا یہ شعر نہیں سنا:
”جب تم کسی معتبر بھائی کا غم یاد کرو تو اپنے بھائی ابوبکر کو یاد کرو جنہوں نے جو کچھ کیا“
”مخلوق میں سب سے بہتر، سب سے زیادہ متقی اور عادل، سوائے نبی ﷺ کے جو ذمہ داری لے کر آئے“
”اور دوسرے، جو (غار میں) ساتھی تھے، جن کا مقام قابل تعریف ہے، اور لوگوں میں سب سے پہلے جس نے رسولوں کی تصدیق کی۔“
”جب تم کسی معتبر بھائی کا غم یاد کرو تو اپنے بھائی ابوبکر کو یاد کرو جنہوں نے جو کچھ کیا“
”مخلوق میں سب سے بہتر، سب سے زیادہ متقی اور عادل، سوائے نبی ﷺ کے جو ذمہ داری لے کر آئے“
”اور دوسرے، جو (غار میں) ساتھی تھے، جن کا مقام قابل تعریف ہے، اور لوگوں میں سب سے پہلے جس نے رسولوں کی تصدیق کی۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، ثنا أَبِي، عَنْ مُجَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَثَلُ الَّذِي يَتَكَلَّمُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ مَثَلُ الْحِمَارِ يَحْمِلُ أَسْفَارًا، وَالَّذِي يَقُولُ لَهُ: أَنْصِتْ، لَا جُمُعَةَ لَهُ "
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جمعہ کے دن جب امام خطبہ دے رہا ہو تو بات کرنے والے کی مثال اس گدھے جیسی ہے جو کتابیں اٹھائے ہوئے ہو، اور جو اسے کہے: چپ رہو، اس کا بھی جمعہ (کا پورا ثواب) نہیں۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا جُمْهُورُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُجَالِدٍ، عَنْ مُجَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: " رَأَى مُحَمَّدٌ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مَرَّتَيْنِ: مَرَّةً بِبَصَرِهِ، وَمَرَّةً بِفُؤَادِهِ "
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ”محمد ﷺ نے اپنے رب عزوجل کو دو مرتبہ دیکھا: ایک بار اپنی آنکھ سے اور ایک بار اپنے دل سے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا جُمْهُورُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُجَالِدٍ، عَنْ مُجَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ فِي قَوْلِهِ: {وَلَقَدْ رَآهُ بِالْأُفُقِ الْمُبِينِ} [التكوير: ٢٣] «إِنَّمَا أَعْنِي جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ أَنَّ مُحَمَّدًا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَآهُ فِي صُورَةٍ عِنْدَ سِدْرَةِ الْمُنْتَهَى»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ”اور بےشک اس نے اسے کھلے افق پر دیکھا“ [التکویر: 23] کے بارے میں فرمایا کرتے تھے: ”اس سے میری مراد جبریل علیہ السلام ہیں، کہ محمد ﷺ نے انہیں سدرۃ المنتہیٰ کے پاس ان کی اصل صورت میں دیکھا۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا مِنْجَابُ بْنُ الْحَارِثِ، ثنا شَرِيكٌ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «احْتَجَمَ وَهُوَ صَائِمٌ مُحْرِمٌ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے روزے اور احرام کی حالت میں پچھنے لگوائے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَزِيزٍ الْمَوْصِلِيُّ، ثنا غَسَّانُ بْنُ الرَّبِيعِ، ثنا ثَابِتُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: " قُمْتُ لَيْلَةً أُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ، فَقَالَ: بِيَدِهِ مِنْ وَرَائِهِ، فَأَخَذَ بِيَدِي، أَوْ بِعَضُدِي حَتَّى أَقَامَنِي عَنْ يَمِينِهِ "
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ایک رات میں نبی کریم ﷺ کے ساتھ نماز پڑھنے کے لیے کھڑا ہوا، میں آپ ﷺ کے بائیں جانب کھڑا ہوا، تو آپ ﷺ نے اپنا ہاتھ پیچھے کی طرف بڑھایا اور میرا ہاتھ، یا میرا بازو (راوی کو شک ہے) پکڑ کر مجھے اپنی دائیں جانب کھڑا کر دیا۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ رِشْدِينَ، وَأَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ وَاضِحٍ الْعَسَّالُ الْمِصْرِيَّانِ قَالَا: ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ عنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ: سَأَلْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَبَّاسٍ، وَعَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ كَيْفَ كَانَ صَلَاةُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِاللَّيْلِ؟ , فَقَالَا: " ثَلَاثَ عَشْرَةَ: ثَمَانٍ، وَيُوتِرُ بِثَلَاثٍ، وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْفَجْرِ "
ترجمہ
عامر شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ بن عباس اور سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے پوچھا: رسول اللہ ﷺ کی رات کی نماز کیسی ہوتی تھی؟ ان دونوں نے فرمایا: ”تیرہ رکعتیں: آٹھ رکعتیں (تہجد کی)، پھر تین رکعت وتر پڑھتے، اور فجر کے بعد دو رکعتیں۔“
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْفِرْيَابِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فِي قَوْلِهِ: {قُلْ لَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا إِلَّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبَى} [الشورى: ٢٣] قَالَ: «تَصِلُوا قَرَابَتِي وَلَا تُكَذِّبُونِي»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ”کہہ دیجیے کہ میں اس پر تم سے کوئی اجر نہیں مانگتا سوائے قرابت کی محبت کے“ [الشوری: 23] کے بارے میں فرماتے ہیں: ”یعنی میرے قرابت داروں سے صلہ رحمی کرو اور مجھے جھٹلاؤ مت۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، ثنا شَرِيكٌ، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَابْنِ عُمَرَ، قَالَا: «سَنَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْوِتْرَ، وَرَكْعَتَيِ السَّفَرِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہم فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے وتر اور سفر کی دو رکعتوں کو سنت قرار دیا۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْعَبَّاسِ الْبَجَلِيُّ الْكُوفِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَارَةَ بْنِ صُبَيْحٍ، ثنا نَصْرُ بْنُ مُزَاحِمٍ، ثنا قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: قِيلَ: يَا رَسُولَ اللهُ مَتَى كُتِبْتَ نَبِيًّا؟ قَالَ: «وَآدَمُ بَيْنَ الرُّوحِ وَالْجَسَدِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: پوچھا گیا: یا رسول اللہ! آپ کب نبی لکھے گئے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب آدم علیہ السلام (ابھی) روح اور جسم کے درمیان تھے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَابَانَ الْجُنْدِيسَابُورِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ الْمَرْوَزِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا أَبُو حَمْزَةَ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «أُتِيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكَتِفِ شَاةٍ فِي الْمَسْجِدِ فَأَكَلَهَا، ثُمَّ قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ، وَلَمْ يَمَسَّ مَاءً»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس مسجد میں بکری کا شانہ لایا گیا، آپ ﷺ نے اسے کھایا، پھر نماز کے لیے کھڑے ہو گئے اور پانی کو ہاتھ تک نہ لگایا۔
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا زَيْدُ بْنُ الْحَرِيشِ، ثنا سَالِمُ بْنُ نُوحٍ، ثنا عُمَرُ بْنُ عَامِرٍ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «نَهَى أَنْ نَتَّخِذَ شَيْئًا فِيهِ الرُّوحُ غَرَضًا»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے کسی جاندار چیز کو نشانہ بنانے سے منع فرمایا۔
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا خَلَّادُ بْنُ يَحْيَى، ح وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَشْرَبُ قَائِمًا مِنْ زَمْزَمَ» ، وَاللَّفْظُ لِحَدِيثِ أَبِي نُعَيْمٍ
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو زمزم کا پانی کھڑے ہو کر پیتے دیکھا۔
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «اسْتَسْقَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَقَيْنَاهُ مِنْ زَمْزَمَ، فَشَرِبَ وَهُوَ قَائِمٌ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے پانی طلب فرمایا تو ہم نے آپ ﷺ کو زمزم سے پلایا، آپ ﷺ نے کھڑے ہو کر پیا۔
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ السَّدُوسِيُّ، ثنا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا شَرِيكٌ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: " نَاوَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: دَلْوًا مِنْ زَمْزَمَ فَشَرِبَ وَهُوَ قَائِمٌ "
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: میں نے نبی کریم ﷺ کو زمزم کا ڈول دیا تو آپ ﷺ نے کھڑے ہو کر پیا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَبَّاسِ الْمُؤَدِّبُ، ثنا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اسْتَسْقَى فَأُتِيَ بِدَلْوٍ مِنْ زَمْزَمَ فَشَرِبَ وَهُوَ قَائِمٌ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے پانی طلب فرمایا تو آپ ﷺ کے پاس زمزم کا ایک ڈول لایا گیا، آپ ﷺ نے کھڑے ہو کر پیا۔
حَدَّثَنَا أَبُو عَرُوبَةَ الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحَرَّانِيُّ، ثنا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ الْحَرَّانِيُّ، ثنا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ صَاعِدِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «سَقَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ زَمْزَمَ فَشَرِبَ وَهُوَ قَائِمٌ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: میں نے نبی کریم ﷺ کو زمزم پلایا تو آپ ﷺ نے کھڑے ہو کر پیا۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا ابْنُ الْأَصْبَهَانِيِّ، ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، وَعُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ قَالَا: ثنا عَلِيُّ بْنُ حَكِيمٍ الْأَوْدِيُّ، قَالَا: ثنا شَرِيكٌ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِدَلْوٍ مِنْ زَمْزَمَ فَشَرِبَ وَهُوَ قَائِمٌ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: میں نبی کریم ﷺ کے پاس زمزم کا ایک ڈول لے کر آیا تو آپ ﷺ نے کھڑے ہو کر پیا۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنْ سُلَيْمَانَ الشَّيْبَانِيِّ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «صَلَّى عَلَى جِنَازَةٍ بَعْدَ مَا دُفِنَتْ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک جنازے کی نماز دفن کیے جانے کے بعد پڑھی۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ سُلَيْمَانَ الشَّيْبَانِيِّ، عَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ: أَخْبَرَنِي مَنْ شَهِدَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «أَتَى عَلَى قَبْرٍ مَنْبُوذٍ فَصَفَّهُمْ وَكَبَّرَ أَرْبَعًا» قَالَ سُلَيْمَانُ: قُلْتُ لِلشَّعْبِيِّ: يَا أَبَا عَمْرٍو مَنْ حَدَّثَكَ بِهَذَا؟ قَالَ: ابْنُ عَبَّاسٍ
ترجمہ
عامر شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: مجھے اس شخص نے بتایا جو نبی کریم ﷺ کے ساتھ حاضر تھا کہ آپ ﷺ ایک ایسی قبر کے پاس تشریف لائے جو (پہلے دفن کیے جانے پر کسی کو خبر کیے بغیر) چھوڑ دی گئی تھی، تو آپ ﷺ نے (صحابہ کی) صف بنائی اور چار تکبیریں کہیں۔ سلیمان شیبانی کہتے ہیں: میں نے شعبی سے پوچھا: اے ابوعمرو! یہ حدیث آپ کو کس نے سنائی؟ انہوں نے فرمایا: ابن عباس نے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا زَائِدَةُ، ثنا أَبُو إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيُّ، عَنْ عَامِرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: أَتَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْرًا، فَقَالَ: «مَا هَذَا؟» فَقَالُوا: دُفِنَ أَوْ دُفِنَتِ الْبَارِحَةَ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: «فَصَفَّنَا خَلْفَهُ، ثُمَّ صَلَّى عَلَيْهَا»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ ایک قبر کے پاس آئے تو فرمایا: ”یہ کیا ہے؟“ صحابہ نے عرض کیا: یہ گزشتہ رات دفن کی گئی ہے (یا: دفن کیا گیا ہے)۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: تو ہم نے آپ ﷺ کے پیچھے صف بنائی، پھر آپ ﷺ نے اس پر نماز پڑھی۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ زِيَادِ بْنِ زَكَرِيَّا الْإِيَادِيُّ، ثنا يَزِيدُ بْنُ قَيْسٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، حَدَّثَنِي جَعْفَرُ بْنُ الْحَارِثٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيُّ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: أَتَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْرًا , فَقَالَ: «مَا هَذَا؟» فَقَالُوا: دُفِنَ الْبَارِحَةَ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: «فَصَفَفْنَا خَلْفَهُ، ثُمَّ صَلَّى عَلَيْهِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ ایک قبر کے پاس آئے تو فرمایا: ”یہ کیا ہے؟“ صحابہ نے عرض کیا: یہ گزشتہ رات دفن ہوا ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: تو ہم نے آپ ﷺ کے پیچھے صف بنائی، پھر آپ ﷺ نے اس پر نماز پڑھی۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْفِرْيَابِيُّ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «احْتَجَمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْأَخْدَعَيْنِ، وَأَعْطَى الْحَجَّامَ أَجْرَهُ، وَلَوْ كَانَ حَرَامًا لَمْ يُعْطِهِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے سر کے دونوں جانب کی رگوں پر پچھنے لگوائے، اور پچھنے لگانے والے کو اس کی اجرت دی، اگر یہ حرام ہوتا تو آپ ﷺ اسے اجرت نہ دیتے۔
حَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، أنا شُعْبَةُ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: «أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ إِلَى أَبِي طَيْبَةَ فَحَجَمَهُ وَوَضَعَ عَنْهُ مِنْ خَرَاجِهِ نِصْفَ صَاعٍ، أَوْ أَكْثَرَ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ابوطیبہ کو بلوایا، اس نے آپ ﷺ کو پچھنے لگائے، تو آپ ﷺ نے اس کے خراج میں سے آدھا صاع، یا اس سے زیادہ، معاف کر دیا۔
حَدَّثَنَا أَبُو حُصَيْنٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَاضِي، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ثنا زُهَيْرٌ، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ عَامِرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَحْتَجِمُ ثَلَاثًا فِي الْأَخْدَعَيْنِ، أَوْ بَيْنَ الْكَتِفَيْنِ يَحْجُمُهُ غُلَامٌ لَهُ مِنْ بَيَاضَةَ يُقَالُ لَهُ أَبُو هِنْدَ، وَكَانَ يُؤَدِّي إِلَى أَهْلِهِ كُلَّ يَوْمٍ مُدًّا وَنِصْفًا، فَشَفَعَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَضَعُوا عَنْهُ نِصْفَ مُدٍّ وَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدُ يُعْطِي الْحَجَّامَ أَجْرَهُ، وَلَوْ كَانَ حَرَامًا لَمْ يُعْطِهِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ تین جگہوں پر پچھنے لگواتے تھے: سر کے دونوں جانب کی رگوں پر، یا دونوں کندھوں کے درمیان۔ آپ ﷺ کو بنو بیاضہ کا ایک غلام پچھنے لگاتا تھا جسے ابوہند کہا جاتا تھا، وہ ہر روز اپنے مالکوں کو ڈیڑھ مد ادا کرتا تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے اس کی سفارش کی تو انہوں نے اس سے آدھا مد معاف کر دیا۔ اور رسول اللہ ﷺ بعد میں پچھنے لگانے والے کو اس کی اجرت دیا کرتے تھے، اگر یہ حرام ہوتا تو آپ ﷺ اسے نہ دیتے۔
حَدَّثَنَا إِدْرِيسُ بْنُ عَبْدِ الْكَرِيمِ الْحَدَّادُ، ثنا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ الْبَزَّارُ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، احْتَجَمَ فِي الْأَخْدَعَيْنِ، وَالْكَاهِلِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: نبی کریم ﷺ نے سر کے دونوں جانب کی رگوں پر اور کندھوں کے درمیان پچھنے لگوائے۔
حَدَّثَنَا طَالِبُ بْنُ قُرَّةَ الْأَذَنِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى الطَّبَّاعُ، ثنا شَرِيكٌ، وَأَبُو عَوَانَةَ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَحْتَجِمُ فِي الْأَخْدَعَيْنِ، وَالْكَاهِلِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: نبی کریم ﷺ سر کے دونوں جانب کی رگوں پر اور کندھوں کے درمیان پچھنے لگواتے تھے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدُوسِ بْنِ كَامِلٍ، ثنا مَخْلَدُ بْنُ خَالِدٍ الشَّعِيرِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ، ثنا رَبَاحُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «احْتَجَمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَجَمَهُ مَوْلًى لِبَنِي بَيَاضَةَ، وَأَعْطَاهُ أَجْرَهُ، وَلَوْ كَانَ حَرَامًا لَمْ يُعْطِهِ إِيَّاهُ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے پچھنے لگوائے، بنو بیاضہ کے ایک غلام نے آپ ﷺ کو پچھنے لگائے، تو آپ ﷺ نے اسے اس کی اجرت دی، اگر یہ حرام ہوتا تو آپ ﷺ اسے نہ دیتے۔