کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: سعید بن جبیر کی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَبَّاسِ الْمُؤَدِّبُ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْعَطَّارُ، ثنا أَبُو مَرْيَمَ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا: «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَعَى بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے صفا و مروہ کے درمیان سعی کی۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَبَّى حَتَّى رَمَى الْجَمْرَةَ "
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ”نبی کریم ﷺ رمی جمرہ تک تلبیہ کہتے رہے۔“
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ بْنِ الصَّبَّاحِ الرَّقِّيُّ، ثنا قَبِيصَةُ بْنُ عُقْبَةَ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ: {وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ} [الشعراء: ٢١٤] صَعِدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّفَا، فَقَالَ: «وَاصَبَاحَاهُ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: جب یہ آیت نازل ہوئی: ”اور اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرائیے“ [سورۃ الشعراء: 214] تو نبی کریم ﷺ صفا پہاڑ پر چڑھے اور پکارا: ”وا صباحاہ!“ (خطرے کی اطلاع دینے کی روایتی پکار)۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ حَبِيبٍ بَنْ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: «أَخَذَ اللهُ مِيثَاقَ النَّبِيَّينَ عَلَى قَوْمِهِمْ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ”اللہ تعالیٰ نے انبیاء علیہم السلام سے ان کی امتوں کے بارے میں عہد لیا۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: {وَيَمْنَعُونَ الْمَاعُونَ} [الماعون: ٧] قَالَ: «الْعَارِيَةُ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما ”اور برتنے کی معمولی چیزیں دینے سے روکتے ہیں“ [سورۃ الماعون: 7] کے بارے میں فرماتے ہیں: ”اس سے مراد عاریتاً مانگی جانے والی گھریلو چیزیں ہیں۔“
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَتَّاتُ، ثنا مِنْجَابُ بْنُ الْحَارِثِ، ثنا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى الْحُلْوَانِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ الْعَوَّامِ، ح وَحَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَاسِطِيُّ، ثنا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، أنا خَالِدٌ كُلُّهُمْ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الدُّبَّاءِ، وَالْحَنْتَمِ، وَالنَّقِيرِ، وَأَنْ تُخْلَطَ التَّمْرُ، وَالزَّبِيبُ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ”رسول اللہ ﷺ نے کدو کے برتن، سبز گھڑے اور کھوکھلے تنے کے برتن (میں نبیذ بنانے) سے منع فرمایا، اور اس سے بھی کہ کھجور اور کشمش کو ملایا جائے۔“
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ الرَّقِّيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ زَكَرِيَّا الْغَلَابِيُّ قَالَا: ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ رَجَاءٍ، أنا الْمَسْعُودِيُّ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ: إِنِّي نَذَرْتُ أَنْ أَنْحَرَ بِبُوَانَةٍ قَالَ: «لَعَلَّ فِي قَلْبِكَ مِنْ أَمْرِ الْجَاهِلِيَّةِ شَيْئًا» قَالَ: لَا. قَالَ: «أَوْفِ بِنَذْرِكَ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور کہنے لگا: میں نے نذر مانی ہے کہ میں بُوانہ میں قربانی کروں گا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”شاید تمہارے دل میں جاہلیت کے کسی معاملے کی کوئی بات ہو؟“ اس نے کہا: نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اپنی نذر پوری کرو۔“
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُسَافِرٍ، ثنا أَيُّوبُ بْنُ سُوَيْدٍ، ثنا الْمَسْعُودِيُّ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «آخِرُ آيَةٍ أُنْزِلَتْ» : {وَاتَّقُوا يَوْمًا تُرْجَعُونَ فِيهِ إِلَى اللهِ} [البقرة: ٢٨١]
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ”سب سے آخر میں نازل ہونے والی آیت یہ تھی: ”اور اس دن سے ڈرو جس میں تم اللہ کی طرف لوٹائے جاؤ گے“ [سورۃ البقرہ: 281]۔“
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا عِيسَى بْنُ يُونُسَ الرَّمْلِيُّ، ثنا أَيُّوبُ بْنُ سُوَيْدٍ، عَنِ الْمَسْعُودِيِّ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: {وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِلْعَالَمِينَ} [الأنبياء: ١٠٧] قَالَ: «مَنْ تَبِعَهُ كَانَ لَهُ رَحْمَةً فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، وَمَنْ لَمْ يَتْبَعْهُ عُوفِيَ مِمَّا كَانَ يُبْتَلَى سَائِرُ الْأُمَمِ مِنَ الْمَسْخِ، وَالْخَسْفِ، وَالْقَذْفِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما ”اور ہم نے آپ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر ہی بھیجا ہے“ [سورۃ الانبیاء: 107] کے بارے میں فرماتے ہیں: ”جس نے آپ ﷺ کی پیروی کی اس کے لیے دنیا و آخرت میں رحمت ہے، اور جس نے پیروی نہ کی وہ اس عذاب سے محفوظ رہا جو دوسری امتوں پر آیا، یعنی مسخ، زمین میں دھنسایا جانا، اور پتھراؤ کیا جانا۔“
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ، ثنا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، ثنا أَبِي، عَنْ حُسَيْنِ بْنِ ذَكْوَانَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ يُمْشَى فِي نَعْلٍ وَاحِدٍ، أَوْ خُفٍّ وَاحِدٍ، وَيَبِيتَ فِي دَارٍ وَحْدَهُ، أَوْ يَنْتَقِضَ فِي بُرَازٍ مِنَ الْأَرْضِ، إِلَّا أَنْ يَنْحَنِيَ أَوْ يَلْقَى عَدُوًّا إِلَّا أَنْ يُنَحِّيَ عَنْ نَفْسِهِ "
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ایک جوتے یا ایک موزے میں چلنے سے، کسی گھر میں اکیلے رات گزارنے سے، اور کھلی زمین میں بغیر کسی اوٹ کے قضائے حاجت کرنے سے منع فرمایا، سوائے اس کے کہ جھک جائے، یا دشمن کا سامنا ہو تو اپنے آپ کو ایک طرف ہٹا لے۔
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا عِيسَى بْنُ يُونُسَ الرَّمْلِيُّ، ثنا أَيُّوبُ بْنُ سُوَيْدٍ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عُمَارَةَ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: مَرَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَبِي إِسْرَائِيلَ وَهُوَ قَائِمٌ فِي الشَّمْسِ، فَقَالَ: «مَا بَالُ هَذَا؟» قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ نَذَرَ أَنْ لَا يَتَكَلَّمَ، وَلَا يَقْعُدَ وَأَنْ يَصُومَ، فَقَالَ: «مُرْهُ فَلْيَتَكَلَّمْ، وَلْيَسْتَظِلَّ، وَلْيَقْعُدْ، وَلْيُتِمَّ، وَلَمْ يَأْمُرْهُ بِالْكَفَّارَةِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ابواسرائیل رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے جو دھوپ میں کھڑے تھے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کا کیا معاملہ ہے؟“ لوگوں نے کہا: یا رسول اللہ! اس نے نذر مانی ہے کہ نہ بات کرے گا، نہ بیٹھے گا، اور روزہ رکھے گا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے حکم دو کہ وہ بات کرے، سایہ حاصل کرے، بیٹھے، اور روزہ مکمل کرے۔“ اور آپ ﷺ نے اسے کفارہ ادا کرنے کا حکم نہیں دیا۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ دَاوُدَ الصَّوَّافُ، ثنا يَحْيَى بْنُ غَيْلَانَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ بَزِيعٍ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عُمَارَةَ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَجُلًا وَقَعَ عَنْ رَاحِلَتِهِ، فَوُقِصَ، فَسَأَلُوا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ «اغْسِلُوهُ بِسِدْرٍ وَمَاءٍ، وَكَفِّنُوهُ فِي ثَوْبَيْهِ، وَلَا تُخَمِّرُوا رَأْسَهُ، فَإِنَّهُ يَبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُلَبِّيًا»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص اپنی سواری سے گر پڑا اور اس کی گردن ٹوٹ گئی، تو لوگوں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے بیری کے پتوں اور پانی سے غسل دو، اور اس کے دونوں کپڑوں میں کفن دو، اور اس کا سر مت ڈھانپو، کیونکہ وہ قیامت کے دن تلبیہ کہتا ہوا اٹھایا جائے گا۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَبَّاسِ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْعَطَّارُ، ثنا قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَإِذَا الْيَهُودُ يَصُومُونَ يَوْمَ عَاشُورَاءَ، فَقَالَ: «مَا بَالُ هَذَا الْيَوْمِ؟» قَالَ: «يَوْمٌ أَنْجَى اللهُ فِيهِ مُوسَى، وَأَغْرَقَ بَنِي إِسْرَائِيلَ، فَنَحْنُ أَحَقُّ بِمُوسَى فَصَامَهُ، وَأَمَرَ بِصِيَامِهِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ تشریف لائے تو دیکھا کہ یہود عاشورہ کے دن روزہ رکھتے ہیں، تو آپ ﷺ نے پوچھا: ”اس دن کا کیا معاملہ ہے؟“ بتایا گیا: ”یہ وہ دن ہے جس میں اللہ نے موسیٰ علیہ السلام کو نجات دی اور بنی اسرائیل کے دشمن کو غرق کیا، تو ہم موسیٰ علیہ السلام کے زیادہ حق دار ہیں۔“ چنانچہ آپ ﷺ نے اس دن روزہ رکھا اور اس کے روزے رکھنے کا حکم دیا۔
حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى السَّاجِيُّ، ثنا سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ، ثنا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، ثنا كَامِلٌ أَبُو الْعَلَاءِ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كَانَ يَقُولُ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ، رَبِّ اغْفِرْ لِي، وَارْحَمْنِي، وَاهْدِنِي، وَعَافِنِي، وَارْزُقْنِي»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ دونوں سجدوں کے درمیان کہتے تھے: ”رب اغفر لی، وارحمنی، واہدنی، وعافنی، وارزقنی۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ شَبِيبٍ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَمْرٍو الْبَجَلِيُّ، ثنا أَبُو مَرْيَمَ، ثَنا الْحَكَمُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ امْرَأَةٌ , فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ , إِنَّ أُمِّي نَذَرَتْ أَنْ تَصُومَ شَهْرًا، وَإِنَّهَا تُوُفِّيَتْ قَبْلَ أَنْ تَصُومَ. قَالَ: «أَرَأَيْتِ لَوْ كَانَ عَلَى أُمِّكِ دَيْنٌ أَكُنْتِ قَاضِيَةً؟» ، قَالَتْ: نَعَمْ. قَالَ: «دَيْنُ اللهِ أَحَقُّ أَنْ يُقْضَى»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک عورت نبی کریم ﷺ کے پاس آئی اور کہنے لگی: یا رسول اللہ! میری ماں نے ایک مہینے کے روزے کی نذر مانی تھی اور روزہ رکھنے سے پہلے فوت ہو گئیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”بتاؤ، اگر تمہاری ماں پر قرض ہوتا تو کیا تم اسے ادا کرتیں؟“ اس نے کہا: جی ہاں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کا قرض ادا کرنے کا زیادہ حق دار ہے۔“
حَدَّثَنَا يُوسُفُ الْقَاضِي، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ قَالَا: ثنا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: بِتُّ عِنْدَ خَالَتِي مَيْمُونَةَ، فَصَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ جَاءَ فَصَلَّى أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ، ثُمَّ نَامَ، ثُمَّ قَامَ، قَالَ: «اسْتَيْقَظَ الْغُلَامُ، أَقَامَ الْغُلَامُ؟» فَجِئْتُ، فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ، فَحَوَّلَنِي، عَنْ يَمِينِهِ، فَصَلَّى خَمْسَ رَكَعَاتٍ، ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ نَامَ حَتَّى سَمِعْتُ غَطِيطَهُ، أَوْ قَالَ: خَطِيطَهُ، ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الصَّلَاةِ "
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں اپنی خالہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے پاس رات کو ٹھہرا، تو نبی کریم ﷺ نے نماز پڑھی، پھر آئے اور چار رکعت پڑھی، پھر سو گئے، پھر اٹھے تو فرمایا: ”کیا لڑکا بیدار ہوا؟ کیا لڑکا کھڑا ہوا؟“ تو میں آیا اور آپ ﷺ کے بائیں جانب کھڑا ہو گیا، آپ ﷺ نے مجھے دائیں جانب کر دیا، پھر پانچ رکعت پڑھی، پھر دو رکعت پڑھی، پھر سو گئے یہاں تک کہ میں نے آپ ﷺ کی خراٹوں کی آواز سنی، پھر نماز کے لیے تشریف لے گئے۔
حَدَّثَنَا يُوسُفُ الْقَاضِي، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ قَالَا: ثنا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ الصَّعْبَ بْنَ جَثَّامَةَ أَهْدَى إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بِقُدَيْدٍ فَخِذَ حِمَارٍ، أَوْ قَالَ: «عَجُزَ حِمَارٍ وَحْشٍ فَرَدَّهُ يَقْطُرُ دَمًا، وَهُوَ مُحْرِمٌ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ سیدنا صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ نے، جبکہ آپ ﷺ قدید میں تھے، گدھے کی ران — یا فرمایا: گورخر کا پچھلا حصہ — ہدیہ کیا، تو آپ ﷺ نے اسے واپس کر دیا جبکہ اس سے خون ٹپک رہا تھا، اور آپ ﷺ احرام کی حالت میں تھے۔
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ: سَمِعْتُ مَنْصُورًا يُحَدِّثُ، عَنِ الْحَكَمِ، ح وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ قَالَ: ثنا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ الصَّعْبَ بْنَ جَثَّامَةَ أَهْدَى إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ بِقُدَيْدٍ فَرَدَّها يَقْطُرُ دَمًا "
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ سیدنا صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ نے، جبکہ آپ ﷺ قدید میں احرام کی حالت میں تھے، ہدیہ کیا تو آپ ﷺ نے اسے واپس کر دیا جبکہ اس سے خون ٹپک رہا تھا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عِمْرَانَ بْنِ أَبِي لَيْلَى، ثنا أَبِي، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مِقْسَمٍ، وَسَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ: «شَغَلُونَا عَنِ الصَّلَاةِ الْوُسْطَى، مَلَأَ اللهُ قُبُورَهُمْ وَأَجْوَافَهُمْ نَارًا»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس اور سیدنا مقسم رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے یومِ خندق فرمایا: ”انہوں نے ہمیں نمازِ وسطیٰ سے مشغول رکھا، اللہ ان کی قبریں اور ان کے پیٹ آگ سے بھر دے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُرَاتٍ الْقَزَّازُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ هَاشِمٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو، وَالْحَكَمُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ: إِنَّ عَلَيَّ رَقَبَةً وَعِنْدِي جَارِيَةٌ سَوْدَاءُ أَعْجَمِيَّةٌ، فَقَالَ: " ائْتِنِي بِهَا، فَقَالَ: «أَتَشْهَدِينَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ؟» قَالَتْ: نَعَمْ. قَالَ: «أَتَشْهَدِينَ أَنِّي رَسُولُ اللهِ؟» قَالَتْ: نَعَمْ. قَالَ: «فَأَعْتِقْهَا»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور کہنے لگا: مجھ پر ایک غلام آزاد کرنا لازم ہے اور میرے پاس ایک سیاہ فام عجمی لونڈی ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے میرے پاس لاؤ۔“ آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا تم گواہی دیتی ہو کہ اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں؟“ اس نے کہا: جی ہاں۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا تم گواہی دیتی ہو کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟“ اس نے کہا: جی ہاں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو اسے آزاد کر دو۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ عَبْدًا أَسْوَدَ جَاءَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ: يَمُرُّ بِيَ ابْنُ السَّبِيلِ، وَأَنَا فِي مَاشِيَةٍ لِسَيِّدِي فَأَسْقِي مِنْ أَلْبَانِهَا بِغَيْرِ إِذْنِهِمْ؟ قَالَ: «لَا» قَالَ: فَإِنِّي أَرْمِي فَأُصْمِي وَأُنْمِي قَالَ: «كُلْ مَا أَصْمَيْتَ وَدَعْ مَا أَنْمَيْتَ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک سیاہ فام غلام نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور کہنے لگا: میں اپنے آقا کے مویشیوں کے پاس ہوتا ہوں تو کوئی مسافر میرے پاس سے گزرتا ہے، کیا میں ان کی اجازت کے بغیر اسے دودھ پلا دوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں۔“ اس نے کہا: اور اگر میں شکار پر تیر چلاؤں اور وہ فوراً مر جائے یا بھاگ کر کچھ دیر بعد مرے تو؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو فوراً مر جائے اسے کھاؤ، اور جو کچھ دیر بعد مرے اسے چھوڑ دو۔“
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، وَأَبُو زُرْعَةَ الدِّمَشْقِيُّ قَالَا: ثنا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، ثنا أَبِي، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ سَمِيعٍ، عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِينِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ رَايَا رَايَا اللهُ بِهِ، وَمَنْ سَمَّعَ سَمَّعَ اللهُ بِهِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو دکھاوا کرے گا، اللہ اس کا دکھاوا ظاہر کر دے گا، اور جو شہرت کے لیے کام کرے گا، اللہ اسے مشہور کر دے گا۔“
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ السَّيْلَحِينِيُّ، ثنا شَرِيكٌ، عَنْ مُخَوَّلٍ، عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِينِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: " أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُوتِرُ بِثَلَاثٍ يَقْرَأُ فِي الْأَوَّلِ: بِسَبَّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى، وَفِي الثَّانِيَةِ بِقُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ، وَفِي الثَّالِثَةِ بِقُلْ هُوَ اللهُ أَحَدٌ "
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ تین رکعت وتر پڑھتے، پہلی میں ”سبح اسم ربک الاعلی“، دوسری میں ”قل یا ایہا الکافرون“، اور تیسری میں ”قل ھو اللہ احد“ پڑھتے تھے۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ الثَّوْرِيِّ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا زَائِدَةُ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مُخَوَّلٍ، عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِينِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: " كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَقْرَأُ فِي الْجُمُعَةِ بِسُورَةِ: الْجُمُعَةِ، وَسُورَةِ الْمُنَافِقِينَ "
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جمعہ کی نماز میں سورۃ الجمعہ اور سورۃ المنافقون پڑھتے تھے۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ الضَّبِّيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ التَّمَّارُ قَالَا: ثنا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، أنا شُعْبَةُ، عَنْ مُخَوَّلٍ، عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِينِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَقْرَأُ فِي الْجُمُعَةِ بِسُورَةِ: الْجُمُعَةِ، وَسُورَةِ الْمُنَافِقِينَ "
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ جمعہ میں سورۃ الجمعہ اور سورۃ المنافقون پڑھتے تھے۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ الضَّبِّيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ التَّمَّارُ، قَالَا: ثنا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، أنا شُعْبَةُ، عَنْ مُخَوَّلٍ، عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِينِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: " أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقْرَأُ فِي صَلَاةِ الْغَدَاةِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ: الْم تَنْزِيلُ، وَهَلْ أَتَى عَلَى الْإِنْسَانِ "
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جمعہ کے دن نمازِ فجر میں ”الم، تنزیل“ اور ”ہل اتی علی الانسان“ پڑھا کرتے تھے۔
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ مُخَوَّلِ بْنِ رَاشِدٍ، عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِينِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: " أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَانَ يَقْرَأُ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ: الْم تَنْزِيلُ السَّجْدَةَ، وَهَلْ أَتَى عَلَى الْإِنْسَانِ " حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، ثنا شَرِيكٌ، عَنْ مُخَوَّلٍ، عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِينِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كَانَ الْمُسْلِمُونَ يُحِبُّونَ أَنْ يَظْهَرَ الرُّومُ عَلَى فَارِسَ؛ لِأَنَّهُمْ أَهْلُ كِتَابٍ، وَكَانَ الْمُشْرِكُونَ يُحِبُّونَ أَنْ يَظْهَرَ فَارِسُ عَلَى الرُّومِ؛ لِأَنَّهُمْ أَهْلُ أَوْثَانٍ، فَذَكَرَ ذَلِكَ الْمُسْلِمُونَ لِأَبِي بَكْرٍ، فَذَكَرَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَمَا إِنَّهُمْ سَيُهْزَمُونَ» ، فَذَكَرَ ذَلِكَ أَبُو بَكْرٍ، لَهُمْ، فَقَالُوا: اجْعَلْ بَيْنَنَا وَبَيْنَكَ أَجَلًا، فَإِنْ ظَهَرُوا كَانَ لَكَ كَذَا وَكَذَا، فَإِنْ ظَهَرْنَا كَانَ لَنَا كَذَا وَكَذَا، فَجَعَلَ بَيْنَهُمْ أَجَلًا خَمْسَ سِنِينَ، فَلَمْ يَظْهَرُوا، فَذَكَرَ ذَلِكَ أَبُو بَكْرٍ لِلنَّبِيِّ عَلَيْهِ السَّلَامُ , فَقَالَ: «أَلَا جَعَلْتَهُ - أُرَاهُ قَالَ - دُونَ الْعَشْرِ» ، - قَالَ: فَقَالَ سَعِيدٌ: الْبِضْعُ مَا دُونَ الْعَشْرِ - قَالَ: فَظَهَرَتِ الرُّومُ بَعْدُ، فَذَلِكَ قَوْلُهُ: {الْم غُلِبَتِ الرُّومُ فِي أَدْنَى الْأَرْضِ، وَهُمْ مِنْ بَعْدِ غَلَبِهِمْ سَيَغْلِبُونَ فِي بِضْعِ سِنِينَ} [الروم: ٢] قَالَ: فَغُلِبَتِ الرُّومُ، ثُمَّ غَلَبَتِ الرُّومُ بَعْدُ. قَالَ: {لِلَّهِ الْأَمْرُ مِنْ قَبْلُ وَمِنْ بَعْدُ وَيَوْمَئِذٍ يَفْرَحُ الْمُؤْمِنُونَ بِنَصْرِ اللهِ} [الروم: ٤]
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كَانَ الْمُسْلِمُونَ يُحِبُّونَ أَنْ يَظْهَرَ الرُّومُ عَلَى فَارِسَ؛ لِأَنَّهُمْ أَهْلُ كِتَابٍ، وَكَانَ الْمُشْرِكُونَ يُحِبُّونَ أَنْ يَظْهَرَ فَارِسُ عَلَى الرُّومِ؛ لِأَنَّهُمْ أَهْلُ أَوْثَانٍ، فَذَكَرَ ذَلِكَ الْمُسْلِمُونَ لِأَبِي بَكْرٍ، فَذَكَرَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَمَا إِنَّهُمْ سَيُهْزَمُونَ» ، فَذَكَرَ ذَلِكَ أَبُو بَكْرٍ، لَهُمْ، فَقَالُوا: اجْعَلْ بَيْنَنَا وَبَيْنَكَ أَجَلًا، فَإِنْ ظَهَرُوا كَانَ لَكَ كَذَا وَكَذَا، فَإِنْ ظَهَرْنَا كَانَ لَنَا كَذَا وَكَذَا، فَجَعَلَ بَيْنَهُمْ أَجَلًا خَمْسَ سِنِينَ، فَلَمْ يَظْهَرُوا، فَذَكَرَ ذَلِكَ أَبُو بَكْرٍ لِلنَّبِيِّ عَلَيْهِ السَّلَامُ , فَقَالَ: «أَلَا جَعَلْتَهُ - أُرَاهُ قَالَ - دُونَ الْعَشْرِ» ، - قَالَ: فَقَالَ سَعِيدٌ: الْبِضْعُ مَا دُونَ الْعَشْرِ - قَالَ: فَظَهَرَتِ الرُّومُ بَعْدُ، فَذَلِكَ قَوْلُهُ: {الْم غُلِبَتِ الرُّومُ فِي أَدْنَى الْأَرْضِ، وَهُمْ مِنْ بَعْدِ غَلَبِهِمْ سَيَغْلِبُونَ فِي بِضْعِ سِنِينَ} [الروم: ٢] قَالَ: فَغُلِبَتِ الرُّومُ، ثُمَّ غَلَبَتِ الرُّومُ بَعْدُ. قَالَ: {لِلَّهِ الْأَمْرُ مِنْ قَبْلُ وَمِنْ بَعْدُ وَيَوْمَئِذٍ يَفْرَحُ الْمُؤْمِنُونَ بِنَصْرِ اللهِ} [الروم: ٤]
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ... مسلمانوں نے یہ بات سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے ذکر کی، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے یہ بات نبی کریم ﷺ سے ذکر کی، تو نبی کریم ﷺ نے ان سے فرمایا: ”وہ عنقریب مغلوب ہو جائیں گے۔“ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے یہ بات ان سے ذکر کی، تو انہوں نے کہا: ہمارے اور تمہارے درمیان ایک مدت مقرر کر لو، اگر وہ غالب آئے تو تمہارے لیے فلاں فلاں چیز ہو گی، اور اگر ہم غالب آئے تو ہمارے لیے فلاں فلاں چیز ہو گی۔ چنانچہ ان کے درمیان پانچ سال کی مدت مقرر ہوئی، مگر وہ غالب نہ آئے۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے یہ بات نبی کریم ﷺ سے ذکر کی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم نے اسے دس سال سے کم — غالباً آپ ﷺ نے یہی فرمایا — کیوں نہ رکھا؟“ سعید بن جبیر کہتے ہیں: ”بضع“ سے مراد دس سے کم ہے۔ پھر بعد میں رومی غالب آ گئے، اور یہی اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کا مطلب ہے: ”الم، رومی مغلوب ہو گئے، قریب ترین سرزمین میں، اور وہ اپنے مغلوب ہونے کے بعد چند سالوں میں ضرور غالب آ جائیں گے“ [سورۃ الروم: 2]۔ پھر رومی مغلوب ہوئے، پھر بعد میں غالب آ گئے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ”اللہ ہی کا حکم چلتا ہے پہلے بھی اور بعد میں بھی، اور اس دن مومن اللہ کی مدد پر خوش ہوں گے“ [سورۃ الروم: 4]۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى الْحُلْوَانِيُّ، وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْفَسَوِيُّ قَالَا: ثنا الْفَيْضُ بْنُ وُثَيْقٍ الثَّقَفِيُّ، ثنا جَرِيرٌ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَعَنَ اللهُ الْيَهُودَ، حُرِّمَتْ عَلَيْهِمُ الشُّحُومُ، فَبَاعُوهَا، وَأَكَلُوا أَثْمَانَهَا»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ یہود پر لعنت کرے، ان پر چربی حرام کی گئی تو انہوں نے اسے بیچ کر اس کی قیمت کھا لی۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْجَارُودِ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا الْحَكَمُ بْنُ ظَبْيَانَ الْمَازِنِيُّ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ سَلَمَةَ الْوَرَّاقُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَطَاءِ بْنِ مُقَدَّمٍ، ثنا حَبِيبُ بْنُ أَبِي عَمْرَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: سَرِيَّةً فِيهَا الْمِقْدَادُ بْنُ الْأَسْوَدِ فَلَمَّا أَتَوُا الْقَوْمَ وَجَدُوهُمْ قَدْ تَفَرَّقُوا وَبَقِيَ رَجُلٌ لَهُ مَالٌ كَثِيرٌ لَمْ يَبْرَحْ، فَقَالَ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، فَأَهْوَى إِلَيْهِ الْمِقْدَادُ فَقَتَلَهُ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِهِ: قَتَلْتَ رَجُلًا قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَاللهِ لَيُذْكَرَنَّ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَلَمَّا قَدِمُوا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ , إِنَّ رَجُلًا شَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ فَقَتَلَهُ الْمِقْدَادُ، فَقَالَ: " ادْعُوا لِي الْمِقْدَادَ، فَقَالَ: " يَا مِقْدَادُ قَتَلْتَ رَجُلًا قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، فَكَيْفَ لَكَ بِلَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ؟ " قَالَ: فَأَنْزَلَ اللهُ: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا ضَرَبْتُمْ فِي سَبِيلِ اللهِ فَتَبَيَّنُوا وَلَا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ السَّلَامَ لَسْتَ مُؤْمِنًا تَبْتَغُونَ عَرَضَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا فَعِنْدَ اللهِ مَغَانِمُ كَثِيرَةٌ، كَذَلِكَ كُنْتُمْ مِنْ قَبْلُ فَمَنَّ اللهُ عَلَيْكُمْ} [النساء: ٩٤] ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كَانَ رَجُلًا مُؤْمِنًا يُخْفِي إِيمَانَهُ مَعَ قَوْمٍ كُفَّارٍ فَقَتَلْتَهُ، وَكَذَلِكَ كُنْتَ أَنْتَ تُخْفِي إِيمَانَكَ بِمَكَّةَ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ”...تم پر سلامتی ہو، تم مومن نہیں ہو، تم دنیا کی زندگی کا سامان چاہتے ہو، حالانکہ اللہ کے پاس بہت سی غنیمتیں ہیں، تم بھی پہلے ایسے ہی تھے پھر اللہ نے تم پر احسان کیا“ [سورۃ النساء: 94] کے بارے میں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”وہ ایک مومن شخص تھا جو کافر قوم کے درمیان اپنا ایمان چھپائے ہوئے تھا، تو تم نے اسے قتل کر دیا، اور اسی طرح تم بھی مکہ میں اپنا ایمان چھپاتے تھے۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبْدِ الْمَجِيدِ بْنِ سُهَيْلٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبَّادٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ، حَدَّثَهُ أَنَّ أَبَاهُ عَبَّاسَ بْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ بَعَثَهُ فِي حَاجَةٍ لَهُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَتْ مَيْمُونَةُ بِنْتُ الْحَارِثِ خَالَةَ ابْنِ عَبَّاسٍ، فَدَخَلَ عَلَيْهَا , فَوَجَدَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَاضْطَجَعْتُ فِي حُجْرَتِهَا، وَجَعَلْتُ فِي نَفْسِي أَنْ أُحْصِيَ كَمْ صَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَجَاءَ وَأَنَا مُضْطَجِعٌ فِي الْحُجْرَةِ بَعْدَ أَنْ ذَهَبَ مِنَ اللَّيْلِ , فَقَالَ: «أَنَامَ الْوَلِيدُ؟» ، ثُمَّ تَنَاوَلَ مِلْحَفَةً كَانَتْ عَلَى مَيْمُونَةَ، فَارْتَدَى بِبَعْضِهَا، وَعَلَيْهَا بَعْضُهَا، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ حَتَّى صَلَّى ثَمَانِ رَكَعَاتٍ، ثُمَّ أَوْتَرَ بِخَمْسٍ لَمْ يَجْلِسْ بَيْنَهُنَّ، ثُمَّ قَعَدَ فَأَثْنَى عَلَى اللهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ، فَأَكْثَرَ الثَّنَاءَ، ثُمَّ كَانَ آخِرُ كَلَامِهِ، «اللهُمَّ اجْعَلْ لِي نُورًا فِي قَلْبِي، وَاجْعَلْ لِي نُورًا فِي سَمْعِي، وَاجْعَلْ لِي نُورًا فِي بَصَرِي، وَاجْعَلْ لِي نُورًا عَنْ يَمِينِي، وَنُورًا عَنْ شِمَالِي، وَاجْعَلْ لِي نُورًا مِنْ بَيْنَ يَدَيَّ، وَنُورًا مِنْ خَلْفِي، وَزِدْنِي نُورًا، وَزِدْنِي نُورًا، وَزِدْنِي نُورًا»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ... اور میں نے دل میں ٹھان لیا کہ گنوں گا رسول اللہ ﷺ نے کتنی رکعتیں پڑھیں۔ آپ ﷺ تشریف لائے جبکہ میں رات کا کچھ حصہ گزرنے کے بعد حجرے میں لیٹا ہوا تھا، تو فرمایا: ”کیا ولید سو گیا؟“ پھر میمونہ رضی اللہ عنہا پر پڑی ایک چادر پکڑی، اس کا کچھ حصہ خود اوڑھ لیا اور کچھ حصہ ان پر ہی رہنے دیا، پھر کھڑے ہو کر دو دو رکعت کر کے آٹھ رکعتیں پڑھیں، پھر پانچ رکعت وتر پڑھا جس کے درمیان نہیں بیٹھے، پھر بیٹھ کر اللہ تعالیٰ کی اس کی شایانِ شان بہت زیادہ حمد و ثنا بیان کی، پھر آپ ﷺ کے آخری الفاظ یہ تھے: ”اے اللہ! میرے دل میں نور پیدا کر، میرے کان میں نور پیدا کر، میری آنکھ میں نور پیدا کر، میری دائیں جانب نور پیدا کر، میری بائیں جانب نور پیدا کر، میرے آگے نور پیدا کر، میرے پیچھے نور پیدا کر، اور مجھے نور میں اضافہ عطا فرما، اور مجھے نور میں اضافہ عطا فرما، اور مجھے نور میں اضافہ عطا فرما۔“
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْفِرْيَابِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ حَسَّانَ أَبِي الْأَشْرَسِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «فُصِلَ الْقُرْآنُ مِنَ الذِّكْرِ، فَوُضِعَ فِي بَيْتِ الْعِزَّةِ فِي السَّمَاءِ الدُّنْيَا، فَجَعَلَ جِبْرِيلُ يُنْزِلُهُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُرَتِّلُهُ تَرْتِيلًا»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ”قرآن کو ذکر سے الگ کیا گیا اور آسمانِ دنیا کے بیت العزت میں رکھا گیا، پھر سیدنا جبریل علیہ السلام اسے ٹھہر ٹھہر کر نبی کریم ﷺ پر نازل کرتے رہے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا جُمْهُورُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَمْرُو بْنُ عَبْدِ الْغَفَّارِ، ثنا الْأَعْمَشُ، ثنا حَسَّانُ أَبُو الْأَشْرَسِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فِي قَوْلِهِ: {إِنَّا أَنْزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ} [القدر: ١] قَالَ: «أُنْزِلَ الْقُرْآنُ جُمْلَةً وَاحِدَةً حَتَّى، وُضِعَ فِي بَيْتِ الْعِزَّةِ فِي السَّمَاءِ الدُّنْيَا، وَنَزَّلَهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ عَلَى مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجَوَابِ كَلَامٍ فِي السَّمَاءِ الدُّنْيَا، وَنَزَّلَهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ عَلَى مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجَوَابِ كَلَامِ الْعِبَادِ، وَأَعْمَالِهِمْ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما ”بے شک ہم نے اسے شبِ قدر میں نازل کیا“ [سورۃ القدر: 1] کے بارے میں فرماتے ہیں: ”قرآن یکبارگی نازل ہوا یہاں تک کہ آسمانِ دنیا کے بیت العزت میں رکھا گیا، پھر سیدنا جبریل علیہ السلام نے اسے محمد ﷺ پر آسمانِ دنیا میں پیش آنے والی باتوں کے جواب میں تھوڑا تھوڑا نازل کیا، اور سیدنا جبریل علیہ السلام نے اسے محمد ﷺ پر بندوں کی باتوں اور ان کے اعمال کے جواب میں نازل کیا۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي الْحَكَمِ الثَّقَفِيُّ، ثنا عَاصِمُ بْنُ مُضَرِّسٍ النَّصْرِيُّ، عَنْ جَبَلَةَ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّمَا جُعِلَ الْأَذَانُ الْأَوَّلُ لِيَتَيَسَّرَ أَهْلُ الصَّلَاةِ لِصَلَاتِهِمْ، فَإِذَا سَمِعْتُمُ الْأَذَانَ فَأَسْبِغُوا الْوُضُوءَ، وَإِذَا سَمِعْتُمُ الْإِقَامَةَ فَبَادِرُوا التَّكْبِيرَةَ الْأُولَى، فَإِنَّهَا فَرْعُ الصَّلَاةِ وَتَمَامُهَا، وَلَا تُبَادِرُوا الْقَارِئَ الرُّكُوعَ، وَالسُّجُودَ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”پہلی اذان صرف اس لیے رکھی گئی ہے تاکہ نمازی اپنی نماز کے لیے تیار ہو جائیں، تو جب تم اذان سنو تو مکمل وضو کرو، اور جب تم اقامت سنو تو پہلی تکبیر کی طرف جلدی کرو، کیونکہ یہ نماز کا لازمی جزو اور اس کی تکمیل ہے، اور قاری سے پہلے رکوع و سجدے میں جلدی نہ کرو۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا حُسَيْنٌ الْأَشْقَرُ، ثنا نُصَيْرُ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ عُثْمَانَ أَبِي الْيَقْظَانِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَتِ الْأَنْصَارُ فِيمَا بَيْنَهُمْ: لَوْ جَمَعْنَا لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَالًا فَبَسَطَ يَدَهُ لَا يَحُولُ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ أَحَدٌ، فَأَتَوْا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ , إِنَّا أَرَدْنَا أَنْ نَجْمَعَ لَكَ مِنْ أَمْوَالِنَا، فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {قُلْ لَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا إِلَّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبَى} [الشورى: ٢٣] فَخَرَجُوا مُخْتَلِفِينَ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ: أَلَمْ تَرَوْا إلى مَا قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ وَقَالَ بَعْضُهُمْ: إِنَّمَا قَالَ هَذَا لِنُقَاتِلَ عَنْ أَهْلِ بَيْتِهِ وَنَنْصُرَهُمْ، فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {أَمْ يَقُولُونَ افْتَرَى عَلَى اللهِ كَذِبًا} [الشورى: ٢٤] إِلَى قَوْلِهِ: {وَهُوَ الَّذِي يَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهِ} [الشورى: ٢٥] فَعَرَضَ لَهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالتَّوْبَةِ إِلَى قَوْلِهِ: {وَيَسْتَجِيبُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَيَزِيدُهُمْ مِنْ فَضْلِهِ} [الشورى: ٢٦] هُمُ الَّذِينَ قَالُوا هَذَا أَنْ تَتُوبُوا إِلَى اللهِ وَتَسْتَغْفِرُوهُ
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: انصار نے آپس میں کہا: کاش ہم رسول اللہ ﷺ کے لیے مال جمع کریں تاکہ وہ اپنا ہاتھ کھلا رکھیں اور کوئی ان کے اور اس مال کے درمیان حائل نہ ہو۔ چنانچہ وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور کہنے لگے: یا رسول اللہ! ہم چاہتے ہیں کہ اپنے مالوں میں سے آپ کے لیے کچھ جمع کریں۔ اس پر اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی: ”کہہ دیجیے! میں تم سے اس پر کوئی اجر نہیں مانگتا سوائے قرابت داری کی محبت کے“ [سورۃ الشوریٰ: 23]۔ وہ لوگ اختلاف کرتے ہوئے نکلے، بعض نے کہا: کیا تم نے دیکھا رسول اللہ ﷺ نے کیا فرمایا؟ اور بعض نے کہا: آپ ﷺ نے یہ صرف اس لیے فرمایا کہ ہم آپ ﷺ کے اہلِ بیت کی طرف سے لڑیں اور ان کی مدد کریں۔ تو اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی: ”کیا وہ کہتے ہیں کہ اس نے اللہ پر جھوٹ باندھا ہے؟“ [سورۃ الشوریٰ: 24] ”اور وہی ہے جو اپنے بندوں سے توبہ قبول کرتا ہے“ [سورۃ الشوریٰ: 25] کے فرمان تک۔ رسول اللہ ﷺ نے انہیں اسی آیت کے ذریعے توبہ کی طرف متوجہ کیا، ”اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کیے ان کی دعا قبول کرتا ہے اور اپنے فضل سے انہیں مزید عطا کرتا ہے“ [سورۃ الشوریٰ: 26] کے فرمان تک — یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے یہ بات کہی تھی، یعنی اللہ کی طرف توبہ کرو اور اس سے بخشش مانگو۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ ثنا عُمَرُ بْنُ ذَرٍّ الْهَمَذَانِيُّ قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي، يُحَدِّثِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِجِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ: «مَا يَمْنَعُكَ أَنْ تَزُورُنَا أَكْثَرَ مِمَّا تَزُورُنَا؟» فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: {وَمَا نَتَنَزَّلُ إِلَّا بِأَمْرِ رَبِّكَ} [مريم: ٦٤]
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے سیدنا جبریل علیہ السلام سے فرمایا: ”تمہیں ہمارے پاس اس سے زیادہ آنے سے کیا چیز روکتی ہے جتنا تم آتے ہو؟“ تو یہ آیت نازل ہوئی: ”اور ہم نہیں اترتے مگر آپ کے رب کے حکم سے“ [سورۃ مریم: 64]۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ دَاوُدَ الْمَكِّيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ قُتَيْبَةَ الرِّفَاعِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا عُمَرُ بْنُ ذَرٍّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فِي سَجْدَةِ ص سَجَدَهَا دَاوُدُ تَوْبَةً وَنَسْجُدُهَا شُكْرًا» ،
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”سورۃ ص کا سجدہ، سیدنا داود علیہ السلام نے اسے توبہ کے طور پر کیا تھا، اور ہم اسے شکر کے طور پر کرتے ہیں۔“
حَدَّثَنَا الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ ذَرٍّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِهِ، وَلَمْ يَذْكُرِ ابْنَ عَبَّاسٍ
ترجمہ
سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے بھی نبی کریم ﷺ کا اسی جیسا فرمان مروی ہے، البتہ اس میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا ذکر نہیں۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ، عَنْ أَبِي الصَّهْبَاءِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَثَلُ أَهْلِ بَيْتِي مَثَلُ سَفِينَةِ نُوحٍ، مَنْ رَكِبَ فِيهَا نَجَا، وَمَنْ تَخَلَّفَ، عَنْهَا غَرِقَ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میرے اہلِ بیت کی مثال نوح علیہ السلام کی کشتی جیسی ہے، جو اس میں سوار ہوا وہ نجات پا گیا، اور جو اس سے پیچھے رہ گیا وہ ڈوب گیا۔“
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ سَهْلِ بْنِ الْمُجَوِّزِ الْبَصْرِيُّ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ، أنا مَنْصُورُ بْنُ دِينَارٍ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «حُرِّمَتِ الْخَمْرُ بِعَيْنِهَا، وَالسُّكْرُ مِنْ كُلِّ شَرَابٍ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ”شراب اپنی ذات کے اعتبار سے حرام ہے، اور ہر نشہ آور مشروب کا نشہ بھی حرام ہے۔“
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ أَبِي الطَّاهِرِ بْنِ السَّرْحِ الْمِصْرِيُّ، ثنا يُوسُفُ بْنُ عَدِيٍّ، ثنا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ ثَابِتٍ أَبِي حَنِيفَةَ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: بَضَعَفَةِ أَهْلِهِ لَيْلًا إِلَى جَمْعٍ، وَقَالَ لَهُمْ: «لَا تَرْمُوا الْجَمْرَةَ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے کمزور گھر والوں کو رات کے وقت مزدلفہ بھیجا اور ان سے فرمایا: ”جب تک سورج طلوع نہ ہو رمی جمرہ مت کرو۔“
…