المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
سعيد بن جبير، عن ابن عباس باب: سعید بن جبیر کی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایات
حدیث نمبر: 12308
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا عِيسَى بْنُ يُونُسَ الرَّمْلِيُّ، ثنا أَيُّوبُ بْنُ سُوَيْدٍ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عُمَارَةَ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: مَرَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَبِي إِسْرَائِيلَ وَهُوَ قَائِمٌ فِي الشَّمْسِ، فَقَالَ: «مَا بَالُ هَذَا؟» قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ نَذَرَ أَنْ لَا يَتَكَلَّمَ، وَلَا يَقْعُدَ وَأَنْ يَصُومَ، فَقَالَ: «مُرْهُ فَلْيَتَكَلَّمْ، وَلْيَسْتَظِلَّ، وَلْيَقْعُدْ، وَلْيُتِمَّ، وَلَمْ يَأْمُرْهُ بِالْكَفَّارَةِ»ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ابواسرائیل رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے جو دھوپ میں کھڑے تھے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کا کیا معاملہ ہے؟“ لوگوں نے کہا: یا رسول اللہ! اس نے نذر مانی ہے کہ نہ بات کرے گا، نہ بیٹھے گا، اور روزہ رکھے گا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے حکم دو کہ وہ بات کرے، سایہ حاصل کرے، بیٹھے، اور روزہ مکمل کرے۔“ اور آپ ﷺ نے اسے کفارہ ادا کرنے کا حکم نہیں دیا۔