المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
سعيد بن جبير، عن ابن عباس باب: سعید بن جبیر کی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایات
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْجَارُودِ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا الْحَكَمُ بْنُ ظَبْيَانَ الْمَازِنِيُّ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ سَلَمَةَ الْوَرَّاقُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَطَاءِ بْنِ مُقَدَّمٍ، ثنا حَبِيبُ بْنُ أَبِي عَمْرَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: سَرِيَّةً فِيهَا الْمِقْدَادُ بْنُ الْأَسْوَدِ فَلَمَّا أَتَوُا الْقَوْمَ وَجَدُوهُمْ قَدْ تَفَرَّقُوا وَبَقِيَ رَجُلٌ لَهُ مَالٌ كَثِيرٌ لَمْ يَبْرَحْ، فَقَالَ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، فَأَهْوَى إِلَيْهِ الْمِقْدَادُ فَقَتَلَهُ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِهِ: قَتَلْتَ رَجُلًا قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَاللهِ لَيُذْكَرَنَّ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَلَمَّا قَدِمُوا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ , إِنَّ رَجُلًا شَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ فَقَتَلَهُ الْمِقْدَادُ، فَقَالَ: " ادْعُوا لِي الْمِقْدَادَ، فَقَالَ: " يَا مِقْدَادُ قَتَلْتَ رَجُلًا قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، فَكَيْفَ لَكَ بِلَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ؟ " قَالَ: فَأَنْزَلَ اللهُ: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا ضَرَبْتُمْ فِي سَبِيلِ اللهِ فَتَبَيَّنُوا وَلَا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ السَّلَامَ لَسْتَ مُؤْمِنًا تَبْتَغُونَ عَرَضَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا فَعِنْدَ اللهِ مَغَانِمُ كَثِيرَةٌ، كَذَلِكَ كُنْتُمْ مِنْ قَبْلُ فَمَنَّ اللهُ عَلَيْكُمْ} [النساء: ٩٤] ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كَانَ رَجُلًا مُؤْمِنًا يُخْفِي إِيمَانَهُ مَعَ قَوْمٍ كُفَّارٍ فَقَتَلْتَهُ، وَكَذَلِكَ كُنْتَ أَنْتَ تُخْفِي إِيمَانَكَ بِمَكَّةَ»سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے ایک لشکر بھیجا جس میں سیدنا مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے۔ جب وہ اس قوم کے پاس پہنچے تو دیکھا کہ وہ منتشر ہو چکی ہے، اور ایک شخص جس کے پاس بہت مال تھا، وہیں رہ گیا تھا۔ اس نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ اس کی طرف لپکے اور اسے قتل کر دیا۔ ان کے ایک ساتھی نے ان سے کہا: تم نے ایک ایسے شخص کو قتل کر دیا جس نے کہا تھا: اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں! اللہ کی قسم! یہ بات ضرور نبی کریم ﷺ سے بیان کی جائے گی۔ چنانچہ جب وہ نبی کریم ﷺ کے پاس آئے تو کہا: یا رسول اللہ! ایک شخص نے گواہی دی تھی کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، پھر بھی مقداد نے اسے قتل کر دیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میرے پاس مقداد کو بلاؤ۔“ پھر فرمایا: ”اے مقداد! تم نے ایک ایسے شخص کو قتل کیا جس نے کہا تھا: اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، تو تم لا الہ الا اللہ کے بارے میں کیا کہو گے (اسے کیسے جھٹلاؤ گے)؟“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: تو اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی: ”اے ایمان والو! جب تم اللہ کے راستے میں نکلو تو خوب تحقیق کر لیا کرو، اور جو تمہیں سلام پیش کرے اسے یہ نہ کہو کہ تم مومن نہیں ہو، تم دنیا کی زندگی کا سامان چاہتے ہو، حالانکہ اللہ کے پاس بہت سی غنیمتیں ہیں، تم بھی پہلے ایسے ہی تھے پھر اللہ نے تم پر احسان کیا“ [سورۃ النساء: 94]، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”وہ ایک مومن شخص تھا جو کافر قوم کے درمیان اپنا ایمان چھپائے ہوئے تھا، تو تم نے اسے قتل کر دیا، اور اسی طرح تم بھی مکہ میں اپنا ایمان چھپاتے تھے۔“