حدیث نمبر: 12318
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ عَبْدًا أَسْوَدَ جَاءَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ: يَمُرُّ بِيَ ابْنُ السَّبِيلِ، وَأَنَا فِي مَاشِيَةٍ لِسَيِّدِي فَأَسْقِي مِنْ أَلْبَانِهَا بِغَيْرِ إِذْنِهِمْ؟ قَالَ: «لَا» قَالَ: فَإِنِّي أَرْمِي فَأُصْمِي وَأُنْمِي قَالَ: «كُلْ مَا أَصْمَيْتَ وَدَعْ مَا أَنْمَيْتَ»
ترجمہ

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک سیاہ فام غلام نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور کہنے لگا: میں اپنے آقا کے مویشیوں کے پاس ہوتا ہوں تو کوئی مسافر میرے پاس سے گزرتا ہے، کیا میں ان کی اجازت کے بغیر اسے دودھ پلا دوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں۔“ اس نے کہا: اور اگر میں شکار پر تیر چلاؤں اور وہ فوراً مر جائے یا بھاگ کر کچھ دیر بعد مرے تو؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو فوراً مر جائے اسے کھاؤ، اور جو کچھ دیر بعد مرے اسے چھوڑ دو۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 12318
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 12، صفحہ 27، حدیث 12370