المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
سعيد بن جبير، عن ابن عباس باب: سعید بن جبیر کی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایات
حدیث نمبر: 12317
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُرَاتٍ الْقَزَّازُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ هَاشِمٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو، وَالْحَكَمُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ: إِنَّ عَلَيَّ رَقَبَةً وَعِنْدِي جَارِيَةٌ سَوْدَاءُ أَعْجَمِيَّةٌ، فَقَالَ: " ائْتِنِي بِهَا، فَقَالَ: «أَتَشْهَدِينَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ؟» قَالَتْ: نَعَمْ. قَالَ: «أَتَشْهَدِينَ أَنِّي رَسُولُ اللهِ؟» قَالَتْ: نَعَمْ. قَالَ: «فَأَعْتِقْهَا»ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور کہنے لگا: مجھ پر ایک غلام آزاد کرنا لازم ہے اور میرے پاس ایک سیاہ فام عجمی لونڈی ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے میرے پاس لاؤ۔“ آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا تم گواہی دیتی ہو کہ اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں؟“ اس نے کہا: جی ہاں۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا تم گواہی دیتی ہو کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟“ اس نے کہا: جی ہاں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو اسے آزاد کر دو۔“