المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
مقسم عن ابن عباس باب: مقسم کی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایات
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَلْمٍ الرَّازِيُّ، ثنا سَهْلُ بْنُ عُثْمَانَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَدِمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ فِي الْهُدْنَةِ الَّتِي كَانَتْ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْمُشْرِكِينَ، وَالْمُشْرِكُونَ عِنْدَ بَابِ النَّدْوَةِ مِمَّا يَلِي الْحَجَرِ، وَقَدْ تَحَدَّثُوا أَنَّ بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابِهِ جَهْدًا وهَزْلًا، فَلَمَّا اسْتَلَمُوا الْحَجَرَ قَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّهُمْ تَحَدَّثُوا أَنَّ بِكُمْ جَهْدًا وهَزْلًا فَارْمُلُوا الثَّلَاثَ أَشْوَاطٍ حَتَّى يَرَوْنَ أَنَّ بِكُمْ قُوَّةً» فَلَمَّا اسْتَلَمُوا الْحَجَرَ رَفَعُوا أَرْجُلَهُمْ فَرَمَلُوا فَقَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ أَلَيْسَ يَزْعُمُونَ أَنَّ بِهِمْ جَهْدًا وهَزْلًا لَا يَرْضَوْنَ بِالْمَشْي حَتَّى يَسْعَوْنَ سَعْيًاسیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ اور آپ ﷺ کے صحابہ اس صلح کے دوران آئے جو آپ ﷺ اور مشرکین کے درمیان تھی، اور مشرکین دارالندوہ کے دروازے پر، حجرِ اسود کی طرف، موجود تھے، اور وہ (مشرکین) یہ کہتے پھرے تھے کہ رسول اللہ ﷺ اور آپ ﷺ کے صحابہ کمزور اور لاغر ہو چکے ہیں، تو جب انہوں نے حجرِ اسود کا استلام کیا تو رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا: ”وہ کہتے پھرتے ہیں کہ تم کمزور اور لاغر ہو چکے ہو، تو پہلے تین چکروں میں رمل کرو تاکہ وہ دیکھیں کہ تم میں طاقت ہے۔“ چنانچہ جب انہوں نے حجرِ اسود کا استلام کیا تو اپنے پاؤں اٹھا کر رمل کیا، تو مشرکین آپس میں کہنے لگے: کیا یہ وہی نہیں جن کے بارے میں ان کا خیال تھا کہ وہ کمزور اور لاغر ہیں؟ یہ تو چلنے پر راضی ہی نہیں، دوڑ رہے ہیں۔