حدیث نمبر: 12009
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَبِي لَيْلَى، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: بَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ يُنَاجِيهِ إِذِ انْشَقَّ أُفُقُ السَّمَاءِ فَأَخَذَ جِبْرِيلُ يَدْنُو مِنَ الْأَرْضِ، وَيَتَمَايَلُ فَإِذَا مَلَكٌ قَدْ مَثُلَ بَيْنَ يَدَيِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ إِنَّ اللهَ يَأْمُرُكَ أَنْ تَخْتَارَ بَيْنَ نَبِيٍّ عَبْدٍ، وَمَلِكٍ نَبِيٍّ قَالَ: " فَأَشَارَ جِبْرِيلُ إِلَيَّ بِيَدِهِ أَنْ تَوَاضَعَ فَعَرَفْتُ أَنَّهُ لِي نَاصِحٌ فَقُلْتُ: عَبْدٌ نَبِيٌّ فَعَرَجَ ذَلِكَ الْمَلَكُ إِلَى السَّمَاءِ فَقُلْتُ: يَا جِبْرِيلُ قَدْ كُنْتُ أَرَدْتُ أَنْ أَسْأَلَكَ عَنْ هَذَا فَرَأَيْتُ مِنْ حَالِكَ مَا شَغَلَنِي عَنِ الْمَسْأَلَةِ، فَمَنْ هَذَا يَا جِبْرِيلُ؟ قَالَ: هَذَا إِسْرَافِيلُ خَلَقَهُ اللهُ يَوْمَ خَلَقَهُ بَيْنَ يَدَيْهِ صافًّا قَدَمَيْهِ لَا يَرْفَعُ طَرْفَهُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الرَّبِّ سَبْعُونَ نُورًا مَا مِنْهَا مِنْ نُورٍ يَكَادُ يَدْنُو مِنْهُ إِلَّا احْتَرَقَ، بَيْنَ يَدَيْهِ لَوْحٌ فَإِذَا أَذِنَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي شَيْءٍ فِي السَّمَاءِ أَوْ فِي الْأَرْضِ ارْتَفَعَ ذَلِكَ الْوَحْيُ فَضَرَبَ جَبْهَتَهُ فَيَنْظُرُ فَإِنْ كَانَ مِنْ عَمَلِي أَمَرَنِي بِهِ، وَإِنْ كَانَ مِنْ عَمِلِ مِيكَائِيلَ أَمَرَهُ بِهِ، وَإِنْ كَانَ مِنْ عَمِلِ مَلَكِ الْمَوْتِ أَمَرَهُ بِهِ، فَقُلْتُ: يَا جِبْرِيلُ، وَعَلَى أَيِّ شَيْءٍ أَنْتَ؟ قَالَ: عَلَى الرِّيحِ وَالْجُنُودِ قُلْتُ: عَلَى أَيِّ شَيْءٍ مِيكَائِيلُ؟ قَالَ: عَلَى النَّبَاتِ وَالْقَطْرِ قُلْتُ: عَلَى أَيِّ شَيْءٍ مَلَكُ الْمَوْتِ؟ قَالَ: عَلَى قَبْضِ الْأَنْفُسِ وَمَا ظَنَنْتُ أَنَّهُ نَزَلَ إِلَّا لَقِيَامِ السَّاعَةِ وَمَا الَّذِي رَأَيْتَ مِنِّي إِلَّا خَوْفًا مِنْ قِيَامِ السَّاعَةِ "
ترجمہ

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ کے ساتھ جبریل علیہ السلام سرگوشی کر رہے تھے کہ اچانک آسمان کا کنارہ پھٹ گیا، تو جبریل علیہ السلام زمین کے قریب ہونے لگے اور جھکنے لگے، پھر ایک فرشتہ نبی کریم ﷺ کے سامنے آ کھڑا ہوا اور کہا: اے محمد! اللہ آپ کو حکم دیتا ہے کہ آپ ایک غلام نبی اور ایک بادشاہ نبی میں سے انتخاب کر لیں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جبریل علیہ السلام نے مجھے اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا کہ عاجزی اختیار کرو، تو میں سمجھ گیا کہ وہ میرا خیرخواہ ہے، تو میں نے کہا: غلام نبی۔ اس پر وہ فرشتہ آسمان کی طرف چڑھ گیا، تو میں نے کہا: اے جبریل! میں تم سے اس کے بارے میں پوچھنا چاہتا تھا، لیکن تمہاری حالت دیکھ کر سوال کرنا بھول گیا، یہ کون تھا اے جبریل؟ انہوں نے کہا: یہ اسرافیل علیہ السلام ہیں، اللہ نے جس دن انہیں پیدا کیا اسی دن سے یہ اس کے سامنے اپنے دونوں قدم جوڑے کھڑے ہیں، اپنی نظر نہیں اٹھاتے، ان کے اور رب کے درمیان ستر نور ہیں، ان میں سے کوئی نور بھی ان کے قریب ہونے لگے تو جل جائے۔ ان کے سامنے ایک لوح ہے، جب اللہ عزوجل آسمان یا زمین میں کسی چیز کی اجازت دیتا ہے تو وہ وحی بلند ہوتی ہے اور ان کی پیشانی پر ٹکراتی ہے، تو وہ دیکھتے ہیں کہ اگر یہ میرا (جبریل کا) کام ہے تو مجھے اس کا حکم دیتے ہیں، اور اگر میکائیل کا کام ہے تو انہیں حکم دیتے ہیں، اور اگر ملک الموت کا کام ہے تو انہیں حکم دیتے ہیں۔ میں نے کہا: اے جبریل! اور آپ کس چیز پر مقرر ہیں؟ انہوں نے کہا: ہوا اور لشکروں پر۔ میں نے کہا: میکائیل کس چیز پر مقرر ہیں؟ کہا: نباتات اور بارش پر۔ میں نے کہا: ملک الموت کس چیز پر مقرر ہیں؟ کہا: روحیں قبض کرنے پر۔ اور میں نے یہی سمجھا کہ وہ صرف قیامت کے قائم ہونے کی وجہ سے اترے تھے، اور تم نے میری جو حالت دیکھی وہ صرف قیامت کے قائم ہونے کے خوف کی وجہ سے تھی۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 12009
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 11، صفحہ 379، حدیث 12061