حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، وَعَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، قَالَا: ثنا تَمِيمُ بْنُ الْمُنْتَصِرِ، ثنا إِسْحَاقُ الْأَزْرَقُ، عَنْ شَرِيكٍ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: اشْتَرَتْ عَائِشَةُ بَرِيرَةَ مِنَ الْأَنْصَارِ، لِتُعْتِقَهَا، وَاشْتَرَطُوا عَلَيْهَا وَلَاءَهَا، فَشَرَطَتْ لَهُمْ ذَلِكَ، فَلَمَّا جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ فَقَالَ: «إِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ» ثُمَّ صَعِدَ الْمِنْبَرَ فَقَالَ: «مَا بَالُ أَقْوَامٍ يَشْتَرِطُونَ شُرُوطًا لَيْسَتْ فِي كِتَابِ اللهِ، مَا كَانَ شَرْطًا لَيْسَ فِي كِتَابِ اللهِ فَمَرْدُودٌ إِلَى كِتَابِ اللهِ» وَكَانَ لِبَرِيرَةَ زَوْجٌ فَخَيَّرَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنْ شَاءَتْ أَنْ تَمْكُثَ مَعَ زَوْجِهَا كَمَا هِيَ، وَإِنْ شَاءَتْ فَارَقَتْهُ، فَفَارَقَتْهُ، فَدَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَأَى رِجْلَ شَاةٍ فَقَالَ لِعَائِشَةَ: «أَلَا تَطْبُخِي لَنَا هَذَا اللَّحْمَ؟» قَالَتْ: تُصِدِّقَ بِهِ عَلَى بَرِيرَةَ فَأَهْدَتْهُ لَنَا، قَالَ: «اطْبُخُوهُ فَهُوَ لَهَا صَدَقَةٌ وَلَنَا هَدِيَّةٌ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بریرہ رضی اللہ عنہا کو انصار سے خریدا تاکہ انہیں آزاد کر دیں، تو انہوں نے شرط رکھی کہ ان کا ولاء ان ہی کے پاس رہے گا، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ شرط مان لی، پھر جب نبی کریم ﷺ تشریف لائے تو انہوں نے آپ کو یہ بات بتائی، آپ ﷺ نے فرمایا: ”ولاء تو صرف اسی کا حق ہے جو آزاد کرے۔“ پھر آپ ﷺ منبر پر چڑھے اور فرمایا: ”لوگوں کا کیا حال ہے کہ وہ ایسی شرطیں لگاتے ہیں جو اللہ کی کتاب میں نہیں؟ جو شرط اللہ کی کتاب میں نہ ہو وہ باطل ہے، اللہ کی کتاب کی طرف لوٹائی جائے گی۔“ اور بریرہ کا ایک شوہر تھا، تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں اختیار دیا کہ اگر چاہیں تو اپنے شوہر کے ساتھ رہیں جیسی ہیں، اور اگر چاہیں تو الگ ہو جائیں، چنانچہ انہوں نے شوہر سے علیحدگی اختیار کر لی۔ پھر نبی کریم ﷺ اندر تشریف لائے تو بکری کی ایک ران دیکھی، آپ ﷺ نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: ”کیا تم ہمارے لیے یہ گوشت نہیں پکاؤ گی؟“ انہوں نے عرض کیا: یہ تو بریرہ پر صدقہ کیا گیا تھا، انہوں نے یہ ہمیں ہدیہ کر دیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے پکا لو، یہ اس کے لیے صدقہ ہے اور ہمارے لیے ہدیہ ہے۔“
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ثنا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِي اللهُ عَنْهُمَا، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَعَنَ الْمُخَنَّثِينَ، وَقَالَ: «أَخْرِجُوهُمْ مِنْ بُيُوتِكُمْ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے مخنثین پر لعنت فرمائی اور فرمایا: ”انہیں اپنے گھروں سے نکال دو۔“
حَدَّثَنَا يُوسُفُ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ أَبُو دَاوُدَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ مُعَاذٍ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: " خَشِيَتْ سَوْدَةُ أَنْ يُطَلِّقَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ أَمْسِكْنِي وَلَا تُطَلِّقْنِي، وَاجْعَلْ يَوْمِي لِعَائِشَةَ، فَفَعَلَ، وَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ {فَلَا جُنَاحَ} [النساء: ١٢٨] عَلَيْهِمَا أَنْ يُصْلِحَا بَيْنَهُمَا صُلْحًا وَالصُّلْحُ خَيْرٌ فَمَا اصْطَلَحَا عَلَيْهِ مِنْ شَيْءٍ فَهُوَ جَائِزٌ "
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا کو خدشہ ہوا کہ نبی کریم ﷺ انہیں طلاق دے دیں گے، تو انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے رکھیے اور طلاق نہ دیجیے، اور میری باری سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو دے دیجیے۔ آپ ﷺ نے ایسا ہی کیا، تو اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی: ”پس ان دونوں پر کوئی گناہ نہیں کہ وہ آپس میں کوئی صلح کر لیں، اور صلح بہتر ہے“ [سورۃ النساء: 128]، پس وہ جس چیز پر بھی صلح کر لیں وہ جائز ہے۔
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَائِلَةَ الْأَصْبَهَانِيُّ، وَيُوسُفُ الْقَاضِي، قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ مُعَاذٍ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِي اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: " كَانَتْ لِعَبْدِ اللهِ بْنِ أُبَيٍّ جَارِيَةٌ تَزْنِي فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَلَمَّا حُرِّمَ الزِّنَا، قَالَ: أَلَا تَزْنِينَ؟ قَالَتْ: لَا، وَاللهِ لَا أَزْنِي أَبَدًا فَنَزَلَتْ {وَلَا تُكْرِهُوا فَتَيَاتِكُمْ عَلَى الْبِغَاءِ} [النور: ٣٣] "
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: عبداللہ بن ابی (بن سلول) کی ایک باندی تھی جو جاہلیت میں زنا کیا کرتی تھی، جب زنا حرام قرار دیا گیا تو اس نے کہا: کیا اب تو زنا نہیں کرے گی؟ اس نے کہا: نہیں، اللہ کی قسم! میں کبھی زنا نہیں کروں گی۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی: ”اور اپنی لونڈیوں کو بدکاری پر مجبور نہ کرو“ [سورۃ النور: 33]۔
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، قَالَا: ثنا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ مُعَاذٍ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِي اللهُ عَنْهُمَا: " أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آخَا بَيْنَ أَصْحَابِهِ فَجَعَلُوا يَتَوَارَثُونَ لِذَلِكَ حَتَّى نَزَلَتْ {وَأُولُو الْأَرْحَامِ بَعْضُهُمْ أَوْلَى بِبَعْضٍ} [الأحزاب: ٦] فَتَوَارَثُوا بِالنَّسَبِ "
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے اپنے صحابہ کے درمیان بھائی چارہ قائم کیا، تو وہ اسی بنا پر ایک دوسرے کے وارث بننے لگے، یہاں تک کہ یہ آیت نازل ہوئی: ”اور رشتہ دار ایک دوسرے کے زیادہ حق دار ہیں“ [سورۃ الاحزاب: 6]، تو پھر وہ نسب کی بنیاد پر وارث بننے لگے۔
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ مُعَاذٍ، ثنا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِي اللهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «صَامَ فِي السَّفَرِ وَأَفْطَرَ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سفر میں روزہ بھی رکھا اور افطار بھی کیا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا عَمِّي الْقَاسِمُ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَعْلَى، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ قَرْمٍ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِي اللهُ عَنْهُمَا، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِعَلِيٍّ: «نَاوِلْنِي كَفًّا مِنْ حَصْبَاءَ» فَنَاوَلَهُ " فَرَمَى بِهِ وُجُوهَ الْقَوْمِ، فَمَا بَقِي أَحَدٌ مِنَ الْقَوْمِ إِلَّا امْتَلَأَتْ عَيْنَاهُ مِنَ الْحَصْبَاءِ، فَنَزَلَتْ {وَمَا رَمَيْتَ إِذْ رَمَيْتَ وَلَكِنَّ اللهَ رَمَى} [الأنفال: ١٧] "
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: نبی کریم ﷺ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”مجھے کنکریوں کی ایک مٹھی دو۔“ انہوں نے دے دی، تو آپ ﷺ نے وہ قوم کے چہروں پر پھینک دیں، اور ان میں سے کوئی ایسا نہ رہا جس کی آنکھیں کنکریوں سے نہ بھر گئی ہوں، تو یہ آیت نازل ہوئی: ”اور اے نبی! جب آپ نے کنکریاں پھینکیں تو آپ نے نہیں پھینکیں بلکہ اللہ نے پھینکیں“ [سورۃ الانفال: 17]۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا زَائِدَةُ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِي اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: «صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَنْ مَعَهُ نَحْوَ بَيْتِ الْمَقْدِسِ سِتَّةَ عَشَرَ شَهْرًا، ثُمَّ حُوِّلَتِ الْقِبْلَةُ بَعْدُ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: نبی کریم ﷺ اور آپ کے ساتھیوں نے سولہ ماہ بیت المقدس کی طرف نماز پڑھی، پھر اس کے بعد قبلہ تبدیل کر دیا گیا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا زَائِدَةُ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ «يُصَلِّي عَلَى الْخُمْرَةِ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ خمرہ (چھوٹے مصلے) پر نماز پڑھا کرتے تھے۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا عَمْرُو بْنُ حَمَّادِ بْنِ طَلْحَةَ الْقَنَّادُ، ثنا أَسْبَاطُ بْنُ نَصْرٍ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَنَّهُ كَانَ يُصَلِّي عَلَى حَصِيرٍ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ چٹائی پر نماز پڑھا کرتے تھے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا زَائِدَةُ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «صُومُوا لِرُؤْيَتِهِ وَأَفْطِرُوا لِرُؤْيَتِهِ، فَإِنْ حَالَ دُونَهُ غَيَايَةٌ، فَأَكْمِلُوا الْعِدَّةَ، وَالشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اس کی رؤیت پر روزہ رکھو اور اس کی رؤیت پر روزہ افطار کرو، اور اگر بادل حائل ہو جائیں تو گنتی پوری کرو، اور مہینہ انتیس دن کا ہے۔“
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا عَبَّادُ بْنُ يَعْقُوبَ الْأَسَدِيُّ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ أَبِي ثَوْرٍ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا تَقَدَّمُوا الشَّهْرَ صُومُوا لِرُؤْيَتِهِ وَأَفْطِرُوا لِرُؤْيَتِهِ، فَإِنْ كَانَتْ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُ غَيَايَةٌ، فَأَتِمُّوا الْعِدَّةَ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”مہینے سے آگے نہ بڑھو، اس کی رؤیت پر روزہ رکھو اور اس کی رؤیت پر روزہ افطار کرو، اور اگر تمہارے اور اس کے درمیان بادل حائل ہو جائیں تو گنتی پوری کرو۔“
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِي اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَصُومُوا قَبْلَ رَمَضَانَ صُومُوا لِرُؤْيَتِهِ وَأَفْطِرُوا لِرُؤْيَتِهِ، فَإِنْ حَالَتْ دُونَهُ غَيَايَةٌ، فَأَكْمِلُوا ثَلَاثِينَ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”رمضان سے پہلے روزہ مت رکھو، اس کی رؤیت پر روزہ رکھو اور اس کی رؤیت پر روزہ افطار کرو، اور اگر بادل حائل ہو جائیں تو تیس دن پورے کرو۔“
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحَسَنُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَسْتَقْبِلُوا الشَّهْرَ، صُومُوا لِرُؤْيَتِهِ، وَأَفْطِرُوا لِرُؤْيَتِهِ، فَإِنْ حَالَتْ دُونَهُ غَيَايَةٌ، فَأَكْمِلُوا الْعِدَّةَ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مہینے کا استقبال نہ کرو، اس کی رؤیت پر روزہ رکھو اور اس کی رؤیت پر روزہ افطار کرو، اور اگر بادل حائل ہو جائیں تو گنتی پوری کرو۔“
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ح، وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ التَّمَّارُ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَا: ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَعَلَ يَتَكَلَّمُ بِكَلَامٍ بَيِّنٍ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ مِنَ الْبَيَانِ سِحْرًا، وَإِنَّ مِنَ الشِّعْرِ حِكَمًا»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ایک دیہاتی رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور صاف ستھری فصیح گفتگو کرنے لگا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بعض بیان جادو ہوتا ہے، اور بعض شعر حکمت ہوتی ہے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُزَيْقِ بْنِ جَامِعٍ الْمِصْرِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ، ثنا مَعْنُ بْنُ عِيسَى، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ طَهْمَانَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِي اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ مِنَ الشِّعْرِ حِكَمًا»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بعض شعر حکمت ہوتی ہے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ السَّقَطِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ زِيَادٍ، سَبَلَانُ، ثنا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ مِنَ الشِّعْرِ حِكْمَةً»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بعض شعر حکمت ہوتا ہے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُزَيْقِ بْنِ جَامِعٍ الْمِصْرِيُّ، ثنا يُوسُفُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْعَطَّارُ، ثنا شَرِيكٌ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، رَفَعَهُ قَالَ: «إِنَّ مِنَ الشِّعْرِ حِكْمَةً، وَمِنَ الْبَيَانِ سِحْرًا»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مرفوعاً روایت ہے: ”بعض شعر حکمت ہے، اور بعض بیان جادو ہے۔“
حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى السَّاجِيُّ، ثنا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ، ثنا الْمُفَضَّلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْكُوفِيُّ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِي اللهُ عَنْهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ مِنَ الشِّعْرِ حِكْمَةً»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”بعض شعر حکمت ہوتا ہے۔“
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ هَارُونَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ رَاهَوَيْهِ، قَالَ: قُلْتُ لِأَبِي أُسَامَةَ: أَحَدَّثَكُمْ زَائِدَةُ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ مِنَ الشِّعْرِ حِكَمًا، وَإِنَّ مِنَ الْبَيَانِ سِحْرًا» وَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَمَثَّلُ مِنَ الْأَشْعَارِ:
[البحر الطويل]
وَيَأْتِيكَ بِالْأَخْبَارِ مَنْ لَمْ تُزَوِّدِ؟
قَالَ: نَعَمْ
[البحر الطويل]
وَيَأْتِيكَ بِالْأَخْبَارِ مَنْ لَمْ تُزَوِّدِ؟
قَالَ: نَعَمْ
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”بعض شعر حکمت ہوتا ہے، اور بعض بیان جادو ہوتا ہے۔“ اور رسول اللہ ﷺ اشعار میں سے یہ شعر پڑھا کرتے تھے:
[بحرِ طویل]
”اور تمہیں وہ خبریں پہنچا دے گا جسے تم نے زادِ راہ نہیں دیا؟“
[بحرِ طویل]
”اور تمہیں وہ خبریں پہنچا دے گا جسے تم نے زادِ راہ نہیں دیا؟“
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ح، وَحَدَّثَنَا طَالِبُ بْنُ قُرَّةَ الْأَذَنِيُّ، ثنا ابْنُ الطَّبَّاعِ، قَالَا: ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا عَدْوَى، وَلَا طِيَرَةَ، وَلَا هَامَةَ، وَلَا صَفَرَ» فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّا لَنَأْخُذُ الشَّاةَ الْجَرْبَاءَ فَنَطْرَحُهَا فِي الْغَنَمِ فَتَجْرَبُ قَالَ: «فَمَنْ أَعْدَى الْأَوَّلَ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”کوئی بیماری خود بخود نہیں لگتی، بدشگونی کی کوئی حقیقت نہیں، الو کی بدشگونی کی کوئی حقیقت نہیں، اور صفر کے مہینے کی نحوست کی کوئی حقیقت نہیں۔“ ایک شخص نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم خارش زدہ بکری لے کر بکریوں میں ڈال دیتے ہیں تو وہ سب خارش زدہ ہو جاتی ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو پہلی کو کس نے خارش زدہ کیا؟“
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: مَاتَتْ شَاةٌ لِسَوْدَةَ بِنْتِ زَمْعَةَ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ مَاتَتْ فُلَانَةُ، يَعْنِي: الشَّاةَ، فَقَالَ: «أَلَا أَخَذْتُمْ مَسْكَهَا» فَقَالُوا: أنَأْخُذُ مَسْكَ شَاةٍ قَدْ مَاتَتْ؟ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّمَا قَالَ: {قُلْ لَا أَجِدُ فِيمَا أُوحِيَ إِلَيَّ مُحَرَّمًا عَلَى طَاعِمٍ يَطْعَمُهُ إِلَّا أَنْ يَكُونَ مَيْتَةً أَوْ دَمًا مَسْفُوحًا أَوْ لَحْمَ خِنْزِيرٍ} إِنَّكُمْ لَا تَطْعَمُونَهُ، إِنَّمَا تَدْبُغُونَهُ فَتَنْتَفِعُونَ بِهِ " فَأَرْسَلَتْ إِلَيْهَا فَسَلَخَتْ مَسْكَهَا فَدَبَغَتْهُ فَاتَّخَذَتْ مِنْهُ قِرْبَةً حَتَّى تَخَرَّقَتْ عِنْدَهَا
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: سیدہ سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا کی ایک بکری مر گئی تو انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! فلاں (یعنی بکری) مر گئی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم نے اس کی کھال کیوں نہ اتار لی؟“ انہوں نے عرض کیا: کیا ہم مری ہوئی بکری کی کھال اتار لیں؟ رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا: ”اللہ نے تو صرف یہ فرمایا ہے: کہہ دیجیے! میں اس میں جو مجھ پر وحی کی گئی ہے کسی کھانے والے پر کوئی چیز حرام نہیں پاتا سوائے مردار، بہتا ہوا خون یا خنزیر کے گوشت کے - تم تو اسے کھا نہیں رہیں، بلکہ اسے دباغت دے کر اس سے فائدہ اٹھا رہی ہو۔“ چنانچہ انہوں نے اسے لانے کے لیے پیغام بھیجا، اس کی کھال اتاری اور اسے دباغت دی، پھر اس سے ایک مشک بنا لی، یہاں تک کہ وہ ان کے پاس ہی پھٹ گئی۔
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: مَاتَتْ شَاةٌ لِأُمِّ الْأَسْوَدِ فَأَخْبَرَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: {قُلْ لَا أَجِدُ فِيمَا أُوحِيَ إِلَيَّ مُحَرَّمًا عَلَى طَاعِمٍ يَطْعَمُهُ إِلَّا أَنْ يَكُونَ مَيْتَةً أَوْ دَمًا} إِلَى آخِرِ الْآيَةِ وَقَالَ: «إِنَّكُمْ لَسْتُمْ تَأْكُلُونَهُ فَبَعَثَتْ إِلَيْهَا فَسَلَخَتْها» . قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَجَعَلُوا مَسْكَهَا قِرْبَةً رَأَيْتُهَا بَعْدَ سَنَةٍ. قَالَ أَبُو الْأَحْوَصِ: أُمُّ ألاسودِ، وَإِنَّمَا الصَّوَابُ سَوْدَةُ
ترجمہ
…نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”کہہ دیجیے! میں اس میں جو مجھ پر وحی کی گئی ہے کسی کھانے والے پر کوئی چیز حرام نہیں پاتا سوائے مردار یا بہتے ہوئے خون کے“ آخر آیت تک، اور فرمایا: ”تم اسے کھا تو نہیں رہیں۔“ چنانچہ انہوں نے پیغام بھیج کر اس کی کھال اتروائی۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: انہوں نے اس کی کھال سے ایک مشک بنا لی، میں نے اسے ایک سال بعد بھی دیکھا۔ ابوالاحوص کہتے ہیں: (روایت میں نام) ام الاسود آیا ہے، جبکہ درست نام سودہ ہے۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا عَمْرُو بْنُ حَمَّادِ بْنِ طَلْحَةَ الْقَنَّادُ، ثنا أَسْبَاطُ بْنُ نَصْرٍ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، قَالَ: كَانَتِ امْرَأَتَانِ ضُرَّتانِ، فَكَانَتْ بَيْنَهُمَا صَخَبٌ فَرَمَتْ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَى بِحَجَرٍ فَأَسْقَطَتْ غُلَامًا مَيِّتًا، وَمَاتَتِ الْمَرْأَةُ، فَقَضَى عَلَى الْعَاقِلَةِ الدِّيَةَ فَقَالَ عَمُّهَا: إِنَّهَا قَدْ أَسْقَطَتْ يَا رَسُولَ اللهِ غُلَامًا قَدْ نَبَتَ شَعْرُهُ، فَقَالَ أَبُو الْقَاتِلَةِ: إِنَّهُ كَاذِبٌ إِنَّهُ وَاللهِ مَا اسْتَهَلَّ، وَلَا عَقِلَ، وَلَا شَرِبَ، وَلَا أَكَلَ فَمِثْلُهُ يُطَلُّ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَسَجْعُ الْجَاهِلِيَّةِ، وَكَهَانَتُهَا أَرَى فِي الصَّبِيِّ غُرَّةً» . قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: وَكَانَ اسْمُ إِحْدَاهُمَا مُلَيْكَةَ، وَالْأُخْرَى أُمَّ عطيفٍ
ترجمہ
…اس پر مقتولہ کے وارث نے کہا: یہ جھوٹا ہے، اللہ کی قسم! نہ اس نے پیدائش کے وقت آواز نکالی، نہ کوئی حرکت کی، نہ کچھ پیا، نہ کھایا، سو ایسے بچے کا خون رائیگاں جاتا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”کیا یہ جاہلیت کی سجع اور کہانت ہے؟ میں بچے میں غرہ (یعنی دیت) واجب سمجھتا ہوں۔“ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ان دونوں میں سے ایک کا نام مُلَیکہ اور دوسری کا نام امِ عطیف تھا۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا عَمْرُو بْنُ حَمَّادٍ، ثنا أَسْبَاطُ بْنُ نَصْرٍ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِي اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: «تَزَوَّجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے احرام کی حالت میں نکاح کیا۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْبَرْبَهاريُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا زَائِدَةُ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اجْتَنِبُوا أَنْ تَشْرَبُوا فِي الدُّبَّاءِ، وَالْحَنْتَمِ، وَالْمُزَفَّتِ، وَاشْرَبُوا فِي السِّقَاءِ، فَإِنْ رَهِبْتُمْ غَلْيَتَهُ فَأَمِدُّوهُ بِالْمَاءِ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”کدو کے برتن، سبز مٹکے اور روغنی برتن میں پینے سے بچو، اور مشک میں پیو، اور اگر تمہیں اس کے ابل پڑنے کا اندیشہ ہو تو اس میں پانی ملا دو۔“
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: أُهْدِيَ لِبَعْضِ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَبٌّ نَضِجٌ فَبَعَثَتْ بِهِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَكَلَ الْقَوْمُ، وَلَمْ يَأْكُلِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ: يَا رَسُولَ اللهِ حَرَامٌ هُوَ فَنَتْرُكُهُ؟ قَالَ: «لَا، وَلَكِنِّي أَقْذُرُهُ»
ترجمہ
…ایک پکا ہوا گوہ کا گوشت تھا، تو انہوں نے اسے نبی کریم ﷺ کی طرف بھیجا، لوگوں نے اسے کھا لیا، لیکن نبی کریم ﷺ نے نہیں کھایا، تو خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا یہ حرام ہے کہ ہم اسے چھوڑ دیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں، لیکن مجھے اس سے کراہت آتی ہے۔“
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا عَبَّادُ بْنُ يَعْقُوبَ الْأَسَدِيُّ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ أَبِي ثَوْرٍ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: أُهْدِيَ لِبَعْضِ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَبٌّ، فَأَرْسَلَتْ بِهِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَكَلَ الْقَوْمُ غَيْرُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ حَرَامٌ هُوَ يَا رَسُولَ اللهِ فَنَتْرُكُهُ؟ قَالَ: «لَا، وَلَكِنِّي أَقْذُرُهُ»
ترجمہ
…پھر انہوں نے اسے نبی کریم ﷺ کی طرف بھیج دیا، تو نبی کریم ﷺ کے سوا سب لوگوں نے اسے کھایا، تو خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا یہ حرام ہے کہ ہم اسے چھوڑ دیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں، لیکن مجھے اس سے کراہت آتی ہے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فِي قَوْلِهِ: {حُرِّمَتْ عَلَيْكُمْ أُمَّهَاتُكُمْ} [النساء: ٢٣] قَالَ: «حُرِّمَ عَلَيْكُمْ سَبْعٌ مِنَ النَّسَبِ، وَسَبْعٌ مِنَ الصِّهْرِ» ، وَقَوْلِهِ {وَأُحِلَّ لَكُمْ مَا وَرَاءِ ذَلِكُمْ} [النساء: ٢٤] قَالَ: «مِنَ النَّسَبِ» ، وَقَوْلِهِ {كِتَابَ اللهِ عَلَيْكُمْ} [النساء: ٢٤] قَالَ: «الْأَرْبَعُ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اس آیت کے بارے میں فرماتے ہیں: ”تم پر تمہاری مائیں حرام کر دی گئیں“ [سورۃ النساء: 23]، فرمایا: ”تم پر نسب کی سات اور رشتہ داریِ سسرال کی سات عورتیں حرام کی گئیں۔“ اور ”اور اس کے سوا جو ہیں وہ تمہارے لیے حلال کی گئیں“ [سورۃ النساء: 24] کے بارے میں فرمایا: ”یعنی نسب میں سے۔“ اور ”اللہ کا حکم ہے تم پر“ [سورۃ النساء: 24] کے بارے میں فرمایا: ”یعنی چار بیویاں۔“
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا شَرِيكٌ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ عَلِيًّا فَوَضَعَ لَهُ غُسْلًا ثُمَّ أَعْطَاهُ ثَوْبًا فَقَالَ: «اسْتُرْنِي وَوَلِّنِي ظَهْرَكَ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: نبی کریم ﷺ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو حکم دیا، انہوں نے آپ کے لیے غسل کا پانی رکھا، پھر آپ ﷺ نے انہیں ایک کپڑا دے کر فرمایا: ”مجھے چھپا لو اور اپنی پیٹھ میری طرف کر لو۔“
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ السَّدُوسِيُّ، ثنا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، ح، وَحَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، قَالَا: ثنا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَسْتَقْبِلُوا السُّوقَ، وَلَا تُحَفِّلُوا، وَلَا يُنْفِقْ بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بازار پہنچنے سے پہلے قافلے سے نہ ملو، اور جانوروں کے تھن میں دودھ جمع مت کرو، اور تم میں سے کوئی کسی کی بیع پر دھوکے سے زیادہ قیمت نہ لگائے۔“
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِي اللهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَيَقْرَأَنَّ الْقُرْآنَ أَقْوَامٌ مِنْ أُمَّتِي يَمْرُقُونَ مِنَ الْإِسْلَامِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میری امت میں سے کچھ لوگ قرآن پڑھیں گے، لیکن وہ اسلام سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ جَوَّاسٍ الْحَنَفِيُّ، ثنا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فِي قَوْلِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ {وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ} [البقرة: ٢٣٨] قَالَ: «كَانُوا يَتَكَلَّمُونَ فِي الصَّلَاةِ يَجِيءُ خَادِمُ الرَّجُلِ إِلَيْهِ وَهُوَ فِي الصَّلَاةِ فَيُكَلِّمُهُ فِي حَاجَتِهِ فَنُهُوا عَنِ الْكَلَامِ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اس آیت کے بارے میں فرماتے ہیں: ”اور اللہ کے سامنے ادب سے کھڑے ہو جاؤ“ [سورۃ البقرہ: 238]، فرمایا: ”وہ نماز میں بات چیت کیا کرتے تھے، آدمی کا خادم اس کے پاس آتا جبکہ وہ نماز میں ہوتا اور اپنی حاجت کی بات کرتا، تو انہیں بات چیت سے منع کر دیا گیا۔“
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ح، وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ مُنْذِرٍ الْقَزَّازُ، وَمُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ التَّمَّارُ، وَمُحَمَّدُ بْنُ حَيَّانَ الْمَازِنِيُّ، قَالُوا: ثنا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِي اللهُ عَنْهُ، قَالَ: " كُنْتُ نَائِمًا فَأَتَيْتُ فَقِيلَ لِي: إِنَّ اللَّيْلَةَ لَيْلَةُ الْقَدْرِ، فَقُمْتُ وَأَنَا نَاعِسٌ، فَتَعَلَّقَتْ رِجْلَيَّ بِبَعْضِ أَطْنَابِ فُسْطَاطِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ قَائِمٌ يُصَلِّي " قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَنَظَرْتُ فِي اللَّيْلَةِ فَإِذَا هِيَ لَيْلَةُ ثَلَاثٍ وَعِشْرِينَ. «وَاللَّفْظُ لِحَدِيثِ أَبِي الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيِّ»
ترجمہ
…میں نبی کریم ﷺ کے پاس آیا جبکہ آپ کھڑے نماز پڑھ رہے تھے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: میں نے اس رات کو دیکھا تو وہ تئیسویں شب تھی۔
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا مَسْرُوقُ بْنُ الْمَرْزُبَانِ، ثنا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ سِمَاكِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَا يَسُرُّنِي أَنَّ لِي حُمْرَ النَّعَمِ، وَإِنِّي نَقَضْتُ الْحَلِفَ الَّذِي فِي دَارِ النَّدْوَةِ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”مجھے یہ پسند نہیں کہ سرخ اونٹ میرے ہوں اور میں نے دار الندوہ میں کیا گیا وہ حلف توڑ دیا ہو۔“
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَائِلَةَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَمْرٍو الْبَجَلِيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «إِنَّمَا أُحِلَّتْ ذَبَائِحُ الْيَهُودِ وَالنَّصَارَى لِأَنَّهُمْ آمَنُوا بِالتَّوْرَاةِ وَالْإِنْجِيلِ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ”یہود و نصاریٰ کے ذبیحے صرف اس لیے حلال کیے گئے کہ وہ توریت اور انجیل پر ایمان رکھتے تھے۔“
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنَا شَرِيكٌ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ، فَأَرَادَ أَنْ يَبِيعَهَا فَلْيَعْرِضْهَا عَلَى جَارِهِ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس کی کوئی زمین ہو اور وہ اسے بیچنا چاہے تو پہلے اپنے پڑوسی کو پیش کرے۔“
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا أَيُّوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَزَّانُ، ثنا فِهْرٌ، عَنْ عُمَرَ بْنِ مُوسَى بْنِ وَجِيهٍ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَمْ يُحَرِّمْ كِرَاءَ الْأَرْضِ، وَلَكِنَّهُ أَمَرَ بِمَكَارِمِ الْأَخْلَاقِ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے زمین کرائے پر دینے کو حرام قرار نہیں دیا، بلکہ اعلیٰ اخلاق اپنانے کا حکم دیا۔
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْمُخَرِّمِيُّ، ثنا سَهْلُ بْنُ مَحْمُودٍ، ثنا صَالِحُ بْنُ عُمَرَ، عَنْ حَاتِمِ بْنِ أَبِي صَغِيرَةَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ تَرَكَ صَلَاةً لَقِيَ اللهَ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو نماز چھوڑ دے وہ اللہ سے اس حال میں ملے گا کہ وہ اس پر ناراض ہوگا۔“
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدٍ الْبَصْرِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللهِ الدَّشْتَكِيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ أَبِي قَيْسٍ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «نَهَى أَنْ تُشْتَرَى الثَّمَرَةُ حَتَّى تُطْعَمَ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے پھل کو پکنے سے پہلے خریدنے سے منع فرمایا۔
…