حدیث نمبر: 11716
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: مَاتَتْ شَاةٌ لِأُمِّ الْأَسْوَدِ فَأَخْبَرَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: {قُلْ لَا أَجِدُ فِيمَا أُوحِيَ إِلَيَّ مُحَرَّمًا عَلَى طَاعِمٍ يَطْعَمُهُ إِلَّا أَنْ يَكُونَ مَيْتَةً أَوْ دَمًا} إِلَى آخِرِ الْآيَةِ وَقَالَ: «إِنَّكُمْ لَسْتُمْ تَأْكُلُونَهُ فَبَعَثَتْ إِلَيْهَا فَسَلَخَتْها» . قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَجَعَلُوا مَسْكَهَا قِرْبَةً رَأَيْتُهَا بَعْدَ سَنَةٍ. قَالَ أَبُو الْأَحْوَصِ: أُمُّ ألاسودِ، وَإِنَّمَا الصَّوَابُ سَوْدَةُ
ترجمہ

…نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”کہہ دیجیے! میں اس میں جو مجھ پر وحی کی گئی ہے کسی کھانے والے پر کوئی چیز حرام نہیں پاتا سوائے مردار یا بہتے ہوئے خون کے“ آخر آیت تک، اور فرمایا: ”تم اسے کھا تو نہیں رہیں۔“ چنانچہ انہوں نے پیغام بھیج کر اس کی کھال اتروائی۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: انہوں نے اس کی کھال سے ایک مشک بنا لی، میں نے اسے ایک سال بعد بھی دیکھا۔ ابوالاحوص کہتے ہیں: (روایت میں نام) ام الاسود آیا ہے، جبکہ درست نام سودہ ہے۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 11716
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 11، صفحہ 289، حدیث 11766