المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
عكرمة عن ابن عباس باب: عکرمہ کی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایات
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: مَاتَتْ شَاةٌ لِأُمِّ الْأَسْوَدِ فَأَخْبَرَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: {قُلْ لَا أَجِدُ فِيمَا أُوحِيَ إِلَيَّ مُحَرَّمًا عَلَى طَاعِمٍ يَطْعَمُهُ إِلَّا أَنْ يَكُونَ مَيْتَةً أَوْ دَمًا} إِلَى آخِرِ الْآيَةِ وَقَالَ: «إِنَّكُمْ لَسْتُمْ تَأْكُلُونَهُ فَبَعَثَتْ إِلَيْهَا فَسَلَخَتْها» . قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَجَعَلُوا مَسْكَهَا قِرْبَةً رَأَيْتُهَا بَعْدَ سَنَةٍ. قَالَ أَبُو الْأَحْوَصِ: أُمُّ ألاسودِ، وَإِنَّمَا الصَّوَابُ سَوْدَةُسیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: ام الاسود (رضی اللہ عنہا) کی ایک بکری مر گئی، انہوں نے نبی کریم ﷺ کو اس کی خبر دی، تو نبی کریم ﷺ نے (یہ آیت) پڑھی: ”کہہ دیجیے! میں اس میں جو مجھ پر وحی کی گئی ہے کسی کھانے والے پر کوئی چیز حرام نہیں پاتا سوائے مردار یا بہتے ہوئے خون کے“ آخر آیت تک، اور فرمایا: ”تم اسے کھا تو نہیں رہیں۔“ چنانچہ انہوں نے پیغام بھیج کر اس کی کھال اتروائی۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: انہوں نے اس کی کھال سے ایک مشک بنا لی، میں نے اسے ایک سال بعد بھی دیکھا۔ ابوالاحوص کہتے ہیں: (روایت میں نام) ام الاسود آیا ہے، جبکہ درست نام سودہ ہے۔