المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
عكرمة عن ابن عباس باب: عکرمہ کی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، وَعَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، قَالَا: ثنا تَمِيمُ بْنُ الْمُنْتَصِرِ، ثنا إِسْحَاقُ الْأَزْرَقُ، عَنْ شَرِيكٍ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: اشْتَرَتْ عَائِشَةُ بَرِيرَةَ مِنَ الْأَنْصَارِ، لِتُعْتِقَهَا، وَاشْتَرَطُوا عَلَيْهَا وَلَاءَهَا، فَشَرَطَتْ لَهُمْ ذَلِكَ، فَلَمَّا جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ فَقَالَ: «إِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ» ثُمَّ صَعِدَ الْمِنْبَرَ فَقَالَ: «مَا بَالُ أَقْوَامٍ يَشْتَرِطُونَ شُرُوطًا لَيْسَتْ فِي كِتَابِ اللهِ، مَا كَانَ شَرْطًا لَيْسَ فِي كِتَابِ اللهِ فَمَرْدُودٌ إِلَى كِتَابِ اللهِ» وَكَانَ لِبَرِيرَةَ زَوْجٌ فَخَيَّرَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنْ شَاءَتْ أَنْ تَمْكُثَ مَعَ زَوْجِهَا كَمَا هِيَ، وَإِنْ شَاءَتْ فَارَقَتْهُ، فَفَارَقَتْهُ، فَدَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَأَى رِجْلَ شَاةٍ فَقَالَ لِعَائِشَةَ: «أَلَا تَطْبُخِي لَنَا هَذَا اللَّحْمَ؟» قَالَتْ: تُصِدِّقَ بِهِ عَلَى بَرِيرَةَ فَأَهْدَتْهُ لَنَا، قَالَ: «اطْبُخُوهُ فَهُوَ لَهَا صَدَقَةٌ وَلَنَا هَدِيَّةٌ»سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بریرہ رضی اللہ عنہا کو انصار سے خریدا تاکہ انہیں آزاد کر دیں، تو انہوں نے شرط رکھی کہ ان کا ولاء ان ہی کے پاس رہے گا، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ شرط مان لی، پھر جب نبی کریم ﷺ تشریف لائے تو انہوں نے آپ کو یہ بات بتائی، آپ ﷺ نے فرمایا: ”ولاء تو صرف اسی کا حق ہے جو آزاد کرے۔“ پھر آپ ﷺ منبر پر چڑھے اور فرمایا: ”لوگوں کا کیا حال ہے کہ وہ ایسی شرطیں لگاتے ہیں جو اللہ کی کتاب میں نہیں؟ جو شرط اللہ کی کتاب میں نہ ہو وہ باطل ہے، اللہ کی کتاب کی طرف لوٹائی جائے گی۔“ اور بریرہ کا ایک شوہر تھا، تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں اختیار دیا کہ اگر چاہیں تو اپنے شوہر کے ساتھ رہیں جیسی ہیں، اور اگر چاہیں تو الگ ہو جائیں، چنانچہ انہوں نے شوہر سے علیحدگی اختیار کر لی۔ پھر نبی کریم ﷺ اندر تشریف لائے تو بکری کی ایک ران دیکھی، آپ ﷺ نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: ”کیا تم ہمارے لیے یہ گوشت نہیں پکاؤ گی؟“ انہوں نے عرض کیا: یہ تو بریرہ پر صدقہ کیا گیا تھا، انہوں نے یہ ہمیں ہدیہ کر دیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے پکا لو، یہ اس کے لیے صدقہ ہے اور ہمارے لیے ہدیہ ہے۔“