حدیث نمبر: 11696
حَدَّثَنَا يُوسُفُ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ أَبُو دَاوُدَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ مُعَاذٍ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: " خَشِيَتْ سَوْدَةُ أَنْ يُطَلِّقَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ أَمْسِكْنِي وَلَا تُطَلِّقْنِي، وَاجْعَلْ يَوْمِي لِعَائِشَةَ، فَفَعَلَ، وَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ {فَلَا جُنَاحَ} [النساء: ١٢٨] عَلَيْهِمَا أَنْ يُصْلِحَا بَيْنَهُمَا صُلْحًا وَالصُّلْحُ خَيْرٌ فَمَا اصْطَلَحَا عَلَيْهِ مِنْ شَيْءٍ فَهُوَ جَائِزٌ "
ترجمہ

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا کو خدشہ ہوا کہ نبی کریم ﷺ انہیں طلاق دے دیں گے، تو انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے رکھیے اور طلاق نہ دیجیے، اور میری باری سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو دے دیجیے۔ آپ ﷺ نے ایسا ہی کیا، تو اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی: ”پس ان دونوں پر کوئی گناہ نہیں کہ وہ آپس میں کوئی صلح کر لیں، اور صلح بہتر ہے“ [سورۃ النساء: 128]، پس وہ جس چیز پر بھی صلح کر لیں وہ جائز ہے۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 11696
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 11، صفحہ 284، حدیث 11746