حدیث نمبر: 11714
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ح، وَحَدَّثَنَا طَالِبُ بْنُ قُرَّةَ الْأَذَنِيُّ، ثنا ابْنُ الطَّبَّاعِ، قَالَا: ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا عَدْوَى، وَلَا طِيَرَةَ، وَلَا هَامَةَ، وَلَا صَفَرَ» فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّا لَنَأْخُذُ الشَّاةَ الْجَرْبَاءَ فَنَطْرَحُهَا فِي الْغَنَمِ فَتَجْرَبُ قَالَ: «فَمَنْ أَعْدَى الْأَوَّلَ»
ترجمہ

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”کوئی بیماری خود بخود نہیں لگتی، بدشگونی کی کوئی حقیقت نہیں، الو کی بدشگونی کی کوئی حقیقت نہیں، اور صفر کے مہینے کی نحوست کی کوئی حقیقت نہیں۔“ ایک شخص نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم خارش زدہ بکری لے کر بکریوں میں ڈال دیتے ہیں تو وہ سب خارش زدہ ہو جاتی ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو پہلی کو کس نے خارش زدہ کیا؟“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 11714
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 11، صفحہ 288، حدیث 11764