حدیث نمبر: 11715
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: مَاتَتْ شَاةٌ لِسَوْدَةَ بِنْتِ زَمْعَةَ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ مَاتَتْ فُلَانَةُ، يَعْنِي: الشَّاةَ، فَقَالَ: «أَلَا أَخَذْتُمْ مَسْكَهَا» فَقَالُوا: أنَأْخُذُ مَسْكَ شَاةٍ قَدْ مَاتَتْ؟ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّمَا قَالَ: {قُلْ لَا أَجِدُ فِيمَا أُوحِيَ إِلَيَّ مُحَرَّمًا عَلَى طَاعِمٍ يَطْعَمُهُ إِلَّا أَنْ يَكُونَ مَيْتَةً أَوْ دَمًا مَسْفُوحًا أَوْ لَحْمَ خِنْزِيرٍ} إِنَّكُمْ لَا تَطْعَمُونَهُ، إِنَّمَا تَدْبُغُونَهُ فَتَنْتَفِعُونَ بِهِ " فَأَرْسَلَتْ إِلَيْهَا فَسَلَخَتْ مَسْكَهَا فَدَبَغَتْهُ فَاتَّخَذَتْ مِنْهُ قِرْبَةً حَتَّى تَخَرَّقَتْ عِنْدَهَا
ترجمہ

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: سیدہ سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا کی ایک بکری مر گئی تو انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! فلاں (یعنی بکری) مر گئی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم نے اس کی کھال کیوں نہ اتار لی؟“ انہوں نے عرض کیا: کیا ہم مری ہوئی بکری کی کھال اتار لیں؟ رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا: ”اللہ نے تو صرف یہ فرمایا ہے: کہہ دیجیے! میں اس میں جو مجھ پر وحی کی گئی ہے کسی کھانے والے پر کوئی چیز حرام نہیں پاتا سوائے مردار، بہتا ہوا خون یا خنزیر کے گوشت کے - تم تو اسے کھا نہیں رہیں، بلکہ اسے دباغت دے کر اس سے فائدہ اٹھا رہی ہو۔“ چنانچہ انہوں نے اسے لانے کے لیے پیغام بھیجا، اس کی کھال اتاری اور اسے دباغت دی، پھر اس سے ایک مشک بنا لی، یہاں تک کہ وہ ان کے پاس ہی پھٹ گئی۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 11715
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 11، صفحہ 288، حدیث 11765