المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
عكرمة عن ابن عباس باب: عکرمہ کی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایات
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا عَمْرُو بْنُ حَمَّادِ بْنِ طَلْحَةَ الْقَنَّادُ، ثنا أَسْبَاطُ بْنُ نَصْرٍ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، قَالَ: كَانَتِ امْرَأَتَانِ ضُرَّتانِ، فَكَانَتْ بَيْنَهُمَا صَخَبٌ فَرَمَتْ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَى بِحَجَرٍ فَأَسْقَطَتْ غُلَامًا مَيِّتًا، وَمَاتَتِ الْمَرْأَةُ، فَقَضَى عَلَى الْعَاقِلَةِ الدِّيَةَ فَقَالَ عَمُّهَا: إِنَّهَا قَدْ أَسْقَطَتْ يَا رَسُولَ اللهِ غُلَامًا قَدْ نَبَتَ شَعْرُهُ، فَقَالَ أَبُو الْقَاتِلَةِ: إِنَّهُ كَاذِبٌ إِنَّهُ وَاللهِ مَا اسْتَهَلَّ، وَلَا عَقِلَ، وَلَا شَرِبَ، وَلَا أَكَلَ فَمِثْلُهُ يُطَلُّ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَسَجْعُ الْجَاهِلِيَّةِ، وَكَهَانَتُهَا أَرَى فِي الصَّبِيِّ غُرَّةً» . قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: وَكَانَ اسْمُ إِحْدَاهُمَا مُلَيْكَةَ، وَالْأُخْرَى أُمَّ عطيفٍعکرمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: دو سوکنیں تھیں، ان کے درمیان جھگڑا ہوا، ایک نے دوسری کو پتھر مارا جس سے اس کا مردہ لڑکا ساقط ہو گیا، اور وہ عورت (بھی) مر گئی، تو نبی کریم ﷺ نے (قاتلہ کے) خاندان پر دیت کا فیصلہ کیا۔ اس پر اس (مقتولہ) کے چچا نے کہا: یا رسول اللہ! اس نے تو ایک ایسے لڑکے کو ساقط کیا ہے جس کے بال اگ آئے تھے۔ تو قاتلہ کے باپ نے کہا: یہ جھوٹا ہے، اللہ کی قسم! نہ اس نے پیدائش کے وقت آواز نکالی، نہ اس نے کچھ سمجھا، نہ کچھ پیا، نہ کھایا، سو ایسے بچے کا خون رائیگاں جاتا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”کیا یہ جاہلیت کی سجع اور کہانت ہے؟ میں بچے میں غرہ (یعنی دیت) واجب سمجھتا ہوں۔“ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ان دونوں میں سے ایک کا نام مُلَیکہ اور دوسری کا نام امِ عطیف تھا۔