حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى الْحُلْوَانِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ الْعَوَّامِ، عَنْ هِلَالِ بْنِ خَبَّابٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ وَزَادَ «وَالْحِكْمَةُ يَمَانِيَةٌ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، نبی کریم ﷺ سے اسی طرح، البتہ اس میں یہ اضافہ ہے: ”اور حکمت یمن (والوں) کی ہے۔“
حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى السَّاجِيُّ، ثنا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ هِلَالِ بْنِ خَبَّابٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: غَزَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزَاةً، فَلَمْ يَفْرُغْ مِنْهُمْ حَتَّى أَمْسَى بِصَلَاةِ الْعَصْرِ عَنِ الْوَقْتِ الَّذِي كَانَ يُحَافِظُ عَلَيْهِ، فَلَمَّا فَرَغَ مِنْهُمْ نَظَرَ فَإِذَا صَلَاةُ الْعَصْرِ قَدْ أُمْسِيَ بِهَا، فَصَلَّى فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ صَلَاتِهِ دَعَا عَلَى عَدُوِّهِ وَقَالَ: «اللهُمَّ، مَنْ شَغَلَنَا عَنْ صَلَاةِ الْوُسْطَى امْلَأْ بُيُوتَهُمْ نَارًا، وَامْلَأْ أَجْوَافَهُمْ نَارًا، وَامْلَأْ قُبُورَهُمْ نَارًا»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ (دشمن) نے انہیں اس وقت تک مصروف رکھا کہ عصر کی نماز کا وہ وقت نکل گیا جس کی رسول اللہ ﷺ ہمیشہ پابندی کرتے تھے۔ جب آپ ﷺ ان سے فارغ ہوئے تو دیکھا کہ عصر کی نماز کا وقت شام تک جا پہنچا ہے، تو آپ ﷺ نے نماز پڑھی۔ نماز سے فارغ ہو کر آپ ﷺ نے اپنے دشمن پر بددعا کرتے ہوئے فرمایا: ”اے اللہ! جس نے ہمیں نمازِ وسطیٰ سے روکا، اس کے گھروں کو آگ سے بھر دے، اس کے پیٹوں کو آگ سے بھر دے، اور اس کی قبروں کو آگ سے بھر دے۔“
حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى السَّاجِيُّ، ثنا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ هِلَالِ بْنِ خَبَّابٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ مَغَازِيهِ فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللهِ مَا تَقُولُ فِي اللاهينَ؟ فَسَكَتَ عَنْهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ كَلِمَةً حَتَّى فَرَغَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ غَزْوِهِ وَطَافَ، فَإِذَا بِصَبِيٍّ قَدْ وَقَعَ مِنْ مِحَفَّةٍ فَإِذَا هُوَ، فَنَادَى مُنَادِيهِ أَيْنَ السَّائِلُ عَنِ اللاهينَ؟ فَأَقْبَلَ الرَّجُلُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنَهَى عَنْ قَتْلِ أَطْفَالِهِمْ وَقَالَ: «اللهُ أَعْلَمُ بِمَا كَانُوا عَامِلِينَ»
ترجمہ
عکرمہ رحمہ اللہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اپنے کسی غزوے میں تھے، تو ایک شخص نے کہا: یا رسول اللہ! آپ کھیلنے میں مصروف (دشمن کے) بچوں کے بارے میں کیا فرماتے ہیں؟ تو رسول اللہ ﷺ نے اس سے خاموشی اختیار کی اور اسے کوئی جواب نہ دیا، یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ اپنے غزوے سے فارغ ہوئے اور (لشکر کے ساتھ) چلے، تو اچانک ایک بچہ محمل (کجاوے) سے گر پڑا اور وہیں (فوت ہو گیا)، تو منادی کرنے والے نے آواز دی: کھیلنے والے بچوں کے بارے میں سوال کرنے والا کہاں ہے؟ چنانچہ وہ آدمی رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا، تو آپ ﷺ نے ان کے بچوں کو قتل کرنے سے منع فرمایا اور فرمایا: ”اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ وہ (بڑے ہو کر) کیا کرتے۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى الْحُلْوَانِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ الْعَوَّامِ، عَنْ هِلَالِ بْنِ خَبَّابٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ {إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللهِ وَالْفَتْحُ} [النصر: ١] دَعَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاطِمَةَ فَقَالَ: «إِنَّهُ قَدْ نُعِيَتْ إِلَيَّ نَفْسِي» فَبَكَتْ فَقَالَ لَهَا: «لَا تَبْكِي فَإِنَّكِ أَوَّلُ أَهْلِي لَاحِقٌ بِي» فَضَحِكَتْ فَرَآهَا بَعْضُ أَزْوَاجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ لَهَا: رَأَيْتُكِ بَكَيْتِ وضَحِكْتِ، قَالَتْ: إِنَّهُ قَالَ لِي: «قَدْ نُعِيَتْ إِلَيَّ نَفْسِي» فَبَكَيْتُ، فَقَالَ: «لَا تَبْكِينَ، فَإِنَّكِ أَوَّلُ أَهْلِي لَاحِقٌ بِي» فَضَحِكْتُ
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ جب سورۃ النصر نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو بلایا اور فرمایا: ”مجھے اپنی وفات کی خبر دی جا چکی ہے۔“ وہ رو پڑیں، تو آپ ﷺ نے ان سے فرمایا: ”نہ روؤ، تم میرے اہل خانہ میں سب سے پہلے مجھ سے آ ملنے والی ہو۔“ اس پر وہ ہنس پڑیں۔ نبی کریم ﷺ کی بعض ازواج مطہرات نے انہیں دیکھا تو ان سے کہا: میں نے تمہیں روتے اور ہنستے دیکھا! انہوں نے بتایا: آپ ﷺ نے مجھ سے فرمایا تھا: ”مجھے اپنی وفات کی خبر دی جا چکی ہے۔“ تو میں رو پڑی، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہ رونا، تم میرے اہل خانہ میں سب سے پہلے مجھ سے آ ملنے والی ہو۔“ تو میں ہنس پڑی۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، وَعُبَيْدُ بْنُ خَلَفٍ الْقَطِيْعِيُّ، ثنا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ، ثنا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ، عَنْ هِلَالِ بْنِ خَبَّابٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِعَمِّهِ الْعَبَّاسِ: «يَا عَمِّ أَكْثِرِ الدُّعَاءَ بِالْعَافِيَةِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اپنے چچا عباس رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”چچا جان! عافیت کی دعا زیادہ کیا کریں۔“
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ، عَنْ هِلَالِ بْنِ خَبَّابٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ ضُبَاعَةَ بِنْتَ الزُّبَيْرِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي أُرِيدُ الْحَجَّ أَفَأَشْتَرِطُ؟ قَالَ: «نَعَمْ» قُلْتُ: كَيْفَ أَقُولُ؟ قَالَ: «قُولِي لَبَّيْكَ اللهُمَّ لَبَّيْكَ مَحِلِّي مِنَ الْأَرْضِ حَيْثُ حَبَسْتَنِي»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدہ ضباعہ بنت زبیر بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہا نبی کریم ﷺ کے پاس آئیں اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میں حج کا ارادہ رکھتی ہوں، کیا میں شرط لگا لوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں۔“ انہوں نے پوچھا: میں کیسے کہوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کہو: لبیک اللہم لبیک، میرا احرام کھولنے کی جگہ وہی ہے جہاں تو نے مجھے روک دیا۔“
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ هَارُونَ، ثنا كَثِيرُ بْنُ يَحْيَى، صَاحِبِ الْبَصْرِيِّ، ح وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ الْكُمَيْتِ، وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَزِيزٍ الْمَوْصِلِيُّ، قَالَا: ثنا غَسَّانُ بْنُ الرَّبِيعِ، قَالَ: ثنا ثَابِتُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ هِلَالِ بْنِ خَبَّابٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِي اللهُ عَنْهُمَا، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «قَنَتَ شَهْرًا فِي الصَّلَوَاتِ كُلِّهَا، الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ وَالْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ایک مہینے تک تمام نمازوں میں قنوت کی: ظہر، عصر، مغرب اور عشاء میں۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَزِيزٍ الْمَوْصِلِيُّ، وَالْحُسَيْنُ بْنُ الْكُمَيْتِ، قَالَا: ثنا غَسَّانُ بْنُ الرَّبِيعِ، ثنا ثَابِتُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ هِلَالِ بْنِ خَبَّابٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَسْلَمُ سَالَمَهَا اللهُ، وَغِفَارٌ غَفَرَ اللهُ لَهَا»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”قبیلہ اسلم کو اللہ نے سلامتی بخشی، اور قبیلہ غفار کو اللہ نے بخش دیا۔“
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ ابْنِ مُبَارَكٍ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «أَقَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ سَبْعَ عَشْرَةَ لَيْلَةً يَقْصُرُ الصَّلَاةَ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ مکہ میں سترہ راتیں ٹھہرے، نماز قصر پڑھتے رہے۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا عَارِمٌ أَبُو النُّعْمَانِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، وَعَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَرَّ بِقِدْرٍ فانْتَشَلَ مِنْهَا عَظْمًا، فَأَكَلَ مِنْهُ، ثُمَّ صَلَّى، وَلَمْ يَتَوَضَّأْ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک ہانڈی کے پاس سے گزرے تو اس میں سے ایک ہڈی نکالی، اس میں سے کھایا، پھر نماز پڑھی اور دوبارہ وضو نہیں کیا۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ اصْطَفَى إِبْرَاهِيمَ بِالْخُلَّةِ، وَاصْطَفَى مُوسَى بِالْكَلَامِ، وَاصْطَفَى مُحَمَّدًا بِالرُّؤْيَةِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”اللہ عزوجل نے ابراہیم علیہ السلام کو خلت (گہری دوستی) کے ساتھ چن لیا، موسیٰ علیہ السلام کو کلام (ہم کلامی) کے ساتھ چن لیا، اور محمد ﷺ کو رؤیت (دیدار) کے ساتھ چن لیا۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، ثنا مُوسَى بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَنْصَارِيُّ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: احْتَجَمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ، وَقَالَ: «الْإِحْرَامُ أَشَدُّ مِنَ الصَّوْمِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ نے احرام کی حالت میں پچھنے لگوائے اور فرمایا: ”احرام روزے سے زیادہ سخت ہے۔“
حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنْباعِ رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ، ثنا يُوسُفُ بْنُ عَدِيٍّ، ثنا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: مَرَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى رَجُلٍ وَاضِعٍ رِجْلَهُ عَلَى صَفْحَةِ شَاةٍ، وَهُوَ يَحُدُّ شَفْرَتَهُ، وَهِيَ تَلْحَظُ إِلَيْهِ بِبَصرِها، قَالَ: «أَفَلَا قَبْلَ هَذَا، أَوَ تُرِيدُ أَنْ تُمِيتَهَا مَوْتَتَانِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ ایک ایسے آدمی کے پاس سے گزرے جس نے اپنا پاؤں بکری کے پہلو پر رکھا ہوا تھا اور وہ اپنی چھری تیز کر رہا تھا، جبکہ بکری اسے اپنی نظروں سے دیکھ رہی تھی، آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا یہ پہلے نہیں کر سکتے تھے؟ کیا تم چاہتے ہو کہ اسے دو بار موت دو؟“
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْمَعْمَرِيُّ، ثنا ابْنُ عُثْمَانَ بْنِ كَثِيرِ بْنِ دِينَارٍ الْحِمْصِيُّ، أَظُنُّهُ يَحْيَى، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ حِمْيَرٍ، عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ حُمْرَةَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ عَاصِمٍ الْبَجَلِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ لَمْ يُلْزِقْ أَنْفَهُ مَعَ جَبْهَتِهِ بِالْأَرْضِ إِذَا سَجَدَ لَمْ تَجُزْ صَلَاتُهُ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو سجدہ کرتے وقت اپنی ناک کو پیشانی کے ساتھ زمین سے نہ لگائے، اس کی نماز نہیں ہوتی۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ الْعَمِّيُّ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُخْتَارِ، ثنا عَبْدُ اللهِ الدَّانَاجُ، حَدَّثَنِي عِكْرِمَةُ، قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: وَكَانَ يُكَبِّرُ إِذَا رَفَعَ، وَإِذَا وَضَعَ فَذَكَرْتُ ذَاكَ لِابْنِ عَبَّاسٍ فَقَالَ: «لَا أُمَّ لَكَ أَوَلَيْسَ تِلْكَ سُنَّةَ أَبِي الْقَاسِمِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟»
ترجمہ
عکرمہ بیان کرتے ہیں: میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ نماز پڑھی، وہ اٹھتے وقت بھی تکبیر کہتے اور جھکتے (سجدے میں جاتے) وقت بھی تکبیر کہتے۔ میں نے یہ بات سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ذکر کی تو انہوں نے فرمایا: ”تیری ماں نہ ہو! کیا یہ ابوالقاسم ﷺ کی سنت نہیں ہے؟“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ حُمَيْدِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَزَوَّجَ مَيْمُونَةَ وَهُمَا حرامانِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے اس حال میں نکاح کیا کہ دونوں احرام باندھے ہوئے تھے۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، وَأَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، قَالَا: ثنا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ حَمَّادٍ الْكُوفِيِّ، وَحُمَيْدٍ، وَأَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «نَامَ حَتَّى سُمِعَ لَهُ غَطِيطٌ فَصَلَّى، وَلَمْ يُعِدِ وُضُوءًا»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سو گئے یہاں تک کہ آپ ﷺ کے خراٹے سنائی دیے، پھر آپ ﷺ نے نماز پڑھی اور دوبارہ وضو نہیں کیا۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَطَاءٍ الْعَطَّارِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الَّذِي يَغْشَى امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ قَالَ: «يَتَصَدَّقُ بِدِينَارٍ، فَإِنْ لَمْ يَجِدْ فَبِنِصْفِ دِينَارٍ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اس شخص کے بارے میں جو حیض کی حالت میں اپنی بیوی کے پاس جائے، فرمایا: ”وہ ایک دینار صدقہ کرے، اگر نہ پائے تو آدھا دینار۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو الْبَزَّارُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ مَخْلَدٍ الْوَاسِطِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَلَّامٍ أَبِي الْمُنْذِرِ، عَنْ مَطَرٍ الْوَرَّاقِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَزَوَّجَ مَيْمُونَةَ وَهُوَ حَلَالٌ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے نکاح اس حال میں کیا کہ آپ ﷺ احرام سے باہر (حلال) تھے۔
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ حِمْدَانَ الْحَنَفِيُّ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ مَيْسَرَةَ الرَّازِيُّ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ مُغِيرَةَ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ مَطَرٍ الْوَرَّاقِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ تَحَلَّمَ بِحُلْمٍ لَمْ يَرَهُ أُمِرَ أَنْ يَعْقِدَ بَيْنَ شَعِيرَتَيْنِ، وَمَنْ صَوَّرَ صُورَةً أُمِرَ أَنْ يَنْفُخَ فِيهَا، وَمَنْ تَسَمَّعَ إِلَى حَدِيثِ قَوْمٍ وَهُمْ يَفِرُّونَ مِنْهُ، جُعِلَ الْآنُكُ فِي أُذُنِهِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جو ایسا خواب دیکھنے کا جھوٹا دعویٰ کرے جو اس نے دیکھا ہی نہیں، اسے حکم دیا جائے گا کہ دو جو کے دانوں کے درمیان گرہ لگائے، اور جو تصویر بنائے، اسے حکم دیا جائے گا کہ اس میں روح پھونکے، اور جو کسی قوم کی بات سنے جبکہ وہ اس سے (چھپ کر) بھاگتے ہوں، اس کے کان میں پگھلا ہوا سیسہ ڈالا جائے گا۔“
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ، ح، وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ سَهْلٍ الْبَلْخِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا أَزْهَرُ بْنُ الْقَاسِمِ، ثنا أَبُو قُدَامَةَ الْحَارِثُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ مَطَرٍ الْوَرَّاقِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَمْ يَسْجُدْ فِي شَيْءٍ مِنَ الْمُفَصَّلِ مُنْذُ تَحَوَّلَ إِلَى الْمَدِينَةِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مدینہ منتقل ہونے کے بعد مفصل کی کسی سورت میں سجدہ نہیں کیا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ قُهْزَاذٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ، ثنا أَبُو حَمْزَةَ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: مَاتَ رَجُلٌ مِنَ الْأَعْرَابِ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ عَصَبَةٌ، وَكَانَ لَهُ مَوْلًى هُوَ أَعْتَقَهُ فَرُفِعَ ذَلِكَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «أَلَمْ يَكُنْ يَغْضَبُ لِغَضَبِهِ وَيَرْضَى لرِضَاهُ؟» قَالُوا: بَلَى وأَوْرَثَهُ مَالَ مَوْلَاهُ
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ایک بدوی شخص فوت ہو گیا، اس کا کوئی عصبہ (خاندانی وارث) نہ تھا، البتہ اس کا ایک غلام تھا جسے اس نے آزاد کیا تھا۔ یہ معاملہ نبی کریم ﷺ کے سامنے پیش کیا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا وہ اس کی ناراضی پر ناراض اور اس کی خوشی پر خوش نہیں ہوتا تھا؟“ لوگوں نے کہا: کیوں نہیں۔ چنانچہ آپ ﷺ نے اسے اپنے آقا کے مال کا وارث بنا دیا۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ أَيُّوبَ الْمَدِينِيُّ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ، ثنا أَبِي، ثنا أَبُو حَمْزَةَ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَعَنَ مَنْ يَسِمُ فِي الْوَجْهِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے چہرے پر داغ لگانے والے پر لعنت فرمائی۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْكَرِيمِ، أَنَّهُ سَمِعَ عِكْرِمَةَ، يَذْكُرُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ نَبِيَّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَوْمَ الْفَتْحِ: «إِنَّ اللهَ جَلَّ ذِكْرُهُ حَرَّمَ مَكَّةَ يَوْمَ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ، فَهِيَ حَرَامٌ بِحَرَامِ اللهِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، لَا يُنَفَّرُ صَيْدُهَا وَلَا يُعْضَدُ شَجَرُهَا، وَلَا يُخْتَلَى خَلَاهَا، وَلَا يَحِلُّ لُقَطَتُهَا إِلَّا لِمُنْشِدٍ» فَقَالَ الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ: إِلَّا الْإِذْخِرَ يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّهُ لَا بُدَّ لِلْقَيْنِ وَالْبُيُوتِ فَسَكَتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَاعَةً فَقَالَ: «إِلَّا الْإِذْخِرَ إِنَّهُ حَلَالٌ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فتح مکہ کے دن فرمایا: ”بے شک اللہ جل ذکرہ نے مکہ کو اسی دن حرمت والا بنا دیا تھا جس دن اس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا، تو یہ اللہ کی حرمت کی وجہ سے قیامت تک حرمت والا ہے۔ نہ اس کا شکار بھگایا جائے، نہ اس کا درخت کاٹا جائے، نہ اس کی گھاس اکھاڑی جائے، اور نہ اس کی گری پڑی چیز حلال ہے سوائے اعلان کرنے والے کے لیے۔“ اس پر عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: سوائے اذخر (خوشبودار گھاس) کے، یا رسول اللہ! کیونکہ یہ لوہاروں اور گھروں کے لیے ضروری ہے۔ نبی کریم ﷺ کچھ دیر خاموش رہے، پھر فرمایا: ”سوائے اذخر کے، وہ حلال ہے۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، وَعَارِمٌ أَبُو النُّعْمَانِ، ح، وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْأَبَّارُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عُثْمَانَ اللاحقيُّ، قَالُوا: ثنا دَاوُدُ بْنُ أَبِي الْفُرَاتِ الْكِنْدِيُّ، عَنْ عِلْبَاءَ بْنِ أَحْمَرَ الْيَشْكُرِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: خَطَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْأَرْضِ أَرْبَعَةَ أَخْطُطٍ ثُمَّ قَالَ: «تَدْرُونَ مَا هَذَا؟» قَالُوا: اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَفْضَلُ نِسَاءِ أَهْلِ الْجَنَّةِ خَدِيجَةُ بِنْتُ خُوَيْلِدٍ وَفَاطِمَةُ بِنْتُ مُحَمَّدٍ وَمَرْيَمُ بِنْتُ عِمْرَانَ وَآسِيَةُ بِنْتُ مُزَاحِمٍ امْرَأَةُ فِرْعَوْنَ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ نے زمین پر چار لکیریں کھینچیں، پھر فرمایا: ”جانتے ہو یہ کیا ہیں؟“ صحابہ نے عرض کیا: اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جنتی عورتوں میں سب سے افضل خدیجہ بنت خویلد، فاطمہ بنت محمد، مریم بنت عمران، اور فرعون کی بیوی آسیہ بنت مزاحم ہیں۔“
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، ثنا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، عَنْ عِلْبَاءَ بْنِ أَحْمَدَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَحَضَرَ النَّحْرُ، فَاشْتَرَكْنَا فِي الْبَقَرَةِ سَبْعَةٌ، وَفِي الْبَعِيرِ عَشَرَةٌ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ہم ایک سفر میں نبی کریم ﷺ کے ساتھ تھے کہ قربانی کا وقت آ گیا، تو ہم نے گائے میں سات آدمی اور اونٹ میں دس آدمی شرکت کی۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ هَارُونَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ رَاهَوَيْهِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي حَرِيزٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «نَهَى أَنْ تُنْكَحَ الْمَرْأَةُ عَلَى عَمَّتِهَا أَوْ خَالَتِهَا»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے عورت کو اس کی پھوپھی یا خالہ کے ساتھ نکاح میں جمع کرنے سے منع فرمایا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْأَنْمَاطِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، ثنا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى الْفُضَيْلِ بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنْ أَبِي حَرِيزٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِي اللهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ تُزَوَّجَ الْمَرْأَةُ عَلَى الْعَمَّةِ وَعَلَى الْخَالَةِ، وَقَالَ: «إِنَّكُمْ إِنْ فَعَلْتُمْ ذَلِكَ قَطَعْتُمْ أَرْحَامَكُمْ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے عورت کو پھوپھی اور خالہ کے ساتھ نکاح میں جمع کرنے سے منع فرمایا اور فرمایا: ”اگر تم ایسا کرو گے تو اپنے رشتے ناتے توڑ دو گے۔“
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَسْفَاطِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ثنا سَعِيدٌ أَبُو غَيْلَانَ الشَّيْبَانِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ عَفَّانَ بْنَ جُبَيْرٍ الطَّائِيَّ، عَنْ أَبِي حَرِيزٍ الْأَزْدِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَوْمٌ مِنْ إِمَامٍ عَادِلٍ أَفْضَلُ مِنْ عُبَادَةِ سِتِّينَ سَنَةً، وَحَدٌّ يُقَامُ فِي الْأَرْضِ بِحَقِّهِ أَزْكَى فِيهَا مِنْ مَطَرٍ أَرْبَعِينَ عَامًا»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”عادل حکمران کا ایک دن ساٹھ سال کی عبادت سے افضل ہے، اور زمین میں حق کے ساتھ قائم کی گئی ایک حد چالیس سال کی بارش سے زیادہ پاکیزگی بخشنے والی ہے۔“
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِسْحَاقَ الْمُخَرِّمِيُّ، ثنا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ الْحَوْضِيُّ، ثنا عُمَرُ بْنُ فَرُّوخٍ، بَيَّاعُ الْأَقْتَابِ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، قَالَ: رَأَيْتُ فِي مَسْجِدِ الْحَرَامِ شَيْخًا يُصَلِّي، «فَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ كَبَّرَ، وَإِذَا وَضَعَ رَأْسَهُ كَبَّرَ، وَإِذَا نَهَضَ فِيمَا بَيْنَ التَّكْبِيرَتَيْنِ كَبَّرَ» ، فَأَنْكَرْتُ ذَلِكَ فَأَتَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ: «لَا أُمَّ لَكَ تِلْكَ صَلَاةُ أَبِي الْقَاسِمِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»
ترجمہ
عکرمہ بیان کرتے ہیں: میں نے مسجد الحرام میں ایک بزرگ کو نماز پڑھتے دیکھا، جب وہ سر اٹھاتے تو تکبیر کہتے، اور جب سر رکھتے تو تکبیر کہتے، اور دونوں تکبیروں کے درمیان اٹھتے وقت بھی تکبیر کہتے، مجھے یہ عجیب لگا تو میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور انہیں بتایا، تو انہوں نے فرمایا: ”تیری ماں نہ ہو! یہی تو ابوالقاسم ﷺ کی نماز ہے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا الْقَاسِمُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ بْنِ شَرِيكٍ، ثنا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، ثنا عُمَرُ بْنُ فَرُّوخٍ، بَيَّاعُ الْأَقْتَابِ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «احْتَجَمَ وَأَعْطَى الْحَجَّامَ دِينَارًا»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے پچھنے لگوائے اور پچھنے لگانے والے کو ایک دینار دیا۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ الضَّبِّيُّ، ثنا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ الْحَوْضِيُّ، ثنا عُمَرُ بْنُ فَرُّوخٍ، صَاحِبُ الْأَقْتَابِ، ثنا حَبِيبُ بْنُ الزُّبَيْرِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِي اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: «نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ تُبَاعَ ثَمَرَةٌ حَتَّى تُطْعَمَ، وَلَا صُوفٌ عَلَى ظَهْرٍ، وَلَا لَبَنٌ فِي ضَرْعٍ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ نے پھل کو پکنے سے پہلے بیچنے سے منع فرمایا، اور اسی طرح جانور کی پیٹھ پر (اتاری نہ گئی) اون اور تھن میں (نہ دوہا گیا) دودھ بیچنے سے منع فرمایا۔
حَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، عَنْ يَعْلَى بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ مَاعِزَ بْنَ مَالِكٍ، أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُ: «لَعَلَّكَ قَبَّلْتَ، أَوْ لَمَسْتَ، أَوْ غَمَزْتَ» قَالَ: لَا، قَالَ: «فَعَلْتَ كَذَا وَكَذَا لَا يُكِنِّي» قَالَ: نَعَمْ، فَأَمَرَ بِرَجْمِهِ
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ کے پاس آیا تو آپ ﷺ نے اس سے فرمایا: ”شاید تم نے بوسہ لیا ہو، چھوا ہو، یا دبایا ہو؟“ اس نے کہا: نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم نے فلاں فلاں کام کیا“ - صاف الفاظ میں، بغیر کسی کنایے کے - اس نے کہا: جی ہاں۔ چنانچہ آپ ﷺ نے اسے سنگسار کرنے کا حکم دیا۔
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ صَالِحٍ الشِّيرَازِيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ حَكَّامٍ، ثنا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، عَنْ يَعْلَى بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: بَيْنَمَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «يُصَلِّي إِذْ جَاءَتْ شَاةٌ تَسْعَى بَيْنَ يَدَيْهِ فَسَاعَاهَا حَتَّى أَلْزَقَ بَطْنَهُ بِالْحَائِطِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ نماز پڑھ رہے تھے کہ ایک بکری آپ ﷺ کے سامنے سے دوڑتی ہوئی آئی، تو آپ ﷺ نے اسے روکنے کی کوشش کی یہاں تک کہ اپنا پیٹ دیوار سے لگا لیا۔
حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ خَالِدٍ الْمِصِّيصِيُّ، ثنا دَاوُدُ بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي، ثنا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، ح، وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ هِشَامٍ الْمُسْتَمْلِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، ثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ، ثنا أَبِي، قَالَ: سَمِعْتُ يَعْلَى بْنَ حَكِيمٍ، يُحَدِّثُ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ فِي مَرَضِهِ وَهُوَ عَاصِبٌ رَأْسَهُ بِخِرْقَةٍ، فَجَلَسَ عَلَى الْمِنْبَرِ فَحَمِدَ اللهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: «مَا مِنَ النَّاسِ أَحَدٌ أَمَنُّ عَلِيَّ بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ مِنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي قُحَافَةَ، وَلَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا مِنَ النَّاسِ خَلِيلًا لاتَّخَذْتُ أَبَا بَكْرٍ، وَلَكِنْ خُلَّةُ الْإِسْلَامِ أَفْضَلُ» ثُمَّ قَالَ: «لَا تَبْقَى فِي الْمَسْجِدِ خَوْخَةٌ إِلَّا سُدَّتْ إِلَّا خَوْخَةَ أَبِي بَكْرٍ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ اپنی بیماری میں اس حال میں نکلے کہ آپ ﷺ نے اپنے سر پر پٹی باندھی ہوئی تھی، آپ ﷺ منبر پر بیٹھے، اللہ کی حمد و ثنا کی، پھر فرمایا: ”لوگوں میں سے کسی نے بھی اپنی جان اور مال کے ساتھ مجھ پر ابوبکر بن ابی قحافہ سے بڑھ کر احسان نہیں کیا، اور اگر میں لوگوں میں سے کسی کو خلیل (گہرا دوست) بناتا تو ابوبکر کو بناتا، لیکن اسلام کی برادری افضل ہے۔“ پھر فرمایا: ”مسجد میں کوئی دروازہ ایسا نہ رہے جو بند نہ کر دیا جائے، سوائے ابوبکر کے دروازے کے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا مُسْلِمُ بْنُ سَلَّامٍ، ثنا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، قَالَ: كَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَلْبَسُ الْخَزَّ فَقِيلَ لَهُ فَقَالَ: «إِنَّمَا نُهِيَ عَنِ الْمُصْمَتِ»
ترجمہ
عکرمہ بیان کرتے ہیں: سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما خز (ریشم ملا کپڑا) پہنا کرتے تھے، تو ان سے اس بارے میں پوچھا گیا، انہوں نے فرمایا: ”صرف خالص ریشم (مصمت) سے منع کیا گیا ہے۔“
حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى السَّاجِيُّ، ثنا الْعَبَّاسُ عَبْدُ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ، ثنا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، ثنا مُبَارَكٌ أَبُو عَمْرٍو، حَدَّثَنِي عِكْرِمَةُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، رَفَعَهُ قَالَ: «مَنْ مَاتَ وَفِي بَطْنِهِ الرِّيحُ الْفضيحُ فَضَحَهُ اللهُ عَلَى رُءُوسِ الْأَشْهَادِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مرفوعاً روایت ہے: ”جو شخص اس حال میں مرے کہ اس کے پیٹ میں رسوا کرنے والی ہوا (گیس) ہو، اللہ اسے قیامت کے دن تمام گواہوں کے سامنے رسوا کرے گا۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو الْبَزَّارُ، ثنا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، ثنا أَبُو عُبَيْدَةَ الْحَدَّادُ، عَنْ مَالِكِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِي اللهُ عَنْهُمَا، رَفَعَهُ قَالَ: «لَيْسَ أَحَدٌ إِلَّا يُؤْخَذُ مِنْ قَوْلِهِ وَيَدَعُ غَيْرَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مرفوعاً روایت ہے: ”نبی کریم ﷺ کے سوا ہر ایک کی بات میں سے کچھ لیا اور کچھ چھوڑا جا سکتا ہے۔“
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ أَبُو يَحْيَى صَاعِقَةُ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ الْخَفَّافُ، ثنا هَارُونُ بْنُ مُوسَى، عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ الْخِرِّيتِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «نُهِيَ عَنْ طَعَامِ الْمُتَبَارِيَيْنِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”مقابلہ بازی کرنے والے دو لوگوں کے (فخر و مباہات کے طور پر بنائے گئے) کھانے سے منع کیا گیا ہے۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو الْبَزَّارُ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ السَّكَنِ، ثنا حَبَّانُ بْنُ هِلَالٍ، ثنا هَارُونُ بْنُ مُوسَى النَّحْوِيُّ، عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ الْخِرِّيتِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «انْظُرِ السَّجْعَ مِنَ الدُّعَاءِ فَاجْتَنِبْهُ، فَإِنِّي عَهِدْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابَهُ لَا يَفْعَلُونَ ذَلِكَ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”دعا میں مقفع و مسجع (تکلف بھرا شاعرانہ) انداز سے بچو، کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ اور آپ ﷺ کے صحابہ کو ایسا کرتے نہیں دیکھا۔“
…