المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
عكرمة عن ابن عباس باب: عکرمہ کی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایات
حدیث نمبر: 11883
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِسْحَاقَ الْمُخَرِّمِيُّ، ثنا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ الْحَوْضِيُّ، ثنا عُمَرُ بْنُ فَرُّوخٍ، بَيَّاعُ الْأَقْتَابِ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، قَالَ: رَأَيْتُ فِي مَسْجِدِ الْحَرَامِ شَيْخًا يُصَلِّي، «فَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ كَبَّرَ، وَإِذَا وَضَعَ رَأْسَهُ كَبَّرَ، وَإِذَا نَهَضَ فِيمَا بَيْنَ التَّكْبِيرَتَيْنِ كَبَّرَ» ، فَأَنْكَرْتُ ذَلِكَ فَأَتَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ: «لَا أُمَّ لَكَ تِلْكَ صَلَاةُ أَبِي الْقَاسِمِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»ترجمہ
عکرمہ بیان کرتے ہیں: میں نے مسجد الحرام میں ایک بزرگ کو نماز پڑھتے دیکھا، جب وہ سر اٹھاتے تو تکبیر کہتے، اور جب سر رکھتے تو تکبیر کہتے، اور دونوں تکبیروں کے درمیان اٹھتے وقت بھی تکبیر کہتے، مجھے یہ عجیب لگا تو میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور انہیں بتایا، تو انہوں نے فرمایا: ”تیری ماں نہ ہو! یہی تو ابوالقاسم ﷺ کی نماز ہے۔“