حدیث نمبر: 11857
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى الْحُلْوَانِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ الْعَوَّامِ، عَنْ هِلَالِ بْنِ خَبَّابٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ {إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللهِ وَالْفَتْحُ} [النصر: ١] دَعَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاطِمَةَ فَقَالَ: «إِنَّهُ قَدْ نُعِيَتْ إِلَيَّ نَفْسِي» فَبَكَتْ فَقَالَ لَهَا: «لَا تَبْكِي فَإِنَّكِ أَوَّلُ أَهْلِي لَاحِقٌ بِي» فَضَحِكَتْ فَرَآهَا بَعْضُ أَزْوَاجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ لَهَا: رَأَيْتُكِ بَكَيْتِ وضَحِكْتِ، قَالَتْ: إِنَّهُ قَالَ لِي: «قَدْ نُعِيَتْ إِلَيَّ نَفْسِي» فَبَكَيْتُ، فَقَالَ: «لَا تَبْكِينَ، فَإِنَّكِ أَوَّلُ أَهْلِي لَاحِقٌ بِي» فَضَحِكْتُ
ترجمہ

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ جب سورۃ النصر نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو بلایا اور فرمایا: ”مجھے اپنی وفات کی خبر دی جا چکی ہے۔“ وہ رو پڑیں، تو آپ ﷺ نے ان سے فرمایا: ”نہ روؤ، تم میرے اہل خانہ میں سب سے پہلے مجھ سے آ ملنے والی ہو۔“ اس پر وہ ہنس پڑیں۔ نبی کریم ﷺ کی بعض ازواج مطہرات نے انہیں دیکھا تو ان سے کہا: میں نے تمہیں روتے اور ہنستے دیکھا! انہوں نے بتایا: آپ ﷺ نے مجھ سے فرمایا تھا: ”مجھے اپنی وفات کی خبر دی جا چکی ہے۔“ تو میں رو پڑی، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہ رونا، تم میرے اہل خانہ میں سب سے پہلے مجھ سے آ ملنے والی ہو۔“ تو میں ہنس پڑی۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 11857
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 11، صفحہ 330، حدیث 11907