المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
عكرمة عن ابن عباس باب: عکرمہ کی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایات
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى الْحُلْوَانِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ الْعَوَّامِ، عَنْ هِلَالِ بْنِ خَبَّابٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ {إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللهِ وَالْفَتْحُ} [النصر: ١] دَعَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاطِمَةَ فَقَالَ: «إِنَّهُ قَدْ نُعِيَتْ إِلَيَّ نَفْسِي» فَبَكَتْ فَقَالَ لَهَا: «لَا تَبْكِي فَإِنَّكِ أَوَّلُ أَهْلِي لَاحِقٌ بِي» فَضَحِكَتْ فَرَآهَا بَعْضُ أَزْوَاجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ لَهَا: رَأَيْتُكِ بَكَيْتِ وضَحِكْتِ، قَالَتْ: إِنَّهُ قَالَ لِي: «قَدْ نُعِيَتْ إِلَيَّ نَفْسِي» فَبَكَيْتُ، فَقَالَ: «لَا تَبْكِينَ، فَإِنَّكِ أَوَّلُ أَهْلِي لَاحِقٌ بِي» فَضَحِكْتُسیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ جب سورۃ النصر نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو بلایا اور فرمایا: ”مجھے اپنی وفات کی خبر دی جا چکی ہے۔“ وہ رو پڑیں، تو آپ ﷺ نے ان سے فرمایا: ”نہ روؤ، تم میرے اہل خانہ میں سب سے پہلے مجھ سے آ ملنے والی ہو۔“ اس پر وہ ہنس پڑیں۔ نبی کریم ﷺ کی بعض ازواج مطہرات نے انہیں دیکھا تو ان سے کہا: میں نے تمہیں روتے اور ہنستے دیکھا! انہوں نے بتایا: آپ ﷺ نے مجھ سے فرمایا تھا: ”مجھے اپنی وفات کی خبر دی جا چکی ہے۔“ تو میں رو پڑی، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہ رونا، تم میرے اہل خانہ میں سب سے پہلے مجھ سے آ ملنے والی ہو۔“ تو میں ہنس پڑی۔