حدیث نمبر: 11888
حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ خَالِدٍ الْمِصِّيصِيُّ، ثنا دَاوُدُ بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي، ثنا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، ح، وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ هِشَامٍ الْمُسْتَمْلِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، ثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ، ثنا أَبِي، قَالَ: سَمِعْتُ يَعْلَى بْنَ حَكِيمٍ، يُحَدِّثُ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ فِي مَرَضِهِ وَهُوَ عَاصِبٌ رَأْسَهُ بِخِرْقَةٍ، فَجَلَسَ عَلَى الْمِنْبَرِ فَحَمِدَ اللهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: «مَا مِنَ النَّاسِ أَحَدٌ أَمَنُّ عَلِيَّ بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ مِنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي قُحَافَةَ، وَلَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا مِنَ النَّاسِ خَلِيلًا لاتَّخَذْتُ أَبَا بَكْرٍ، وَلَكِنْ خُلَّةُ الْإِسْلَامِ أَفْضَلُ» ثُمَّ قَالَ: «لَا تَبْقَى فِي الْمَسْجِدِ خَوْخَةٌ إِلَّا سُدَّتْ إِلَّا خَوْخَةَ أَبِي بَكْرٍ»
ترجمہ

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ اپنی بیماری میں اس حال میں نکلے کہ آپ ﷺ نے اپنے سر پر پٹی باندھی ہوئی تھی، آپ ﷺ منبر پر بیٹھے، اللہ کی حمد و ثنا کی، پھر فرمایا: ”لوگوں میں سے کسی نے بھی اپنی جان اور مال کے ساتھ مجھ پر ابوبکر بن ابی قحافہ سے بڑھ کر احسان نہیں کیا، اور اگر میں لوگوں میں سے کسی کو خلیل (گہرا دوست) بناتا تو ابوبکر کو بناتا، لیکن اسلام کی برادری افضل ہے۔“ پھر فرمایا: ”مسجد میں کوئی دروازہ ایسا نہ رہے جو بند نہ کر دیا جائے، سوائے ابوبکر کے دروازے کے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 11888
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 11، صفحہ 338، حدیث 11938