المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
عكرمة عن ابن عباس باب: عکرمہ کی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایات
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْكَرِيمِ، أَنَّهُ سَمِعَ عِكْرِمَةَ، يَذْكُرُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ نَبِيَّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَوْمَ الْفَتْحِ: «إِنَّ اللهَ جَلَّ ذِكْرُهُ حَرَّمَ مَكَّةَ يَوْمَ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ، فَهِيَ حَرَامٌ بِحَرَامِ اللهِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، لَا يُنَفَّرُ صَيْدُهَا وَلَا يُعْضَدُ شَجَرُهَا، وَلَا يُخْتَلَى خَلَاهَا، وَلَا يَحِلُّ لُقَطَتُهَا إِلَّا لِمُنْشِدٍ» فَقَالَ الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ: إِلَّا الْإِذْخِرَ يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّهُ لَا بُدَّ لِلْقَيْنِ وَالْبُيُوتِ فَسَكَتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَاعَةً فَقَالَ: «إِلَّا الْإِذْخِرَ إِنَّهُ حَلَالٌ»سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فتح مکہ کے دن فرمایا: ”بے شک اللہ جل ذکرہ نے مکہ کو اسی دن حرمت والا بنا دیا تھا جس دن اس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا، تو یہ اللہ کی حرمت کی وجہ سے قیامت تک حرمت والا ہے۔ نہ اس کا شکار بھگایا جائے، نہ اس کا درخت کاٹا جائے، نہ اس کی گھاس اکھاڑی جائے، اور نہ اس کی گری پڑی چیز حلال ہے سوائے اعلان کرنے والے کے لیے۔“ اس پر عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: سوائے اذخر (خوشبودار گھاس) کے، یا رسول اللہ! کیونکہ یہ لوہاروں اور گھروں کے لیے ضروری ہے۔ نبی کریم ﷺ کچھ دیر خاموش رہے، پھر فرمایا: ”سوائے اذخر کے، وہ حلال ہے۔“