المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
عكرمة عن ابن عباس باب: عکرمہ کی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایات
حدیث نمبر: 11875
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ قُهْزَاذٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ، ثنا أَبُو حَمْزَةَ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: مَاتَ رَجُلٌ مِنَ الْأَعْرَابِ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ عَصَبَةٌ، وَكَانَ لَهُ مَوْلًى هُوَ أَعْتَقَهُ فَرُفِعَ ذَلِكَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «أَلَمْ يَكُنْ يَغْضَبُ لِغَضَبِهِ وَيَرْضَى لرِضَاهُ؟» قَالُوا: بَلَى وأَوْرَثَهُ مَالَ مَوْلَاهُترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ایک بدوی شخص فوت ہو گیا، اس کا کوئی عصبہ (خاندانی وارث) نہ تھا، البتہ اس کا ایک غلام تھا جسے اس نے آزاد کیا تھا۔ یہ معاملہ نبی کریم ﷺ کے سامنے پیش کیا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا وہ اس کی ناراضی پر ناراض اور اس کی خوشی پر خوش نہیں ہوتا تھا؟“ لوگوں نے کہا: کیوں نہیں۔ چنانچہ آپ ﷺ نے اسے اپنے آقا کے مال کا وارث بنا دیا۔