المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
عكرمة عن ابن عباس باب: عکرمہ کی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایات
حدیث نمبر: 11855
حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى السَّاجِيُّ، ثنا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ هِلَالِ بْنِ خَبَّابٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: غَزَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزَاةً، فَلَمْ يَفْرُغْ مِنْهُمْ حَتَّى أَمْسَى بِصَلَاةِ الْعَصْرِ عَنِ الْوَقْتِ الَّذِي كَانَ يُحَافِظُ عَلَيْهِ، فَلَمَّا فَرَغَ مِنْهُمْ نَظَرَ فَإِذَا صَلَاةُ الْعَصْرِ قَدْ أُمْسِيَ بِهَا، فَصَلَّى فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ صَلَاتِهِ دَعَا عَلَى عَدُوِّهِ وَقَالَ: «اللهُمَّ، مَنْ شَغَلَنَا عَنْ صَلَاةِ الْوُسْطَى امْلَأْ بُيُوتَهُمْ نَارًا، وَامْلَأْ أَجْوَافَهُمْ نَارًا، وَامْلَأْ قُبُورَهُمْ نَارًا»ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ (دشمن) نے انہیں اس وقت تک مصروف رکھا کہ عصر کی نماز کا وہ وقت نکل گیا جس کی رسول اللہ ﷺ ہمیشہ پابندی کرتے تھے۔ جب آپ ﷺ ان سے فارغ ہوئے تو دیکھا کہ عصر کی نماز کا وقت شام تک جا پہنچا ہے، تو آپ ﷺ نے نماز پڑھی۔ نماز سے فارغ ہو کر آپ ﷺ نے اپنے دشمن پر بددعا کرتے ہوئے فرمایا: ”اے اللہ! جس نے ہمیں نمازِ وسطیٰ سے روکا، اس کے گھروں کو آگ سے بھر دے، اس کے پیٹوں کو آگ سے بھر دے، اور اس کی قبروں کو آگ سے بھر دے۔“