حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا الصَّلْتُ بْنُ مَسْعُودٍ الْجَحْدَرِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ التَّيْمِيُّ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِي اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «شَرُّ الْبَيْتِ الْحَمَّامُ يَعْلُو فِيهِ الْأَصْوَاتُ، وَيُكْشَفُ فِيهِ الْعَوْرَاتُ» فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللهِ يُدَاوَى فِيهِ الْمَرِيضُ، وَيَذْهَبُ فِيهِ الْوَسَخُ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَمَنْ دَخَلَهُ فَلَا يَدْخُلْهُ إِلَّا مُسْتَتِرًا»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”سب سے برا گھر حمام (غسل خانہ) ہے، جس میں آوازیں بلند ہوتی ہیں اور شرمگاہیں کھلتی ہیں۔“ تو ایک شخص نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اس میں بیمار کا علاج کیا جاتا ہے اور میل کچیل دور ہوتی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تو جو اس میں داخل ہو وہ اپنے آپ کو ڈھانپے بغیر داخل نہ ہو۔“
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي الْحَسَنُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْجرويُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ، ثنا وُهَيْبٌ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِي اللهُ عَنْهُمَا، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ الْخَمْرَ، فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّا نَتَّخِذُ شَرَابًا مِنْ هَذَا الْمِزْرِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ»
ترجمہ
نبی کریم ﷺ نے خمر کا ذکر کیا، تو ایک شخص نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم اس مِزر (جو کی شراب) سے ایک مشروب بناتے ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔“
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ نَاجِيَةَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِي اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَجُوزُ فِي الْبُدْنِ: الْعَوْرَاءُ، وَالْعَجْفَاءُ، وَإِيَّاكُمْ وَالْمُصْطَلَحَةَ "
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”قربانی کے اونٹوں میں کانی اور دبلی جانور جائز نہیں، اور زخم بھرے (صلح شدہ) جانور سے بچو۔“
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ثنا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: لَقَدْ أُهْدِي إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَحْمُ صَيْدٍ فَرَدَّهُ، وَقَالَ: «إِنَّا حُرُمٌ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: نبی کریم ﷺ کی خدمت میں شکار کا گوشت ہدیہ کیا گیا تو آپ ﷺ نے اسے واپس کر دیا اور فرمایا: ”ہم احرام کی حالت میں ہیں۔“
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَسْفَاطِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْمُبَارَكِ الْعَيْشِيُّ، ثنا وُهَيْبٌ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ الْمَسْجِدَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، فَإِذَا هُوَ بِأَبِي إِسْرَائِيلَ قَائِمًا فِي الشَّمْسِ، وَلَا يَسْتَظِلُّ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا لَهُ؟» قَالُوا: نَذَرَ أَنْ يَقُومَ وَلَا يَسْتَظِلَّ وَلَا يُفْطِرَ، قَالَ: «مُرُوهُ فَلْيَجْلِسْ، وَلْيَسْتَظِلَّ، وَلْيُفْطِرْ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ جمعہ کے دن مسجد میں داخل ہوئے تو ابواسرائیل کو دھوپ میں کھڑا پایا، وہ سائے میں نہیں جاتا تھا۔ نبی کریم ﷺ نے پوچھا: ”اسے کیا ہوا؟“ لوگوں نے کہا: اس نے نذر مانی ہے کہ وہ کھڑا رہے گا، سائے میں نہیں جائے گا، اور روزہ نہیں توڑے گا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے حکم دو کہ بیٹھ جائے، سائے میں چلا جائے، اور روزہ توڑ دے۔“
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثنا أَبِي، ثنا عَفَّانُ، ثنا وُهَيْبٌ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَدِمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ لِصَبِيحَةِ رَابِعَةٍ مُهِلِّينَ بِالْحَجِّ، فَأَمَرَهُمْ أَنْ يَجْعَلُوهَا عُمْرَةً، فَتَعَاظَمَ ذَلِكَ عِنْدَهُمْ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ أَيُّ الْحِلُّ؟ قَالَ: «الْحِلُّ كُلُّهُ»
ترجمہ
رسول اللہ ﷺ اور آپ ﷺ کے صحابہ حج کا احرام باندھے ہوئے چوتھی تاریخ کی صبح مکہ پہنچے، تو آپ ﷺ نے انہیں حکم دیا کہ اسے عمرہ بنا لیں، تو یہ بات ان پر بہت گراں گزری، انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کس حد تک حلال ہو جائیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”مکمل طور پر حلال ہو جاؤ۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْأَبَّارُ، ثنا أَبُو الْأَصْبَغِ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ يَحْيَى الْحَرَّانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، وَعَنِ السِّخْتِيَانِيِّ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اتَّقُوا بَيْتًا يُقَالُ لَهُ الْحَمَّامُ» فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ يَذْهَبُ بِالدَّرَنِ، وَيَنْفَعُ الْمَرِيضَ قَالَ: «فَمَنْ دَخَلَهُ فَلْيَسْتَتِرْ»
ترجمہ
نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اس گھر سے بچو جسے حمام کہا جاتا ہے۔“ صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ تو میل کچیل دور کرتا اور بیمار کو فائدہ دیتا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو جو اس میں داخل ہو وہ اپنے آپ کو ڈھانپے۔“
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي خَلَفٍ، ثنا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِي اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا نَذْرَ إِلَّا فِيمَا أُطِيعَ اللهُ فِيهِ، وَلَا نَذْرَ فِي قَطِيعَةِ رَحِمٍ، وَلَا طَلَاقَ، وَلَا عَتَاقَ فِيمَا لَا يَمْلِكُ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”نذر صرف اس چیز میں معتبر ہے جس میں اللہ کی اطاعت ہو، رشتہ داری توڑنے میں کوئی نذر نہیں، اور طلاق نہیں اور نہ آزادی اس چیز میں جس کا کوئی مالک نہیں۔“
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا أَيُّوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّالِحِيُّ، ثنا عُمَرُ بْنُ رَبَاحٍ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يُصَلِّي فِي خَمِيصَةٍ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو خمیصہ (دھاری دار چادر) میں نماز پڑھتے دیکھا۔
حَدَّثَنَا الْمِقْدَامُ بْنُ دَاوُدَ، ثنا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ح وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، قَالَا: ثنا عُمَرُ بْنُ رَبَاحٍ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِي اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَحْيَا أَرْضًا مَيْتَةً فَهُوَ أَحَقُّ بِهَا»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص بنجر زمین کو آباد کرے وہ اس کا زیادہ حق دار ہے۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ سَعِيدٍ الرَّازِيُّ، ثنا أَيُّوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّالِحِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، قَالَا: ثنا عُمَرُ بْنُ رَبَاحٍ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِي اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ» ، وَقَالَ الصَّالِحِيُّ: عِنْدَ كُلِّ تَكْبِيرَةٍ
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ ہر رکعت میں اپنے ہاتھ اٹھاتے تھے — اور صالحی راوی نے کہا: ہر تکبیر کے وقت۔
حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ مُوسَى شيرانُ، ثنا عُمَرُ بْنُ يَحْيَى الْأُبُلِّيُّ، ثنا عُمَرُ بْنُ رَبَاحٍ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يُصَلِّي فِي جُبَّةِ صُوفٍ وَحْدَهَا»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو خالص اونی جبے میں نماز پڑھتے دیکھا۔
حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ مُوسَى، ثنا عُمَرُ بْنُ يَحْيَى، ح وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ سَعِيدٍ الرَّازِيُّ، ثنا أَيُّوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّالِحِيُّ، قَالَا: ثنا عُمَرُ بْنُ رَبَاحٍ، ثنا ابْنُ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْحِجَامَةُ فِي الرَّأْسِ شِفَاءٌ مِنْ سَبْعٍ إِذَا مَا نَوَى صَاحِبُهَا: مِنَ الْجُنُونِ، وَالْجُذَامِ، وَالْبَرَصِ، وَالنُّعَاسِ، وَوجعِ الضِّرْسِ، وَالصُّدَاعِ، وَظُلْمَةٍ يَجِدُهَا فِي عَيْنَيْهِ "
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”سر پر پچھنے لگوانا سات بیماریوں سے شفا ہے، اگر لگوانے والا نیت رکھے: جنون سے، کوڑھ سے، برص سے، غنودگی سے، داڑھ کے درد سے، سر درد سے، اور آنکھوں میں محسوس ہونے والی تاریکی سے۔“
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَاسِطِيُّ، ثنا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، ثنا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ بَعْدَ التَّشَهُّدِ: «اللهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ جَهَنَّمَ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الدَّجَّالِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: نبی کریم ﷺ تشہد کے بعد یہ دعا پڑھتے تھے: ”اے اللہ! میں جہنم کے عذاب سے تیری پناہ مانگتا ہوں، اور قبر کے عذاب سے تیری پناہ مانگتا ہوں، اور دجال کے فتنے سے تیری پناہ مانگتا ہوں، اور زندگی اور موت کے فتنے سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ فَرْقَدٍ الْجُدِّيُّ، ثنا أَبُو حُمَةَ مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الزُّبَيْدِيُّ، أنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ طَاوُسٍ، مِنْ وَلَدِ طَاوُسٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ عَبْدِ اللهِ بْنِ طَاوُسٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِي اللهُ عَنْهُما، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: {فاقرءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْآنِ} قَالَ: «مِائَةُ آيَةٍ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے آیت ”فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْآنِ“ کے بارے میں فرمایا: ”سو آیتیں۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ فَرْقَدٍ، ثنا أَبُو حُمَةَ مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ اللهِ بْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِي اللهُ عَنْهُما، قَالَ: «لَا طَلَاقَ إِلَّا بِعُدَّةٍ، وَلَا عِتْقَ إِلَّا لِوَجْهِ اللهِ تَعَالَى»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: طلاق صرف عدت کے اندر ہی معتبر ہے، اور آزادی صرف اللہ کی رضا کے لیے ہی معتبر ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ثنا أَبُو عُمَرَ الضَّرِيرُ، ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ دَاوُدَ الْمَكِّيُّ، ثنا سَهْلُ بْنُ بَكَّارٍ، قَالَا: ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِي اللهُ عَنْهُما، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «صَلَّى الْعِيدَ بِلَا أَذَانٍ وَلَا إِقَامَةٍ، ثُمَّ أَتَى النِّسَاءَ فَوَعَظَهُنَّ وَحَثَّهُنَّ عَلَى الصَّدَقَةِ، فَكَمْ مِنْ قِلَادَةٍ وَخَاتَمٍ أُلْقِيَ فِي ثَوْبِ بِلَالٍ حَتَّى مَلَأَ ثَوْبَهُ أَوْ مَا شَاءَ اللهُ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بغیر اذان اور اقامت کے عید کی نماز پڑھی، پھر عورتوں کے پاس تشریف لے گئے، انہیں نصیحت کی اور انہیں صدقہ دینے کی ترغیب دی، تو کتنے ہی ہار اور انگوٹھیاں بلال رضی اللہ عنہ کے کپڑے میں ڈالی گئیں، یہاں تک کہ ان کا کپڑا بھر گیا، یا جتنا اللہ نے چاہا۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ شُعَيْبٍ النَّسَائِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، ثنا مُفَضَّلُ بْنُ مُهَلْهَلٍ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِي اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ: «إِنَّ هَذَا الْبَلَدَ حَرَامٌ حَرَّمَهُ اللهُ، وَلَمْ يُحِلَّ فِيهِ الْقَتْلَ لِأَحَدٍ قَبْلِي، وَأُحِلَّتْ لِي فَهِي حَرَامٌ بِحُرْمَةِ اللهِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فتح مکہ کے دن فرمایا: ”بے شک یہ شہر حرمت والا ہے، اللہ نے اسے حرمت والا بنایا ہے، اور مجھ سے پہلے کسی کے لیے اس میں قتال حلال نہیں کیا گیا، اور میرے لیے تھوڑی دیر کے لیے حلال کیا گیا، پس یہ اللہ کی حرمت کی بنا پر حرمت والا ہے۔“
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِي اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ: «لَا هِجْرَةَ بَعْدَ الْفَتْحِ، وَلَكِنْ جِهَادٌ وَنِيَّةٌ، وَإِذَا اسْتُنْفِرْتُمْ فَانْفِرُوا»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فتح مکہ کے دن فرمایا: ”فتح کے بعد کوئی ہجرت نہیں، البتہ جہاد اور نیت باقی ہے، اور جب تمہیں نکلنے کو کہا جائے تو نکلو۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ شُعَيْبٍ النَّسَائِيُّ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، ثنا مُفَضَّلُ بْنُ مُهَلْهَلٍ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِي اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: سَافَرْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَمَضَانَ، فَصَامَ حَتَّى بَلَغَ عُسْفَانَ، ثُمَّ دَعَا بِإِنَاءٍ، فَشَرِبَ بِهَا لِيَرَاهُ النَّاسُ، ثُمَّ أَفْطَرَ حِينَ دَخَلَ مَكَّةَ، وَافْتَتَحَ مَكَّةَ فِي رَمَضَانَ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: «صَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي السَّفَرِ، وَأَفْطَرَ، فَمَنْ شَاءَ صَامَ وَمَنْ شَاءَ أَفْطَرَ»
ترجمہ
پھر آپ ﷺ نے روزہ رکھا یہاں تک کہ عسفان پہنچے، پھر ایک برتن منگوایا اور اس میں سے پیا تاکہ لوگ دیکھ لیں، پھر جب مکہ میں داخل ہوئے تو روزہ توڑ دیا، اور مکہ رمضان میں فتح کیا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے سفر میں روزہ بھی رکھا اور توڑا بھی، تو جو چاہے روزہ رکھے اور جو چاہے نہ رکھے۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ سَعِيدٍ الرَّازِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْمُحَارِبِيُّ، ثنا أَبُو مُحَيَّاةَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِي اللهُ عَنْهُما، قَالَ: «كَانَ ثَمَنُ الْمِجَنِّ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشَرَةَ دَرَاهِمٍ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں ڈھال کی قیمت دس درہم تھی۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ، ثنا هَاشِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرُّبَيْعيُّ، ثنا الْمُفَضَّلُ بْنُ فَضَالَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مِقْلَاصٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَعْيَنَ الْجَزَرِيِّ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: «الْغُسْلُ وَاجِبٌ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ فِي كُلِّ سَبْعَةِ أَيَّامٍ شَعْرَهُ وَبَشَرَهُ» - يَعْنِي فِي الْجُمُعَةِ -. «سَعِيدُ بْنُ مِقْلَاصٍ، هُوَ سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”ہر مسلمان پر ہر سات دن میں اپنے بال اور جسم کا غسل کرنا واجب ہے“ - یعنی جمعہ کے دن کے بارے میں۔
(سعید بن مقلاص سے مراد سعید بن ابی ایوب ہیں۔)
(سعید بن مقلاص سے مراد سعید بن ابی ایوب ہیں۔)
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا هِشَامُ بْنُ خَالِدٍ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ يَحْيَى الْخُشَنِيُّ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَيَّاشٍ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي يَوْمِ أَضْحَى: «مَا عَمِلَ ابْنُ آدَمَ فِي هَذَا الْيَوْمِ، أَفْضَلَ مِنْ دَمٍ يُهَرَاقُ، إِلَّا أَنْ يَكُونَ رَحِمًا مَقْطُوعَةً تُوصَلُ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے عیدِ اضحی کے دن فرمایا: ”ابن آدم اس دن جو عمل کرتا ہے اس میں خون بہانے (قربانی) سے بڑھ کر کوئی عمل نہیں، سوائے اس کے کہ کوئی ٹوٹا ہوا رشتہ جوڑا جائے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّائِغُ الْمَكِّيُّ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ يَحْيَى الْمَدَنِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عِيسَى، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِي اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَيْسَ بِمُؤْمِنٍ مُسْتَكْمِلِ الْإِيمَانِ مَنْ لَمْ يَعُدَّ الْبَلَاءَ نِعْمَةً، وَالرَّخاءَ مُصِيبَةً» قَالُوا: كَيْفَ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: «لِأَنَّ الْبَلَاءَ لَا يَتْبَعُهُ إِلَّا الرَّخَاءُ، وَكَذَلِكَ الرَّخَاءُ لَا تَتْبَعُهُ إِلَّا الْمُصِيبَةُ، وَلَيْسَ بِمُؤْمِنٍ مُسْتَكْمَلِ الْإِيمَانِ مَنْ لَمْ يَكُنْ فِي غَمٍّ مَا لَمْ يَكُنْ فِي صَلَاةٍ» قَالُوا: وَلِمَ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: «لِأَنَّ الْمُصَلِّي يُنَاجِي رَبَّهُ وَإِذَا كَانَ فِي غَيْرِ صَلَاةٍ إِنَّمَا يُنَاجِي ابْنَ آدَمَ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”وہ شخص کامل ایمان والا مومن نہیں جو مصیبت کو نعمت اور خوش حالی کو مصیبت نہ سمجھے۔“ صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! وہ کیسے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیونکہ مصیبت کے بعد خوش حالی ہی آتی ہے، اور اسی طرح خوش حالی کے بعد مصیبت ہی آتی ہے، اور وہ شخص کامل ایمان والا مومن نہیں جو نماز کے علاوہ (کسی حالت میں) غم میں نہ ہو۔“ صحابہ نے عرض کیا: اور کیوں، یا رسول اللہ؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیونکہ نمازی اپنے رب سے سرگوشی کرتا ہے، اور جب نماز میں نہیں ہوتا تو صرف انسان سے ہم کلام ہوتا ہے۔“
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «مِنَ السُّنَّةِ أَنْ تُمِسَّ أَلْيَتَيْكَ عَقِبَيْكَ فِي الصَّلَاةِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: ”سنت یہ ہے کہ نماز میں تمہاری سرینیں تمہاری ایڑیوں کو چھوئیں۔“
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ الضَّبِّيُّ، ثنا عُمَرُ بْنُ مَرْزُوقٍ، أنا شُعْبَةُ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَسِّرُوا وَلَا تُعَسِّرُوا، وَبَشِّرُوا وَلَا تُنَفِّرُوا، وَإِذَا غَضِبْتَ فَاسْكُتْ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”آسانی پیدا کرو، مشکل میں نہ ڈالو، خوشخبری دو، نفرت نہ دلاؤ، اور جب تمہیں غصہ آئے تو خاموش ہو جاؤ۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو رَبِيعَةَ فَهِدُ بْنُ عَوْفٍ، ثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِي اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: «أَشْرَكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ بَيْنَ أَصْحَابِهِ سَبْعَةً فِي بَقَرَةٍ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ”رسول اللہ ﷺ نے حدیبیہ کے دن اپنے صحابہ میں سے سات آدمیوں کو ایک گائے میں شریک کیا۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ هَاشِمٍ الْبَغَوِيُّ، قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ، أَخُو الْحَجَّاجِ، ثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنِّي آخُذُ بِحُجَزِكُمْ أَقُولُ اتَّقُوا النَّارَ اتَّقُوا الْحُدُودَ، فَإِذَا مُتُّ تَرَكْتُكُمْ، وَأَنَا فَرَطُكُمْ عَلَى الْحَوْضِ، فَمَنْ وَرَدَ فَقَدْ أَفْلَحَ، فَيُؤْتَى بِأَقْوَامٍ فَيُؤْخَذُ بِهِمْ ذَاتَ الشِّمَالِ فَأَقُولُ رَبِّ فَيَقُولُ: إِنَّهُمْ لَمْ يَزَالُوا بَعْدَكَ يَرْتَدُّوا عَلَى أَعْقَابِهِمْ "
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میں تمہاری کمروں کے تسمے پکڑ کر کہتا ہوں: آگ سے بچو! حدود (اللہ کی مقرر کردہ سزاؤں کے اسباب) سے بچو! پھر جب میں فوت ہو جاؤں گا تو تمہیں چھوڑ جاؤں گا، اور حوض پر تم سے پہلے پہنچنے والا ہوں گا، جو وہاں آئے گا وہ کامیاب ہو گا۔ پھر کچھ لوگوں کو لایا جائے گا تو انہیں بائیں طرف پکڑ لیا جائے گا، میں کہوں گا: اے میرے رب! تو کہا جائے گا: یہ لوگ تیرے (دنیا سے جانے کے) بعد ہمیشہ اپنی ایڑیوں کے بل پیچھے پھرتے رہے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ لُوَيْنُ، ثنا شَرِيكٌ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِرَجُلٍ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ وَرَجُلٌ يَقُودُهُ بحزامٍ فِي أَنْفِهِ فِي نَذْرٍ كَانَ عَلَيْهِ فَقَطَعَهُ وَقَالَ: «قُدْهُ بِيَدِهِ» وَمَرَّ بِرَجُلٍ قَدْ رَبَطَ يَدَهُ إِلَى إِنْسَانٍ بِسَيْرٍ أَوْ بِخَيْطٍ أَوْ شَيْءٍ غَيْرِ ذَلِكَ فَقَطَعَهُ وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «قُدْهُ بِيَدِهِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ کا گزر ایک ایسے شخص کے پاس سے ہوا جو بیت اللہ کا طواف کر رہا تھا اور ایک آدمی اسے اپنی نذر کے سبب اس کی ناک میں (باندھی ہوئی) رسی سے کھینچ رہا تھا، تو آپ ﷺ نے وہ رسی کاٹ دی اور فرمایا: ”اسے اپنے ہاتھ سے پکڑ کر لے چلو۔“ پھر آپ ﷺ کا گزر ایک ایسے شخص کے پاس سے ہوا جس نے اپنا ہاتھ کسی دوسرے انسان کے ساتھ تسمے یا دھاگے یا کسی اور چیز سے باندھ رکھا تھا، تو آپ ﷺ نے اسے بھی کاٹ دیا اور فرمایا: ”اسے اپنے ہاتھ سے پکڑ کر لے چلو۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ، ثنا مَعْنُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ أَعْيَنَ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الطَّوَافُ بِالْبَيْتِ صَلَاةٌ، وَلَكِنَّ اللهَ تَعَالَ أَحَلَّ فِيهِ الْمَنْطِقَ، فَمَنْ نَطَقَ فَلَا يَنْطِقْ إِلَّا بِخَيْرٍ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بیت اللہ کا طواف نماز ہی کی طرح ہے، البتہ اللہ تعالیٰ نے اس میں بات چیت کرنے کی اجازت دی ہے، تو جو کوئی بات کرے وہ اچھی بات کے سوا کچھ نہ کہے۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ النَّضْرِ الْعَسْكَرِيُّ، ثنا أَبُو خَيْثَمَةَ مُصْعَبُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا مُوسَى بْنُ أَعْيَنَ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ فِي الصَّلَاةِ فَلَا يَغْمِضْ عَيْنَيْهِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی نماز کے لیے کھڑا ہو تو اپنی آنکھیں بند نہ کرے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْبَرَاءِ، ثنا الْمُعَافَى بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا مُوسَى بْنُ أَعْيَنَ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِي اللهُ عَنْهُمَا، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كَانَ يُسَمِّي حَجَّةَ الْوَدَاعِ حَجَّةَ الْإِسْلَامِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ حجۃ الوداع کو حجۃ الاسلام کہا کرتے تھے۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ثنا فُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «إِنَّمَا رَمَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْبَيْتِ، وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، لِأَنَّ الْمُشْرِكِينَ رَأَوْا بِهِ جَهْدًا وَبِأَصْحَابِهِ فَرَمَلَ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: ”رسول اللہ ﷺ نے بیت اللہ کے طواف میں اور صفا و مروہ کے درمیان رمل (تیز چال) اس لیے کی کہ مشرکین نے آپ ﷺ اور آپ کے صحابہ میں کمزوری دیکھی تھی، اس لیے آپ ﷺ نے رمل کی۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ أَبُو جَعْفَرٍ التِّرْمِذِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ عَمْرٍو الْأَشْعَثِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَنَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «يَقْتُلُ الْمُحْرِمُ الْغُرَابَ، وَالْحَدَأةَ، وَالْعَقْرَبَ، وَالْكَلْبَ الْعقورَ، وَالْفَأْرَةَ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”محرم کوا، چیل، بچھو، کاٹنے والا کتا اور چوہا مار سکتا ہے۔“
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَلْمٍ الرَّازِيُّ، ثنا سَهْلُ بْنُ عُثْمَانَ، ثنا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أُمِرَ ابْنُ آدَمَ أَنْ يَسْجُدَ عَلَى سَبْعَةِ أَعْظُمٍ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”ابن آدم کو سات ہڈیوں پر سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ مَالِكٍ الضَّبِّيُّ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رِزْمَةَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: دَعَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكَتِفٍ فَقَالَ: «ائْتُونِي بِكَتِفٍ أَكْتُبُ لَكُمْ كِتَابًا لَا تَخْتَلِفُوا بَعْدِي أَبَدًا» وَأَخَذَ مَنْ عِنْدَهُ مِنَ النَّاسِ فِي لَغَطٍ، فَقَالَتِ امْرَأَةٌ مِمَّنْ حَضَرَ: وَيْحَكُمْ عَهِدَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْكُمْ، فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ: اسْكُتِي، فَإِنَّهُ لَا عَقْلَ لَكِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَنْتُمْ لَا أَحْلَامَ لَكُمْ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے ایک شانے کی ہڈی منگوائی اور فرمایا: ”میرے پاس شانے کی ہڈی لاؤ، میں تمہارے لیے ایک تحریر لکھ دوں جس کے بعد تم میرے بعد کبھی اختلاف نہ کرو گے۔“ اتنے میں وہاں موجود لوگ شور مچانے لگے، تو ایک عورت نے جو وہاں موجود تھی کہا: تم پر افسوس ہو، رسول اللہ ﷺ تمہیں (اہم بات) بتانا چاہتے ہیں! اس پر بعض لوگوں نے کہا: خاموش ہو جاؤ، تمہیں تو کوئی عقل نہیں۔ تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”تم لوگوں کی عقل ہی نہیں۔“
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سُوَيْدٍ النَّخَعِيُّ، ثنا هِلَالُ بْنُ مِقْلَاصٍ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ائْتُونِي بِكَتِفٍ وَدواةٍ أَكْتُبُ لَكُمْ كِتَابًا لَا يَخْتَلِفُ فِيهِ رَجُلَانِ» قَالَ: «فَأَبْطَئُوا بِالْكَتِفِ وَالدَّوَاةِ فَقَبَضَهُ اللهُ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میرے پاس شانے کی ہڈی اور دوات لاؤ، میں تمہارے لیے ایسی تحریر لکھ دوں کہ اس کے بعد کبھی دو آدمی اس میں اختلاف نہ کریں۔“ ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: ”لوگوں نے شانے کی ہڈی اور دوات لانے میں دیر کر دی، تو اللہ نے آپ ﷺ کی روح قبض کر لی۔“
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «صَلَاةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى، وَالْوِتْرُ رَكْعَةٌ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”رات کی نماز دو دو رکعت کر کے پڑھی جاتی ہے، اور وتر رات کے آخری حصے میں ایک رکعت ہے۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ سَعِيدٍ الرَّازِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارٍ الرَّيَّانُ، ثنا حَسَّانُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ لَيْثٍ، وَمُجَاهِدٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْفَتْحِ عَنْ لُحُومِ الْجَلَّالَةِ، وَأَلْبَانِهَا، وَظُهُورِهَا»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: ”رسول اللہ ﷺ نے فتح مکہ کے دن گندگی کھانے والے جانور کے گوشت، دودھ اور اس پر سواری کرنے سے منع فرمایا۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عبدوسِ بْنِ كَامِلٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، ثنا شَرِيكٌ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «تَمَتَّعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى مَاتَ، وَتَمَتَّعَ أَبُو بَكْرٍ رَضِي اللهُ عَنْهُ حَتَّى مَاتَ، وَعُمَرُ وَعُثْمَانُ رَضِي اللهُ عَنْهُمَا» - يَعْنِي مُتْعَةَ الْحَجِّ -
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: ”رسول اللہ ﷺ نے وفات تک تمتع (حجِ تمتع) کیا، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بھی وفات تک تمتع کیا، اور سیدنا عمر اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہما نے بھی۔“ - یعنی حج کے تمتع کی مراد ہے۔
…