حدیث نمبر: 10903
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّائِغُ الْمَكِّيُّ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ يَحْيَى الْمَدَنِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عِيسَى، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِي اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَيْسَ بِمُؤْمِنٍ مُسْتَكْمِلِ الْإِيمَانِ مَنْ لَمْ يَعُدَّ الْبَلَاءَ نِعْمَةً، وَالرَّخاءَ مُصِيبَةً» قَالُوا: كَيْفَ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: «لِأَنَّ الْبَلَاءَ لَا يَتْبَعُهُ إِلَّا الرَّخَاءُ، وَكَذَلِكَ الرَّخَاءُ لَا تَتْبَعُهُ إِلَّا الْمُصِيبَةُ، وَلَيْسَ بِمُؤْمِنٍ مُسْتَكْمَلِ الْإِيمَانِ مَنْ لَمْ يَكُنْ فِي غَمٍّ مَا لَمْ يَكُنْ فِي صَلَاةٍ» قَالُوا: وَلِمَ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: «لِأَنَّ الْمُصَلِّي يُنَاجِي رَبَّهُ وَإِذَا كَانَ فِي غَيْرِ صَلَاةٍ إِنَّمَا يُنَاجِي ابْنَ آدَمَ»
ترجمہ

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”وہ شخص کامل ایمان والا مومن نہیں جو مصیبت کو نعمت اور خوش حالی کو مصیبت نہ سمجھے۔“ صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! وہ کیسے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیونکہ مصیبت کے بعد خوش حالی ہی آتی ہے، اور اسی طرح خوش حالی کے بعد مصیبت ہی آتی ہے، اور وہ شخص کامل ایمان والا مومن نہیں جو نماز کے علاوہ (کسی حالت میں) غم میں نہ ہو۔“ صحابہ نے عرض کیا: اور کیوں، یا رسول اللہ؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیونکہ نمازی اپنے رب سے سرگوشی کرتا ہے، اور جب نماز میں نہیں ہوتا تو صرف انسان سے ہم کلام ہوتا ہے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 10903
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 11، صفحہ 32، حدیث 10949