المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
طاوس، عن ابن عباس باب: طاؤس کی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایات
حدیث نمبر: 10899
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ شُعَيْبٍ النَّسَائِيُّ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، ثنا مُفَضَّلُ بْنُ مُهَلْهَلٍ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِي اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: سَافَرْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَمَضَانَ، فَصَامَ حَتَّى بَلَغَ عُسْفَانَ، ثُمَّ دَعَا بِإِنَاءٍ، فَشَرِبَ بِهَا لِيَرَاهُ النَّاسُ، ثُمَّ أَفْطَرَ حِينَ دَخَلَ مَكَّةَ، وَافْتَتَحَ مَكَّةَ فِي رَمَضَانَ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: «صَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي السَّفَرِ، وَأَفْطَرَ، فَمَنْ شَاءَ صَامَ وَمَنْ شَاءَ أَفْطَرَ»ترجمہ
پھر آپ ﷺ نے روزہ رکھا یہاں تک کہ عسفان پہنچے، پھر ایک برتن منگوایا اور اس میں سے پیا تاکہ لوگ دیکھ لیں، پھر جب مکہ میں داخل ہوئے تو روزہ توڑ دیا، اور مکہ رمضان میں فتح کیا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے سفر میں روزہ بھی رکھا اور توڑا بھی، تو جو چاہے روزہ رکھے اور جو چاہے نہ رکھے۔