المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
طاوس، عن ابن عباس باب: طاؤس کی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایات
حدیث نمبر: 10884
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَسْفَاطِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْمُبَارَكِ الْعَيْشِيُّ، ثنا وُهَيْبٌ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ الْمَسْجِدَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، فَإِذَا هُوَ بِأَبِي إِسْرَائِيلَ قَائِمًا فِي الشَّمْسِ، وَلَا يَسْتَظِلُّ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا لَهُ؟» قَالُوا: نَذَرَ أَنْ يَقُومَ وَلَا يَسْتَظِلَّ وَلَا يُفْطِرَ، قَالَ: «مُرُوهُ فَلْيَجْلِسْ، وَلْيَسْتَظِلَّ، وَلْيُفْطِرْ»ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ جمعہ کے دن مسجد میں داخل ہوئے تو ابواسرائیل کو دھوپ میں کھڑا پایا، وہ سائے میں نہیں جاتا تھا۔ نبی کریم ﷺ نے پوچھا: ”اسے کیا ہوا؟“ لوگوں نے کہا: اس نے نذر مانی ہے کہ وہ کھڑا رہے گا، سائے میں نہیں جائے گا، اور روزہ نہیں توڑے گا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے حکم دو کہ بیٹھ جائے، سائے میں چلا جائے، اور روزہ توڑ دے۔“