حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، وَعَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ الصَّنْعَانِيُّ، قَالَا: ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِيلَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، «أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى بِالْيَمِينِ مَعَ الشَّاهِدِ الْوَاحِدِ فِي الْحُقُوقِ»
ترجمہ
سعید بن عمرو بن شرحبیل بن سعید بن سعد بن عبادہ اپنے والد سے، وہ اپنے دادا سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے حقوق کے معاملات میں ایک گواہ کے ساتھ قسم پر فیصلہ فرمایا۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ الصَّنْعَانِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَمْرِو بْنِ قَيْسِ بْنِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُمْ وَجَدُوا فِي كِتَابِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: «أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى بِالْيَمِينِ مَعَ الشَّاهِدِ الْوَاحِدِ» وَاللَّفْظُ لِحَدِيثِ ابْنِ أَبِي أُوَيْسٍ
ترجمہ
…اسماعیل بن عمرو بن قیس بن سعد بن عبادہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کی تحریر میں پایا: رسول اللہ ﷺ نے ایک گواہ کے ساتھ قسم پر فیصلہ فرمایا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ: «قُمْ عَلَى صَدَقَةِ بَنِي فُلَانٍ، وَانْظُرْ لَا تَأْتِيَنَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِبَكْرٍ تَحْمِلُهُ عَلَى عُنُقِكَ أَوْ كَاهِلِكَ لَهُ رُغَاءٌ» ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، اصْرِفْهَا عَنِّي، فَصَرَفَهَا عَنْهُ
ترجمہ
سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا: ”فلاں قبیلے کی زکوٰۃ کی ذمہ داری سنبھالو، اور خیال رکھنا کہ قیامت کے دن تم اپنی گردن یا کندھے پر بلبلاتا ہوا اونٹ کا بچہ اٹھائے ہوئے نہ آنا۔“ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ ذمہ داری مجھ سے پھیر دیجیے۔ چنانچہ آپ ﷺ نے وہ ذمہ داری ان سے پھیر دی۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، أَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ «أَنَّ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ سَأَلَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نَذْرٍ كَانَ عَلَى أُمِّهِ، فَأَمَرَهُ بِقَضَائِهِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ سے اپنی والدہ کی طرف سے ایک نذر کے بارے میں پوچھا، تو آپ ﷺ نے انہیں اسے پورا کرنے کا حکم دیا۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ اسْتَفْتَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ أُمِّي مَاتَتْ وَعَلَيْهَا نَذْرٌ وَلَمْ تَقْضِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اقْضِهِ عَنْهَا»
ترجمہ
سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ سے فتویٰ طلب کیا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میری والدہ فوت ہو گئیں اور ان کے ذمے ایک نذر تھی جسے انہوں نے پورا نہیں کیا تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اسے ان کی طرف سے پورا کر دو۔“
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ، ثنا شُعَيْبُ بْنُ يَحْيَى التُّجِيبِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا مُطَّلِبُ بْنُ شُعَيْبٍ الْأَزْدِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الرَّبِيعِ بْنِ شَاهِينَ الْبَصْرِيُّ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، قَالُوا: ثنا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ اسْتَفْتَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَذْرٍ نَذَرَتْهُ أُمُّهُ، ثُمَّ مَاتَتْ قَبْلَ أَنْ تَقْضِيَهُ قَالَ: «اقْضِهِ عَنْهَا»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ سے اپنی والدہ کی کی ہوئی ایک نذر کے بارے میں فتویٰ طلب کیا، جو وہ پورا کیے بغیر فوت ہو گئی تھیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے ان کی طرف سے پورا کر دو۔“
حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ الْحَلَبِيُّ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ أَبِي مَنِيعٍ، ثنا جَدِّي، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ الْأَنْصَارِيَّ اسْتَفْتَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَذْرٍ كَانَ عَلَى أُمِّهِ، فَتُوُفِّيَتْ قَبْلَ أَنْ تَقْضِيَهُ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اقْضِهِ عَنْهَا» فَلْيَسْتَنَّ الْمُسْلِمُونَ فِي كُلِّ شَيْءٍ كَانَ عَلَى امْرِئٍ، فَتُوُفِّيَ قَبْلَ أَنْ يَقْضِيَهُ
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا سعد بن عبادہ انصاری رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ سے اپنی والدہ کے ذمے ایک نذر کے بارے میں فتویٰ طلب کیا، جو وہ پورا کیے بغیر فوت ہو گئی تھیں۔ رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا: ”اسے ان کی طرف سے پورا کر دو۔“ لہٰذا مسلمانوں کو چاہیے کہ ہر اس چیز میں جو کسی شخص کے ذمے تھی اور وہ اسے پورا کیے بغیر فوت ہو گیا، اسی طریقے پر عمل کریں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْمَرْوَزِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ كَثِيرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ أُمِّي مَاتَتْ وَعَلَيْهَا نَذْرٌ، فَيُجْزِئُ عَنْهَا أَنْ أَعْتِقَ عَنْهَا؟ قَالَ: «أَعْتِقْ عَنْ أُمِّكَ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میری والدہ فوت ہو گئیں اور ان کے ذمے ایک نذر تھی، کیا میں ان کی طرف سے ایک غلام آزاد کر دوں تو یہ کافی ہو گا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اپنی والدہ کی طرف سے غلام آزاد کر دو۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ زُهَيْرٍ التُّسْتَرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ بُنْدَارٌ، ثنا سَعِيدُ بْنُ سُفْيَانَ الْجَحْدَرِيُّ، ثنا صَالِحُ بْنُ أَبِي الْأَخْضَرِ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ اسْتَفْتَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي دَيْنٍ كَانَ عَلَى أُمِّهِ، رَقَبَةٌ: أَفَأُعْتِقُ عَنْهَا؟ قَالَ: «نَعَمْ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ سے اپنی والدہ کے ذمے ایک قرض کے بارے میں فتویٰ طلب کیا، جو ایک غلام آزاد کرنے کا تھا: کیا میں ان کی طرف سے آزاد کر دوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ خَالِدٍ الْمِصِّيصِيُّ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ، أَنَّهُ قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: تُوُفِّيَتْ أُمُّهُ وَهُوَ غَائِبٌ عَنْهَا، فَهَلْ يَنْفَعُهَا شَيْءٌ إِنْ تَصَدَّقْتُ بِهِ عَنْهَا؟ قَالَ: «نَعَمْ» ، قَالَ: فَإِنِّي أُشْهِدُكَ أنَّ حَائِطَيِ الْمِخْرَافِ صَدَقَةٌ عَنْهَا
ترجمہ
سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم ﷺ سے عرض کیا کہ ان کی والدہ کا انتقال ہوا جبکہ وہ ان سے دور تھے، تو کیا انہیں کوئی فائدہ ہو گا اگر وہ ان کی طرف سے صدقہ کریں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں۔“ انہوں نے عرض کیا: تو میں آپ کو گواہ بناتا ہوں کہ میرا مخراف کا باغ ان کی طرف سے صدقہ ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَبَانَ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَا: ثنا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ بَكْرِ بْنِ وَائِلٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: جَاءَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنَّ أُمِّي مَاتَتْ وَعَلَيْهَا نَذْرٌ لَمْ تَقْضِهِ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اقْضِهِ عَنْهَا»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور عرض کیا: میری والدہ فوت ہو گئیں اور ان کے ذمے ایک نذر تھی جسے انہوں نے پورا نہیں کیا تھا۔ نبی کریم ﷺ نے ان سے فرمایا: ”اسے ان کی طرف سے پورا کر دو۔“
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَاسِطِيُّ، ثنا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، أَنَا خَالِدٌ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: اسْتَفْتَى سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَذْرٍ كَانَ عَلَى أُمِّهِ، فَتُوُفِّيَتْ قَبْلَ أَنْ تَقْضِيَهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اقْضِهِ عَنْهَا»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم ﷺ سے اپنی والدہ کے ذمے ایک نذر کے بارے میں فتویٰ طلب کیا، جو وہ پورا کیے بغیر فوت ہو گئی تھیں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اسے ان کی طرف سے پورا کر دو۔“
حَدَّثَنَا الْمُفَضَّلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَنَدِيُّ، ثنا أَبُو حُمَةَ مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الزُّبَيْدِيُّ، ثنا أَبُو قُرَّةَ، قَالَ: ذَكَرَ زَمْعَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ عَطَاءٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ اسْتَفْتَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَذْرٍ كَانَ عَلَى أُمِّهِ أَنْ يَقْضِيَهُ، فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «أَنْ يَقْضِيَهُ عَنْهَا»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ سے اپنی والدہ کے ذمے ایک نذر پورا کرنے کے بارے میں فتویٰ طلب کیا، تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں اسے ان کی طرف سے پورا کرنے کا حکم دیا۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ طَاهِرِ بْنِ حَرْمَلَةَ، ثنا جَدِّي، ثنا إِدْرِيسُ بْنُ يَحْيَى، عَنْ حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ، عَنْ عَقِيلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ اسْتَفْتَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَذْرٍ كَانَ عَلَى أُمِّهِ، فَتُوُفِّيَتْ قَبْلَ أَنْ تَقْضِيَهُ، فَأَفْتَاهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «أَنْ يَقْضِيَهُ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ سے اپنی والدہ کے ذمے ایک نذر کے بارے میں فتویٰ طلب کیا، جو وہ پورا کیے بغیر فوت ہو گئی تھیں، تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں فتویٰ دیا کہ وہ اسے پورا کر دیں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ مُوسَى بْنِ أَعْيَنَ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: اسْتَفْتَى سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي دَيْنٍ كَانَ عَلَى أُمِّهِ، فَتُوُفِّيَتْ قَبْلَ أَنْ تَقْضِيَهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اقْضِ عَنْهَا»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ سے اپنی والدہ کے ذمے ایک قرض کے بارے میں فتویٰ طلب کیا، جو وہ پورا کیے بغیر فوت ہو گئی تھیں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اسے ان کی طرف سے پورا کرو۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْخَشَّابُ الرَّقِّيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ قُسْطٍ، وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ زُرَارَةَ الرَّقِّيُّ، قَالَا: ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، عَنْ شُرَحْبِيلَ بْنِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " فِي يَوْمِ الْجُمُعَةِ خَمْسُ خِلَالٍ: فِيهِ خَلَقَ اللهُ آدَمَ، وَفِيهِ تُوُفِّيَ آدَمُ، وَفِيهِ سَاعَةٌ لَا يَسْأَلُ الْعَبْدُ فِيهَا شَيْئًا إِلَّا أَعْطَاهُ إِيَّاهُ، مَا لَمْ يَسْأَلْ إِثْمًا أَوْ قَطِيعَةَ رَحِمٍ، وَفِيهِ تَقُومُ السَّاعَةُ، وَمَا مِنْ مَلَكٍ مُقَرَّبٍ، وَلَا سَمَاءٍ، وَلَا رِيحٍ، وَلَا جَبَلٍ إِلَّا مُشْفِقٌ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ "
ترجمہ
سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جمعہ کے دن میں پانچ خصوصیات ہیں: اسی دن اللہ نے آدم علیہ السلام کو پیدا کیا، اسی دن آدم علیہ السلام کی وفات ہوئی، اسی دن میں ایک ایسی گھڑی ہے کہ بندہ اس میں جو بھی مانگے اللہ اسے وہ عطا فرما دیتا ہے، بشرطیکہ وہ کوئی گناہ یا قطع رحمی نہ مانگے، اسی دن قیامت قائم ہو گی، اور کوئی مقرب فرشتہ، آسمان، ہوا اور پہاڑ ایسا نہیں جو جمعہ کے دن سے خوفزدہ نہ ہو۔“
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ح وَحَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي شُمَيْلَةَ، عَنْ سَعِيدٍ الصَّرَّافِ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ هَذَا الْحَيَّ مِنَ الْأَنْصَارِ مِحْنَةٌ، حُبُّهُمْ إِيْمَانٌ، وَبُغْضُهُمْ نِفَاقٌ»
ترجمہ
سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”انصار کا یہ قبیلہ ایک آزمائش ہے، ان کی محبت ایمان ہے اور ان کی دشمنی نفاق ہے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، ثنا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ أَنَّ أُمَّ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ مَاتَتْ وَهُوَ غَائِبٌ، فَلَمَّا قَدِمَ قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أُحِبُّ أَنْ تُصَلِّيَ عَلَى أُمِّي، فَأَتَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْرَهَا، «فَصَلَّى عَلَيْهَا وَقَدْ أَتَى لَهَا شَهْرٌ»
ترجمہ
سعید بن مسیب بیان کرتے ہیں کہ سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کی والدہ فوت ہو گئیں جبکہ وہ غائب تھے، جب وہ واپس آئے تو عرض کیا: یا رسول اللہ! میں چاہتا ہوں کہ آپ میری والدہ کی نماز جنازہ پڑھائیں۔ چنانچہ نبی کریم ﷺ ان کی قبر پر تشریف لے گئے اور ان کی نماز جنازہ پڑھائی، حالانکہ ان کی وفات کو ایک مہینہ گزر چکا تھا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، ثنا وَكِيعٌ، عَنْ هِشَامٍ الدَّسْتُوَائِيِّ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ أَنَّهُ: أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ أُمِّي مَاتَتْ، أَفَأَتَصَدَّقُ عَنْهَا؟ قَالَ: «نَعَمْ» قَالَ: فَأَيُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: «سَقْيُ الْمَاءِ»
ترجمہ
قتادہ، سعید بن مسیب کے واسطے سے سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ وہ نبی کریم ﷺ کے پاس آئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میری والدہ فوت ہو گئیں، کیا میں ان کی طرف سے صدقہ کروں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں۔“ انہوں نے عرض کیا: کون سا صدقہ افضل ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”پانی پلانا۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبٍ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَلَمَةَ الرَّازِيُّ، ثنا أَبُو زُهَيْرٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَغْرَاءَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ كُرَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ قَالَ: جِئْتُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: تُوُفِّيَتْ أُمِّي وَلَمْ تُوصِ، وَلَمْ تَصَدَّقْ، فَهَلْ تُقْبَلُ إِنْ تَصَدَّقْتُ عَنْهَا؟ قَالَ: «نَعَمْ» ، قَالَ: فَهَلْ يَنْفَعُهَا ذَلِكَ، قَالَ: «نَعَمْ، وَلَوْ بِكُرَاعِ شَاةٍ مُحْتَرِقٍ»
ترجمہ
سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور عرض کیا: میری والدہ فوت ہو گئیں، انہوں نے کوئی وصیت نہیں کی اور نہ کوئی صدقہ کیا، تو اگر میں ان کی طرف سے صدقہ کروں تو کیا وہ قبول ہو گا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں۔“ انہوں نے عرض کیا: تو کیا اس سے انہیں فائدہ ہو گا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں، خواہ وہ جلی ہوئی بکری کی کھر ہی کیوں نہ ہو۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْحِمَّانِيُّ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِيلَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ أُمَّهُ تُوُفِّيَتْ وَهُوَ غَائِبٌ، فَسَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيَنْفَعُهَا إِنْ تَصَدَّقْتُ عَنْهَا؟ قَالَ: «نَعَمْ»
ترجمہ
سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان کی والدہ فوت ہو گئیں جبکہ وہ غائب تھے، تو انہوں نے نبی کریم ﷺ سے پوچھا: کیا انہیں فائدہ ہو گا اگر میں ان کی طرف سے صدقہ کروں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزُّهْرِيُّ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِيلَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ أُمَّ سَعْدٍ تُوُفِّيَتْ وَلَمْ تُوصِ، أَفَأَتَصَدَّقُ عَنْهَا؟ قَالَ: «نَعَمْ»
ترجمہ
سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! سعد کی والدہ فوت ہو گئیں اور انہوں نے کوئی وصیت نہیں کی، کیا میں ان کی طرف سے صدقہ کروں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں۔“
حَدَّثَنَا الْمِقْدَامُ بْنُ دَاوُدَ، ثنا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ صُبَيْحٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، وَالِدَتِي كَانَتْ تَتَصَدَّقُ وتُنْفِقُ مِنْ مَالِي فِي حَيَاتِهَا، فَقَدْ مَاتَتْ، أَرَأَيْتَ إِنْ تَصَدَّقْتُ عَنْهَا، أَوْ أَعْتَقْتُ عَنْهَا، نَرْجُو لَهَا شَيْئًا؟ فقَالَ: «نَعَمْ» ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، دُلَّنِي عَلَى صَدَقَةٍ، قَالَ: «اسْقِ الْمَاءَ» قَالَ الْحَسَنُ: فَمَا زَالَتْ جِرَارُ سَعْدٍ بِالْمَدِينَةِ بَعْدُ
ترجمہ
…میری والدہ اپنی زندگی میں میرے مال سے صدقہ کرتیں اور خرچ کرتی تھیں، اب وہ فوت ہو گئی ہیں، آپ بتائیے اگر میں ان کی طرف سے صدقہ کروں یا غلام آزاد کروں تو کیا ہمیں ان کے لیے کوئی امید ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں۔“ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے کسی صدقے کی رہنمائی فرمائیے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”پانی پلاؤ۔“ حسن (بصری) کہتے ہیں: اس کے بعد سے مدینہ میں سعد کے پانی کے مٹکے برابر لوگوں کو پانی پلانے کے لیے موجود رہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو يَزِيدَ الْقَرَاطِيسِيُّ، ثنا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ثنا مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، دُلَّنِي عَلَى صَدَقَةٍ، قَالَ: «اسْقِ الْمَاءَ»
ترجمہ
سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے کسی صدقے کی رہنمائی فرمائیے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”پانی پلاؤ۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا ضِرَارُ بْنُ صُرَدَ أَبُو نُعَيْمٍ الطَّحَّانُ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ أَبِي الصَّنْعَةِ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ: «يَا سَعْدُ، أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى صَدَقَةٍ يَسِيرَةٍ مُؤْنَتُهَا، عَظِيمٍ أَجْرُهَا؟» قَالَ: بَلَى، قَالَ: «تَسْقِي الْمَاءَ» ، فَسَقَى سَعْدٌ الْمَاءَ
ترجمہ
سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا: ”اے سعد! کیا میں تمہیں ایسے صدقے کی رہنمائی نہ کروں جس کی مشقت کم اور اجر بہت زیادہ ہو؟“ انہوں نے عرض کیا: کیوں نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”پانی پلاؤ۔“ چنانچہ سعد رضی اللہ عنہ نے پانی پلانا شروع کر دیا۔
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا سَهْلُ بْنُ عُثْمَانَ، ثنا عَبِيدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ طَلْحَةَ الْيَامِيِّ، عَنْ هُذَيْلِ بْنِ شُرَحْبِيلَ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ قَالَ: جِئْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي بَيْتٍ، فَقُمْتُ مُقَابِلَ الْبَابِ، فَاسْتَأْذَنْتُ، فَأَشَارَ إِلَيَّ أَنْ تَبَاعَدْ، ثُمَّ جِئْتُ، فَاسْتَأْذَنْتُ، فَقَالَ: «وَهَلِ الِاسْتِئْذَانُ إِلَّا مِنِ النَّظَرِ»
ترجمہ
سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نبی کریم ﷺ کے پاس آیا جبکہ آپ ﷺ ایک گھر میں تھے، میں دروازے کے بالمقابل کھڑا ہو کر اندر آنے کی اجازت مانگنے لگا، تو آپ ﷺ نے مجھے اشارہ کیا کہ دور ہو جاؤ۔ پھر میں آیا اور اجازت مانگی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اجازت مانگنا تو صرف اس لیے ہے کہ نظر نہ پڑے۔“
حَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، أَنَا شُعْبَةُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ عِيسَى بْنِ لَقِيطٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الشَّامِ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَا مِنْ عَامَلِ عَشْرَةٍ إِلَّا جِيءَ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَغْلُولًا، لَا يُطْلِقُهُ إِلَّا الْعَدْلُ»
ترجمہ
سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”دس آدمیوں پر مقرر ہونے والا کوئی افسر ایسا نہیں جسے قیامت کے دن ہاتھ بندھا ہوا نہ لایا جائے، اور اسے انصاف کے سوا کوئی چیز نہیں کھولے گی۔“
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ح وَحَدَّثَنَا الْمِقْدَامُ بْنُ دَاوُدَ، ثنا أَسَدُ بْنُ مُوسَى قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ عِيسَى بْنِ فَايِدٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ رَحِمَهُ اللهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَا مِنْ أَمِيرِ عَشْرَةٍ إِلَّا يُؤْتَى بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَغْلُولًا، لَا يَفُكُّهُ مِنْ وَثَاقِهِ إِلَّا الْعَدْلُ»
ترجمہ
سیدنا سعد بن عبادہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”دس آدمیوں کا امیر بننے والا کوئی شخص ایسا نہیں جسے قیامت کے دن ہاتھ بندھا ہوا نہ لایا جائے، اور اسے اس کی رسی سے انصاف کے سوا کوئی چیز نہیں کھولے گی۔“
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا خَالِدٌ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ عِيسَى بْنِ فَايِدٍ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَا مِنْ أَمِيرِ عَشَرَةٍ إِلَّا يُؤْتَى بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَغْلُولًا، لَا يَفُكُّهُ مِنَ الْغُلِّ إِلَّا الْعَدْلُ»
ترجمہ
سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”دس آدمیوں کا امیر بننے والا کوئی شخص ایسا نہیں جسے قیامت کے دن ہاتھ بندھا ہوا نہ لایا جائے، اور اسے اس بندھن سے انصاف کے سوا کوئی چیز نہیں کھولے گی۔“
حَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، أَنَا شُعْبَةُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ عِيسَى بْنِ لَقِيطٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الشَّامِ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَا مِنْ أَحَدٍ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ، ثُمَّ نَسِيَهُ، إِلَّا لَقِيَ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ أَجْذَمَ»
ترجمہ
سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جس نے قرآن سیکھا، پھر اسے بھلا دیا، وہ اللہ عزوجل سے قیامت کے دن کوڑھی (کٹے ہاتھوں والا) ہو کر ملے گا۔“
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ح وَحَدَّثَنَا الْمِقْدَامُ بْنُ دَاوُدَ، ثنا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، قَالَا: ثنا ابْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ عِيسَى بْنِ فَايِدٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَا مِنْ أَحَدٍ يَقْرَأُ الْقُرْآنَ، ثُمَّ يَنْسَاهُ، إِلَّا لَقِيَ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ وَهُوَ أَجْذَمُ»
ترجمہ
سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص قرآن پڑھے، پھر اسے بھول جائے، وہ اللہ عزوجل سے کوڑھی ہو کر ملے گا۔“
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا خَالِدٌ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ عِيسَى بْنِ فَايِدٍ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ
ترجمہ
سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ سے بھی اسی جیسی حدیث مروی ہے۔
حَدَّثَنَا الْمِقْدَامُ بْنُ دَاوُدَ، ثنا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ أَنَّهُ اسْتَأْذَنَ مُسْتَقْبِلَ الْبَابِ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَسْتَأْذِنْ مُسْتَقْبِلَ الْبَابِ»
ترجمہ
سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے دروازے کے بالمقابل ہو کر اندر آنے کی اجازت مانگی، تو نبی کریم ﷺ نے ان سے فرمایا: ”دروازے کے بالمقابل ہو کر اجازت نہ مانگا کرو۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ بْنِ نَجْدَةَ الْحَوْطِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ صَالِحٍ الْوُحَاظِيُّ، ثنا أَبُو مَعْشَرٍ نَجِيحٌ الْمَدَنِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِيلَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: قَالَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ: حَضَرْتُ رَسُولَ اللهِ، وَجَاءَهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، وَجَدْتُ عَلَى بَطْنِ امْرَأَتِي رَجُلًا، أَضْرِبُهُ بِالسَّيْفِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَيُّ بَيِّنَةٍ أَبْيَنُ مِنَ السَّيْفِ؟» ، ثُمَّ رَجَعَ فَقَالَ: «كِتَابُ رَبِّنَا هَذَا» ، فَقَالَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَيُّ بَيِّنَةٍ أَبْيَنُ مِنَ السَّيْفِ؟ فَقَالَ: «كِتَابُ اللهِ، وَشَاهِدٌ ثَمَّةَ» ، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ هَذَا سَيِّدُكُمْ، اسْتَفَزَّتْهُ الْغَيْرَةُ حَتَّى خَالَفَ كِتَابَ اللهِ» ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ سَعْدًا رَجُلٌ غَيُورٌ، مَا تَزَوَّجَ امْرَأَةً ثَيِّبًا قَطُّ لِغَيْرَتِهِ، وَمَا قَدَرَ أَحَدٌ مِنَّا أَنْ يَتَزَوَّجَ امْرَأَةً طَلَّقَهَا لِغَيْرَتِهِ، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «سَعْدٌ غَيُورٌ، وَأَنَا أَغْيَرُ مِنْهُ، وَاللهُ عَزَّ وَجَلَّ أَغْيَرُ مِنِّي» ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ: عَلَى أَيِّ شَيْءٍ يَغَارُ اللهُ تَعَالَى، قَالَ: «يَغَارُ عَلَى رَجُلٍ مُجَاهِدٍ فِي سَبِيلِ اللهِ يُخَالَفُ إِلَى أَهْلِهِ»
ترجمہ
سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ ﷺ کے پاس موجود تھا کہ ایک آدمی آیا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میں نے اپنی بیوی کے ساتھ ایک آدمی کو پایا، کیا میں اسے تلوار سے قتل کر دوں؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تلوار سے زیادہ واضح گواہ کون سا ہو سکتا ہے؟“ پھر آپ ﷺ نے رجوع کر کے فرمایا: ”یہ ہمارے رب کی کتاب ہے۔“ سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! تلوار سے زیادہ واضح گواہ کون سا ہو سکتا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کی کتاب اور وہاں موجود گواہ کافی ہیں۔“ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے گروہِ انصار! یہ تمہارا سردار ہے، غیرت نے اسے اس حد تک ابھار دیا کہ اس نے اللہ کی کتاب کے خلاف بات کہہ دی۔“ اس پر انصار میں سے ایک آدمی نے عرض کیا: یا رسول اللہ! سعد بہت غیرت مند آدمی ہیں، اپنی غیرت کی وجہ سے انہوں نے کبھی کسی بیوہ عورت سے نکاح نہیں کیا، اور ہم میں سے کوئی بھی ان کی غیرت کے باعث کسی ایسی عورت سے نکاح نہیں کر سکا جسے انہوں نے طلاق دی ہو۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”سعد غیرت مند ہیں، اور میں ان سے بھی زیادہ غیرت مند ہوں، اور اللہ عزوجل مجھ سے بھی زیادہ غیرت مند ہے۔“ اس پر انصار میں سے ایک آدمی نے عرض کیا: اللہ تعالیٰ کس بات پر غیرت کھاتا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ اس بات پر غیرت کھاتا ہے کہ اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے شخص کے پیچھے اس کے گھر والوں میں خلاف ورزی کی جائے۔“