حدیث نمبر: 5364
حَدَّثَنَا الْمِقْدَامُ بْنُ دَاوُدَ، ثنا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ صُبَيْحٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، وَالِدَتِي كَانَتْ تَتَصَدَّقُ وتُنْفِقُ مِنْ مَالِي فِي حَيَاتِهَا، فَقَدْ مَاتَتْ، أَرَأَيْتَ إِنْ تَصَدَّقْتُ عَنْهَا، أَوْ أَعْتَقْتُ عَنْهَا، نَرْجُو لَهَا شَيْئًا؟ فقَالَ: «نَعَمْ» ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، دُلَّنِي عَلَى صَدَقَةٍ، قَالَ: «اسْقِ الْمَاءَ» قَالَ الْحَسَنُ: فَمَا زَالَتْ جِرَارُ سَعْدٍ بِالْمَدِينَةِ بَعْدُ
ترجمہ

…میری والدہ اپنی زندگی میں میرے مال سے صدقہ کرتیں اور خرچ کرتی تھیں، اب وہ فوت ہو گئی ہیں، آپ بتائیے اگر میں ان کی طرف سے صدقہ کروں یا غلام آزاد کروں تو کیا ہمیں ان کے لیے کوئی امید ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں۔“ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے کسی صدقے کی رہنمائی فرمائیے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”پانی پلاؤ۔“ حسن (بصری) کہتے ہیں: اس کے بعد سے مدینہ میں سعد کے پانی کے مٹکے برابر لوگوں کو پانی پلانے کے لیے موجود رہے۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب السين / حدیث: 5364
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 6، صفحہ 21، حدیث 5383