حدیث نمبر: 5361
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبٍ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَلَمَةَ الرَّازِيُّ، ثنا أَبُو زُهَيْرٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَغْرَاءَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ كُرَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ قَالَ: جِئْتُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: تُوُفِّيَتْ أُمِّي وَلَمْ تُوصِ، وَلَمْ تَصَدَّقْ، فَهَلْ تُقْبَلُ إِنْ تَصَدَّقْتُ عَنْهَا؟ قَالَ: «نَعَمْ» ، قَالَ: فَهَلْ يَنْفَعُهَا ذَلِكَ، قَالَ: «نَعَمْ، وَلَوْ بِكُرَاعِ شَاةٍ مُحْتَرِقٍ»
ترجمہ

سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور عرض کیا: میری والدہ فوت ہو گئیں، انہوں نے کوئی وصیت نہیں کی اور نہ کوئی صدقہ کیا، تو اگر میں ان کی طرف سے صدقہ کروں تو کیا وہ قبول ہو گا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں۔“ انہوں نے عرض کیا: تو کیا اس سے انہیں فائدہ ہو گا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں، خواہ وہ جلی ہوئی بکری کی کھر ہی کیوں نہ ہو۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب السين / حدیث: 5361
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 6، صفحہ 21، حدیث 5380