حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ الْحَرَّانِيُّ، ثنا أَبِي، ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ، عَنْ عُرْوَةَ: فِي «تَسْمِيَةِ مَنْ قُتِلَ يَوْمَ الْيَمَامَةِ مِنَ الْأَنْصَارِ، ثُمَّ مِنْ بَنِي الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ ثَابِتُ بْنُ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ»
ترجمہ
عروہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: ”یمامہ کے دن شہید ہونے والوں کے ناموں میں، انصار میں سے، پھر بنی حارث بن خزرج میں سے، ثابت بن قیس بن شماس تھے۔“
حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنْبَاعِ رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، قَالَ: «اسْتُشْهِدَ ثَابِتُ بْنُ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ، يَوْمَئِذٍ سَنَةَ اثْنَتَيْ عَشْرَةَ»
ترجمہ
یحییٰ بن بکیر بیان کرتے ہیں: ”سیدنا ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہ اسی دن بارہ ہجری میں شہید ہوئے۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، وَأَبُو مُسْلِمً الْكَشِّيُّ، قَالَا: ثنا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَبَّاسِ الْمُؤَدِّبُ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ، قَالَا: ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ ثَابِتَ بْنَ قَيْسٍ، جَاءَ يَوْمَ الْيَمَامَةِ، وَقَدْ تَحَنَّطَ وَنَشَرَ أَكْفَانَهُ، فَقَالَ: «اللهُمَّ إِنِّي أَبْرَأُ إِلَيْكَ مِمَّا جَاءَ بِهِ هَؤُلَاءِ، وَأَعْتَذِرُ مِمَّا صَنَعَ هَؤُلَاءِ فَقُتِلَ، وَكَانَتْ لَهُ دِرْعٌ فَسُرِقَتْ، فَرَآهُ رَجُلٌ فِيمَا يَرَى النَّائِمُ» ، فَقَالَ: «إِنَّ دِرْعِي فِي قِدْرٍ تَحْتَ الْكَانُونِ، فِي مَكَانِ كَذَا، وَكَذَا، وَأَوْصَاهُ بِوَصَايَا، فَطَلَبُوا الدِّرْعَ فَوَجَدُوهَا، وَأَنْفَذُوا الْوَصَايَا»
ترجمہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ یمامہ کے دن آئے، اور انہوں نے خوشبو لگا رکھی تھی اور اپنے کفن پھیلا رکھے تھے، تو انہوں نے کہا: ”اے اللہ! میں تیرے سامنے ان لوگوں کے لائے ہوئے سے بیزاری ظاہر کرتا ہوں، اور ان کے کیے پر معذرت پیش کرتا ہوں“ پھر وہ شہید ہو گئے، اور ان کی ایک زرہ تھی جو چوری ہو گئی، تو ایک آدمی نے خواب میں انہیں دیکھا، تو ثابت رضی اللہ عنہ نے کہا: ”میری زرہ فلاں فلاں جگہ چولہے کے نیچے ایک ہانڈی میں ہے“ اور انہیں کچھ وصیتیں کیں، تو لوگوں نے زرہ تلاش کی تو وہ وہیں پائی، اور ان کی وصیتیں پوری کیں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا قَطَنُ بْنُ نُسَيْرٍ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: «كَانَ ثَابِتُ بْنُ قَيْسٍ خَطِيبَ الْأَنْصَارِ»
ترجمہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ”ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ انصار کے خطیب تھے۔“
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، ثنا أَزْهَرُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، قَالَ: أَنْبَأَنِي ثُمَامَةُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: فَقَدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَابِتَ بْنَ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ فَقَالَ رَجُلٌ: أَنَا أَعْلَمُ خَبَرَهُ يَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَاهُ فَوَجَدَهُ فِي بَيْتٍ مُنَكِّبَ رَأْسِهِ يَبْكِي، فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، افْتَقَدَكَ، فَقَالَ: رَفَعْتُ صَوْتِي فَوْقَ صَوْتِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَدْ حَبِطَ عَمَلِي، وَأَنَا مِنْ أَهْلِ النَّارِ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «ارْجِعْ إِلَيْهِ، وَأَعْلِمْهُ أَنَّهُ لَيْسَ مِنْ أَهْلِ النَّارِ، وَأَنَّهُ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ»
ترجمہ
…(کسی نے کہا:) تمہیں کیوں نہیں دیکھا؟ تو انہوں نے کہا: میں نے اپنی آواز رسول اللہ ﷺ کی آواز سے بلند کر دی ہے، تو میرا عمل ضائع ہو گیا ہے اور میں جہنمیوں میں سے ہوں، تو وہ شخص نبی کریم ﷺ کے پاس آیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کے پاس واپس جاؤ اور اسے بتاؤ کہ وہ جہنمیوں میں سے نہیں بلکہ جنتیوں میں سے ہے۔“
حَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حُمَيْدٍ الطَّوِيلُ، ثنا صَالِحُ بْنُ أَبِي الْأَخْضَرِ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ، أَنَّ ثَابِتًا، أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، قَدْ خَشِيتُ أَنْ أَكُونَ قَدْ هَلَكْتُ، قَالَ: «لِمَ؟» قَالَ: نَهَانَا اللهُ أَنْ نُحْمَدَ بِمَا لَمْ نَفْعَلْ، وَإِنِّي رَجُلٌ أُحِبُّ الْحَمْدَ، وَنَهَانَا أَنْ نَرْفَعَ أَصْوَاتَنَا، فَوْقَ صَوْتِكَ، وَأَنَا رَجُلٌ جَهِيرُ الصَّوْتِ، وَنَهَانَا عَنِ الْخُيَلَاءِ، وَأَنَا رَجُلٌ أُحِبُّ الْجَمَالَ، فَقَالَ: «يَا ثَابِتُ أَمَا تُحِبُّ أَنْ تَعِيشَ حَمِيدًا، وتُقْتَلَ شَهِيدًا؟» فَقُتِلَ يَوْمَ الْيَمَامَةِ
ترجمہ
محمد بن ثابت سیدنا ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ثابت رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ کے پاس آئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے ڈر ہے کہ میں ہلاک ہو گیا ہوں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیوں؟“ انہوں نے کہا: اللہ نے ہمیں اس بات کی تعریف کیے جانے سے منع کیا ہے جو ہم نے نہیں کی، اور میں تعریف پسند کرنے والا آدمی ہوں، اور اس نے ہمیں منع کیا ہے کہ ہم اپنی آوازیں آپ کی آواز سے بلند کریں، اور میں اونچی آواز والا آدمی ہوں، اور اس نے ہمیں تکبر سے منع کیا ہے، اور میں خوبصورتی پسند کرنے والا آدمی ہوں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے ثابت! کیا تم یہ پسند نہیں کرتے کہ تم تعریف کیے جاتے ہوئے زندہ رہو، اور شہید ہو کر مرو؟“ تو وہ یمامہ کے دن شہید ہو گئے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَمْزَةَ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ أَبِيهِ، حَدَّثَنِي أَبُو عَمْرٍو الْأَوْزَاعِيُّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ ثَابِتٍ الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنِي ثَابِتُ بْنُ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ، قَالَ: قُلْتُ يَا رَسُولَ اللهِ، وَاللهِ لَقَدْ خَشِيتُ أَنْ أَكُونَ قَدْ هَلَكْتُ " قَالَ: «بِمَ؟» ، قُلْتُ: نَهَى اللهُ الْمَرْءَ أَنْ يُحْمَدَ بِمَا لَمْ يَفْعَلْ، وَأَجِدُنِي أُحِبُّ الْحَمْدَ، وَنَهَى الله عَنِ الْخُيَلَاءِ، وَأَجِدُنِي أُحِبُّ الْخُيَلَاءَ، وَنَهَى اللهُ أَنْ نَرْفَعَ أَصْوَاتَنَا فَوْقَ صَوْتِكَ، وَأَنَا امْرُؤٌ جَهِيرُ الصَّوْتِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَلَا تَرْضَى أَنْ تَعِيشَ حَمِيدًا، وتُقْتَلَ شَهِيدًا، وَتَدْخُلَ الْجَنَّةَ» ، قَالَ: بَلَى يَا رَسُولَ اللهِ، فَعَاشَ حَمِيدًا، وَقُتِلَ شَهِيدًا يَوْمَ مُسَيْلِمَةَ
ترجمہ
محمد بن ثابت انصاری بیان کرتے ہیں کہ مجھے سیدنا ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہ نے بتایا، وہ کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اللہ کی قسم، مجھے ڈر ہے کہ میں ہلاک ہو گیا ہوں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”کس وجہ سے؟“ میں نے عرض کیا: اللہ نے آدمی کو اس بات کی تعریف کیے جانے سے منع کیا ہے جو اس نے نہیں کی، اور میں اپنے آپ کو تعریف پسند کرنے والا پاتا ہوں، اور اللہ نے تکبر سے منع کیا ہے، اور میں اپنے آپ کو تکبر پسند کرنے والا پاتا ہوں، اور اللہ نے منع کیا ہے کہ ہم اپنی آوازیں آپ کی آواز سے بلند کریں، اور میں اونچی آواز والا آدمی ہوں، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم اس پر راضی نہیں ہو کہ تم تعریف کیے جاتے ہوئے زندہ رہو، شہید ہو کر مرو، اور جنت میں داخل ہو؟“ میں نے عرض کیا: کیوں نہیں، یا رسول اللہ! تو وہ تعریف کیے جاتے ہوئے زندہ رہے، اور مسیلمہ کے دن شہید ہو کر مرے۔
حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنْبَاعِ رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ، ثنا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ ثَابِتٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ، أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ لَقَدْ خَشِيتُ أَنْ أَكُونَ قَدْ هَلَكْتُ، قَالَ: «بِمَ؟» ، قَالَ: إِنَّ اللهَ يَنْهَانَا أَنْ نُحْمَدَ بِمَا لَمْ نَفْعَلْ، وَأَجِدُنِي أُحِبُّ الْحَمْدَ، وَنَهَانَا عَنِ الْخُيَلَاءِ، وَأَنَا امْرُؤٌ أُحِبُّ الْجَمَالَ، وَنَهَانَا أَنْ نَرْفَعَ أَصْوَاتَنَا فَوْقَ صَوْتِكَ، وَأَنَا امْرُؤٌ جَهِيرُ الصَّوْتِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا ثَابِتُ بْنُ قَيْسٍ، أَمَا تَرْضَى أَنْ تَعِيشَ حَمِيدًا، وتُقْتَلَ شَهِيدًا، وَتَدْخُلَ الْجَنَّةَ؟»
ترجمہ
اسماعیل بن محمد بن ثابت انصاری سیدنا ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! مجھے ڈر ہے کہ میں ہلاک ہو گیا ہوں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”کس وجہ سے؟“ انہوں نے کہا: اللہ نے ہمیں اس بات کی تعریف کیے جانے سے منع کیا ہے جو ہم نے نہیں کی، اور میں اپنے آپ کو تعریف پسند کرنے والا پاتا ہوں، اور اس نے ہمیں تکبر سے منع کیا ہے، اور میں خوبصورتی پسند کرنے والا آدمی ہوں، اور اس نے ہمیں منع کیا ہے کہ ہم اپنی آوازیں آپ کی آواز سے بلند کریں، اور میں اونچی آواز والا آدمی ہوں، تو رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا: ”اے ثابت بن قیس! کیا تم اس پر راضی نہیں ہو کہ تم تعریف کیے جاتے ہوئے زندہ رہو، شہید ہو کر مرو، اور جنت میں داخل ہو؟“
حَدَّثَنَا مُطَّلِبُ بْنُ شُعَيْبٍ الْأَزْدِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي الْهِقْلُ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ يَحْيَى، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ ثَابِتٍ الْأَنْصَارِيُّ، أَنَّ ثَابِتَ بْنَ قَيْسٍ الْأَنْصَارِيَّ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ لَقَدْ خَشِيتُ أَنْ أَكُونَ قَدْ هَلَكْتُ، فَقَالَ لَهُ: «لِمَ؟» قَالَ: نَهَى اللهُ الْمَرْءَ أَنْ يُحِبَّ أَنْ يُحْمَدَ بِمَا لَمْ يَفْعَلْ، وَأَجِدُنِي أُحِبُّ الْحَمْدَ، وَنَهَانَا عَنِ الْخُيَلَاءِ، وَأَجِدُنِي أُحِبُّ الْجَمَالَ، وَنَهَانَا أَنْ نَرْفَعَ أَصْوَاتَنَا فَوْقَ صَوْتِكَ، وَإِنِّي امْرُؤٌ جَهِيرُ، الصَّوْتِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا ثَابِتُ أَمَا تَرْضَى أَنْ تَعِيشَ حَمِيدًا، وتُقْتَلُ شَهِيدًا، وَتَدْخُلَ الْجَنَّةَ؟» قَالَ: بَلَى يَا رَسُولَ اللهِ، فَعَاشَ حَمِيدًا، وَقُتِلَ يَوْمَ مُسَيْلِمَةَ
ترجمہ
محمد بن ثابت انصاری بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ثابت بن قیس انصاری رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ! مجھے ڈر ہے کہ میں ہلاک ہو گیا ہوں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیوں؟“ انہوں نے کہا: اللہ نے آدمی کو یہ پسند کرنے سے منع کیا ہے کہ اس کی تعریف کی جائے جو اس نے نہیں کیا، اور میں اپنے آپ کو تعریف پسند کرنے والا پاتا ہوں، اور اس نے ہمیں تکبر سے منع کیا ہے، اور میں اپنے آپ کو خوبصورتی پسند کرنے والا پاتا ہوں، اور اس نے ہمیں منع کیا ہے کہ ہم اپنی آوازیں آپ کی آواز سے بلند کریں، اور میں اونچی آواز والا آدمی ہوں، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے ثابت! کیا تم اس پر راضی نہیں ہو کہ تم تعریف کیے جاتے ہوئے زندہ رہو، شہید ہو کر مرو، اور جنت میں داخل ہو؟“ انہوں نے عرض کیا: کیوں نہیں، یا رسول اللہ! تو وہ تعریف کیے جاتے ہوئے زندہ رہے، اور مسیلمہ کے دن شہید ہوئے۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ الْحَسَنِ الْخَفَّافُ الْمِصْرِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، ثنا عَنْبَسَةُ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ ثَابِتٍ، أَنَّ ثَابِتَ بْنَ قَيْسٍ الْأَنْصَارِيَّ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ لَقَدْ خَشِيتُ أَنْ أَكُونَ قَدْ هَلَكْتُ، قَالَ: «لِمَ؟» قَالَ: نَهَانَا اللهُ عَزَّ وَجَلَّ عَنِ الْحَمْدِ، أَنْ نُحْمَدَ بِمَا لَمْ نَفْعَلْ، وَإِنِّي أُحِبُّ الْحَمْدَ، وَنَهَانَا عَنِ الْخُيَلَاءِ، وَأَنَا أُحِبُّ الْجَمَالَ، وَنَهَانَا أَنْ نَرْفَعَ أَصْوَاتَنَا فَوْقَ صَوْتِكَ، وَأَنَا امْرُؤٌ جَهِيرُ الصَّوْتِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا ثَابِتُ أَلَا تَرْضَى أَنْ تَعِيشَ حَمِيدًا، وتُقْتَلَ شَهِيدًا، وَتَدْخُلَ الْجَنَّةَ؟» ، قَالَ: بَلَى يَا رَسُولَ اللهِ، فَعَاشَ حَمِيدًا، وَقُتِلَ شَهِيدًا يَوْمَ مُسَيْلِمَةَ الْكَذَّابِ
ترجمہ
سیدنا ثابت بن قیس بن شماس انصاری رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے خدشہ ہے کہ میں ہلاک ہو گیا ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیوں؟“ انہوں نے کہا: اللہ عزوجل نے ہمیں اس بات سے منع فرمایا ہے کہ ہماری تعریف کی جائے جو ہم نے نہ کیا ہو، حالانکہ مجھے تعریف پسند ہے، اور اس نے ہمیں تکبر سے منع فرمایا ہے، حالانکہ مجھے خوبصورتی پسند ہے، اور اس نے ہمیں یہ بھی منع فرمایا ہے کہ ہم اپنی آوازیں آپ کی آواز سے بلند کریں، حالانکہ میں بلند آواز والا آدمی ہوں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اے ثابت! کیا تم اس بات پر راضی نہیں ہو کہ تم تعریف کے ساتھ زندہ رہو، شہید ہو کر مرو، اور جنت میں داخل ہو؟“ انہوں نے کہا: کیوں نہیں، یا رسول اللہ! چنانچہ وہ تعریف کے ساتھ زندہ رہے اور مسیلمہ کذاب کے دن شہید ہوئے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَخْشِيٍّ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ سَعِيدِ بْنِ عُفَيْرٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنِي خَالِي الْمُغِيرَةُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ رَاشِدٍ الْهَاشِمِيُّ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَالِمٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ ثَابِتِ بْنِ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ الْأَنْصَارِيِّ، أَنَّ ثَابِتَ بْنَ قَيْسٍ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ لَقَدْ خَشِيتُ أَنْ أَكُونَ قَدْ هَلَكْتُ، قَالَ: «لِمَ؟» قَالَ: يَمْنَعُ اللهُ الْمَرْءَ، أَنْ يُحْمَدَ بِمَا لَمْ يَفْعَلْ، وَأَجِدُنِي أُحِبُّ الْحَمْدَ، وَيَنْهَى عَنِ الْخُيَلَاءِ، وَأَجِدُنِي أُحِبُّ الْجَمَالَ، وَيَنْهَى اللهُ أَنْ نَرْفَعَ أَصْوَاتَنَا فَوْقَ صَوْتِكَ، وَأَنَا جَهِيرُ الصَّوْتِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا ثَابِتُ أَلَيْسَ تَرْضَى أَنْ تَعِيشَ حَمِيدًا، وتُقْتَلَ شَهِيدًا، وَتَدْخُلَ الْجَنَّةَ؟»
ترجمہ
سیدنا ثابت بن قیس بن شماس انصاری رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے خدشہ ہے کہ میں ہلاک ہو گیا ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیوں؟“ انہوں نے کہا: اللہ تعالیٰ آدمی کو اس سے منع فرماتا ہے کہ اس کی تعریف کی جائے جو اس نے نہ کیا ہو، حالانکہ میں دیکھتا ہوں کہ مجھے تعریف پسند ہے، اور وہ تکبر سے منع فرماتا ہے، حالانکہ میں دیکھتا ہوں کہ مجھے خوبصورتی پسند ہے، اور اللہ ہمیں اس سے منع فرماتا ہے کہ ہم اپنی آوازیں آپ کی آواز سے بلند کریں، حالانکہ میں بلند آواز والا ہوں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے ثابت! کیا تم اس پر راضی نہیں ہو کہ تم تعریف کے ساتھ زندہ رہو، شہید ہو کر مرو، اور جنت میں داخل ہو؟“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، ثنا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، حَدَّثَنَا أَبُو ثَابِتِ بْنُ ثَابِتِ بْنِ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ، حَدَّثَنِي أَبِي ثَابِتُ بْنُ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: {لَا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمْ، فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ} [الحجرات: ٢] ، قَعَدَ ثَابِتٌ فِي الطَّرِيقِ يَبْكِي، فَمَرَّ بِهِ عَاصِمُ بْنُ عَدِيٍّ، قَالَ: مَا يُبْكِيكَ يَا ثَابِتُ؟ قَالَ: أَنَا رُفَيْعُ الصَّوْتِ وأَتَخَوَّفُ أَنْ تَكُونَ هَذِهِ الْآيَةُ نَزَلَتْ فِيَّ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا بُنَيَّ أَمَا تَرْضَى أَنْ تَعِيشَ حَمِيدًا، وَتُقْتَلَ شَهِيدًا، وَتَدْخُلَ الْجَنَّةَ؟» ، فَقَالَ: رَضِيتُ بِبُشْرَى اللهِ وَرَسُولِهِ، لَا أَرْفَعُ صَوْتِي أَبَدًا عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَزَلَتْ، {إِنَّ الَّذِينَ يَغُضُّونَ أَصْوَاتَهُمْ} [الحجرات: ٣] الْآيَةَ
ترجمہ
عاصم بن عدی ان کے پاس سے گزرے تو کہا: اے ثابت! تمہیں کیا رلا رہا ہے؟ انہوں نے کہا: میں بلند آواز والا ہوں اور مجھے خدشہ ہے کہ یہ آیت میرے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا: ”اے بیٹے! کیا تم اس پر راضی نہیں ہو کہ تم تعریف کے ساتھ زندہ رہو، شہید ہو کر مرو، اور جنت میں داخل ہو؟“ انہوں نے کہا: میں اللہ اور اس کے رسول کی بشارت پر راضی ہوں، میں کبھی رسول اللہ ﷺ پر اپنی آواز بلند نہیں کروں گا۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی: ”بیشک وہ لوگ جو اپنی آوازیں پست رکھتے ہیں…“ [سورۃ الحجرات: 3]
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِمْرَانَ بْنِ أَبِي لَيْلَى، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عِيسَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ ثَابِتِ بْنِ قَيْسٍ، قَالَ: ذُكِرَ الْكِبْرُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَشَدَّدَ فِيهِ، فَقَالَ: «إِنَّ اللهَ لَا يُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُورٍ» ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: وَاللهِ يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي لَأَغْسِلُ ثِيَابِي، فَيُعْجِبُنِي بَيَاضُها، وَيُعْجِبُنِي شِرَاكُ نَعْلِي، وعَلَاقَةُ سَوْطِي، فَقَالَ: «لَيْسَ ذَلِكَ الْكِبْرَ، إِنَّمَا الْكِبْرُ أَنْ تُسَفِّهَ الْحَقَّ، وتَغْمِصَ النَّاسَ»
ترجمہ
ذکر کیا گیا کہ نبی کریم ﷺ کے سامنے تکبر کا ذکر ہوا تو آپ ﷺ نے اس میں سختی فرمائی اور فرمایا: ”بیشک اللہ ہر تکبر کرنے والے، فخر جتانے والے کو پسند نہیں فرماتا۔“ اس پر لوگوں میں سے ایک شخص نے کہا: اللہ کی قسم، یا رسول اللہ! میں اپنے کپڑے دھوتا ہوں تو ان کی سفیدی مجھے اچھی لگتی ہے، اور مجھے اپنے جوتے کا تسمہ اور اپنے کوڑے کا سِرا بھی اچھا لگتا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ تکبر نہیں ہے، تکبر تو یہ ہے کہ تم حق کو حقیر جانو اور لوگوں کو حقیر سمجھو۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ سَعِيدٍ الرَّازِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ وَارَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سَابِقٍ، ثنا عَمْرُو بْنُ أَبِي قَيْسٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ أَخِيهِ عِيسَى، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ ثَابِتِ بْنِ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ الْأَنْصَارِيِّ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَرَأَ هَذِهِ الْآيَةَ: {إِنَّ اللهَ لَا يُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ} [لقمان: ١٨] فَخُورٍ، فَذَكَرَ الْكِبْرَ فَعَظَّمَهُ، فَبَكَى ثَابِتُ بْنُ قَيْسٍ، فَقَالَ لَهُ نَبِيُّ اللهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا يُبْكِيكَ» ، فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللهِ، إِنِّي أُحِبُّ الْجَمَالَ، حَتَّى إِنِّي لَيُعْجِبُنِي أَنْ يَحْسُنَ شِرَاكُ نَعْلِي، قَالَ: «فَأَنْتَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ، إِنَّهُ لَيْسَ الْكِبْرُ بِأَنْ تُحْسِنَ رَاحِلَتَكَ، ورَحْلَكَ، وَلَكِنَّ الْكِبْرَ مَنْ سَفِهَ الْحَقَّ، وَغَمَصَ النَّاسَ»
ترجمہ
آپ ﷺ نے یہ آیت پڑھی: ”بیشک اللہ ہر تکبر کرنے والے، فخر جتانے والے کو پسند نہیں فرماتا“ [سورۃ لقمان: 18]، پھر تکبر کا ذکر کیا اور اسے بہت بڑا گناہ قرار دیا، تو سیدنا ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ رونے لگے۔ نبی اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا: ”تمہیں کیا رلا رہا ہے؟“ انہوں نے کہا: یا نبی اللہ! مجھے خوبصورتی پسند ہے، حتی کہ مجھے یہ بھی اچھا لگتا ہے کہ میرے جوتے کا تسمہ خوبصورت ہو۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو تم جنتی ہو، تکبر یہ نہیں کہ تم اپنی سواری اور اپنا سامان اچھا رکھو، بلکہ تکبر یہ ہے کہ جو حق کو حقیر جانے اور لوگوں کو حقیر سمجھے۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ النَّضْرِ الْعَسْكَرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُصَفَّى، ثنا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، عَنِ الْجَرَّاحِ بْنِ الْمِنْهَالِ، عَنِ ابْنِ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مُسْلِمٍ الْخُرَسَانِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي ثَابِتِ بْنِ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: أَتَيْتُ الْمَسْجِدَ، وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّلَاةِ، فَلَمَّا سَلَّمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، الْتَفَتَ إِلَيَّ، وَأَنَا أُصَلِّي، فَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَنْظُرُ إِلَيَّ، وَأَنَا أُصَلِّي، فَلَمَّا فَرَغْتُ، قَالَ: «أَلَمْ تُصَلِّ مَعَنَا؟» قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: «فَمَا هَذِهِ الصَّلَاةُ؟» قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ، خَرَجْتُ مِنْ مَنْزِلِي، وَلَمْ أَكُنْ صَلَّيْتُهُمَا، قَالَ: فَلَمْ يَعِبْ ذَلِكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيَّ
ترجمہ
سیدنا ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب نبی کریم ﷺ نے سلام پھیرا تو میری طرف متوجہ ہوئے، اور میں نماز پڑھ رہا تھا۔ نبی کریم ﷺ مجھے دیکھتے رہے اور میں نماز پڑھ رہا تھا۔ جب میں فارغ ہوا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم نے ہمارے ساتھ نماز نہیں پڑھی؟“ میں نے عرض کیا: کیوں نہیں، یا رسول اللہ۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو یہ کون سی نماز تھی؟“ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! فجر کی دو رکعتیں تھیں، میں اپنے گھر سے نکلا تو وہ نہیں پڑھی تھیں۔ راوی کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے اس پر مجھ پر کوئی اعتراض نہیں فرمایا۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمُعَلَّى الدِّمَشْقِيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، عَنْ عَطَاءٍ الْخُرَاسَانِيِّ، قَالَ: قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ، فَسَأَلْتُ عَمَّنْ يُحَدِّثُنِي بِحَدِيثِ ثَابِتِ بْنِ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ، فَأَرْشَدُونِي إِلَى ابْنَتِهِ، فَسَأَلْتُهَا فَقَالَتْ: سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ: لَمَّا أُنْزِلَ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، {إِنَّ اللهَ لَا يُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُورٍ} [لقمان: ١٨] ، اشْتَدَّتْ عَلَى ثَابِتٍ، وَغَلَّقَ عَلَيْهِ بَابَهُ، وَطَفِقَ يَبْكِي، فَأُخْبِرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ، فَسَأَلَهُ فَأَخْبَرَهُ بِمَا كَبُرَ عَلَيْهِ مِنْهَا، وَقَالَ: أَنَا رَجُلٌ أُحِبُّ الْجَمَالَ، وَأَنْ أَسُودَ قَوْمِي، فَقَالَ: «لَسْتَ مِنْهُمْ، بَلْ تَعِيشُ بِخَيْرٍ، وتَمُوتُ بِخَيْرٍ، ويُدْخِلُكَ اللهُ الْجَنَّةَ» ، قَالَ: فَلَمَّا أَنْزَلَ اللهُ عَلَى رَسُولهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ، وَلَا تَجْهَرُوا لَهُ بِالْقَوْلِ} [الحجرات: ٢] ، فَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ، فَأُخْبِرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ بِمَا كَبُرَ عَلَيْهِ، وَأَنَّهُ جَهِيرُ الصَّوْتِ، وَأَنَّهُ يَتَخَوَّفُ أَنْ يَكُونَ مِمَّنْ حَبِطَ عَمَلُهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّكَ لَسْتَ مِنْهُمْ بَلْ تَعِيشُ حَمِيدًا، وتُقْتَلُ شَهِيدًا، ويُدْخِلُكَ اللهُ الْجَنَّةَ» فَلَمَّا اسْتَنْفَرَ أَبُو بَكْرٍ رَضِي اللهُ عَنْهُ الْمُسْلِمِينَ إِلَى أَهْلِ الرِّدَّةِ، وَالْيَمَامَةِ، ومُسَيْلَمَةَ الْكَذَّابِ، سَارَ ثَابِتُ بْنُ قَيْسٍ فِيمَنْ سَارَ، فَلَمَّا لَقُوا مُسَيْلِمَةَ، وَبَنِي حَنِيفَةَ هَزَمُوا الْمُسْلِمِينَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، فَقَالَ ثَابِتٌ: وَسَالِمٌ مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ: مَا هَكَذَا كُنَّا نُقَاتِلُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ، وَلَا تَجْهَرُوا لَهُ بِالْقَوْلِ} [الحجرات: ٢] ، فَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ، فَأُخْبِرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ بِمَا كَبُرَ عَلَيْهِ، وَأَنَّهُ جَهِيرُ الصَّوْتِ، وَأَنَّهُ يَتَخَوَّفُ أَنْ يَكُونَ مِمَّنْ حَبِطَ عَمَلُهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّكَ لَسْتَ مِنْهُمْ بَلْ تَعِيشُ حَمِيدًا، وتُقْتَلُ شَهِيدًا، ويُدْخِلُكَ اللهُ الْجَنَّةَ» فَلَمَّا اسْتَنْفَرَ أَبُو بَكْرٍ رَضِي اللهُ تَعَالَى عَنْهُ الْمُسْلِمِينَ إِلَى أَهْلِ الرِّدَّةِ، وَالْيَمَامَةِ، ومُسَيْلَمَةَ الْكَذَّابِ، سَارَ ثَابِتُ بْنُ قَيْسٍ فِيمَنْ سَارَ، فَلَمَّا لَقُوا مُسَيْلِمَةَ، وَبَنِي حَنِيفَةَ هَزَمُوا الْمُسْلِمِينَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، فَقَالَ ثَابِتٌ: وَسَالِمٌ مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ: مَا هَكَذَا كُنَّا نُقَاتِلُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَعَلَا لِأَنْفُسِهما حُفْرَةً، فَدَخَلَا فِيهَا فَقَاتَلَا حَتَّى قُتِلَا، قَالَتْ: وَأُرِيَ رَجُلًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ ثَابِتَ بْنَ قَيْسٍ فِي مَنَامِهِ، فَقَالَ: إِنِّي لَمَّا قُتِلْتُ بِالْأَمْسِ، مَرَّ بِي رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، فَانْتَزَعَ مِنِّي دِرْعًا نَفِيسَةً، وَمَنْزِلُهُ فِي أَقْصَى الْمُعَسْكَرِ، وَعِنْدَ مَنْزِلِهِ فَرَسٌ يَسْتَنُّ فِي طُولِهِ، وَقَدْ أَكْفَأَ عَلَى الدِّرْعِ بُرْمَةً، وَجَعَلَ فَوْقَ الْبُرْمَةِ رَحْلًا، وَائْتِ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ، فَلْيَبْعَثْ إِلَى دِرْعِي فَلْيَأْخُذْهَا، فَإِذَا قَدِمْتَ عَلَى خَلِيفَةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَعْلِمْهُ أَنَّ عَلَيَّ مِنَ الدَّيْنِ كَذَا وَلِي، مِنَ الْمَالِ كَذَا، وَفُلَانُ مِنْ رَقِيقِي عَتِيقٌ، وَإِيَّاكَ أَنْ تَقُولَ هَذَا حُلْمٌ فَتُضَيِّعَهُ، قَالَ: فَأَتَى خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ فَوَجَّهُ إِلَى الدِّرْعِ فَوَجَدَهَا كَمَا ذَكَرَ، وَقَدِمَ عَلَى أَبِي بَكْرٍ رَضِي اللهُ تَعَالَى عَنْهُ فَأَخْبَرَهُ، فَأَنْفَذَ أَبُو بَكْرٍ رَضِي اللهُ تَعَالَى عَنْهُ، وَصِيَّتَهُ بَعْدَ مَوْتِهِ، فَلَا نَعْلَمُ أَنَّ أَحَدًا جَازَتْ وَصِيَّتُهُ بَعْدَ مَوْتِهِ، إِلَّا ثَابِتَ بْنَ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ رَضِي اللهُ تَعَالَى عَنْهُ
ترجمہ
… اور رونے لگے۔ رسول اللہ ﷺ کو خبر دی گئی تو آپ ﷺ نے ان کی طرف پیغام بھیجا، ان سے پوچھا تو انہوں نے وہ بات بتائی جو انہیں گراں گزری تھی، اور کہا: میں ایسا آدمی ہوں جسے خوبصورتی پسند ہے اور یہ کہ میں اپنی قوم میں سردار بنوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم ان میں سے نہیں ہو، بلکہ تم بھلائی کے ساتھ زندہ رہو گے اور بھلائی کے ساتھ مرو گے، اور اللہ تمہیں جنت میں داخل کرے گا۔“ راوی کہتے ہیں: پھر جب اللہ نے اپنے رسول ﷺ پر یہ آیت نازل فرمائی: ”اے ایمان والو! اپنی آوازیں نبی کی آواز سے بلند نہ کرو، اور نہ اس سے اونچی آواز میں بات کرو جیسے تم آپس میں ایک دوسرے سے اونچی آواز میں بات کرتے ہو“ [سورۃ الحجرات: 2]، تو انہوں نے پھر ویسا ہی کیا، نبی کریم ﷺ کو خبر دی گئی تو آپ ﷺ نے ان کی طرف پیغام بھیجا کہ انہیں کیا بات گراں گزری ہے، اور یہ کہ وہ بلند آواز والے ہیں، اور انہیں یہ خدشہ ہے کہ وہ ان لوگوں میں سے ہوں گے جن کے اعمال ضائع ہو گئے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”بیشک تم ان میں سے نہیں ہو، بلکہ تم تعریف کے ساتھ زندہ رہو گے اور شہید ہو کر مرو گے، اور اللہ تمہیں جنت میں داخل کرے گا۔“ پھر جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مرتدین، اہلِ یمامہ اور مسیلمہ کذاب کے خلاف مسلمانوں کو نکلنے کی دعوت دی تو سیدنا ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ بھی نکلنے والوں میں شامل ہو کر نکلے۔ جب وہ مسیلمہ اور بنو حنیفہ سے ملے تو انہوں نے مسلمانوں کو تین بار شکست دی، تو ثابت اور سالم مولی ابی حذیفہ رضی اللہ عنہما نے کہا: ہم اس طرح تو رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نہیں لڑا کرتے تھے! چنانچہ ان دونوں نے اپنے لیے ایک گڑھا بنایا اور اس میں کھڑے ہو کر لڑتے رہے یہاں تک کہ شہید ہو گئے۔
راویہ کہتی ہیں: ایک مسلمان شخص نے خواب میں سیدنا ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کو دیکھا، انہوں نے کہا: جب کل مجھے شہید کیا گیا تو مسلمانوں میں سے ایک شخص میرے پاس سے گزرا اور اس نے مجھ سے ایک قیمتی زرہ اتار لی، اس کی قیام گاہ لشکر کے آخری کنارے پر ہے، اور اس کے ڈیرے کے پاس ایک گھوڑا اپنی رسی کی حد تک چکر لگا رہا ہے، اور اس نے اس زرہ پر ایک ہانڈی الٹی رکھی ہے، اور ہانڈی کے اوپر پالان رکھ دیا ہے۔ خالد بن ولید کے پاس جاؤ، وہ کسی کو بھیج کر میری زرہ منگوا لیں، اور جب تم رسول اللہ ﷺ کے خلیفہ کے پاس پہنچو تو انہیں بتانا کہ مجھ پر اتنا قرض ہے اور میرے پاس اتنا مال ہے، اور فلاں میرا غلام آزاد ہے، اور خبردار! یہ نہ کہنا کہ یہ محض ایک خواب ہے اور اسے ضائع کر دینا۔ راوی کہتے ہیں: چنانچہ وہ خالد بن ولید کے پاس آیا، انہوں نے زرہ کی طرف آدمی بھیجا تو اسے ویسا ہی پایا جیسا بیان کیا گیا تھا۔ وہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور انہیں خبر دی، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان کی وصیت ان کی موت کے بعد نافذ کر دی۔ ہمیں معلوم نہیں کہ سیدنا ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہ کے سوا کسی اور کی وصیت اس کی موت کے بعد نافذ کی گئی ہو۔
راویہ کہتی ہیں: ایک مسلمان شخص نے خواب میں سیدنا ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کو دیکھا، انہوں نے کہا: جب کل مجھے شہید کیا گیا تو مسلمانوں میں سے ایک شخص میرے پاس سے گزرا اور اس نے مجھ سے ایک قیمتی زرہ اتار لی، اس کی قیام گاہ لشکر کے آخری کنارے پر ہے، اور اس کے ڈیرے کے پاس ایک گھوڑا اپنی رسی کی حد تک چکر لگا رہا ہے، اور اس نے اس زرہ پر ایک ہانڈی الٹی رکھی ہے، اور ہانڈی کے اوپر پالان رکھ دیا ہے۔ خالد بن ولید کے پاس جاؤ، وہ کسی کو بھیج کر میری زرہ منگوا لیں، اور جب تم رسول اللہ ﷺ کے خلیفہ کے پاس پہنچو تو انہیں بتانا کہ مجھ پر اتنا قرض ہے اور میرے پاس اتنا مال ہے، اور فلاں میرا غلام آزاد ہے، اور خبردار! یہ نہ کہنا کہ یہ محض ایک خواب ہے اور اسے ضائع کر دینا۔ راوی کہتے ہیں: چنانچہ وہ خالد بن ولید کے پاس آیا، انہوں نے زرہ کی طرف آدمی بھیجا تو اسے ویسا ہی پایا جیسا بیان کیا گیا تھا۔ وہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور انہیں خبر دی، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان کی وصیت ان کی موت کے بعد نافذ کر دی۔ ہمیں معلوم نہیں کہ سیدنا ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہ کے سوا کسی اور کی وصیت اس کی موت کے بعد نافذ کی گئی ہو۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عِمْرَانَ بْنِ أَبِي لَيْلَى، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا ابْنُ أَبِي لَيْلَى، عَنْ أَخِيهِ عِيسَى عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ ثَابِتِ بْنِ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَسْمَعُونَ، وَيُسْمَعُ مِنْكُمْ، وَيُسْمَعُ مِمَّنْ يَسْمَعُ مِنْكُمْ»
ترجمہ
سیدنا ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم سنتے ہو اور تم سے سنا جاتا ہے، اور اس سے بھی سنا جاتا ہے جو تم سے سنتا ہے۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ سَعِيدٍ الرَّازِيُّ، ثنا سَهْلُ بْنُ عُثْمَانَ، ثنا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: انْتَهَيْتُ إِلَى ثَابِتِ بْنِ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ يَوْمَ الْيَرْمُوكِ، وَقَدْ حَسَرَ عَنْ فَخِذَيْهِ، وَقَالَ: «هَكَذَا عَنْ وُجُوهِنَا، نُضَارِبُ الْعَدُوَّ، ولَبِئْسَ مَا عَوَّدْتُمْ أَقْرَانَكُمْ، وَاللهِ مَا هَكَذَا كُنَّا نُقَاتِلُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»
ترجمہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں یومِ یرموک سیدنا ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچا، تو وہ اپنی رانوں سے (کپڑا) کھول چکے تھے اور کہہ رہے تھے: ”اس طرح ہمارے چہروں پر سے، ہم دشمن سے لڑیں گے، تم نے اپنے ہم مقابلوں کو کیا ہی برا سکھایا! اللہ کی قسم، ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ اس طرح نہیں لڑا کرتے تھے۔“
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ، ثنا أَصْبَغُ بْنُ الْفَرَجِ، ح وَحَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى السَّاجِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الْهَمْدَانِيُّ، قَالَا: ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي دَاوُدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ ثَابِتِ بْنِ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ دَخَلَ عَلَيْهِ فَقَالَ: «اكْشِفِ الْبَأْسَ رَبَّ النَّاسِ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ، ثُمَّ أَخَذَ تُرَابًا، مِنْ بَطْحَاءَ فِي قَدَحٍ فِيهِ مَاءٌ، فَصَبَّهُ عَلَيْهِ»
ترجمہ
سیدنا ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ ان کے پاس تشریف لائے تو فرمایا: ”اے لوگوں کے رب! تکلیف دور فرما، ثابت بن قیس بن شماس سے“، پھر آپ ﷺ نے چٹیل میدان کی مٹی لے کر ایک پیالے میں ڈالی جس میں پانی تھا، پھر اسے ان پر بہا دیا۔